Oxford School of Science

Oxford School of Science Oxford School Of Science

علامہ اظہر عباس حیدری صاحب کی مکمل وڈیو کے لئے پہلے کمنٹ میں لنک دیکھیں  Al Asrar Hussain Syed TVمجلسِ چہلم شہداءِ کربلا...
11/08/2026

علامہ اظہر عباس حیدری صاحب کی مکمل وڈیو کے لئے پہلے کمنٹ میں لنک دیکھیں
Al Asrar Hussain Syed TV
مجلسِ چہلم شہداءِ کربلا | مناظرِ اسلام مولانا اظہر عباس حیدری | مرکزی امام بارگاہ حسینیہ ٹبہ سلطان پور
اس ویڈیو میں جلیل القدر عالمِ دین، مناظرِ اسلام اور خطیبِ ولایتِ آلِ محمد (ص) حضرت مولانا اظہر عباس حیدری صاحب کا مرکزی امام بارگاہ حسینیہ، ٹبہ سلطان پور میں ارشاد فرمایا گیا نہایت ہی پرتاثیر، ایمانی اور علم و معرفت سے بھرپور خطاب ملاحظہ فرمائیں۔
یہ مجلسِ چہلم حضرت امام حسین علیہ السلام کے پُرنور موقع پر منعقد کی گئی، جس میں آپ نے فضائل و مصائبِ اہل بیتِ اطہر (ع)، تاریخِ کربلا اور مذہبِ تشیع اثنا عشریہ کے عقائد،ولایت امیر المومنین مولا امام علی علیہ السّلام،سادات کی عظمت،عزت ،عصمت شرف و افضلیت پر مفصل روشنی ڈالی ہے۔ مولانا اظہر عباس حیدری صاحب کی دینِ اسلام اور عزاداریِ سید الشہداء کے فروغ کے لیے خدمات اور علمی مناظرے کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔
آپ کی اس ایک گھنٹے سے زائد طویل پرمغز گفتگو کو آخر تک سنیں تاکہ دین و حق کی معرفت حاصل ہو سکے۔
📌 اگر آپ کو یہ ویڈیو پسند آئے تو:
ویڈیو کو لائک (Like) کریں 👍
اپنے پیاروں اور دیگر تمام سادات و مومنین و مومنات و مسلمین کے ساتھ شیئر (Share) کریں ↗️
چینل کو سبسکرائب (Subscribe) کریں اور گھنٹی کے نشان (Bell Icon) کو دبائیں تاکہ ہر نئی مجلس آپ تک سب سے پہلے پہنچے 🔔
کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار کریں اور
"یا حسین (ع)" ضرور لکھیں۔

ماحولیاتی تبدیلی اور پاکستان: ایک خاموش معاشی طوفان اور بقا کا چیلنجتحریر: سید علی جبران شاہ (صحافی و تجزیہ کار،کالمسٹ)📩...
15/07/2026

ماحولیاتی تبدیلی اور پاکستان: ایک خاموش معاشی طوفان اور بقا کا چیلنج
تحریر: سید علی جبران شاہ (صحافی و تجزیہ کار،کالمسٹ)
📩 [email protected] | 📞 03077349643
گزشتہ چند برسوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ موسموں کا مزاج بدل چکا ہے۔ کبھی شدید گرمی کی لہریں، کبھی غیر متوقع سیلاب، اور کبھی قحط سالی، یہ سب اتفاق نہیں، بلکہ ماحولیاتی تبدیلی (Climate Change) کے وہ اثرات ہیں جن کا ہم اب براہِ راست نشانہ بن رہے ہیں۔ پاکستان، جو دنیا کے ان ممالک میں سرفہرست ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ماحولیات اب صرف ایک "قدرتی مسئلہ" نہیں، بلکہ ایک "معاشی اور قومی سلامتی کا بحران" بن چکا ہے۔
زرعی معیشت اور خطرے کی گھنٹی
پاکستان کی معیشت کا دارومدار زراعت پر ہے، اور زراعت کا دارومدار پانی اور موسم پر۔ ہمارے گلیشیئرز پگھل رہے ہیں، جس سے پہلے سیلاب کا خطرہ بڑھتا ہے اور بعد میں پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 2022 کے سیلاب نے پاکستان کی معیشت کو جو نقصان پہنچایا، اس کے اثرات سے ہم آج بھی نہیں نکل پائے۔ زرعی پیداوار میں کمی، غذائی اجناس کی درآمد میں اضافہ اور دیہی آبادی کی نقل مکانی—یہ سب ماحولیاتی تبدیلیوں کے معاشی نتائج ہیں۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق، اگر ہم نے اپنی زراعت کو "موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ" (Climate-Resilient Agriculture) نہ بنایا، تو ہماری جی ڈی پی کا ایک بڑا حصہ ہر سال قدرتی آفات کی نذر ہوتا رہے گا۔
بڑھتے ہوئے شہری مسائل اور 'ہیٹ ویوز'
کراچی، لاہور اور دیگر بڑے شہر آج "ہیٹ آئی لینڈز" (Heat Islands) بن چکے ہیں۔ کنکریٹ کے جنگلات، درختوں کی کمی اور بڑھتی ہوئی ٹریفک نے درجہ حرارت میں جس قدر اضافہ کیا ہے، اس سے مزدور طبقے کی پیداواری صلاحیت (Productivity) بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ایک مزدور جو شدید گرمی میں کام نہیں کر سکتا، اس کا مطلب ہے کہ ملکی پیداوار میں کمی اور صحت کے اخراجات میں اضافہ۔ یہ ایک ایسا "خاموش ٹیکس" ہے جو غریب عوام اپنی صحت اور وقت کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔
عالمی سیاست اور 'کلائمیٹ فنانس'
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں 1 فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، مگر بھگت اسے رہا ہے۔ عالمی فورمز (COP26, COP27 وغیرہ) پر جو وعدے کیے گئے، ان پر عملدرآمد نہ ہونا ایک بڑی ناکامی ہے۔ پاکستان کو اب ایک جارحانہ سفارتکاری (Climate Diplomacy) کی ضرورت ہے۔ ہمیں عالمی دنیا سے یہ مطالبہ کرنا ہوگا کہ وہ "لاس اینڈ ڈیمیج" (Loss and Damage) فنڈز کو فوری جاری کریں تاکہ ہم اپنی تباہ شدہ انفراسٹرکچر کو دوبارہ تعمیر کر سکیں۔
پائیدار حل کی طرف پیش قدمی
ماحولیاتی تبدیلی کے حل کے لیے چند عملی اقدامات ناگزیر ہیں:
واٹر مینجمنٹ: ہمیں پانی کے ذخائر (ڈیمز) بنانے ہوں گے تاکہ سیلاب کے پانی کو ضائع کرنے کے بجائے اسے زراعت کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
شمسی توانائی کی طرف منتقلی: کوئلے اور تیل سے چلنے والے بجلی گھروں کے بجائے شمسی توانائی (Solar Energy) کو فروغ دینا ہوگا۔ یہ نہ صرف سستا ہے بلکہ ماحول دوست بھی ہے۔
شجرکاری مہم کا تسلسل: صرف درخت لگانا کافی نہیں، ان کی بقا کو یقینی بنانا ہوگا۔ ہمیں اپنے شہروں میں "اربن فارسٹری" (Urban Forestry) کا ماڈل اپنانا ہوگا۔
ٹیکنالوجی کا استعمال: جدید سیٹلائٹ سسٹم کے ذریعے موسم کی پیش گوئی اور فصلوں کی نگرانی کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ کسان بروقت فیصلے کر سکیں۔
سماجی شعور اور ریاستی ذمہ داری
ماحولیات صرف حکومت کا مسئلہ نہیں، یہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ جب تک ہمارے معاشرے میں ماحول دوستی کا کلچر نہیں آئے گا، ہم صرف نعروں تک محدود رہیں گے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ صنعتوں کے لیے ایسے قوانین سخت کرے جن سے آلودگی میں کمی آئے۔ جو کمپنیاں ماحولیاتی معیارات کی خلاف ورزی کریں، ان پر بھاری جرمانے عائد ہونے چاہئیں۔
اختتامیہ
ماحولیاتی تبدیلی کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو سو سال بعد آئے گا؛ یہ ہمارے دروازے پر دستک دے چکا ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی معاشی منصوبہ بندی میں "گرین اکانومی" (Green Economy) کو شامل نہ کیا، تو خدانخواستہ ہمارے پاس آنے والی نسلوں کو دینے کے لیے نہ پانی ہوگا، نہ زرخیز زمین اور نہ ہی ایک رہنے کے قابل زمین ۔
یہ وقت سنجیدگی کا ہے۔ ہمیں اپنی معیشت کو "کاربن سے پاک" اور "موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مزاحمت رکھنے والی" (Climate Resilient) معیشت میں تبدیل کرنا ہوگا۔ یاد رکھیں، زمین کا تحفظ ہی معیشت کا تحفظ ہے۔ اگر ہم نے زمین کی بات نہ سنی، تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

تعلیم، علمِ نافع اور ریاست کی ذمہ داریاں: اسوہِ رسولؐ و اہل بیتؑ کی روشنی میں تحریر: سید علی جبران شاہ نقوی (صحافی و تجز...
09/07/2026

تعلیم، علمِ نافع اور ریاست کی ذمہ داریاں: اسوہِ رسولؐ و اہل بیتؑ کی روشنی میں
تحریر: سید علی جبران شاہ نقوی (صحافی و تجزیہ کار/کالمسٹ )
تعلیم اور حصولِ علم کسی بھی معاشرے کی بقا، ترقی اور اخلاقی سربلندی کے لیے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسلام وہ واحد دین ہے جس کا آغاز ہی لفظ "اِقْرَأْ" (پڑھ) سے ہوا۔ علم محض معلومات کے ذخیرے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کو شعور، بیداری اور خالقِ کائنات کی معرفت عطا کرتا ہے۔ موجودہ دور میں جہاں نظامِ تعلیم زبوں حالی کا شکار ہے، وہاں قرآنِ کریم، متفق علیہ احادیثِ نبویؐ، اور اسوہِ اہل بیتؑ کی روشنی میں تعلیمی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل اور ریاستی ذمہ داریوں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔قرآنِ مجید اور علم کی اہمیت ،قرآنِ حکیم نے جاہل اور عالم کو برابر قرار نہیں دیا اور علم کو فضیلت کی بنیاد بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ"فرما دیجئے: کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ جو علم نہیں رکھتے (سب) برابر ہوسکتے ہیں؟ بس نصیحت تو عقل مند ہی قبول کرتے ہیں۔" (سورہ الزمر، آیت: 9)ایک اور مقام پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اہل علم کے درجات کی بلندی کا ذکر یوں فرمایا:يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ" اللہ ان لوگوں کے درجات بلند فرما دے گا جو تم میں سے ایمان لائے اور جنہیں علم سے نوازا گیا۔" (سورہ المجادلہ، آیت: 11)یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ اسلام میں علم کا حصول صرف ایک ضرورت نہیں، بلکہ انسانی شرف اور بلندیِ درجات کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔متفق علیہ احادیثِ نبوی (بین الفریقین)علم کی فرضیت اور اہمیت پر امتِ مسلمہ کے تمام مکاتبِ فکر (بین الفریقین) کا مکمل اتفاق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متواتر اور متفق علیہ احادیث اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔علم کی فرضیت: آقا نامدارؐ کا ارشادِ گرامی ہے:"طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ""علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان (مرد اور عورت) پر فرض ہے۔" (ابن ماجہ، بیہقی)علم کی فضیلت اور راستہ: رسول اللہؐ نے علم کی راہ میں نکلنے والے کے لیے جنت کا راستہ آسان ہونے کی نوید سنائی:"مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ""جو شخص علم کی جستجو میں کسی راستے پر چلے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔" (صحیح مسلم)معلمِ کائنات: آپؐ نے اپنی بعثت کا بنیادی مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا:"إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا""بے شک مجھے معلم (استاد) بنا کر ہی بھیجا گیا ہے۔" (ابن ماجہ)اسوہِ رسولؐ و اہل بیتِ اطہارؑ اور تعلیمی نظام ، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے پاک اہل بیت علیہم السلام نے علم کو کائنات کی سب سے بڑی دولت اور جہالت کو سب سے بڑی غربت قرار دیا۔
۱۔ غزوہِ بدر کے قیدی اور تعلیمی فدیہ ، تاریخِ اسلام کا یہ منفرد اور انقلابی واقعہ اسوہِ رسولؐ کا بہترین عکاس ہے کہ غزوہِ بدر کے بعد جن مشرک قیدیوں کے پاس فدیہ دینے کی رقم نہیں تھی، آپؐ نے ان کا فدیہ یہ مقرر فرمایا کہ وہ مدینہ کے دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کی نظر میں تعلیم کی اہمیت جنگی فدیے سے بھی بالاتر ہے۔
۲۔ امیر المومنین علی ابن ابی طالبؑ کا نقطہِ نظربابِ مدینۃ العلم، حضرت علی علیہ السلام نے علم اور مال کا موازنہ کرتے ہوئے نہج البلاغہ میں فرمایا:"علم مال سے بہتر ہے، کیونکہ علم تمہاری حفاظت کرتا ہے اور مال کی حفاظت تمہیں کرنی پڑتی ہے۔ مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے، جبکہ علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے۔"
۳۔ امام جعفر صادقؑ کا تعلیمی انقلاباہل بیتِ اطہارؑ کا اسوہ صرف دینی علوم تک محدود نہ تھا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کے درسِ بلاغت و علمی سنگت سے جابر بن حیان جیسے مایہ ناز کیمیا دان (Chemist) پیدا ہوئے، جنہوں نے دنیا میں سائنسی علوم کی بنیاد رکھی اور جو بھی ایجادات ہیں وہ مرہون منت ہیں ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اہل بیتؑ کے نزدیک ہر وہ علمِ نافع سراہا گیا ہے جو انسانیت کی فلاح کا باعث بنے۔تعلیمی نظام کے حوالے سے ریاست کی ذمہ داریاں ، اسلامی تاریخ اور بنیادی احکامات کی روشنی میں تعلیم کی فراہمی ریاست کی اولین اور بنیادی ترین ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ موجودہ دور کے حکمرانوں کو درج ذیل خطوط پر تعلیمی اصلاحات کرنی چاہئیں:
ریاستی ذمہ داری تفصیل اور حل
1مفت اور لازمی تعلیم ،ریاست کا فرض ہے کہ وہ ابتدائی سے لے کر اعلیٰ سطح تک ہر شہری کے لیے مفت اور معیاری تعلیم کو یقینی بنائے۔2یکساں تعلیمی نظام ، طبقاتی نظامِ تعلیم کا خاتمہ کیا جائے۔ غریب اور امیر کے بچوں کے لیے ایک جیسا نصاب اور سہولیات فراہم کی جائیں۔3علمِ نافع اور سائنسی نصاب ،نصاب کو صرف نظریاتی حد تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اس میں جدید سائنس، ٹیکنالوجی اور تحقیق کو شامل کیا جائے تاکہ نوجوان عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں۔
4اساتذہ کا بلند مقام ، اساتذہ کو معاشی طور پر مستحکم اور معاشرتی طور پر عزت دار مقام دیا جائے، کیونکہ ایک مجبور استاد کبھی بہترین معمارِ قوم نہیں بن سکتا۔
5اخلاقی و روحانی تربیت ، جدید علوم کے ساتھ ساتھ نصاب میں قرآن و سنت اور اسوہِ اسلاف کی روشنی میں اخلاقی تربیت (تزکیہ) کو لازمی جزو بنایا جائے۔
حاصلِ کلام ، اگر ہم بحیثیتِ قوم زوال کی پستیوں سے نکل کر عروج کی بلندیوں کو چھونا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے بجٹ کا بڑا حصہ تعلیمی اصلاحات کے لیے وقف کرنا ہوگا۔ تعلیم کو تجارت بنانے کے بجائے اسے ہر شہری کا بنیادی حق تسلیم کرنا ہوگا۔ قرآن کی ہدایت، فرمانِ رسولؐ اور اسوہِ اہل بیتؑ کا تقاضا یہی ہے کہ ہم جہالت کے اندھیروں کو علم کے نور سے مٹائیں اور ایک ایسا فلاحی معاشرہ تشکیل دیں جہاں علم کی شمع ہر گھر کو روشن کرے۔

26/05/2026

🌙 عید الاضحیٰ مبارک! 🕋
اللہ تعالیٰ اس مبارک دن کے صدقے آپ کو، آپ کی فیملی اور تمام امتِ مسلمہ کو عید کی حقیقی خوشیاں نصیب فرمائے۔ ہماری قربانیوں اور دعاؤں کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے۔ آمین۔
تمام اہل اسلام کو میری اور میری فیملی کی طرف سے عید الاضحیٰ بہت بہت مبارک ہو! ❤️





ٰ



29/09/2025

سادات کرام عالی عظام آل نبی ص اولادِ مولا علی و بی بی سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا
اہلِ بیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ
اَللّهُمَّ عَجِّل لِوَلیِّکَ الفَرَج

05/09/2025

جشن عید میلادالنبی محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم تمام سادات و مؤمنین و مؤمنات مسلمین و مسلمات اور بالخصوص امام زمانہ ع کو دل ❤️ کی گہرائیوں سے مبارک ہو
آغاز ہفتہ وحدت 12 تا 17 ربیع الاول

25/04/2025
24/12/2024

🌟🐾 Just visited the Lahore Zoo on Mall Road, and what an incredible experience it was! 🦁🐯 From the majestic lions and tigers to the graceful zebras, colorful peacocks, vibrant parrots, and adorable deer—it was a day full of awe and excitement! 🦓🦜🦌

This place is perfect for reconnecting with nature and marveling at its beauty. A must-visit spot in Lahore for wildlife enthusiasts and families alike. 🌳✨

Have you been to Lahore Zoo? Share your favorite memories in the comments! 💬

🐅🌿

Address

New Gulgasht Nawa Bhatta Nawab Pur Road Multan
Multan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Oxford School of Science posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Oxford School of Science:

Shortcuts

Share

Category