Babul islam Institute

Babul islam Institute Asslam_u_Alaikum
Masnoon Wazaif and answers to your religious questions are also given on this page. You are requested to like, share and follow our page.

This page introduces many technology related products and provides an easy way to buy them

🌿 سچی توبہ کی پہچان کیا ہے؟ہم میں سے بہت سے لوگ توبہ کا ارادہ کرتے ہیں، لیکن قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ سچی توبہ صرف زبان سے ...
23/09/2026

🌿 سچی توبہ کی پہچان کیا ہے؟

ہم میں سے بہت سے لوگ توبہ کا ارادہ کرتے ہیں، لیکن قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ سچی توبہ صرف زبان سے معافی مانگنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے ساتھ نیک عمل بھی ضروری ہے۔

📖 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَ مَنۡ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّہٗ یَتُوۡبُ اِلَی اللّٰہِ مَتَابًا ﴿۷۱﴾
ترجمہ:
اور جو شخص توبہ کرے اور نیک عمل کرے وہ تو (حقیقتًا) اللہ تعالیٰ کی طرف سچا رجوع کرتا ہے۔
( سورہ فرقان: آیت 71)

🌿 تفسیر و پیغام

پچھلی آیت میں بھی توبہ کا ذکر گزر چکا ہے، پھر یہاں دوبارہ توبہ کا ذکر کیا گیا۔ اس میں توبہ کی ترغیب ہے کہ جو شخص توبہ کرے اور نیک عمل کرے، اسے یہ جان لینا چاہیے کہ وہ کسی معمولی ہستی کی طرف نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹ رہا ہے، جو بندے کی توبہ سے بہت محبت کرتا ہے، اور اس کی توبہ معمولی نہیں بلکہ بڑی شان والی اور سچی توبہ ہے۔

پچھلی آیت میں بھی عملِ صالح کا ذکر تھا، لیکن اس کی اہمیت کے پیشِ نظر اسے دوبارہ بیان کیا گیا۔ صرف زبانی توبہ کافی نہیں، بلکہ اس کے مطابق عمل بھی ضروری ہے۔

جو شخص توبہ کرے اور نیک اعمال کرے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سچی اور حقیقی توبہ کرتا ہے۔ جبکہ قدرت کے باوجود نیک عمل نہ کرنا توبہ کے دعوے کو کمزور کر دیتا ہے، کیونکہ سچی توبہ کے ساتھ عملِ صالح بھی ضروری ہے۔

اس آیت میں یہ بھی وضاحت ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد اگر کوئی شخص کسی گناہ کا ارتکاب کرے اور پھر سچی توبہ کرے تو اس کی توبہ بھی سچی اور مقبول توبہ ہو سکتی ہے۔

🌿 آج ہمارے لیے اصل سبق!

✅ سچی توبہ صرف زبان سے معافی مانگنے کا نام نہیں، بلکہ عمل کی اصلاح بھی ضروری ہے۔
✅ گناہ چھوڑ کر نیک اعمال اختیار کرنا توبہ کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔
✅ توبہ کا مطلب اللہ تعالیٰ کی طرف سچے دل سے واپس آنا ہے۔
✅ انسان سے گناہ ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کا راستہ کھلا ہے۔
✅ اپنی توبہ کو صرف دعویٰ نہ بنائیں، بلکہ اپنے عمل سے اس کی سچائی ثابت کریں۔

📲 اگر یہ آیت اور اس کا پیغام آپ کے لیے مفید ہے تو اسے دوسروں تک بھی پہنچائیں، تاکہ کسی گناہ گار انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سچی توبہ کی ترغیب مل سکے۔

🤲 اے اللہ! ہمیں سچی توبہ کرنے، گناہوں سے بچنے اور نیک اعمال اختیار کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔

Babul Islam Institute

🌿 آج کی آیتکیا گناہ نیکیوں میں بدل سکتے ہیں؟انسان سے کتنے ہی گناہ ہو جائیں، لیکن جب وہ سچی توبہ کے ساتھ اپنی زندگی بدلنے...
22/09/2026

🌿 آج کی آیت

کیا گناہ نیکیوں میں بدل سکتے ہیں؟

انسان سے کتنے ہی گناہ ہو جائیں، لیکن جب وہ سچی توبہ کے ساتھ اپنی زندگی بدلنے کا ارادہ کرے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔

📖 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا

ترجمہ:
سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان لائیں اور نیک کام کریں، ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے، اللہ بخشنے والا مہربانی کرنے والا ہے۔

(سورۃ الفرقان: 70)

🌿 تفسیر و پیغام

یہ آیت ان لوگوں کے لیے بشارت ہے جن کی زندگی پہلے طرح طرح کے جرائم سے آلودہ رہی ہو، لیکن اب وہ اپنی اصلاح پر آمادہ ہوں۔

اللہ تعالیٰ نے برائیوں کو نیکیوں میں بدلنے کے لیے تین شرطیں بیان فرمائی ہیں:

پہلی: توبہ
یعنی گناہ سے باز آ جانا، گزشتہ گناہوں پر ندامت اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم۔

دوسری: ایمان
کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں۔

تیسری: عملِ صالح
یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق عمل کرنا۔ آیت میں ’’عَمَلًا صَالِحًا‘‘ نکرہ ہے، جس میں یہ بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں توبہ اور ایمان کے ساتھ تھوڑے سے عملِ صالح کی بھی بہت قدر ہے۔

«يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ» کی تفسیر میں دو باتیں بیان ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں انہیں گناہوں کی جگہ نیکیوں کی توفیق دے گا؛ کفر و شرک کی جگہ ایمان و توحید، زنا کی جگہ پاک دامنی، جھوٹ کی جگہ سچائی اور نافرمانی کی جگہ فرمانبرداری اختیار کریں گے۔

دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دے گا۔ اس کی دلیل رسول اللہ ﷺ کی ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے، جس میں ایک شخص کے بارے میں فرمایا گیا کہ اس کی ہر برائی کی جگہ ایک نیکی دے دی جائے گی۔
(صحیح مسلم: 190)

اہلِ علم نے اس کی ایک توجیہ یہ بیان کی ہے کہ گناہ یاد آنے پر ندامت اور استغفار مسلسل نیکی بن جاتے ہیں، اور توبہ کے بعد آئندہ برائی سے بچنے کا پختہ عزم بھی نیکی کا سبب بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے کا باعث بن جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے آخر میں فرمایا: «وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا» یعنی اللہ تعالیٰ گناہوں پر پردہ ڈالنے والا اور بے حد رحم کرنے والا ہے، اس لیے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دینا اس کے فضل و کرم سے بعید نہیں۔

🌿 آج ہمارے لیے اصل سبق!

✅ گناہ خواہ کتنے ہی ہوں، توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔

✅ سچی توبہ میں گناہ چھوڑنا، گزشتہ گناہوں پر ندامت اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم شامل ہے۔

✅ توبہ کے ساتھ ایمان اور عملِ صالح بھی ضروری ہے۔

✅ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کے لیے گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے کی بشارت دیتا ہے۔

✅ توبہ کے بعد اپنی زندگی کو نیکی اور فرمانبرداری کی طرف بدلنا چاہیے۔

📲 اگر یہ آیت آپ کو اللہ کی رحمت اور سچی توبہ کی امید دلاتی ہے تو اسے کسی ایسے شخص تک ضرور پہنچائیں جو اپنے ماضی کے گناہوں کی وجہ سے مایوس ہو چکا ہو۔

🤲 اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما، ہمیں سچی توبہ کی توفیق دے اور توبہ کے بعد نیک عمل پر ثابت قدم رکھ۔ آمین۔

Babul Islam Institute

"نبی ﷺ نے مکہ مکرمہ کو اللہ کی زمین میں سب سے محبوب جگہ کیوں قرار دیا؟"Makkah Ki Fazilat | Makkah Ki Azmat | Hadith Ibn ...
19/09/2026

"نبی ﷺ نے مکہ مکرمہ کو اللہ کی زمین میں سب سے محبوب جگہ کیوں قرار دیا؟"

Makkah Ki Fazilat | Makkah Ki Azmat | Hadith Ibn Hibban | Babul Islam Institute










🌿 آج کی آیت — درود و سلام کی عظمتہم میں سے ہر شخص رسول اللہ ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے،لیکن کیا ہماری زبان بھی اس محبت ک...
18/09/2026

🌿 آج کی آیت — درود و سلام کی عظمت

ہم میں سے ہر شخص رسول اللہ ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے،
لیکن کیا ہماری زبان بھی اس محبت کا حق ادا کرتی ہے؟
قرآن بتاتا ہے کہ یہ صرف محبت کا اظہار نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا حکم ہے۔ آخر اس حکم کی عظمت کیا ہے؟

📖 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

ترجمہ:
اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔
(سورۃ الأحزاب: 56)

🌿 تفسیر و پیغام

اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کے بلند مرتبے اور مقام کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ خود آپ ﷺ کی تعریف و ثنا فرماتا، آپ ﷺ پر رحمتیں اور برکتیں نازل فرماتا ہے، اور فرشتے بھی آپ ﷺ کے لیے رحمت، مغفرت اور بلندیِ درجات کی دعا کرتے ہیں۔ پھر آسمان والوں کا ذکر کرنے کے بعد زمین والوں، یعنی اہلِ ایمان کو حکم دیا گیا کہ وہ بھی رسول اللہ ﷺ پر صلاۃ و سلام بھیجیں۔

رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو درود و سلام کے الفاظ بھی خود سکھائے۔ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آپ ﷺ نے اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ... کے الفاظ سکھائے۔ اسی طرح تشہد میں اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ کے الفاظ بھی آپ ﷺ نے سکھائے۔

تفسیر میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ قرآن کے حکم صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا اور رسول اللہ ﷺ کی طرف سے تشہد میں صلاۃ و سلام کے الفاظ کی تعلیم سے کم از کم نماز میں درود و سلام کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ نماز کے علاوہ بھی رسول اللہ ﷺ پر مختصر الفاظ، جیسے صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، کہنا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا ذکر آنے پر صلاۃ بھیجنے کی بہت تاکید آئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

«الْبَخِيلُ الَّذِي مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ»

’’بخیل وہ ہے جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے تو وہ مجھ پر صلاۃ نہ پڑھے۔‘‘
(جامع الترمذی: 3546)

اور ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص نبی ﷺ پر ایک مرتبہ صلاۃ بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس پر دس مرتبہ صلاۃ بھیجتا ہے۔
(صحیح مسلم: 384)

🌿 آج ہمارے لیے اصل سبق!

✅ رسول اللہ ﷺ کا ذکر آئے تو درود و سلام پڑھنے کا اہتمام کریں۔

✅ نماز میں وہ درود و سلام پڑھیں جو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سکھائے۔

✅ نماز کے علاوہ بھی رسول اللہ ﷺ کے ذکرِ خیر کے وقت صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہنے کا اہتمام کریں۔

✅ مؤذن کی اذان سننے کے بعد اس کی پیروی کریں اور پھر رسول اللہ ﷺ پر صلاۃ بھیجیں۔

✅ ایسی مجلس سے بچیں جو اللہ کے ذکر اور نبی ﷺ پر صلاۃ و سلام سے خالی ہو، کیونکہ ایسی مجلس قیامت کے دن باعثِ حسرت ہو سکتی ہے۔

📲 آج رسول اللہ ﷺ کا ذکر آئے تو درود پڑھنے کا خاص اہتمام کریں، اور یہ پیغام دوسروں تک بھی پہنچائیں تاکہ انہیں بھی درود و سلام کی یاد دہانی ہو۔

🤲 اے اللہ! ہمیں اپنے نبی محمد ﷺ پر کثرت سے صلاۃ و سلام بھیجنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں اس حکم پر عمل کرنے والا بنا۔ آمین۔

جس نبی ﷺ پر اللہ تعالیٰ خود رحمتیں اور برکتیں نازل فرماتا ہے اور فرشتے بھی آپ ﷺ کے لیے دعا کرتے ہیں، اہلِ ایمان کو بھی حکم ہے کہ وہ آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجتے رہیں۔

Babul Islam Institute

"جو شخص اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرے، اللہ تعالیٰ اس کے مقام کے ساتھ کیا معاملہ فرماتا ہے؟"Aajizi Ki Fazilat | Allah Ke ...
15/09/2026

"جو شخص اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرے، اللہ تعالیٰ اس کے مقام کے ساتھ کیا معاملہ فرماتا ہے؟"

Aajizi Ki Fazilat | Allah Ke Liye Aajizi | Hadith Muslim | Babul Islam Institute










📖 آج کی آیت —  نگاہ کی حفاظت، دل کی پاکیزگیاگر اچانک کسی غیر محرم پر نظر پڑ جائے تو مومن کو کیا کرنا چاہیے؟ اور قرآن نے ...
14/09/2026

📖 آج کی آیت — نگاہ کی حفاظت، دل کی پاکیزگی

اگر اچانک کسی غیر محرم پر نظر پڑ جائے تو مومن کو کیا کرنا چاہیے؟ اور قرآن نے نگاہ کی حفاظت کو اتنی اہمیت کیوں دی ہے؟

📖 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿قُلْ لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ﴾

ترجمہ:
"مسلمان مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔ بے شک اللہ اس سے باخبر ہے جو وہ کرتے ہیں۔"
(سورۃ النور: 30)

🌿 تفسیر و پیغام

اللہ تعالیٰ نے فحاشی اور بدکاری کے دروازے بند کرنے کے لیے سب سے پہلے نگاہ کی حفاظت کا حکم دیا، کیونکہ دل تک پہنچنے والے راستوں میں نگاہ ایک اہم راستہ ہے۔ اکثر فتنے کی ابتدا ایک نظر سے ہوتی ہے، پھر یہی نظر دل میں خواہش پیدا کرتی ہے اور انسان کو آگے کے گناہوں کی طرف لے جا سکتی ہے۔

اس لیے اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں کو حکم دیا کہ وہ ان چیزوں سے اپنی نگاہیں بچائیں جنہیں دیکھنا شرعاً جائز نہیں۔ اگر اچانک کسی نامحرم پر نظر پڑ جائے تو فوراً نگاہ ہٹا لی جائے؛ گناہ جان بوجھ کر دوبارہ نظر ڈالنے میں ہے۔

اسی طرح شرم گاہ کی مکمل حفاظت کا حکم دیا گیا ہے، یعنی بدکاری سے بچنا اور اپنی عزت و عصمت کی حفاظت کرنا۔ قرآن نے ان دونوں احکام کو "ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ" فرمایا، یعنی یہی ان کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے۔

نگاہ کی حفاظت صرف ایک ظاہری عمل نہیں، بلکہ اس کا تعلق دل کی پاکیزگی سے بھی ہے۔ جب انسان اپنی نگاہ کو حرام سے بچاتا ہے تو دل کو گناہ کے خیالات اور خواہشات سے محفوظ رکھنے میں مدد ملتی ہے، جبکہ بے قابو نگاہ دل کو آلودہ اور انسان کو گناہ کے قریب کر سکتی ہے۔

اور آخر میں اللہ تعالیٰ نے یاد دلایا کہ وہ ہمارے ہر عمل سے باخبر ہے؛ لوگوں سے چھپ جانے والی نگاہ بھی اللہ سے پوشیدہ نہیں۔

🌿 عملی اسباق!

✅ نامحرم کو جان بوجھ کر دیکھنے سے اپنی نگاہ بچائیں۔
✅ اچانک نظر پڑ جائے تو فوراً نگاہ ہٹا لیں۔
✅ اپنی شرم گاہ اور عزت و عصمت کی مکمل حفاظت کریں۔
✅ یاد رکھیں، نگاہ کی حفاظت دل کی پاکیزگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
✅ تنہائی میں بھی اللہ کی نگرانی کا احساس رکھیں، کیونکہ وہ آنکھوں کی خیانت تک کو جانتا ہے۔

📲 اگر آپ بھی سمجھتے ہیں کہ پاکیزہ معاشرے کی ابتدا پاکیزہ نگاہوں سے ہوتی ہے تو اس پیغام کو دوسروں تک ضرور پہنچائیں۔

🤲 یا اللہ! ہماری نگاہوں، دلوں اور اعمال کو پاکیزہ فرما اور ہمیں ہر ظاہری و باطنی فتنے سے محفوظ فرما۔ آمین۔

Babul islam Institute

🌿 آج کی آیت — صلح یا ناانصافی؟آج ہمارے معاشرے میں اختلاف صرف اختلاف نہیں رہتا؛ لوگ رشتے توڑ لیتے ہیں، ایک دوسرے کے خلاف ...
13/09/2026

🌿 آج کی آیت — صلح یا ناانصافی؟

آج ہمارے معاشرے میں اختلاف صرف اختلاف نہیں رہتا؛ لوگ رشتے توڑ لیتے ہیں، ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں، اور پھر صلح کی کوشش بھی اکثر انصاف کے بجائے اپنوں کی طرف داری بن جاتی ہے۔ مظلوم سے کہا جاتا ہے خاموش رہو، حق مانگنے والے کو ہی قربانی دینے کا مشورہ دیا جاتا ہے، اور طاقتور کو ناراض کرنے سے بچنے کے لیے کمزور کا حق دبا دیا جاتا ہے۔
لیکن اگر صلح ہی انصاف کے بغیر ہو تو کیا وہ واقعی اصلاح ہے؟ قرآن ہمیں اختلاف کے وقت کیا راستہ دکھاتا ہے؟

📖 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا ۖ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ

ترجمہ:
پھر اگر وہ لوٹ آئے تو دونوں کے درمیان انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
(سورۃ الحجرات: 9)

🌿 تفسیر و پیغام

اگر زیادتی کرنے والا گروہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے تو دونوں کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کروانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف لڑائی ختم کرنے کے لیے کسی ایک فریق کی بے جا رعایت کی جائے یا دوسرے کا حق دبا دیا جائے۔

بلکہ جس فریق کا جو حق بنتا ہے، وہ اسے دلا کر انصاف کے ساتھ صلح کروائی جائے۔ کیونکہ ایسی صلح جو ناانصافی پر قائم ہو، نہ پائیدار ہوتی ہے اور نہ مستقبل کے اختلاف کا دروازہ بند کرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد دوبارہ «وَأَقْسِطُوا» فرما کر انصاف کی تاکید کی۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ لڑائی کے دوران کسی فریق کے خلاف دل میں نفرت پیدا ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے انسان انصاف سے ہٹ سکتا ہے۔ اس لیے قرآن نے یاد دلایا کہ نفرت بھی تمہیں انصاف سے نہ ہٹائے۔

اور یہ حکم صرف دو لڑنے والے گروہوں تک محدود نہیں؛ ہمیں اپنے تمام معاملات میں انصاف کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ
بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے عادل لوگوں کی فضیلت بیان فرمائی کہ انصاف کرنے والے اللہ کے ہاں نور کے منبروں پر ہوں گے۔ وہ اپنے فیصلوں میں، اپنے گھر والوں کے ساتھ اور جن لوگوں کے ذمہ دار ہیں، ان سب کے معاملات میں انصاف کرتے ہیں۔
(صحیح مسلم: 1827)

🌿 آج ہمارے لیے اصل سبق!

✅ صلح کرواتے وقت صرف جھگڑا ختم نہ کریں، حق بھی دلوائیں۔
✅ اپنے پسندیدہ شخص یا فریق کی جانبداری میں دوسرے کا حق نہ دبائیں۔
✅ کسی سے نفرت بھی ہو تو انصاف کا دامن نہ چھوڑیں۔
✅ انصاف صرف دوسروں کے ساتھ نہیں، اپنے گھر والوں اور زیرِ ذمہ لوگوں کے ساتھ بھی کریں۔
✅ یاد رکھیں: لوگوں کی خوشنودی سے بڑھ کر اللہ کی محبت ہے، اور اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

🤲 اے اللہ! ہمیں ہر معاملے میں انصاف کرنے، حق ادا کرنے اور جانبداری سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔

آخرکار اصل صلح وہ نہیں جو صرف جھگڑا خاموش کر دے؛ اصل صلح وہ ہے جو حق دلا کر انصاف کے ساتھ قائم ہو۔

Babul islam Institute

🌿 آج کی آیت — آخر کس بات کا تکبر؟کبھی کسی انسان کو دیکھ کر دل میں یہ خیال آتا ہے کہ یہ میرے برابر کیسے ہو سکتا ہے؟ کبھی ...
12/09/2026

🌿 آج کی آیت — آخر کس بات کا تکبر؟

کبھی کسی انسان کو دیکھ کر دل میں یہ خیال آتا ہے کہ یہ میرے برابر کیسے ہو سکتا ہے؟ کبھی کسی کے سلام کا جواب دینے میں بھی دل بوجھل ہوتا ہے،
کسی سے بات کرتے ہوئے چہرہ بدل جاتا ہے، اور کبھی اپنی دولت، علم، عہدے یا حیثیت کی وجہ سے ہم دوسروں کو معمولی سمجھنے لگتے ہیں۔
مگر ذرا ٹھہریے…
جس زمین پر ہم اکڑ کر چل رہے ہیں، اسی زمین سے ہماری پیدائش ہوئی ہے، اسی میں ہمیں لوٹ کر جانا ہے،
اور آج ہمارے ساتھ چلنے والے باقی سب انسان بھی اسی زمین پر چل رہے ہیں۔ پھر آخر یہ تکبر کس بات کا؟

📖 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ

ترجمہ:
اور لوگوں سے اپنا چہرہ پھیر کر بات نہ کر، اور زمین میں اکڑ کر نہ چل، بے شک اللہ ہر اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو اکڑ کر چلنے والا، فخر کرنے والا ہو۔
(سورۃ لقمان: 18)

🌿 تفسیر و پیغام

یہ لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو نصیحت ہے کہ لوگوں کے ساتھ تکبر اور حقارت کا رویہ اختیار نہ کرو۔

کسی سے بات کرتے ہوئے اسے کمتر سمجھ کر چہرہ نہ پھیرو، بلکہ نرمی، محبت اور خوش روئی کے ساتھ پیش آؤ۔

پھر فرمایا: «وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا» — زمین میں اکڑ کر نہ چلو۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان تو زمین ہی پر چلتا ہے، پھر خاص طور پر زمین کا ذکر کیوں کیا گیا؟

اس میں ایک گہری یاد دہانی ہے: تمام انسانوں کی طرح تمہاری پیدائش بھی اسی زمین سے ہوئی، اسی میں تمہیں دفن ہونا ہے، اور آج جن لوگوں کو تم حقیر سمجھ رہے ہو وہ بھی اسی زمین پر تمہارے ساتھ چل رہے ہیں۔ پھر اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھنا اور اکڑ کر چلنا تمہیں کیسے زیب دیتا ہے؟

انسان اپنے پاس موجود نعمتوں کو اپنی برتری کی دلیل سمجھ لیتا ہے، حالانکہ مال، علم، عہدہ، خوبصورتی اور دوسری نعمتیں اللہ کی عطاء ہیں۔
صرف نعمت مل جانا اس بات کی دلیل نہیں کہ اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے بلکہ یہ نعمتیں آزمائش بھی ہو سکتی ہیں کہ انسان انہیں پا کر شکر کرتا ہے یا تکبر۔

🌿 آج ہمارے لیے اصل سبق!

✅ کسی کو کمتر سمجھ کر اس سے منہ نہ پھیریں۔

✅ گفتگو میں نرمی، محبت اور خوش روئی اختیار کریں۔

✅ اپنی دولت، علم، عہدے یا کسی نعمت پر دوسروں کو حقیر نہ سمجھیں۔

✅ نعمت ملے تو فخر کے بجائے اللہ کا شکر کریں۔

✅ اپنی ابتدا اور انجام کو یاد رکھیں؛ یہی تکبر کو توڑنے کے لیے کافی ہے۔

📲 اگر یہ آیت ہمیں اپنے رویے پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے تو اسے دوسروں تک بھی پہنچائیں۔

🤲 اے اللہ! ہمارے دلوں کو تکبر سے پاک فرما، ہمیں عاجزی، نرم مزاجی اور اچھے اخلاق عطا فرما۔ آمین۔

ہم سب کی ابتدا ایک ہی مٹی سے ہے اور انجام بھی اسی زمین میں ہے؛ پھر انسان کو انسان سے بڑا سمجھنے کا حق آخر کس نے دیا؟
Babul islam Institute

🌿 آج کی آیت — وہ کتاب جس میں کچھ نہیں چھوٹے گاہم نے زندگی میں کتنی ہی باتیں کہہ کر بھلا دیں،  اور کتنے گناہوں کو یہ سوچ ...
11/09/2026

🌿 آج کی آیت — وہ کتاب جس میں کچھ نہیں چھوٹے گا

ہم نے زندگی میں کتنی ہی باتیں کہہ کر بھلا دیں، اور کتنے گناہوں کو یہ سوچ کر نظرانداز کر دیا کہ یہ تو بس ایک چھوٹی سی بات تھی۔ مگر ایک دن ہماری زندگی کی وہ کتاب ہمارے سامنے کھول دی جائے گی جس میں ہمارا کوئی بھی عمل چھوڑا نہیں جائے ہوگا۔
ہر بڑے سے بڑا اور ہر چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی اس کتاب میں لکھا ہوا ہوگا.

📖 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ هَٰذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا ۚ وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا ۗ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا

ترجمہ:
اور نامۂ اعمال سامنے رکھ دیے جائیں گے۔ پس تو دیکھے گا گنہگار اس کی تحریر سے خوفزدہ ہو رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے: ہائے ہماری خرابی! یہ کیسی کتاب ہے جس نے کوئی چھوٹا بڑا گناہ بغیر گھیرے کے باقی ہی نہیں چھوڑا۔ اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم و ستم نہ کرے گا۔
(سورۃ الکہف: 49)

🌿 تفسیر و پیغام

قیامت کے دن بندوں کے نامۂ اعمال اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور ہر شخص کو اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا۔ مومن کو اس کے دائیں ہاتھ میں اور کافر کو بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

جن لوگوں نے دنیا میں گناہوں کا ارتکاب کیا ہوگا، وہ اپنے اعمال نامے میں اپنے برے اعمال دیکھ کر خوف زدہ ہوں گے۔ وہ حیران ہو کر کہیں گے:

«يَا وَيْلَتَنَا مَالِ هَٰذَا الْكِتَابِ»
ہائے ہماری بد نصیبی! اس کتاب کو کیا ہوگیا کہ اس نے کوئی چھوٹا بڑا عمل بھی نہیں چھوڑا!

دنیا میں انسان بہت سے اعمال بھول جاتا ہے، مگر وہاں اس نے جو کچھ کیا ہوگا، سب اپنے سامنے موجود پائے گا۔ پھر اسی کے مطابق اسے بدلہ دیا جائے گا۔

لیکن اس پورے حساب میں اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ نہ کسی کا گناہ بڑھا کر لکھا جائے گا اور نہ کسی کی نیکی ضائع کی جائے گی۔

🌿 آج ہمارے لیے اصل سبق!

✅ کسی گناہ کو صرف اس لیے معمولی نہ سمجھیں کہ وہ چھوٹا ہے۔

✅ اسی طرح کسی چھوٹی نیکی کو بھی بے قدر نہ سمجھیں؛ اللہ کے ہاں کوئی نیکی ضائع نہیں ہوتی۔

✅ جو کچھ ہم بولتے اور کرتے ہیں، اسے بھول جانا اس کے محفوظ ہونے کو ختم نہیں کرتا۔

✅ آج اپنے اعمال کا جائزہ لینا، کل کے حساب کو آسان بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

✅ یاد رکھیں: قیامت کے دن انسان کو اپنے ہی اعمال اپنے سامنے ملیں گے۔

📲 اگر یہ آیت آپ کو اپنے اعمال پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے تو اسے دوسروں تک بھی پہنچائیں۔ شاید کسی کے لیے یہ ایک یاد دہانی بن جائے۔

🤲 اے اللہ! ہمارے چھوٹے بڑے گناہوں کو معاف فرما، ہماری نیکیوں کو قبول فرما، اور قیامت کے دن ہمارا نامۂ اعمال ہمارے لیے خوشی اور کامیابی کا سبب بنا۔ آمین۔

Babul islam Institute

🌿 آج کی آیت — خبر سنو، مگر تحقیق کے ساتھآج ایک خبر چند لمحوں میں سینکڑوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے، اور ہم اکثر اسے سچ سمجھ ...
09/09/2026

🌿 آج کی آیت — خبر سنو، مگر تحقیق کے ساتھ

آج ایک خبر چند لمحوں میں سینکڑوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے، اور ہم اکثر اسے سچ سمجھ کر آگے بھی بڑھا دیتے ہیں۔ لیکن اگر وہ خبر جھوٹی ہو تو؟ کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ ایک غیرمصدقہ بات کسی بے گناہ کی عزت، تعلق یا زندگی کو کتنا نقصان پہنچا سکتی ہے؟ اور قرآن ہمیں ایسی خبر کے بارے میں کیا حکم دیتا ہے؟

📖 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ

ترجمہ:
اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو، پھر اپنے لیے پریشانی اٹھاؤ۔
(سورۃ الحجرات: 6)

🌿 تفسیر و پیغام

اللہ تعالیٰ اس آیت میں مسلمانوں کو ایک نہایت اہم اصول سکھاتا ہے کہ کسی اہم خبر کو سنتے ہی سچ نہ سمجھو، بلکہ پہلے اس کی حقیقت معلوم کرو۔

«فَتَبَيَّنُوا» کا مطلب ہے خبر کو اچھی طرح واضح کرنا، اس کے بارے میں غور کرنا اور تحقیق کرکے حقیقت معلوم کرنا۔ دوسری قراءت میں «فَتَثَبَّتُوا» کے الفاظ ہیں، یعنی خبر کو اچھی طرح پختہ اور ثابت کرلو۔ دونوں میں یہی رہنمائی ہے کہ بغیر تحقیق کے کسی خبر پر فیصلہ یا کارروائی نہ کی جائے۔

خاص طور پر اگر خبر کسی شخص یا جماعت کے خلاف ہو اور اس پر عمل کرنے سے کسی کو نقصان پہنچ سکتا ہو، تو جلد بازی بہت بڑا نقصان بن سکتی ہے۔ انسان کسی بے گناہ کو تکلیف پہنچا سکتا ہے، اس کی عزت خراب کرسکتا ہے یا اس سے تعلق توڑ سکتا ہے، اور جب حقیقت سامنے آئے تو صرف پشیمانی باقی رہ جاتی ہے۔

یہی قرآنی اصول ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ خبر دینے والے کے بارے میں بھی اعتبار کا معاملہ اہم ہے۔ اسی اصول کی بنیاد پر محدثین نے احادیث کے راویوں کے صدق، دیانت اور ضبط کی تحقیق کی، تاکہ رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کسی بات کو بغیر جانچ کے قبول نہ کیا جائے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں خبر سننے کے ساتھ ساتھ ذمہ داری کے ساتھ اسے پرکھنے کی تعلیم دے رہا ہے۔

🌿 آج ہمارے لیے اصل سبق!

✅ اہم خبر سن کر فوراً یقین نہ کریں، پہلے تحقیق کریں۔

✅ سوشل میڈیا پر کوئی بات صرف اس وجہ سے آگے نہ بھیجیں کہ بہت سے لوگ اسے شیئر کر رہے ہیں۔

✅ کسی شخص کے خلاف یک طرفہ خبر سن کر فیصلہ نہ کریں۔

✅ غیرمصدقہ بات کی بنیاد پر کسی کی عزت، حق یا تعلق کو نقصان نہ پہنچائیں۔

✅ پہلے تحقیق، پھر یقین، اور اس کے بعد ہی آگے پہنچانا اپنا اصول بنائیں۔

📲 اس قرآنی اصول کو دوسروں تک بھی پہنچائیں، تاکہ خبر پھیلانے سے پہلے تحقیق کرنے کی عادت عام ہو۔

🤲 اے اللہ! ہمیں سنی سنائی باتوں پر جلدی یقین کرنے سے بچا، حق کو پہچاننے اور تحقیق کرنے کی توفیق عطا فرما، اور ہماری وجہ سے کسی بے گناہ کو نقصان نہ پہنچنے دے۔ آمین۔

یاد رکھیں: خبر کتنی ہی اہم کیوں نہ ہو، تحقیق سے پہلے اسے پھیلانا نہیں؛ کیونکہ چند لمحوں کی جلد بازی بعد میں بڑی پشیمانی بن سکتی ہے۔

Babul islam Institute

Address

Multan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Babul islam Institute posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share