05/09/2023
سوال نمبر 04
غسل کاسنت طریقہ بیان فرمائیں ۔
سائل ۔۔۔۔ عدیل احمدمتی تل ملتان
الجواب بتوفیق اللہ تعالی
غسل کامسنون طریقہ یہ ہےکہ پہلے استنجاء کیاجائے،پھرجسم کے کسی حصہ پرنجاست لگی ہوتواسے صاف کیاجائے،پھروضوکیاجائے،اگرنہانے کی جگہ ایسی ہوجہاں پانی نہیں نکلتا اورجمع ہوجاتاہے توپھرپاؤں آخرمیں دھوئےورنہ مکمل وضوکرے،اس کے بعدبدن پرپانی اس ترتیب سےبہائےکہ پہلے سرپر،پھرداہنے کندھے پر،پھربائیں کندھے پر،اس ترتیب سے سارےجسم پر تین مرتبہ پانی ڈالدیں۔
(ردالمحتار)
المجیب
محمدبلال سعیدغفرلہ
18,صفر1445ھ. 5ستمبر2023 برات بدھ بمقام جال والہ متی تل ملتان 8::47
03/09/2023
سوال نمبر 03
عورت نے ایک ماہ کاحمل ساقط کرایاجس کےبعدسات دن ھوگئے ھیں خون نھیں رکایہ خون نفاس کاکہلائے گا ؟ اوراس حالت میں عبادات کاحکم کیاھوگا ?
الجواب بتوفیق الملک الوھاب
یہ خون نفاس کانھیں ھے فقہاء نے فرمایاھے اگربعض اعضاء حمل سے بن چکے ھیں پھراسقاط کےبعدوالاخون نفاس کاشمارھوگا عبادات معاف ھوں گی ایک ماہ کے حمل میں بعض اعضاء نھیں بن سکتے لھذا اسقاط سے قبل اگرپندرہ دن طہرکے گزرگئے ھیں تو یہ حیض کاخون شمارھوگا ورنہ استحاضہ کاخون ھے مستحاضہ عورت پرعبادات معاف نھیں ھیں اگرمسلسل خون جاری ھے تو ہرنمازکے لیے وضوکرکے اسی حالت میں نمازاداکرے ۔ (ردالمحتار)
واللہ اعلم
محمدبلال سعید غفرلہ
16صفر 1445ھ ۔۔۔۔ 3ستمبر2023 بمقام جال والاملتان بوقت 9:19pm
31/08/2023
سوال نمبر 02
ایک عورت جوعدت طلاق والدین کے گھرگزاررھی تھی والدین کسی ا ورمکان میں شفٹ ھوگئے ھیں وہ معتدہ عورت وھیں عدت گزارے یاوالدین کے ساتھ اگلے گھرمیں جائے گی ؟
الجواب بتوفیق اللہ الوھاب
عذر شرعی کی بناءپرجسطرح معتدہ عورت کے لیے خاوندکاگھر جس میں عدت گزارناواجب تھاتبدیل کرسکتی ھے جیسے اگروہ گھرخاوندکاکرایہ کاتھایہ اب کرایہ اداکرنے کی طاقت نھیں رکھتی یااس گھرمیں خوف ھے عزت یاجان کاوغیرہ اسیطرح والدین کے گھرکے اندرکوئی عذرشرعی ھے تو وہ گھربھی خاوندکےگھرکی طرح چھوڑکروالدین کے ساتھ جاسکتی ھے اگرکوئی عذرشرعی نھیں مثلا سب سہولت اس گھرمیں میسرھے کوئی خوف بھی نھیں ھے کرایہ کی ذمہ داری بھی نھیں ھے توپھروہ چھوڑناعدت تک اسکے لیے جائزنھیں ہے کیونکہ یہ گھرخاوندکے گھرکے حکم میں ھے۔ واللہ اعلم ۔
بحوالہ
(بدائع الصناع فی ترتیب الشرائع )
المجیب
محمدبلال سعید غفرلہ
31,8,2023 جمعرات بمقام پٹی شریف لاھور بوقت 4:15am
24/07/2023
سوال..... 1
مقتدی سے کوئی واجب رہ جائے تونمازکاکیاحکم ھے ؟
الجواب بتوفیق اللہ الوھاب ۔
سنن دارقطنی میں حدیث پاک مذکورھے جس کے الفاظ یہ ھیں
لیس علی من خلف الامام سہو فان سہاالامام فعلیہ وعلی من خلفہ سہو
کہ اگرامام کی اقتدامیں کوئی سہوھوجائے تومقتدی پرکچھ بھی لازم نھیں اگرامام سے سہو ھوجائے تو تمام مقتدیوں پرامام کے ساتھ سجدہ سہولازم ھے۔
اگرمقتدی قصدا واجب چھوڑدے تو نمازکااعادہ واجب ھے علامہ شامی نے اسیطرح لکھاھے
وتعادوجوبافی العمد ۔۔۔۔
المجیب ۔ محمدبلال غفرلہ
۵ محرم الحرام ۱۴۴۵ ھ یوم الثلاثاء