10/01/2026
ذکرقرآن Zikr e Quran
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from ذکرقرآن Zikr e Quran, Multan.
"یہ پیج قرآنِ پاک کی تعلیمات، روشنی اور سکونِ قلب کا پیغام دنیا بھر تک پہنچانے کے لیے بنایا گیا ہے۔
"This page is dedicated to spreading the light, wisdom, and peace of the Holy Quran worldwide.#Quran #Islam #peace #Hadith #Dua #Light #Guidance #Faith .
10/01/2026
12/10/2025
سورۃ نمبر 15 الحجر
آیت نمبر 2
ترجمہ:
کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے کہ اے کاش وہ مسلمان ہوتے
تفسیر:
بعد از مرگ پشیمانی
کافر اپنے کفر پر عنقریب نادم و پشیمان ہوں گے اور مسلمان بن کر زندگی گزارنے کی تمنا کریں گے۔ یہ بھی مروی ہے کہ کفار بدر جب جہنم کے سامنے پیش کئے جائیں گے آرزو کریں گے کہ کاش کہ وہ دنیا میں مومن ہوتے۔ یہ بھی ہے کہ ہر کافر اپنی موت کو دیکھ کر اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کرتا ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی ہر کافر کی یہی تمنا ہوگی۔ جہنم کے پاس کھڑے ہو کر کہیں گے کہ کاش کہ اب ہم واپس دنیا میں بھیج دیئے جائیں تو نہ تو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں گے نہ ترک ایمان کریں۔ جہنمی لوگ اوروں کو جہنم سے نکلتے دیکھ کر بھی اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کریں گے۔ ابن عباس اور انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ گنہگار مسلمانوں کو جہنم میں مشرکوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ روک لے گا تو مشرک ان مسلمانوں سے کہیں گے کہ جس اللہ کی تم دنیا میں عبادت کرتے رہے اس نے تمہیں آج کیا فائدہ دیا ؟ اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آئے گا اور ان مسلمانوں کو جہنم سے نکال لے کا اس وقت کافر تمنا کریں گے کا کاش وہ بھی دنیا میں مسلمان ہوتے۔ ایک روایت میں ہے کہ مشرکوں کے اس طعنے پر اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی ایمان ہو اسے جہنم سے آزاد کردو، الخ۔
طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لا الہ الا اللہ کے کہنے والوں میں بعض لوگ بہ سبب اپنے گناہوں کے جہنم میں جائیں گے پس لات و عزیٰ کے پجاری ان سے کہیں گے کہ تمہارے لا الہ الا اللہ کہنے نے تمہیں کیا نفع دیا ؟ تم تو ہمارے ساتھ ہی جہنم میں جل رہے ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آئے گا اللہ ان سب کو وہاں سے نکال لے گا۔ اور نہر حیات میں غوطہ دے کر انہیں ایسا کر دے گا جیسے چاند گہن سے نکلا ہو۔ پھر یہ سب جنت میں جائیں گے وہاں انہیں جہنمی کہا جائے گا۔ حضرت انس ؓ سے یہ حدیث سن کر کسی نے کہا کیا آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ کی زبانی سنا ہے ؟ آپ نے فرمایا سنو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ مجھ پر قصدا جھوٹ بولنے والا اپنی جگہ جہنم میں بنا لے۔ باوجود اس کے میں کہتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث خود رسول کریم ﷺ کی زبانی سنی ہے۔ اور روایت میں ہے کہ مشرک لوگ اہل قبلہ سے کہیں گے کہ تم تو مسلمان تھے پھر تمہیں اسلام نے کیا نفع دیا ؟ تم تو ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ وہ جواب دیں گے کہ ہمارے گناہ تھے جن کی پاداش میں ہم پکڑے گئے الخ اس میں یہ بھی ہے کہ ان کے چھٹکارے کے وقت کفار کہیں گے کہ کاش ہم مسلمان ہوتے اور ان کی طرح جہنم سے چھٹکارا پاتے۔ پھر حضور ﷺ نے آیت (اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم) پڑھ کر شروع سورت سے مسلمین تک تلاوت فرمائی۔ یہی روایت اور سند سے ہے اس میں اعوذ کے بدلے آیت (بسم اللہ الرحمن الرحیم) کا پڑھنا ہے اور روایت میں ہے کہ ان مسلمان گنہگاروں سے مشرکین کہیں گے کہ تم تو دینا میں یہ خیال کرتے تھے کہ تم اولیاء اللہ ہو پھر ہمارے ساتھ یہاں کیسے ؟ یہ سن کر اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت کی اجازت دے گا۔ پس فرشتے اور نبی اور مومن شفاعت کریں گے اور اللہ انہیں جہنم سے چھوڑا جائے گا اس وقت مشکر لوگ کہیں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے تو شفاعت سے محروم نہ رہتے اور ان کے ساتھ جہنم سے چھوٹ جاتے۔ یہی معنی اس آیت کے ہیں یہ لوگ جب جنت میں جائیں گے تو ان کے چہروں پر قدرے سیاہی ہوگی اس وجہ سے انہیں جہنمی کہا جاتا ہوگا۔ پھر یہ دعا کریں گے کہ اے اللہ یہ لقب بھی ہم سے ہٹا دے پس انہیں جنت کی ایک نہر میں غسل کرنے کا حکم ہوگا اور وہ نام بھی ان سے دور کردیا جائے گا۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بعض لوگوں کو آگ ان کے گھٹنوں تک پکڑ لے گی اور بعض کو زانوں تک اور بعض کو گردن تک جیسے جن کے گناہ اور جیسے جن کے اعمال ہوں گے۔ بعض ایک مہینے کی سزا بھگت کر نکل آئیں گے سب سے لمبی سزا والا وہ ہوگا جو جہنم میں اتنی مدت رہے گا جتنی مدت دنیا کی ہے یعنی دنیا کے پہلے دن سے دنیا کے آخری دن تک۔ جب ان کے نکالنے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کرلے گا اس وقت یہود و نضاری اور دوسرے دین والے جہنمی ان اہل توحید سے کہیں گے کہ تم اللہ پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر ایمان لائے تھے پھر بھی آج ہم اور تم جہنم میں یکساں ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کو سخت غصہ آئے گا کہ ان کی اور کسی بات پر اتنا غصہ نہ آیا تھا پھر ان موحدوں کو جہنم سے نکال کر جنت کی نہر کے پاس لایا جائے گا۔ یہ ہے فرمان آیت ( رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ ) 15 ۔ الحجر :2) میں ہے۔ پھر بطور ڈانٹ کے فرماتا ہے کہ انہیں کھاتے پیتے اور مزے کرتے چھوڑ دے آخر تو ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ تم کھا پی لو، تمہارا مجرم ہونا ثابت ہوچکا ہے۔ انہیں ان کی دور دراز کی خواہشیں توبہ کرنے سے، اللہ کی طرف جھکنے سے غافل رکھیں گی۔ عنقریب حقیقت کھل جائے گی۔
اتمام حجت کے بعد
ہم کسی بستی کو دلیلیں پہنچانے اور ان کا مقرر وقت ختم ہونے سے پہلے ہلاک نہیں کرتے۔ ہاں جب وقت مقررہ آجاتا ہے پھر تقدیم تاخیر ناممکن ہے اس میں اہل مکہ کی تنبیہ ہے کہ وہ شرک سے الحاد سے رسول اللہ ﷺ کی مخالفت سے باز آجائیں ورنہ مستحق ہلاکت ہوجائیں گے اور اپنے وقت پر تباہ ہوجائیں گے۔
02/10/2025
#اللہ
#محمدﷺ
#قرآن
#حدیث
#نماز
#دعا
#الحمدللہ
#انشاءاللہ
#محبت
#زندگی
#دوستی
#احساس
#سچ
#وقت
#خوشی
#غم
#یادیں
#مسکراہٹ
#پاکستان
#اردو
#فکر
#حوصلہ
02/10/2025
The Concept of Iman (Faith)
Iman is the foundation of Islam. Without faith, a person cannot be considered a true Muslim. The Qur’an and Hadith emphasize the importance of Iman repeatedly.
Definition of Iman:
Iman means to affirm with the heart, to declare with the tongue, and to act with the limbs.
Belief in the heart that Allah is One and worthy of worship.
Declaration by the tongue that Muhammad ﷺ is the final Messenger of Allah.
Action by deeds that reflect one’s faith through obedience.
The Pillars of Iman (Iman-e-Mufassal):
1. Belief in Allah
2. Belief in the Angels
3. Belief in the Divine Books
4. Belief in the Messengers
5. Belief in the Day of Judgment
6. Belief in Divine Destiny (Qadr), the good and the bad of it
Signs of True Iman:
Love for Allah and His Messenger ﷺ
Following the Qur’an and Sunnah
Performing Salah, fasting, zakat, and other acts of worship
Avoiding sins and striving for good deeds
Having both fear of Allah and hope in His mercy
Iman in the Qur’an:
Allah says:
“The believers are only those who, when Allah is mentioned, their hearts tremble; and when His verses are recited to them, it increases them in faith; and they rely upon their Lord.”
(Surah Al-Anfal, 2)
ایمان کا بیان (ایمان کی حقیقت اور وضاحت)
ایمان دینِ اسلام کی بنیاد ہے۔ ایمان کے بغیر انسان مسلمان نہیں کہلا سکتا۔ قرآن و حدیث میں ایمان کی بہت زیادہ اہمیت بیان کی گئی ہے۔
ایمان کی تعریف:
ایمان دل سے تصدیق کرنے، زبان سے اقرار کرنے اور عمل سے ظاہر کرنے کا نام ہے۔
دل سے یقین کہ اللہ ایک ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
زبان سے اقرار کہ محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔
اعمال سے ثبوت کہ انسان اپنے قول و فعل سے اس ایمان کو ظاہر کرے۔
ایمان کے بنیادی اجزاء (ایمانِ مفصل):
1. اللہ پر ایمان
2. فرشتوں پر ایمان
3. اللہ کی کتابوں پر ایمان
4. اللہ کے رسولوں پر ایمان
5. قیامت کے دن پر ایمان
6. اچھی اور بری تقدیر پر ایمان
ایمان کی علامتیں:
اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت
قرآن و سنت پر عمل کرنا
نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر عبادات کی پابندی
برائیوں سے بچنا اور نیکیوں کو اختیار کرنا
دل میں اللہ کا خوف اور امید رکھنا
قرآن میں ایمان:
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَ عَلٰی رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ"
(سورۃ الانفال، 2)
یعنی: "مومن وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں اور جب ان پر اللہ کی آیات پڑھی جائیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے، اور وہ اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔"
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Website
Address
66000