28/04/2026
کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جنہیں دوبارہ جینے کو دل بےتاب رہتا ہے—وہ لمحے جن میں زندگی کو واقعی محسوس کیا جاتا ہے۔
یونیورسٹی لائف بھی کچھ ایسی ہی ہوتی ہے… خاص طور پر پیپرز سے پہلے کی وہ ٹینشن—"کچھ آتا نہیں، کچھ یاد نہیں"، "تمہیں کتنا آتا ہے؟"، اور پھر وہی جملہ: "میں نے تو ایک لفظ بھی نہیں پڑھا!"
اور جیسے ہی پیپر ختم ہوتا ہے، ایک نئی کہانی شروع ہو جاتی ہے—
"یہ بھی آتا تھا، وہ رہ گیا، اس سوال کا جواب تو کچھ اور تھا، میں نے تو ایسے لکھ دیا!"
پھر کیفے جانا، دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق، اور ان لمحوں کو دل بھر کے جینا… واقعی، یہ سب یادیں زندگی کا حسین حصہ بن جاتی ہیں۔
اب جب جاب، بچوں اور فیملی کے ساتھ پڑھنے کا مرحلہ آتا ہے تو بظاہر مشکل لگتا ہے، مگر حقیقت میں ایسا نہیں۔ اگر ساتھ دینے والا، سمجھنے والا شریکِ حیات ہو، تو ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے۔
ایک استاد ہونے کے ناطے میرا ماننا ہے کہ سیکھنے کا جذبہ کبھی ختم نہیں ہونا چاہیے۔ آگے بڑھنے کی لگن، حوصلہ، اور خود کو بہتر بنانے کی خواہش ہی انسان کو کامیاب بناتی ہے۔ وہی استاد کامیاب ہوتا ہے جو وقت کے ساتھ چلتا ہے، اپنی تعلیم کو نکھارتا ہے، اور خود کو مسلسل بہتر کرتا رہتا ہے۔
آئیں، ایسے ذہن تیار کریں جو صرف دنیا کو نہ سمجھیں بلکہ اسے نئی سوچ اور خوبصورت خواہشات سے روشناس کروائیں۔
خوش رہیں، اور خوشیاں بانٹیں
26/03/2026
17/03/2026