Bahauddin Zakriya University News Alert

Bahauddin Zakriya University News Alert Learn to Lead...!!!

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ اگر مجھے یہ پتہ چلے کہ دنیا میں صرف ایک ہی شخص جہنم میں جائے گا تو میں ...
11/08/2026

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ اگر مجھے یہ پتہ چلے کہ دنیا میں صرف ایک ہی شخص جہنم میں جائے گا تو میں خوف خدا میں یہی سمجھوں گا کہ وہ ایک شخص میں ہی ہوں اور اگر ...

مجھے یہ بتایا جائے کہ دنیا میں صرف ایک ہی شخص جنت میں جائے گا تو میں خدا کی رحمت سے یہی گمان رکھوں گا کہ وہ ایک شخص یقینا میں ہی ہوں ...

خدا کے اس خوف اور اسکی زات سے جڑی اس امید کے خوبصورت امتزاج کا نام "حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ" ہے ...

کروڑوں درود و سلام ہوں محمد و ال محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم ، امہات المومنین اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ۔ امین

گزشتہ روز ایک ہمدم دیرینہ ناراض ہو گیا ۔ اس کی ناراضگی کی وجہ یہ تھی کہ میں اس کی خوشی میں خوش نہیں ہوسکا ۔وہ  بہت اچھا ...
09/08/2026

گزشتہ روز ایک ہمدم دیرینہ ناراض ہو گیا ۔ اس کی ناراضگی کی وجہ یہ تھی کہ میں اس کی خوشی میں خوش نہیں ہوسکا ۔وہ بہت اچھا دوست ہے ہمارے دکھ سکھ کا ساتھی رہاہے ۔دینی فرائض کی ادائیگی میں بھی وہ ہم سے بہت آگے ہے نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے ۔ صورت سے بھی اس پر پہنچا ہوا روحانی بزرگ ہونے کا گمان کیا جا سکتا ہے ۔ وہ بڑی خوشی خوشی آیا اور اس نے بتایا کہ اس نے چھ کروڑ میں ایک پلاٹ خریدا ہے ۔ اپنی خوشی پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوے کہنے لگا “بس خاص کرم ہوگیا ۔ آٹھ نو کروڑ کا پلاٹ تھا مجھے چھ کروڑ میں مل گیا “ میرے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ بیچنے والا ضرورت مند تھا ۔ اس کی بیوی کو کینسر ہوگیا تھا اور وہ اسے علاج کے لئے فوری طور پربیرون ملک لے جانا چاہتا تھا ۔ اس لئے اس نے پلاٹ سستا فروخت کر دیا ۔ میں نے اس سے کہا کہ کسی کی ایسی مجبوری سے فائدہ اٹھانا مناسب نہیں ہے ۔ میری بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہ آگ بگولہ ہوگیا اور مہذب قسم کی گالیاں دیتے ہوے رخصت ہوگیا ۔ اس کےرخصت ہونے کے بعد مجھے ایک واقعہ یاد آرہا ہے جو روح کو تڑپا رہا ہے اور دل کو رولا رہا ہے ۔ میرے ایک عزیز رکن اسمبلی رہے ہیں ان کے ایک بیورو کریٹ دوست چھ ماہ کےایک کورس کے لئے برطانیہ گئے ۔انہیں کلاس سے اکثر دیر ہو جاتی تھی ۔ ایک روز پروفیسر صاحب نے مسلسل دیر سے آنے کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے بتایا کہ میرا ہاسٹل دور ہے ۔ پیدل آنا ممکن نہیں ہے اور اس طرف سے بس باقاعدگی سے نہیں ملتی ۔ پروفیسر صاحب نے سائیکل خریدنے کا مشورہ دیا ۔انہوں نے سائیکل خرید لی اور کلاسیں باقاعدگی سے لینے لگے ۔ کورس ختم ہوا تو پروفیسر صاحب نے سائیکل فروخت کرنے کے لئے مختلف جگہوں پر نوٹس لگانے کا مشورہ دیا ۔ یونیورسٹی کےمختلف مقامات پر سائیکل براے فروخت کے نو ٹس لگا دئیے گئے ۔ تیسرے دن ایک ممی ڈیڈی ٹائپ لڑکا آگیا ۔ اس نے سائیکل خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا اور ساتھ ہی سائیکل دیکھنے اور اسے ٹیسٹ کرنے کی اجازت مانگی ۔ لڑکے نے سائیکل چلا کر دیکھنی شروع کر دی آدھ گھنٹہ بعد اس کی تسلی ہوگئی تو اس نے سائیکل کی قیمت دریافت کی۔ سائیکل 160 پونڈ میں خریدی گئی تھی ۔ آدھی قیمت پر بھی فروخت ہوجاتی تو مناسب تھا ۔ مگر بارگینگ کے پیش نظر قیمت 90 پونڈ بتا دی گئی ۔ تاہم انگریز لڑکے نے بار گینگ نہیں کی اور قیمت ادا کرکے ُ سائیکل لے کر چلا گیا ۔ دو دن کے بعد وہ انگریز لڑکا واپس آگیا ۔ وہ قدرے ناراض دکھائی دیتا تھا غصے سے چہرہ بھی قدرے سرخ تھا اور بلا وجہ بڑ بڑ کر رہاتھا ۔ اس نے دریافت کہ آپ نے یہ سائیکل کیوں بیچی ہے ۔ اسے بتایا گیا کہ کورس مکمل ہوچکا ہے اور اب پاکستان واپس جانا ہے اس لئے سائیکل فروخت کرنا ضروری تھا ۔ یہ سن کر انگریز لڑکے کا غصہ تیز ہوگیا اور وہ کہنے لگا “ تو سائیکل بیچنا آپ کی مجبوری تھی میں نے نیٹ پر چیک کیا ہے ۔ یہ نئی سائیکل 160 پونڈ کی ہے اور یہ 120 پونڈ کی ہے ۔آپ نے یہ سائیکل 90 پونڈ میں فروخت کرکے بڑی زیادتی کی ہے”اس کے بعد اس نے اپنی جیب سے 30 پونڈ نکال کر تقریبا” پھینکتے ہوے کہا” آپ مجھے ساری عمر اس Guilt میں رکھنا چاہتے تھے کہ میں نے ایک شخص کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھایا تھا”

09/08/2026

ہماری یونیورسٹی میں بھی آج کل حالات ایسے ہی بدل رہے ہیں

07/08/2026

بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں شعبۂ مطالعۂ پاکستان کے خاتمے کے لیے قا-د- یا۔ نی لابی متحرک،
نظریۂ پاکستان کے محافظوں سے پاکستان کی نظریاتی اور اساسی شناخت پر مبینہ حملہ روکنے کی اپیل

بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں شعبۂ مطالعۂ پاکستان کو ختم کرکے اسے شعبۂ پولیٹیکل سائنس میں ضم کرنے کی مجوزہ کوشش کے حوالے سے متعلقہ علمی اور قومی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ قا-د-یا-نی لابی سے وابستہ بعض عناصر شعبۂ مطالعۂ پاکستان کی علیحدہ اور خودمختار حیثیت کے خاتمے کے لیے سرگرم ہیں۔ اگر اس فیصلے پر عمل درآمد کیا گیا تو یہ صرف ایک تعلیمی شعبے کا خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ اس سے پاکستان کی نظریاتی اساس، قومی شناخت اور آئندہ نسلوں کی فکری تربیت پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مطالعۂ پاکستان محض ایک لازمی مضمون نہیں بلکہ ایک مکمل علمی و تحقیقی شعبہ ہے، جس کے ذریعے طلبہ کو قیامِ پاکستان کی جدوجہد، نظریۂ پاکستان، آئینِ پاکستان، قومی سلامتی، جغرافیائی اہمیت، ثقافتی ورثے، وفاقی نظام اور ریاستی ارتقا کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ یہی شعبہ نوجوان نسل میں حب الوطنی، قومی وحدت، آئینی شعور اور ریاست سے وابستگی کے جذبات کو علمی بنیادوں پر فروغ دیتا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو اندرونی و بیرونی سطح پر نظریاتی، فکری اور اطلاعاتی چیلنجز کا سامنا ہے، ملک کی جامعات میں مطالعۂ پاکستان جیسے بنیادی شعبے کو ختم کرنا ایک ایسا اقدام ہوگا جس پر سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنی قومی تاریخ، نظریات اور شناخت سے متعلق اداروں کو مضبوط بناتے ہیں، نہ کہ انہیں تحلیل کرتے ہیں۔
شعبۂ مطالعۂ پاکستان کو ختم کرکے صرف مختلف شعبہ جات میں بطور ایک مضمون پڑھانا اس شعبے کی علمی، تحقیقی اور ادارہ جاتی حیثیت کو محدود کر دے گا۔ اس سے نہ صرف اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے مواقع متاثر ہوں گے بلکہ مستقبل میں ایسے ماہرین کی تیاری بھی متاثر ہوگی جو پاکستان کے نظریاتی، تاریخی اور آئینی موضوعات پر معیاری تحقیق کر سکیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ قومی اہمیت کے ایسے معاملات میں جلد بازی کے بجائے تمام متعلقہ فیکلٹی، ماہرینِ تعلیم، سابق سربراہان، طلبہ، جامعات کے نمائندوں اور متعلقہ قومی اداروں سے وسیع مشاورت ناگزیر ہے۔ کسی بھی فیصلے سے قبل اس کے علمی، آئینی، قومی اور سماجی اثرات کا مکمل جائزہ لیا جانا چاہیے۔
ہم حکومتِ پاکستان، ہائر ایجوکیشن کمیشن، جامعہ کی سنڈیکیٹ، سینیٹ اور تمام متعلقہ اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ شعبۂ مطالعۂ پاکستان کی علیحدہ اور خودمختار حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے فوری اقدامات کریں تاکہ پاکستان کی نظریاتی بنیاد، قومی تشخص اور آئندہ نسلوں کی فکری رہنمائی کے اس اہم علمی مرکز کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
مطالعۂ پاکستان کا تحفظ، پاکستان کی نظریاتی، تاریخی اور قومی شناخت کے تحفظ سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ ایسے فیصلے صرف ایک شعبے کی تنظیمِ نو نہیں بلکہ قومی فکری ورثے سے متعلق فیصلے ہوتے ہیں، جن میں وسیع مشاورت، شفافیت اور قومی مفاد کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے
Maryam Nawaz Sharif Rana Sikandar Hayat Chief Secretary Punjab Govt of Punjab Higher Education Commission, Pakistan Punjab Higher Education Commission-PHEC

Online Applications Open for Fall 2026 Undergraduate (5th Semester) Admissions
06/08/2026

Online Applications Open for Fall 2026 Undergraduate (5th Semester) Admissions

06/08/2026
06/08/2026

کس فیلڈ کا سکوپ ہے؟ کس فیلڈ کا زوال آنے والا ہے۔
ہر ایک کا سوال ہے۔۔۔ اسکا جواب میں آپکو سمجھائے دیتا ہوں ۔ برا آسان سا ہے کوئی مشکل سائنس نہیں۔۔

آپ نے دیکھنا ہے کہ کس فیلڈ کا بیڑا غرق ہورہا ہے تو صرف بزنس مین کو فالوو کریں کرنٹ بزنس کو فالوو کریں ۔۔

ایم بی اے بزنس کی فیلڈ کا 2000 کے شروع اور پھر 2005 تک بڑا ٹرینڈ رہا پھر ایک وقت ایسا آیا کہ انکا مذاق ہر جگ اڑنے لگا۔۔ 2010 2011 2012 انجنئیرنگ کا وہ ٹرینڈ تھا لوگ مرتے تھے انجنئیرنگ کرنے کا اور پرائیوٹ کالجز یونیورسٹیز اتنی زیادہ بہتات میں آگئی تھی کہ اتنے گریجویٹ نکلے پھر سب نے دیکھا 2015-2016-2017 ایک ایسے برے دور سے انجنئیرنگ گریجویٹ گزرے کہ ہمارے نوجوانوں نے مزدوریاں تک کی۔۔۔ سکولوں میں پڑھایا ۔۔

اب بزنس کو دیکھیں ۔۔ جو لوگ 2011 2012 ان دور میں انجنئیرنگ کالجز بنا چکے تھے جیسے ساہیوال گوجرانولہ ملتان کے ہیں یا دیگر ہیں ان سب کے لیے 2015-2016 میں سرائیوو کرنا مشکل ہوا۔۔ بلکہ ڈپلومہ والے کالجز بند ہوکے انہوں نے میڈیکل اور الائیڈ کا نام رکھ لیا۔۔ وہاں وہ ڈگری شروع کروا دی۔۔۔اود جو تھوڑے امیر تھے انہون نے ایم بی بی ایس شروع کروادیا ۔ یہ 2015 سے 2020 میڈیکل کا پیک دور تھا بڑے پرائیویٹ میڈیکل کالجز بنے لوگ لاکھوں بیس بیس تیس تیس لاکھ ڈونشین ہاتھ میں لیے پھرتے تھے کہ انہیں داخلہ دیا جائے۔۔۔۔۔ بڑا ہی پیک دور تھا پھر 2021 سے 2022 کورونا آیا کورونا نے ساری مارکیٹ شفٹ کر دی۔۔۔
آئی ٹی آئی ٹی ہوگئی۔ اب سارے کالجز اٹھا لیں سارے پرائیویٹ سیٹ اپ یعنی ایک گلی میں بھی سکول بھی تھا اس نے بھی الحاق کر کے آئی ٹی میں ٹانگ پھنسا لی اور یوں 2025 تک ہر کالج ہر ادارہ جو پہلے انجنئیرنگ سے الائیڈ اور میڈیکل کی طرف آیا تھا اس نے کمپیوٹر کا نام کا اضافہ کیا ۔۔ ملتان کی بڑی یونیورسٹی ہے نام نہیں لکھونگا لیکن ایسا ہوا۔۔۔ سب نے دیکھا وہ کیسے انجنئیرنگ سے میڈیکل اور میڈیکل سے کمپیوٹر سائنس پھر اس میں اے آئی سائبر الا بلا سب کچھ کروانے لگے۔۔۔۔۔

انجنئیرنگ جو تھی اس کی کونسل پھر بھی بڑی سخت رہی ہے اور سختی کرتی ہے ہر ایک کو اجازت نہیں ہوتی لیکن کمپیوٹنگ کونسل جو نومولود تھی اس پے اتنا لوڈ ڈل گیا پوسٹ کورونا پے کہ وہ بس سنبھال نا پائی۔ ابھی تک صورتحال یہی ہے ابھی بھی لوگ اندھا دھند کمپیوٹر اور اس کے متعلقہ اداروں میں بھاری فیسیں بھر رہے ہیں۔۔۔
ابھی بھی منت کر رہے کسی طرح کمپیوٹر سائنس میں اڑ جائیں جیسے 2010ـ2011 میں انجنئیرنگ اور پھر 2017-2018 میں میڈیکل کی منت کیا کرتے تھے اب اس سے بدتر صورتحال کمپیوٹر کی ہے۔۔۔
آپ لوگوں کو شائید انداذہ نا ہو۔۔۔ لیکن ایک میڈیکل اور انجنئیرنگ کا پروگرام شروع کرنا اس کا وزٹ کروانا اس کے اخراجات وہ بہت کروڑوں اربوں تک ہیں جب کہ کمپیوٹر انتہائی سستے ہیں اور انکی کونسل اتنی پائیدار رہی نہیں اور نا ہی وہ اتنا لوڈ اٹھا سکتی تھی ۔ جیسے انجنئیرنگ کے باقاعدہ منظم الیکشن ہوتے میڈیکل کی کونسل بڑی مضبوط ہے کمپیوٹنگ کی یوں ہو نا پائی۔۔۔
آپ لوگ سمجھ رہے ہونگے کہ صرف حالات پاکستان میں خراب ہو رہے ایسا نہیں ہے یہی ٹرینڈ پوری دنیا نے فالوو کیا ساری دنیا ٹرینڈ کے پیچھے جاتی ہے یہاں جب انجنئیر مزدوری کرنے پے مجبور تھے تو اس وقت انڈیا میں بھی یہی حال ہو چکا تھا۔۔۔ اور ایم بی اے کی جب ہماری بے عزتی ہوتی تھے تب انڈیا میں بھی یہی تھا اور میڈیکل اب پوری دنیا اپنے گریجویٹ رکھ رہی انگلینڈ امریکہ و دیگر ممالک جہاں پاکستانی جاتے تھے وہ جانتے ہیں جانا مشکل ہوا۔۔۔۔۔
کمپیوٹر والوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہر جاب میں آپ ابھی بھی دیکھیں ایک پیٹرول پمپ پے جاب موجود ہو تو ساتھ لکھا ہوگا کمپیوٹر چلانا آتا ہو۔۔۔ سارا مسئلہ یہی ہے کمپیوٹر کا دور ہے "کمپیوٹر چلانا آتا ہو اور کمپیوٹر کی ڈگری ہو " اس میں بہت بہت فرق ہے۔۔۔۔۔!!!

ابھی بھی وقت ہے ٹرینڈ کو کاٹ کر چلیں کمپیوٹر میں اندھا دھند نا بھاگیں بلکہ ان چیزوں پے لوٹیں جہاں بزنس نہیں کر رہے ادارے جہاں ریگولیشن ہے مثلاً انجنئیرنگ ۔ انجنئیرنگ کے تیس ڈیپارٹمنٹس۔ ان پے لوٹ آنا چاہیے

وقت بدل رہا یہی بہترین وقت ہے پانچ سال بعد انجنئیرنگ کی پیک آئے گی پھر دس سال بعد میڈیکل کی ۔۔۔ اگر میں اپنے سٹوڈنٹ کی بات کروں اس سال کی بات کروں تو نوے فیصد بچے جو اس سال گریجویٹ ہوئے دو ماہ کے اندر ہی اندر ایڈجسٹ ہو چکے ہیں جبکہ پچھلے دو تین بیچز کے بچے کوئی جرمنی ہے کوئی کینیڈا ہے کوئی آسٹریلیا ہے۔۔ وہی چیز جس کا ہم خواب دیکھتے تھے اپنے پاس آوٹ کے وقت وہ یہ بچے کر رہے ہیں ۔۔۔۔ وقت سے پہلے سوچ لیں اور لوٹ آئیں ان ڈگریز پے جہاں رش نہیں ہے ۔۔۔۔!!!

Admissions Open for Fall 2026 Ph.D. Programs
05/08/2026

Admissions Open for Fall 2026 Ph.D. Programs

Admissions Open for Fall 2026 M.Phil., MS, MBA, LL.M., M.Sc. (Hons.), M.Sc. Engineering & B.Ed. Programs
05/08/2026

Admissions Open for Fall 2026 M.Phil., MS, MBA, LL.M., M.Sc. (Hons.), M.Sc. Engineering & B.Ed. Programs

Address

Bahauddin Zakriya University Multan
Multan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bahauddin Zakriya University News Alert posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share