24/05/2026
زندگی میں ہر دن اہم ہوتا ہے لیکن کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو بطور Cut استعمال ہوتے ہیں یعنی وہ آپکو ایک نئی زندگی میں داخل کر دیتے ہے ۔ کالج کی ڈگری دو سال کی ہوتی ہے پہلا اور آخری دن بہت کمال ہوتا ہے ۔
میرا جب پہلا دن تھا گھر میں ایک تصویر بنوا کر گیا اور کالج کی وردی پہن کر بڑی خوشی محسوس ہوئی ۔ ہمارے ہاں طلباء کالج کا آخری دن Celebrate کرتے ہیں جس سے بہت لوگ ناراض ہوتے ہیں جبکہ میں اس چیز کے حق میں ہوں اگر وہ کوئی نقصان نہیں کر رہے تو دل کھول کر انجوائے کریں ۔
ہمارے ہاں طلباء پر ایسے پابندیاں لگاتے ہیں کہ اٹھارہ سال کی عمر میں افلاطون بن جائے ، کسی قسم کا مزاق نہ کرے بلکہ پر وقت منہ بنا کر سیریس رہیں ۔۔۔۔ جو لوگ خود خوش نہیں رہتے وہ دوسروں کی خوشیوں کے دشمن بن جاتے ہیں ۔ آپ اپنی خوشی کے لیے کوئی بھی کام کریں ایسے لوگوں کو بہت تکلیف ہوگی ۔
آپ سالگرہ منائیں گے انھیں موت یاد آئے گی ، آپ کے گھر میں خوشی ہوگی یہ آپکو آنے والے غم بتائیں گے ایسے لوگوں سے ہمیشہ بچ کر رہیں یہ Parasite ہوتے ہیں جو خوشیاں کھاتے ہیں ۔ اگر طلباء اپنی وردیوں پر دستخط کرتے ہیں آپکو تکلیف کیوں ہوتی ہے ؟ وہ اپنی یادگار وردی سنبھال کر رکھیں گے ۔ پھر کہتے ہیں کسی غریب کے وردی کام آئے گی کیوں بھائی غریب کو دو سال پہنی ہوئی وردی کیوں دینی ہے آپ نئی لیکر دیں تاکہ آپکی منافقت سامنے آئے ۔
طلباء ایک دوسرے پر رنگ پھینک رہے ہوتے ہیں لوگ گالیاں دے رہے ہوتے ہیں یہ ماں باپ کا پیسہ ضائع کر رہے ہیں ۔ بھائی " رنگ " ایک خوشی کی نشانی ہے اگر ایک دوسرے پر پھینک رہے ہیں تو انھیں انجوائے کرنے دو ، اپنے بچوں کی خوشیاں ختم مت کریں ۔ اگر وہ اپنی جوانی میں چھوٹی چھوٹی خوشیاں منا رہے ہیں تو انھیں منانے دیں ۔
ہمارے معاشرے میں جلوس کے جتھے نکلتے ہیں انھیں کوئی کچھ نہیں کہتا اگر طلباء اپنے آخری دن روڈ پر اکھٹے نکلیں تو انھیں " بیغیرت" کہتے ہیں یہ منافقت ہے ۔ میں پھر اپنی بات دہرا رہا ہوں اگر وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچا رہے تو انھیں انجوائے کرنے دیں ان کی خوشیوں کے دشمن مت بنیں۔
حسن مختار خوشیوں والا 🩷✨
23/05/2026
عنوان: مہنگے اور برانڈڈ سرکاری کالج
“طالبات! آپ کو فخر ہونا چاہیے کہ آپ شہر کے مہنگے ترین اور بہترین کالج میں پڑھ رہی ہیں۔”
میم نے جیسے ہی یہ جملہ بولا، کلاس میں عجیب سی ہلچل دوڑ گئی۔ کہیں دبی دبی ہنسی تھی، کہیں طنزیہ مسکراہٹ، اور کہیں ایسی خاموشی جیسے کسی نے دل پر ہاتھ رکھ دیا ہو۔
آخرکار کلاس کی ایک طالبہ — جو ہمیشہ مشکل سوال پوچھنے کے لیے مشہور تھی — کھڑی ہوئی اور بولی:
“میم… مہنگے کالج تو سفائر، ایمپائر، چناب اور کیبن ہاؤس ہیں نا؟”
کلاس میں ہلکی سی ہنسی پھیل گئی۔ شاید اکثر طالبات یہی سوچتی تھیں، بس زبان کسی ایک نے دی تھی۔
میم نے بڑے سکون سے پوچھا: “صرف زیادہ فیس لینے سے کوئی ادارہ بڑا ہو جاتا ہے؟”
ایک اور آواز ابھری: “میم، عام تاثر تو یہی ہے۔ وہاں پڑھنا فخر سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تو زیادہ تر وہی آتے ہیں جو اُن کالجوں کی فیس نہیں دے سکتے۔”
یہ جملہ سنتے ہی چند چہرے جھک گئے۔ کیونکہ بعض اوقات احساسِ کمتری کتابوں سے نہیں، ماحول سے سیکھا جاتا ہے۔
میم کچھ دیر خاموش رہیں۔ پھر اچانک بولیں:
“اچھا چھوڑو۔ ایک بات بتاؤ۔ ہمارے کالج کا صرف ایک بلاک اور سامنے والا آدھا گراؤنڈ بڑا ہے یا اُن مشہور کالجوں کا پورا گرلز کیمپس؟”
اس بار جواب فوراً آیا: “میم! ہمارا۔”
“اچھا لائبریری؟”
“ہمارا۔”
“لیبز؟ مہنگا apparatus؟”
“ہمارا!”
“Highly qualified faculty؟”
اب جواب میں پہلے سے زیادہ اعتماد تھا۔ “ہمارا!”
میم نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا:
“اور ایک بات یہ بھی بتاؤ… شہر کے کسی اور کالج میں اتنے درخت ہیں جتنے آپ کے کالج میں ہیں؟ آپ کے کالج میں دو سو سے زیادہ درخت موجود ہیں۔ بعض اوقات کسی ادارے کی امارت صرف عمارتوں سے نہیں ہوتی، اُس ماحول سے بھی ہوتی ہے جہاں سانس لیتے ہوئے انسان کو کشادگی محسوس ہو۔”
کلاس چند لمحے کے لئے خاموش ہو گئی۔
ایک طالبہ نے اجازت لے کر کہا: “میم، میں ایک ایسے نامی ادارے کو جانتی ہوں جہاں کچھ teachers کے پاس BS کی degree بھی مشکل سے ہے۔”
میم مسکرائیں۔ “اور یہاں؟ یہاں lecturer بننے کے لئے Public Service Commission جیسے امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔”
ابھی گفتگو چل ہی رہی تھی کہ ایک اور اعتراض آ گیا: “میم، اُن کالجوں میں co-curricular activities زیادہ ہوتی ہیں۔”
میم نے فوراً ہتھیار نہیں ڈالے۔
“بیٹا، آپ کے کالج میں بھی seminars، sports festivals، women day، cultural events، میلاد، prize distributions سب کچھ ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں ہر فنکشن کی الگ فیس لی جاتی ہے، اور یہاں اکثر سب کچھ مفت ہوتا ہے۔ ہاں… اگر ویلکم پارٹیوں اور bonfire کے نام پر ڈانس نہ ہونا کسی ادارے کی کمی ہے تو پھر مان لیتے ہیں۔”
اس جملے پر پوری کلاس ہنس پڑی۔
پھر میم نے وہ بات کہی جو شاید پوری discussion کا نچوڑ تھی:
“اصل مسئلہ غربت نہیں، احساسِ غربت ہے۔”
کلاس اب خاموش تھی۔ مگر یہ وہ خاموشی نہیں تھی جو بوریت سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ سوچنے والی خاموشی تھی۔
اتنے میں بیل بج گئی۔
“چلو بچو، آج باقاعدہ lecture تو نہیں ہو سکا… کل پانچ essays کا test لے لیتے ہیں۔”
طالبات فوراً اپنی اپنی کتابیں سمیٹنے لگیں۔ قوموں کی self-esteem بحال ہو جائے، مگر test کا خوف پھر بھی test کا خوف ہی رہتا ہے۔
کوریڈور میں جاتے ہوئے چند بچیوں کی آواز صاف سنائی دی:
“اب ہم اپنی بہنوں اور cousins کو بھی یہی کالج suggest کریں گے۔”
یہ سن کر شاید ایک استاد کے دل میں عجیب سا سکون اترا ہوگا۔ مگر اسی سکون کے نیچے ایک دعا بھی چھپی تھی:
“یا اللہ… ہمارے اداروں کی کمیوں کو بھی پورا کر دے۔ اساتذہ کی کمی، check and balance کی کمی، اور وہ سب خامیاں جن کی وجہ سے قابل بچے ہم سے دور چلے جاتے ہیں۔”
کیونکہ سچ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے ادارے تعلیم سے زیادہ احساس بیچتے ہیں۔ اور نوجوان اکثر علم نہیں، “برانڈ” خریدنے نکلتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں تعلیم صرف علم حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ اب یہ “سٹیٹس” کی علامت بھی بنتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے طلبہ اور والدین کسی ادارے کے علمی معیار سے پہلے اُس کی فیس، عمارت، اشتہارات اور سوشل میڈیا پر موجود شہرت کو دیکھتے ہیں۔ آہستہ آہستہ یہ تاثر مضبوط ہو چکا ہے کہ جو ادارہ جتنا مہنگا ہے، وہ اتنا ہی بہتر بھی ہوگا۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ادارے کی اصل طاقت اُس کے اساتذہ، علمی ماحول، تربیت اور طلبہ کی محنت ہوتی ہے، نہ کہ صرف اُس کا نام یا فیس اسٹرکچر۔
تحریر : صائمہ لطیف
23/05/2026
پنجاب حکومت کا عید الاضحیٰ کے موقع پر 3 چھٹیوں کا اعلان، پنجاب بھر میں 26 مئی سے 28 مئی تک عام تعطیل ہوگی، نوٹیفیکیشن
23/05/2026
این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے 26 سے 31 مئی تک ملک بھر میں متوقع موسمی صورتحال کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا۔
شمالی علاقہ جات میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز کے باعث خطرات میں اضافہ۔
شمالی علاقہ جات میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا امکان۔
بارش، سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کے پیشِ نظر رابطہ سڑکوں کی بندش کا بھی خطرہ موجود ہے۔
خیبرپختونخوا میں 26 سے 31 مئی کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر ژالہ باری متوقع ہے۔
چترال، دیر، منگورہ، ہنگو، سوات، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور اور پاراچنار میں بارش متوقع۔
گلگت بلتستان میں 26 سے 31 مئی کے دوران گلگت، اسکردو، ہنزہ، استور، نیلم ویلی، مظفرآباد، باغ، کوٹلی اور بھمبر میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر ژالہ باری کا امکان ہے۔
پنجاب کے مختلف اضلاع میں 28 سے 31 مئی کو گرج چمک کے ساتھ بارش اور بعض مقامات پر ژالہ باری کا امکان۔
راولپنڈی، اسلام آباد، مری، اٹک، چکوال، جہلم، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، ساہیوال، اوکاڑہ، فیصل آباد، قصور، بہاولپور، بہاولنگر اور ملتان میں بارش کا امکان۔
بلوچستان میں 30 سے 31 مئی کے دوران کوئٹہ، ژوب، زیارت، چمن، خضدار اور تربت میں بارش متوقع، جبکہ چند مقامات پر ژالہ باری کا بھی امکان ہے۔
سندھ میں 30 اور 31 مئی کو ٹھٹھہ، بدین، مٹھی، حیدرآباد اور کراچی میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان۔
ممکنہ بارش اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث گلگت بلتستان، بالائی خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر الرٹ جاری۔
ہنزہ، نگر، گلگت، چلاس، استور، شگر، چترال، کالام، اپر کوہستان اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا شدید خطرہ۔
شمشال ویلی، عطاآباد جھیل، کریم آباد، گل میت، ششکت بالا اور پاسو کے درمیان رابطہ سڑکیں حساس قرار دے دی گئیں۔
شگر ویلی روڈ، اسکردو روڈ، دیوسائی روڈ اور قراقرم ہائی وے پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث راستے بند ہونے کا خدشہ۔
ممکنہ طور پر متاثرہ شاہراہوں میں قراقرم ہائی وے، ناران روڈ اور جگلوٹ، اسکردو روڈ شامل ہیں۔
کالام، اوشو، کندول، ارنگ کیل، داسو، پٹن اور چترال ویلی کے پہاڑی مقامات پر سیاحتی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ۔
شمالی علاقہ جات میں درجہ حرارت میں اضافے اور بارش کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔
تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز کے باعث مقامی ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے۔
درکوٹ، لاشت، اشکومن، پنڈور، ریشن، بونی، بدسوات، شسپر، گلکن، ہنارچی، روشن اور کمراٹ کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ۔
ہنزہ، غذر، دیامیر، استور، گھانچے، شگر، کھرمنگ، وادی نیلم، باغ، سدھنوتی، چترال، دیر، سوات اور کوہستان کے علاقوں میں بھی سیلابی صورتحال کا خدشہ۔
این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو حساس شاہراہوں اور پہاڑی علاقوں میں الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی۔
سیاح اور مسافر شمالی علاقوں کا سفر کرنے سے قبل موسم اور سڑکوں کی صورتحال ضرور چیک کریں۔
عوام این ڈی ایم اے کی آفیشل ایپ "پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ" سے بروقت معلومات حاصل کریں۔
این ڈی ایم اے نے تمام صوبائی اور ضلعی اداروں کو ممکنہ موسمی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی۔