26/09/2026
ایک سیشن میں ایک خاتون نے مجھ سے کہا:
"میرے شوہر چاہتے ہیں کہ میں ان کے گھر والوں کو عزت دوں، ان کے رشتہ داروں سے ملوں، ان کے تعلقات نبھاؤں۔ لیکن جب بات میرے گھر والوں کی آتی ہے تو ان کا رویہ بالکل بدل جاتا ہے۔"
وہ بتا رہی تھی کہ اگر اسے اپنے کسی رشتہ دار کے گھر جانا ہو تو پہلے کئی دن شوہر کو راضی کرنا پڑتا ہے۔ کبھی اجازت مل بھی جائے تو آخری وقت پر منع کر دیا جاتا ہے۔
پھر اس نے کہا:
"مجھے اس بات پر اتنا غصہ آتا ہے کہ میں خود بھی اسے کنٹرول نہیں کر پاتی۔ کیونکہ میں تمہارے رشتوں کو اہمیت دوں، لیکن میرے رشتے تمہیں کیوں بوجھ لگتے ہیں؟"
بطور ماہرِ نفسیات میں یہاں ایک بہت بنیادی بات سمجھنا چاہتی ہوں:
شادی کسی انسان کی انفرادیت ختم کرنے کا نام نہیں ہے۔
نکاح کے بعد آپ کسی انسان کے شریکِ حیات بنتے ہیں، اس کے مالک نہیں۔
وہ عورت جس نے اپنی زندگی کے کئی سال اپنے والدین، بہن بھائیوں، رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ گزارے ہیں، شادی کے بعد اچانک ایک ایسی دنیا میں نہیں داخل ہو جاتی جہاں اس کے پرانے تمام تعلقات بے معنی ہو جائیں۔
یقیناً شادی میں باہمی مشاورت، حدود اور ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ لیکن مشاورت اور کنٹرول ایک چیز نہیں ہیں۔
یہ سوچنا ضروری ہے کہ ہم اپنے شریکِ حیات کے تعلقات کو صرف اس لیے کیوں محدود کرنا چاہتے ہیں کہ اب وہ ہماری بیوی یا شوہر ہے؟
اور اسلام بھی رشتے میں حسنِ سلوک کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے سب سے بہتر ہو۔"
تو سوال صرف یہ نہیں کہ "میری بیوی میری بات مانتی ہے یا نہیں؟"
سوال یہ بھی ہے:
"کیا میری بیوی میرے ساتھ رہتے ہوئے خود کو ایک مکمل انسان محسوس کرتی ہے؟"
اسے اپنے خاندان سے تعلق رکھنے کی آزادی، اپنی رائے کی جگہ، اپنے فیصلوں میں شرکت اور عزت کا احساس مل رہا ہے یا نہیں؟
کیونکہ کسی انسان کو مسلسل کنٹرول کر کے شاید آپ اس سے اپنی مرضی کا رویہ تو حاصل کر لیں، لیکن محبت، اعتماد اور جذباتی قربت نہیں۔
شادی میں برتری ثابت کرنے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ دونوں انسان ایک دوسرے کے لیے محفوظ جگہ بنیں۔
آخرکار، شریکِ حیات کو قابو میں رکھنا رشتہ مضبوط نہیں کرتا۔
اسے عزت دینا، سمجھنا اور انسان ہونے کی جگہ دینا رشتہ مضبوط کرتا ہے۔
Munazzah Fatima| Clinical Psychologist
رشتوں میں محبت صرف ساتھ رہنے کا نام نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی عزت، حدود اور تعلقات کو سمجھنے کا نام بھی ہے۔ اگر آپ بھی ازدواجی رشتے میں احترام اور صحت مند حدود کو اہم سمجھتے ہیں تو اس تحریر کو دوسروں تک ضرور پہنچائیں۔