Jamia Faridia جامعہ فریدیہ کسئ گندھاب ضلع مہمند
Journaslist:(Jamia Faridia Reg:No: 12653/7439-DGRE/MOFEPT) جامعہ فریدیہ کسئ ڈاگخانہ میاں منڈی تحصیل علنئ ضلع مہمند
نعت شریف
19/04/2026
بات سے بات: صاحبِ کردار اور محض ایک کارکن
تحریر: وسعت اللہ خان
ہمارے ہاں ایک ترازو وہ ہے جو بازار میں رکھا ہے، جہاں تول میں سے ماشہ تولہ کم ہو جائے تو فساد کھڑا ہو جاتا ہے۔ ایک ترازو وہ ہے جو دفتروں میں دھرا ہے، جہاں بس اتنی ہی جان ماری جاتی ہے جتنی کی تنخواہ میں ضمانت دی گئی ہو۔ اور ایک وہ حساب ہے جو ربِ کریم کے ہاں قائم ہے، جہاں صرف فرائض کے خانے نہیں بھرے جاتے بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ نیت کی رنگت کیا تھی اور اخلاص کا وزن کتنا تھا۔
بات دراصل تین اوصاف کی ہے، جنہیں ہم اکثر "اضافی بوجھ" سمجھ کر جھٹک دیتے ہیں، حالانکہ انسان کی اصل اونچائی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ اپنی ذمہ داری سے ذرا ہٹ کر، ذرا بڑھ کر کام کیا جائے۔ اگر آپ نے صرف وہی کیا جس کے آپ پابند تھے، تو آپ ایک اچھے مشین کے پرزے تو ہو سکتے ہیں، مگر شاید وہ "خیر" پیدا نہ کر سکیں جس کی معاشرے کو بھوک ہے۔
دوسری بات دوسروں کے کام آنا اور اپنے دائیں بائیں کی خبر رکھنا ہے۔ ہم نے تو "اپنے کام سے کام" رکھنے کو پارسائی کا درجہ دے دیا ہے، حالانکہ انسانیت تو اس بے چینی کا نام ہے جو ہمسائے کی دیوار گرنے پر اپنے دل میں محسوس ہو۔
اور تیسری بات، جو سب سے کٹھن ہے، وہ ہے کجی اور بے ترتیبی کو سنوارنا۔ ہم سب بگاڑ کو دیکھ کر ناک چڑھاتے ہیں، شکایتوں کا انبار لگاتے ہیں اور یہ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ "بھئی یہ میرا کام تھوڑی ہے"۔ وسعت اللہ خان کہتا ہے کہ یہی تو وہ مقام ہے جہاں آپ کی دیانت کا امتحان شروع ہوتا ہے۔
دیانت صرف یہ نہیں کہ آپ نے اپنی ڈیوٹی کے آٹھ گھنٹے پورے کر لیے۔ دیانت تو یہ ہے کہ جہاں آپ کو بگاڑ نظر آئے، آپ اسے درست کرنے کے لیے ہاتھ بڑھا دیں، چاہے وہ آپ کے دائرہ اختیار میں ہو یا نہ ہو۔
فرق بہت سادہ سا ہے؛ اپنا کام پورا کرنا آپ کو ایک "کارکن" بناتا ہے، لیکن خیر کو مکمل کرنے کی جستجو آپ کو "صاحبِ کردار" کے درجے پر فائز کر دیتی ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ آج ہمیں کارکنوں کی اتنی ضرورت نہیں جتنی ان کرداروں کی ہے جو بے ترتیبی دیکھ کر منہ نہ موڑیں، بلکہ اسے سنوارنے کو اپنا فرض سمجھ لیں۔
اب یہ آپ پر ہے کہ آپ کو محض ایک پرزہ بن کر رہنا ہے یا وہ ہاتھ جو بکھری ہوئی دنیا کو ترتیب دے سکے۔
بات سے بات — ایک صدا
بات سے بات نکلتی ہے۔
کل ایک مجلس میں تذکرہ ہوا ضلع مہمند کی مٹی سے ابھرتی ان دیواروں کا، جنہیں دنیا جامعہ فریدیہ کسئی (گندھاب) کے نام سے جانتی ہے۔ کہنے والے نے تو بس اتنا کہا کہ "دیواریں کھڑی ہیں، چھتیں منتظر ہیں"، مگر یہ جملہ کسی گہری چوٹ کی طرح دل پر نقش ہو گیا۔
ہمارا المیہ بھی خوب ہے؛ ہم بلند و بالا محلوں کی آرائش پر تو کروڑوں لٹا دیتے ہیں، مگر جہاں سے علم کی شمع روشن ہونی ہو، وہاں اکثر "وسائل کی کمی" کا نوحہ پڑھا جاتا ہے۔ کسئی کی زمین پر بنے وہ کمرے محض اینٹ گارے کا ڈھیر نہیں، بلکہ ان طلبہ کی امیدیں ہیں جو علم کی پیاس بجھانے وہاں کا رخ کرتے ہیں، مگر آج وہاں وسعت نہیں، تنگیِ داماں کا شکوہ ہے۔
ہم اکثر یہ کہہ کر پہلو بچا لیتے ہیں کہ "میرے چند روپوں سے اتنی بڑی تعمیر کیسے مکمل ہوگی؟" لیکن صاحب! یہ بھول جاتے ہیں کہ قطرہ قطرہ ہی دریا بنتا ہے اور ایک ایک اینٹ مل کر ہی وہ حصار بناتی ہے جو جہالت کے خلاف دیوار بن کر کھڑا ہوتا ہے۔
یہ جامعہ فریدیہ کوئی عام عمارت نہیں، ایک امانت ہے جو گندھاب کے پہاڑوں کے بیچ ہم جیسے "صاحبِ استطاعت" لوگوں کو پکار رہی ہے۔ یہ موقع ہے اپنے مال کو "فانی" سے "باقی" کرنے کا۔ ہم دنیا کی چکا چوند میں یہ بھول بیٹھے ہیں کہ اصل سرمایہ وہ نہیں جو تجوریوں میں بند ہے، بلکہ وہ ہے جو کسی کارِ خیر میں کھپ گیا۔
یاد رکھیے! کل جب یہ تعمیر مکمل ہوگی، تو تاریخ یہ نہیں پوچھے گی کہ گنبد کتنا اونچا تھا یا مینار کتنے چمکدار تھے، بلکہ سوال یہ ہوگا کہ جب جامعہ فریدیہ کسئی کی چھتیں آسمان کی طرف دیکھ رہی تھیں، تو آپ کا ہاتھ اپنی جیب تک گیا یا نہیں؟
گندھاب کی یہ ادھوری دیواریں آج ہم سے خیرات نہیں، بلکہ اپنی آخرت سنوارنے کا راستہ مانگ رہی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم میں سے کون ہے جو اس پکار پر لبیک کہتا ہے اور کون ہے جو "حالات" کا بہانہ بنا کر خاموشی سے گزر جاتا ہے۔
فیصلہ آپ کا ہے۔
17/04/2026
چند روز قبل مناظرِ اسلام، وکیلِ احناف، ترجمانِ دیوبند حضرت مولانا مفتی محمد ندیم محمودی صاحب کے چھوٹے بھائی، ڈاکٹر سلمان صاحب کے انتقال پر ہم نوجوانانِ احناف ضلع مہمند دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں۔
ہم اس غم کی گھڑی میں حضرت مولانا صاحب اور تمام اہلِ خانہ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
اللہ رب العزت لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
ازطرف: نوجوانانِ احناف ضلع مہمند
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Address
Mohmand