کیونکہ ہوگیا ہے پیار مجھے اب خودی سے
Syed Ali Jibran Shah Naqvi
Life of Hazrat Imam ul Anbia Mohammad e Mustafa s.a.w.w is great model for the teachers.
سادات کرام عالی عظام آل نبی ص اولادِ مولا علی و بی بی سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا
اہلِ بیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ
اَللّهُمَّ عَجِّل لِوَلیِّکَ الفَرَج
Celebrating my 9th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉
26/08/2025
Lahore weather ☁️🌈✨ it's raining heavily ☔🌧️🌧️⛈️ here
Asrar Shah Asrar
09/07/2025
With Asrar Shah Asrar – I just got recognized as one of their top fans! 🎉
حضرت علی اصغر علیہ السلام کے مصائب اور کربلا میں شہادت
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
کربلا کی سرزمین پر 10 محرم الحرام 61 ہجری کو انسانیت کی تاریخ کا سب سے اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ یہ صرف ایک معرکہ نہ تھا بلکہ حق و باطل کا وہ عظیم تصادم تھا جس نے ہمیشہ کے لیے حق کو سر بلند کر دیا۔ اس معرکے میں امام حسین علیہ السلام نے نہ صرف اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا بلکہ اپنے خاندان کے ایک ایک فرد کو بھی قربان کر دیا۔ انہی پاک ہستیوں میں سب سے کم عمر اور معصوم شہید، حضرت علی اصغر علیہ السلام تھے۔
حضرت علی اصغر کون تھے؟
حضرت علی اصغر علیہ السلام، امام حسینؑ اور بی بی ربابؑ کے چھوٹے صاحبزادے تھے۔ بعض روایات میں ان کا اصل نام عبداللہ بیان کیا گیا ہے، مگر علی اصغر کے لقب سے زیادہ معروف ہیں۔ وہ صرف چھ ماہ کے شیر خوار بچہ تھے جب کربلا کے میدان میں ظلم کا وہ پہاڑ ٹوٹا جو انسانیت کو آج تک لرزا دیتا ہے۔
کربلا میں حضرت علی اصغر کی کیفیت
جب عاشور کا دن آیا، امام حسینؑ کے تمام ساتھی اور اہل بیت ایک ایک کر کے شہید ہو چکے تھے۔ خیموں میں صرف خواتین، بچے اور امام حسینؑ باقی رہ گئے تھے۔ بھوک، پیاس، پیاس کی شدت، اور صحرا کی گرمی میں معصوم بچوں کی حالت نزع تک پہنچ چکی تھی۔ حضرت علی اصغرؑ تین دن کی پیاس کی شدت سے نڈھال ہو چکے تھے، نہ ماں کے سینے میں دودھ رہا، نہ کوئی پانی کی سبیل۔
امام حسینؑ کا علی اصغر کو میدان میں لانا
امام حسینؑ، اپنے معصوم بیٹے کو گود میں لے کر میدان کربلا میں آئے اور دشمن لشکر کے سامنے کھڑے ہو کر فرمایا:
"اگر میرے گناہ کی سزا ہے تو اس معصوم کا کیا قصور ہے؟ اگر مجھے پانی نہیں دینا چاہتے تو اس شیر خوار کو ایک قطرہ پانی دے دو، اسے دیکھو، یہ تین دن سے پیاسا ہے۔"
بعض روایات کے مطابق، امام نے فرمایا:
"اے لوگو! اگر مجھ پر رحم نہیں کرتے، تو کم از کم اس شیر خوار پر رحم کرو۔ اسے پانی دو۔"
یہ وہ لمحہ تھا جو زمین و آسمان کو رُلا گیا، تاریخ کے اوراق بھی لرز گئے۔
حرملہ کا تیر اور شہادت
امام حسینؑ کے یہ الفاظ سن کر دشمنوں میں ایک لمحہ کے لیے سکوت چھا گیا، لیکن ابن سعد نے حرملہ بن کاهل اسدی کو حکم دیا کہ:
"اس بچے کا خاتمہ کر دو، تاکہ حسینؑ خاموش ہو جائے۔"
حرملہ نے ایک تین شعبہ (تین نوکوں والا) تیر کمان میں چڑھایا، جو عموماً جنگی گھوڑوں کو گرانے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اس نے تیر چلایا اور وہ تیر حضرت علی اصغرؑ کے ننھے سے گلے کو چیرتا ہوا امام حسینؑ کے بازوؤں میں پیوست ہو گیا۔ خون کا فوارہ چھوٹا، اور علی اصغرؑ نے اپنے بابا کی آغوش میں دم توڑ دیا۔
امام حسینؑ نے خون کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور آسمان کی طرف پھینکا۔ روایات میں آتا ہے:
"زمین پر ایک قطرہ بھی واپس نہیں گرا۔"
امام حسینؑ علی اصغرؑ کے لاشے کو خیمے میں واپس نہ لے جا سکے۔ انھوں نے ایک چھوٹا سا قبر نما گڑھا کھودا اور اپنے ہاتھوں سے اس معصوم کو دفن کیا۔
حضرت علی اصغرؑ کی شہادت کا پیغام
حضرت علی اصغرؑ کی شہادت کوئی عام شہادت نہیں تھی۔ یہ ایک ایسی قربانی تھی جو رہتی دنیا تک مظلوموں کی آواز بن گئی۔ ان کا خون پکار پکار کر کہتا ہے کہ حق کے راستے میں قربانی کی کوئی حد نہیں۔ ظلم و ستم کی انتہا بھی جب مظلوم کے عزم کو توڑ نہ سکے، تو یہی مظلوم تاریخ کا فاتح کہلاتا ہے۔
آج بھی ہر محرم میں...
آج بھی جب محرم آتا ہے تو ہر ماں اپنے گود میں بچے کو لے کر علی اصغرؑ کو یاد کرتی ہے۔ ہر باپ، حسینؑ کی آنکھوں سے بہتے آنسو کو اپنے دل میں محسوس کرتا ہے۔ عزاداری میں سبز رنگ کا چھوٹا علم حضرت علی اصغرؑ کے نام پر بلند کیا جاتا ہے، اور ان کے حق میں مخصوص جلوس، ماتم اور مجالس برپا کی جاتی ہیں۔
اللّٰہ ہمیں حضرت علی اصغرؑ کی قربانی کو سمجھنے، اس سے سبق لینے، اور حق و صداقت کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
مجلس عزا سید الشہداء امام حسین علیہ السّلام
Al Asrar Hussain TV
https://youtu.be/v8l7Ox_U1CQ?si=Z62t4QsUr1Bbrg8k
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
Multan