22/11/2022
السلامُ علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
Islamic & Modern Educational Complex
22/11/2022
السلامُ علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عورت کا استحصال کیوں اور کیسے؟؟؟
""""""""""""''''''''''''''''''''''''''''''"""""""""""""""""""""""""""""
تحریر؛:قاضی کاشف نیاز
؛؛؛؛؛؛؛!؛؛؛!؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛
دنیا میں حصول رزق کا سب سے اچھا،محفوظ اور پرکشش ذریعہ یہ سمجھا جاتا ھے کہ انسان کو باہر جانے کی کلفتوں اور گونا گوں قسم کی مصیبتوں اور آزمائشوں سے آزاد رہ کر گھر بیٹھے ہی سارا رزق مل جائے ۔۔یہ ہر انسان کے لیے ایک خوبصورت خواب اور آئیڈیل تمنا رہی ھے۔۔۔اور اگر کوئی انسان ھو بھی کچھ کمزوریوں کا شکار تو وہ ہر صورت گھر بیٹھے ملنے والے رزق کو ہی سب سے بہتر اور ضروری قرار دے گا۔۔۔کسی کو گھر بیٹھے ایسا ذریعہ رزق مل رہا ھو،اسے پیشکش کی جا رہی ھو کہ آپ گھر بیٹھے 30ہزار،50 ہزار،لاکھ ،دس لاکھ بلکہ کروڑوں تک حاصل کر سکتے ہیں اور اپنی جان ،مال اور عزت ہر چیز اس طریقے سے زیادہ سے زیادہ محفوظ بھی رکھ سکتے ہیں لیکن وہ ناشکرا انسان اتنی بڑی پیشکش ٹھکرا کے گلی گلی کی خاک اور دھول چاٹ کے رزق ڈھونڈنا شروع کر دے اور اس طریقے کو زیادہ ترجیح دے تو اسے یقینا پاگل، دیوانہ اور فاترالعقل ہی سمجھا جائے گا۔۔میڈہا کے آج کل کے سب سے پرکشش اشتہارات یہی ھوتے ہیں کہ گھر بیٹھے کمائیں۔۔گھر بیٹھے روزگار حاصل کریں ۔۔۔
یہ ھمارے دین اسلام کا کیسا اعجاز ھے کہ اس نے آج سے چودہ سو سال پہلے ہی ھم انسانوں کے ایک کمزور اور نازک طبقے کا خصوصی خیال رکھتے ھوئے اس کے لیے ایسی ہی اعلی ترین اور پرکشش ترین سہولت کا بندوبست کر دیا۔۔۔اس طبقے کے لیے اعلان کیا گیا کہ آپ صرف گھر بیٹھیں.... وقرن فی بیوتکن(الاحزاب_33)....آپ گھر سنبھالیں،نئی نسل کی پرورش و پرداخت اور تربیت کا سب سے مشکل اور کٹھن فریضہ سکون سے گھر بیٹھے ادا کریں،اس کے بدلے آپ کی تمام ضروریات آپ کا شوہر،آپ کا باپ،آپ کا بھائی اور آپ کا بیٹا پوری کرے گا ۔۔
لیکن افسوس اتنی عظیم پیشکش کو ہمارے اس طبقے نے اپنے حقوق کے منافی قرار دے دیا۔۔ عورت کی ہر طرح کی ناز برداری برداشت کرنے والےایک مرد کی اطاعت و فرمانبرداری چھوڑ کر اس نے پورے معاشرے کے مردوں کی غلامی کو ترجیح دے دی۔۔۔پہلے وہ صرف گھر داری کرتی تھی اور گھر میں ملکہ اور شہزادیوں کی طرح رہتی تھی۔۔۔اب وہ مغرب کے پھیلائے ھوئے جال میں آ کر ڈبل نوکری کر رہی ھے ۔۔۔گھر کی بھی اور باہر کی بھی جبکہ اس نے اپنی عزت و صحت کا الگ بٹہ لگایا ھوتا ھے۔۔۔
ھم عورتوں کے جائز اسلامی حدود کے اندر رہ کر خاص شعبوں میں اور محفوظ ماحول میں ان کی شرکت کے قطعا خلاف نہیں لیکن یہ سب ایک محدود حد کے اندر ہی خود عورت کے لیے بہتر ھے_
مغرب زدہ عورتوں کا مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کا بھی عجیب فلسفہ ھے۔۔۔ اول تو جیسا کہ بتایا کہ اس چکر میں الٹا عورت کا ڈبل استحصال ھوتا ھے۔۔۔گھر اور باہر دونوں ذمہ داریاں اس پر عاید ھو جاتی ہیں۔۔۔دوسرے شانہ بشانہ کا اور مردوں کے برابر ھونے کا نعرہ لگایا جاتا ھے تو پھر اس پر پورے انصاف کے ساتھ دونوں طرف سے عمل ھونا چاہیے ۔۔۔کہنے کا مطلب یہ ھے کہ جو عورتیں برابر کے حقوق چاہتی ہیں تو پھر انہیں برابر کے ہی حقوق لینے چاہئیں نہ کہ وہ اپنے حقوق تو سارے لے لے لیکن مرد کو اسی طرح کا حق دینے کو تیار نہ ھو جس طرح کا وہ اپنے لیے چاہتی ھے۔۔۔
مثلا ہماری یہ مشرقی اور اسلامی و اخلاقی روایت ھے کہ عورت اگر بس میں کھڑی ھو تو مرد احتراما ان کے لیے سیٹ چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔جو عورتیں برابری کے حقوق کی طلبگار ہیں،انہیں پھر مرد سے ایسے ایثار کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔۔افسوس کہ ایسے مواقع پر یہی ماڈرن عورتیں شکوہ کناں ھو جاتی ہیں کہ فلاں کیسا غلط مرد تھا جس نے ایک عورت کے لیے سیٹ بھی نہ چھوڑی۔۔۔۔غیر مرد،غیر مرد کے سامنے تو کسی بھی مسئلے پر جیسا چاھے بول لیتا ھے لیکن اگر یہی غیر مرد کسی غیر عورت کے سامنے ھو تو وہ عورت کا عموما لحاظ کرتے ھوئے غلطی پر عورت کے ھونے کے باوجود احتراما یا مصلحتا خاموش رہنا پسند کرتا ھے۔۔۔برابری کے حقوق کی دعویدار ماڈرن مغرب زدہ عورتیں اس معاملے میں بھی برابری کی قائل نہیں اور وہ مرد کا عورت کے سامنے خاموش رہنا ہی اپنا حق سمجھتی ہیں چاھے عورت خود کتنی ہی غلطی پر کیوں نہ ھو۔۔۔ اس معاملے میں ھم نے یہاں تک دیکھا ھے کہ بالی ووڈ کی فلموں کی ہیروئن جو یقینا مردوں کے برابر حقوق ہی کی قائل ھوتی ھے،تب ہی وہ پوری آزادی سے ان ننگ دھڑنگ فلموں میں ہر کردار آزادانہ و بے باکانہ ادا کرتی ھے لیکن انہی فلموں میں دیکھا گیا کہ اگر کسی اداکار نے کسی اداکارہ پر ہاتھ اٹھا دیا تو اسے عورت کی بڑی توہین باور کرایا گیا اور وہ آگ بگولہ ھو کر کہتی ھے کہ تم نے ایک عورت پر ہاتھ اٹھانے کی جرآت کیوں کی۔۔تمہیں اس کا بھاری خمیازہ اٹھانا پڑے گا۔۔۔بھائی جب تم کہتے ھو کہ عورت مرد برابر ہیں تو پھر صرف میٹھا میٹھا لینے کی حد تک کیوں۔۔۔کڑوا کڑوا آخر تھو کیوں۔۔۔آپ مردوں کے واقعی برابر ہیں تو آپ بھی تھپڑ برداشت کریں اور اسے اتنا ہی محسوس کریں جتنا ایک مرد مرد کا تھپڑ کھا کر محسوس کرتا ھے۔۔اس میں اس سے زیادہ ردعمل دینا تو اصل صنفی امتیاز ھے۔۔۔ہاں اگر واقعی آپ مرد کے برابر ہیں اور مرد کے برابر آپ میں بھی ہمت اور طاقت ھے تو آپ کو بھی برابر کا جواب دینے کی اجازت ھے۔۔۔ویسے بھی آجکل آپ صنف نازک نہیں،صنف آہن کہلا رہی ہیں۔۔۔تو بسم اللہ کیجیے ۔۔۔برابر جواب دیجیے۔۔۔۔آپ بھی مرد کو ہاتھ اٹھا کے جواب دے دیا کریں۔۔۔ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔۔۔حساب برابر ھو جائے گا۔۔۔مسئلہ ختم۔۔۔اور کیا چاہیے۔۔۔اسی طرح کسی دکان دار کے پاس جائیں اور وہاں رش لگا ھو تو وہاں بھی یہی برابری کی دعویدار عورتیں چاہتی ہیں کہ انہیں ترجیحا مردوں سے پہلے فارغ کیا جائے۔۔۔اسی لیے برابری کے انہی دعویداروں نے لیڈیز فرسٹ کا امتیازی جملہ بھی نکالا ھوا ھے۔۔۔بھائی جب برابری چاہتے ہیں تو پھر یہ لیڈیز فرسٹ اور فلاں سیکنڈ ،،یہ صنفی امتیاز کی باتیں آپ کے منہ سے تو نہیں جچتیں۔۔۔
برابری کے حقوق کی علمبردار عورتوں کا دوہرا رویہ ھم نے اور بھی کئی جگہ دیکھا ھے_
ایسی عورتیں جو باہر کماتی ہیں ،وہ اپنے خاوندوں کو عموما یہ کہتی پائی جاتی ہیں کہ جو آپ کے پیسے ہیں ،وہ میرے پیسے ہیں اور جو میرے ہیں ،وہ تو ہیں ہی میرے یعنی وہ اپنے پیسوں پر تو خاوند کا کوئی حق نہیں سمجھتیں لیکن خاوند کے پیسوں پر وہ اپنا پورا حق سمجھتی ہیں۔۔۔یہی ملازمت پیشہ ماڈرن عورتیں عموما یہ چاہتی ہیں کہ ملازمت تو وہ جہاں مرضی،جیسی چاہیں کریں کہ یہ ان کے برابر کے حقوق کا مسئلہ ھے لیکن جب گھر میں اخراجات کا مسئلہ ھو تو تب وہ کہتی ہیں کہ نہیں ،ہمادے اوپر خرچ کرنا تو شوہر کی ذمہ داری ھے۔۔بھائی شوہر تو یہ ذمہ داری پوری ادا کرنا چاہتا ھے اور کرتا بھی ھے لیکن یہ کیا ھوا کہ جب آپ نے حق لینا ھو تو مغربی ایجنڈے پہ سوار ھو جاتی ہیں اور جب حق دینے کی باری آئے تو آپ فورا اسلامی گھوڑے پہ سوار ھو جائیں۔۔۔پھر آپ کو پورا اسلام یاد آ جاتا ھے۔۔۔
ھم نے اکثر دیکھا ھے کہ بڑی بڑی الٹرا ماڈرن عورتوں کو اسلام کے بنیادی احکام کا بھی شاید ہی علم ھوتا ھے لیکن اسلام نے انہیں جو حق حقوق انہیں دیئے ھوتے ہیں ،اس کی ایک ایک بات کا انہیں اتنا علم ھوتا ھے کہ شاید کسی عالم کو بھی اتنا علم نہ ھوتا ھو_لیکن فرائض کی بات آئے تو ایسے لاعلم بن جاتی ہیں جیسے انہیں اسلام میں اپنے فرائض کا کبھی علم ہی نہ ھوا ھو۔۔
یہ مغرب زدہ دوہرے رویئے کی حامل خواتین چاہتی ہیں کہ ہر شعبے میں ہر طرح کے کام کی انہیں مکمل آزادی ھو۔۔۔کوئی حدود و قیود اور پابندیاں بھی نہ ھوں۔۔۔اور پھر لباس بھی وہ جیسا چاہیں پہنیں،حرکات بھی جیسی چاہیں کریں۔۔۔ لیکن مردوں پر پابندی ھے کہ وہ ہرگز مشتعل نہ ھوں ۔۔انہیں معمولی سا گھور کے بھی نہیں دیکھ سکتے ورنہ ان پر جنسی ہراسانی کا مقدمہ ھو سکتا ھے۔۔۔بھائی خود سج دھج کے آتی ہیں۔بھڑکیلے اورنیم عریاں لباس پہن کے آتی ہیں۔۔۔اور پھر مردوں کی گردن پہ چھری رکھ کے کہا جاتا ھے کہ تم نے معمولی سی حرکت بھی نہیں کرنی نہ کوئی آواز نکالنی ھے۔۔۔ایسے ماحول میں اگر مشتعل کیے گئے مرد کے ہاتھوں ایسی کسی الٹرا ماڈرن خاتون صاحبہ کی عزت پامال ھو جائے،اس سے بداخلاقی ھو جائے یا کھلے لفظوں میں اس سے ریپ ھو جائے تو پھر اس سے بڑا ظالم مرد کوئی نہیں۔۔۔کسی غیر محرم مرد کے ساتھ بازاروں ،ہوٹلوں اور پارکوں میں جانا تو یہ برابری کے حقوق کی دعویدار عورت اپنے برابری کے حقوق کا تقاضا سمجھے۔۔۔مردوں کو خود اپنے ساتھ ہلا گلا کے لیے بلائے۔۔اور کہے" میر ا جسم میری مرضی"۔۔۔پھر ان کے ساتھ مل کے بے باکانہ ڈانس اور مجرے کرے اور ٹھمکے لگائے ۔۔۔ لیکن جب "اس بازار" میں جا کر،"اس پارک" میں جا کر ،"اس ہوٹل" میں جا کر ۔۔۔اس کے ساتھ انہونی ھو جائے یا کوئی اس کی "انی جوانی" کو دیکھ کر وہ بھی "انی پادے"۔۔۔تو پھر سارا قصور مرد کا اور مردوں کا ۔۔اور سارے مقدمے مردوں پر قائم۔۔۔۔۔دنیا کے تمام قوانین میں یہ بات سنی اور تسلیم کی گئی کہ اگر کسی سے اشتعال میں آ کر اچانک قتل ھو جائے تو اسے بہرحال ویسی سزا کا مستحق نہیں سمجھا جاتا جو قانون میں واقعی ایک قاتل کی سزا ھوتی ھے۔۔۔لیکن یہاں مرد کو اس قدر جنسی طور پر مشتعل کیا جائے اور عورت کے دیئے گئے اشتعال یا دیئے گئے فری ہینڈ کی وجہ سے مرد بھی جوابا کچھ کر بیٹھے تو ظالم صرف مرد اور عورت مکمل معصوم کی معصوم اور مظلوم کی مظلوم۔۔۔مرد عورت کی عریانی و فحاشی اور آزاد روی و آوارہ پن کی وجہ سے اسے گھور بھی بیٹھے یا اس کو صرف ہاتھ ہی لگا دے تو مرد پر فورا جنسی ہراسانی کا الزام حالانکہ جنسی طور پہ ایسی عورت ہی مرد کو ہراساں کرتی ھے لیکن اس عورت پر کوئی مقدمہ نہیں نہ کوئی قانون۔۔۔ شوبز کی بڑی بڑی اداکارائیں اور ماڈلز آج یہ راز لیک آؤٹ کرتی پھرتی ہیں کہ فلاں مرد اداکار نے انہیں جنسی طور پہ ہراساں کیا۔۔۔۔انہیں ہاتھ لگایا یا کچھ اور دست درازی کی۔۔ لیکن یہ موقع انہیں کس نے دیا اور شوبز میں ،فلموں میں تو عام طور پر ہیرو کا ہیروئن کو ہاتھ لگانا،گلے لگانا اور جسم کو کہیں سے بھی مس کر لینا کوئی معیوب بات نہیں سمجھی جاتی بلکہ اسے پروفیشن اور سین کا تقاضا کہہ کر نظر انداز کیا جاتا ھے۔۔اور اس آڑ میں جو فحش ترین سین فلمائے جاتے ہیں ، انہیں فحش سین کی بجائے" بولڈ سین"اور ایسی اداکارہ کو فاحشہ کی بجائے "بولڈ اداکارہ" کا معززانہ نام دیا جاتا ھے۔۔۔ ہاں اگر اس ماڈل و اداکارہ کی کسی مرد اداکار سے اس کی شان میں کوئی اور سبکی ھو گئی ھو یا وہ اس کی کسی من مرضی پر نہ چلا ھو تو پھر یکدم اسی مادر پدر آزاد عورت کو اسلام کے سارے تقاضے یاد آ جاتے ہیں اور وہ عموما اپنی کسی ذاتی انا کی توہین کا بدلہ لینے کے لیے مرد کو اسلام کی سولی اور بلی چڑھا دیتی ھے۔۔اب وہ اسلامی عزت و غیرت اور ناموس کی پیکر بن جاتی ھے ۔۔۔عام طور پر پینٹ اور جینز میں کسے ھوئے کپڑوں کے ساتھ یہ جگہ جگہ تھرکتی عورت تھانے اور عدالتوں میں لمبی چادر اور پورا برقعہ تک پہن کر۔۔۔۔حیا و ناموس کی پوری پتلی بن کر مرد کے خلاف مقدمہ کے لیے پیش ھو جاتی ہے۔۔۔۔۔ سچ کہا تھا کسی شاعر نے
یارب نگاہ ناز پہ لائسنس کیوں نہیں
یہ بھی تو قتل کرتی ھے تلوار کی طرح
یا پھر ایک اور شاعر نے اس صورت حال کی یوں ترجمانی کی
وہی قاتل وہی شاہد ، وہی منصف ٹھہرے
اقربا میرے کریں خون کا دعویٰ کس پر
ہمیں اس سے انکار نہیں کہ عورت کے جو جائز حقوق ہیں ، وہ ہر صورت اسے ملنے چاہئیں۔۔۔اس کے اصل حقوق تو یہ ہیں کہ اس سے اندر اور باہر کی ڈبل ڈیوٹی ختم کی جائے۔۔۔اس کی ڈیوٹی کو آدھا کیا جائے۔۔۔اسے مردوں اور درندوں کے جنگل میں جانے پہ مجبور نہ کیا جائے۔۔۔جہاں اس کے ساتھ آئے دن انہونیاں ھوتی ہیں۔۔۔اور یہ ان ہونیاں
مغرب میں تو عام ھو چکیں۔۔اب ان پر ان کا معاشرہ اعتراض کرنا بھی چھوڑ چکا۔۔۔کیونکہ وہاں کی عورت یہ آزادی پا کر آج اس بے بسی کی حالت میں ھے کہ اپنے اوپر زیادتی اور ظلم کو وہ ظلم اور زیادتی بھی نہیں کہہ سکتی۔۔۔وہاں ان آزادیوں کے طفیل بغیر نکاح کے اس سے اس کی جوانی تک خوب فائدہ اٹھایا جاتا ھے اور بہانہ کیا ھوتا ھے کہ ابھی ھم انڈر سٹینڈنگ پیدا کر رھے ہیں۔۔۔جوں ہی انڈر سٹینڈنگ پیدا ھو جائے گی ،ھم شادی بھی کر لیں گے۔۔۔لیکن انڈر سٹینڈنگ تو پیدا کبھی نہیں ھوتی البتہ بچے ضرور پیدا ھو جاتے ہیں جس کی ذمہ داری یہ لفنگا مرد عورت پہ ڈال کے خود کسی نئی لڑکی اور نئی گرل فرینڈ کی تلاش میں نکل کھڑا ھوتا ھے۔۔۔یا پھر انڈر سٹینڈنگ پیدا ھونے تک لڑکی کی جوانی ختم ھو جاتی ھے تو اس میں شادی کے لیے وہ کشش ہی ختم ھو جاتی ھے اور پھر اس لڑکی کا بڑھاپا اولڈ ہوم کے دھکے کھانے پہ مجبور ھو جاتا ھے کیونکہ پھر وہ کسی کے کام کی نہیں رہتی_
آج مغرب کا سب سے بڑا المیہ ہی یہی ھے کہ ان کا تقریبا پورا معاشرہ بغیر نکاح کے کھڑا ھے۔۔بچے اپنے نسب اور ماں باپ کی شناخت سے محروم ہیں۔۔آج وہاں کسی نوجوان لڑکی کا نکاح تو کہیں نہیں ملتا لیکن اس کا کنواری(virgin) پایا جانا سب سے حیرت ناک بات سمجھی جاتی ھے۔۔۔اور اگر کوئی نوجوان کنواری لڑکی پائی جائے تو وہ ایسے ھے جیسے نک کٹوں کے دیس میں کوئی ایک ناک والا موجود ھو تو برا ناک والے کو ہی سمجھا جائے گا نہ کہ نک کٹوں کو۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہماری ماؤں بہنوں کو ایسی دردناک آزادی اور ان کے برے انجام سے بچائے۔۔۔اور انہیں اس دین اسلام پر چلائے جس میں الحمدللہ اس کے حقوق سے بھی بڑھ کے اس کا تحفظ کیا گیا ھے۔۔۔جہاں اس کے قدموں میں جنت تک رکھ دی گئی اور یہ اعزاز مرد کو نہیں،صرف عورت کو دیا گیا۔۔جہاں اس کو ہر طرح کی وراثت میں حق دیا گیا ۔۔اس وقت جب وراثت تو دور کی بات،لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔۔۔پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایسے معاشرہ میں اپنی بیٹی فاطمہ رض کی آمد پر بھی ان کا کھڑے ھو کر اور ماتھا چوم کر استقبال کرتے،آپ ص نے عورت کا حق مہر مقرر کیا اور وہ بھی مرد نہیں ، عورت کی صوابدید پر کہ وہ جتنا چاھے مقرر کر سکتی ھے۔۔دوسری طرف عورت کو جہیز کی لعنت سے آزاد کیا۔۔گویا رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کے سوا عورت پر ہر معاملے میں کم سے کم ذمہ داری رکھی۔۔۔ اپنے آخری خطبہ اور وصیت تک میں حضور ص یہی کہتے رھے کہ عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رھو۔۔۔ڈرتے رھو ۔۔ان کو بھی وہی کچھ کھلاؤ، پہناؤ جو تم خود کھاؤ اور پہنو۔۔۔یعنی معروف قاعدے کے مطابق۔۔۔
افسوس کہ ھم عہد جدید و قدیم کی ہر بری بات کو تو فورا گلے لگا لیتے ہیں۔۔نہ جہیز چھوڑتے ہیں نہ وراثت میں حق دیتے ہیں اور نہ عورت کو مادر پدر آزادی دے کر ننگ دھڑنگ ھونے سے روکتے ہیں۔۔۔کاش ھم دین اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ھوئی تعلیمات پر پورے پورے عمل پیرا ھونے والے بن جائیں تو نہ کہیں عورت کے حقوق کا مسئلہ رھے نہ اس کا کوئی کسی طرح بھی استحصال کر سکے۔۔۔اللہ تعالیٰ ھمارے گھروں اور معاشرے کو جنت بنانے والے اور امن و آشتی والے دین اسلام پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔امین
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا
ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، ایک دوسرے کے لیے دھوکے سے قیمتیں نہ بڑھاؤ ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو ، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور اللہ کے بندے بن جاؤ جو آپس میں بھائی بھائی ہیں
صحیح مسلم6541
05/02/2022
Asslamualaikum