23/09/2026
🌿 سچی توبہ کی پہچان کیا ہے؟
ہم میں سے بہت سے لوگ توبہ کا ارادہ کرتے ہیں، لیکن قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ سچی توبہ صرف زبان سے معافی مانگنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے ساتھ نیک عمل بھی ضروری ہے۔
📖 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَنۡ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّہٗ یَتُوۡبُ اِلَی اللّٰہِ مَتَابًا ﴿۷۱﴾
ترجمہ:
اور جو شخص توبہ کرے اور نیک عمل کرے وہ تو (حقیقتًا) اللہ تعالیٰ کی طرف سچا رجوع کرتا ہے۔
( سورہ فرقان: آیت 71)
🌿 تفسیر و پیغام
پچھلی آیت میں بھی توبہ کا ذکر گزر چکا ہے، پھر یہاں دوبارہ توبہ کا ذکر کیا گیا۔ اس میں توبہ کی ترغیب ہے کہ جو شخص توبہ کرے اور نیک عمل کرے، اسے یہ جان لینا چاہیے کہ وہ کسی معمولی ہستی کی طرف نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹ رہا ہے، جو بندے کی توبہ سے بہت محبت کرتا ہے، اور اس کی توبہ معمولی نہیں بلکہ بڑی شان والی اور سچی توبہ ہے۔
پچھلی آیت میں بھی عملِ صالح کا ذکر تھا، لیکن اس کی اہمیت کے پیشِ نظر اسے دوبارہ بیان کیا گیا۔ صرف زبانی توبہ کافی نہیں، بلکہ اس کے مطابق عمل بھی ضروری ہے۔
جو شخص توبہ کرے اور نیک اعمال کرے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سچی اور حقیقی توبہ کرتا ہے۔ جبکہ قدرت کے باوجود نیک عمل نہ کرنا توبہ کے دعوے کو کمزور کر دیتا ہے، کیونکہ سچی توبہ کے ساتھ عملِ صالح بھی ضروری ہے۔
اس آیت میں یہ بھی وضاحت ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد اگر کوئی شخص کسی گناہ کا ارتکاب کرے اور پھر سچی توبہ کرے تو اس کی توبہ بھی سچی اور مقبول توبہ ہو سکتی ہے۔
🌿 آج ہمارے لیے اصل سبق!
✅ سچی توبہ صرف زبان سے معافی مانگنے کا نام نہیں، بلکہ عمل کی اصلاح بھی ضروری ہے۔
✅ گناہ چھوڑ کر نیک اعمال اختیار کرنا توبہ کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔
✅ توبہ کا مطلب اللہ تعالیٰ کی طرف سچے دل سے واپس آنا ہے۔
✅ انسان سے گناہ ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کا راستہ کھلا ہے۔
✅ اپنی توبہ کو صرف دعویٰ نہ بنائیں، بلکہ اپنے عمل سے اس کی سچائی ثابت کریں۔
📲 اگر یہ آیت اور اس کا پیغام آپ کے لیے مفید ہے تو اسے دوسروں تک بھی پہنچائیں، تاکہ کسی گناہ گار انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سچی توبہ کی ترغیب مل سکے۔
🤲 اے اللہ! ہمیں سچی توبہ کرنے، گناہوں سے بچنے اور نیک اعمال اختیار کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔
Babul Islam Institute