30/03/2023
I have reached 300 followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉
On This Page You Will Get News about Education Jobs information and information about competit've exams. Here you also will get books in pdf form.
Thanks to evrry one
30/03/2023
I have reached 300 followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉
ہم مشرقی لوگ پچاس سال کی عمر میں اپنے آپ کو بوڑھا خیال کرتے ہے اور باقی کی زندگی اپنے نہ سلجھنے والے مسائل کو سلجھانے میں گزار دیتے ہیں یا پھر اپنی اولاد کی شادیوں پر اپنی زندگی کی کمائی لوٹا رہے ہوتے ہیں اور اولادیں والدین کی کمائی پر عیاشی کرنا اپنا حق سمجھتی ہیں ۔ ہم میں سے کتنے لوگ ڈاکٹر جیسن بنتے ہیں؟ کتنے لوگ ہیں جو لگی بندھی روٹین سے ہٹ کر ز ندگی گزارتے ہیں؟ کتنے لوگ ہیں جو دوسروں کا طنز برداشت کرتے ہوئے اپنے خوابوں کا پیچھا کرتے رہتے ہیں؟ شاید 0.5%لوگ بھی آپ کو ایسے نہ ملیں
آپ اور میں جس سوسائٹی کے باسی ہیں یہاں آپ کو پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک اپنے حقوق کی نہیں بلکہ صرف عزت سے زندہ رہنے کی ایک طویل جنگ لڑنا پڑتی ہے. ہم سر سے لے کرپاؤں تک احساس کمتری میں ڈوبے ہوئے معاشرے میں اپنا مقام تلاش کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں ایک ایسا معاشرہ جس میں ہر دوسرا آدمی "تم نہیں جانتے میں کون ہوں؟" جیسی مہلک بیماری کا شکار ہے
ذات پات، اونچ نیچ، فرقہ بندی سے شروع ہونے والا یہ سفر ایک ایسی طویل سرنگ ہے جس میں روشنی کی کرن صرف ان لوگوں کے لیے چمکتی ہے جو حالات کے سامنے سر نڈر نہیں کرتے. ہمارے معاشرے میں زندگی سلجھے ہوئے اور ترقی یافتہ معاشروں کی نسبت بہت مشکل اور ڈراونی ہے خاص کر اگر آپ ایک لوئر مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اس کا پازٹیو پہلو یہ ہے کہ یہ طرز زندگی آپ کو مضبوط بنا دیتی ہے، آپ کومشکلوں کو خندہ پیشانی کے ساتھ جھیلنے کی عادت پڑ جاتی ہے. یہی مضبوطی مستقبل میں آپ کی کامیابی کی راہ ہموار کرتی ہے.
ہم نے اکثر دیکھا اور سنا ہے کہ ہمارے جیسے معاشروں سے نکلے لوگ دوسرے ملکوں میں جا کر زیرو سے سٹارٹ کرتے ہیں اور جس پر و فیشن کو بھی اپناتے ہیں اس میں کامیابی ان کا مقدر بنتی ہے.آخر کیوں؟ کیونکہ وہ بدترین حالات سے گزر چکے ہوتے ہیں.
زندگی میں دکھ، تکلیفیں، مشکلیں، مایوسی، ڈ پر یشن، ناکامیاں ہمیں آزمانے آتی ہیں . زندگی میں کوئی بھی ناکامی مستقل نہیں ہوتی اسی طرح کوئی بھی پریشانی تا حیات ہمارے ساتھ نہیں رہتی اگر ہم اس سے چھٹکارہ پانا چاہیں تو.
حالات کو ہم ایک حد تک اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں لیکن ہر ناکامی یا کامیابی کے اصل کردار ہم خود ہوتے ہیں ہم ہی اپنی زندگی کے ہیرو یا ولن ہیں اس لیے اپنی زندگی کا سٹیرنگ خود اپنے ہاتھ میں تھامیں، دوسروں کو اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہرانا بند کریں اور معاشرے یا حالات نے آپ کو جو زخم دئیے ہیں ان پر رونے دھونے کی بجائے انہیں اپنی طاقت بنائیں