23/11/2025
جب طلباء کتابوں سے نکل کر حقیقت کی دنیا کو دیکھتے ہیں، تو ان کا علم وسیع ہوتا ہے، ذہن کھلتا ہے، خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ بہتر شہری بنتے ہیں۔
طلباء کے ساتھ اسلام آباد کا مطالعاتی دورہ کیا گیا جس میں ایوب پارک، موج میلا، فیصل مسجد، لوک ورثہ، پاکستان مونومنٹ، دامنِ کوہ اور لیک ویو پارک شامل تھے۔
یہ سفر بچوں کے لیے محض تفریح نہیں بلکہ عملی سیکھنے، گروپ ورک، نظم و ضبط اور مشاہدے کا قیمتی تجربہ ثابت ہوا۔
چند تصاویر اس مطالعاتی دورے کی ۔۔۔۔
21/11/2025
سالانہ مطالعاتی سفر خادم آباد سے اسلام آباد
17/11/2025
آج نم آنکھوں کے ساتھ اپنے افغان طلباء کو رخصت کیا بڑی اچھی یادیں طلباء کے ساتھ وابستہ رہیں ایک استاذ اور طلباء کے لیے بڑے مشکل اور دکھی لمحات ہوتے ہیں جب انکی ٹیم سے کوئی فرد جدا ہو لیکن تقدیر کا لکھا غالب آ کر رہی رہتا ہے
دعا ہے کہ وہ اپنے وطن جا کر علم و امن کے سفیر بنیں آمین
13/11/2025
الحمدللہ
انٹر سکولز سپورٹس گیمز سیاکھ میں تحصیل بھر کے سکولز میں خادم آباد سکول تیسرے نمبر پر
ٹوٹل 16 شیلڈز خادم آباد کے نام
ریلے ریس 100×4 پہلی پوزیشن
100 میٹر ریس پہلی پوزیشن
200 میٹر ریس پہلی پوزیشن
200 میٹر ریس دوسری پوزیشن
100 میٹر ریس حصہ ہائی تیسری پوزیشن
رسہ کشی دوسری پوزیشن
حصہ پرائمری سے بیسٹ ایتھلیٹ جبار عرف گورا
تمام انتظامیہ کا بالعموم اور چیرمین یونین کونسل سیاکھ سعید عالم صاحب کا شکریہ جنہوں نے کامیاب پروگرام کا انعقاد کیا اور طلباء کو اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کیا
10/11/2025
ہمارے سکول کے افغان طلباء واپس اپنے ملک روانہ
سکول میں طلباء کا کردار رویہ مثالی رہا ہماری دعا ہے اللہ تعالی ان طلباء کا مستقبل روشن فرمائے
روانگی سے قبل طلباء کا اپنے کلاس فیلوز و کلاس ٹیچر کے ساتھ گروپ فوٹو
08/11/2025
مقابلہ حسن تقریر
بعنوان : ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
الحمدللہ چوتھی پوزیشن
گورنمنٹ بوائز ہائی سکول خادم آباد کے نام
نام طالبعلم محمد عذیر کلاس ہفتم
"ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے"
صدرِ ذی وقار، معزز منصفانِ محفل!
اس کنجِ فہم و دانش میں، اس مجلسِ حرف و صوت میں، اس ہجومِ گوش بر آواز میں، اس مرقّعِ سوز و ساز میں اور اس بزمِ بے مثال میں، مجھے جس عنوانِ سخن کا اعزاز بخشا گیا ہے وہ ہے —
“ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے”
---
جنابِ صدر!
میں روز اسکول سے ہنستا مسکراتا بیگ اٹھائے گھر پہنچتا ہوں۔
موبائل اٹھا کر دیکھتا ہوں تو خوف چھا جاتا ہے، دل دہل جاتا ہے۔
مجھے فلسطین کے معصوم بچوں کی کٹی ہوئی لاشیں دکھائی دیتی ہیں،
مسجدِ اقصیٰ کے گرد دھواں، آگ اور بارود کے بادل چھائے نظر آتے ہیں۔
مجھے غزہ میں بھوک سے مرتے چہرے دکھائی دیتے ہیں،
افغانستان، سوڈان اور ایران میں بمباری کی گھن گرج کانوں میں گونجتی ہے۔
تہاڑ جیل کی سلاخوں کے پیچھے یاسین ملک کی صدائے فغاں سنائی دیتی ہے۔
برہان وانی، افضل گورو، اور مقبول بٹ کے سولی چڑھے چہرے میری آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں۔
رات کو جب میں آنکھیں موندتا ہوں، تو ایک فلسطینی بچے کی پکار دل کو چیرتی ہے —
“آخر کب امتِ مسلمہ ہماری مدد کو پہنچے گی؟”
---
جنابِ صدر!
میں نے تاریخ کے اوراق پلٹے — سوچا، کیا ہماری داستان ہمیشہ شکست، غلامی اور محکومی کی رہی ہے؟
تاریخ نے کہا: نہیں!
تم وہ امت ہو جس نے دنیا کو انصاف دیا، علم دیا، عزت دی۔
تم تو علامہ اقبال کے اس آفاقی پیغام کے مصداق تھے:
“ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابِ خاکِ کاشغر”
---
اربابِ فکر و دانش!
یاد کرو وہ دور جب نیل کے ساحل سے کاشغر کی خاک تک
ہماری سلطنتیں تھیں، ہمارے پرچم لہراتے تھے۔
تارے ہمیں حسرت سے تکتے تھے، دشت و جبل ہماری گردِ راہ تھے۔
ہم قرطبہ کی روشنی، غرناطہ کا حسن اور بغداد و دمشق کا جلال تھے۔
ہم علم و فن کے امین، تہذیب و تمدن کے علمبردار تھے۔
دجلہ و فرات کے کناروں پر ہم ہست و بود تراشا کرتے تھے۔
ہم رازی کا فن، فارابی کا فلسفہ، جابر بن حیان کی تحقیق اور ابن الہیثم کی بصیرت تھے۔
جب مغرب تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا،
تب غرناطہ و قرطبہ علم و عرفان کے مینار روشن کر رہے تھے۔
مگر افسوس!
“گنوا دی ہم نے اسلاف سے جو میراث پائی تھی
ثریّا سے زمین پر آسماں نے ہم کو دے مارا”
---
اربابِ بصیرت!
آج امتِ مسلمہ انتشار کا شکار ہے۔
ہم نے اپنی صفوں میں دراڑیں ڈال لی ہیں،
رنگ و نسل، زبان و وطن، عرب و عجم کے بت گاڑھ دیے ہیں۔
ہر ملک ذاتی مفاد، اقتدار اور لسانی تعصب کا اسیر بن چکا ہے۔
ہماری وحدت پارہ پارہ ہے، ہماری غیرت سو چکی ہے۔
اقبال نے جب قرطبہ کی مسجد میں گھوڑے بندھے دیکھے تو دل تڑپ اٹھا —
اور وہ بولے:
“غرناطہ بھی دیکھا مری آنکھوں نے و لیکن
تسکینِ مسافر نہ سفر میں نہ حضَر میں
دیکھا بھی دکھایا بھی، سُنایا بھی سُنا بھی
ہے دل کی تسلّی نہ نظر میں، نہ خبر میں!”
---
صاحبانِ مسندِ عدالت!
علامہ اقبال کا یہ نعرۂ وحدت دراصل قرآن کے ابدی پیغام کی ترجمانی ہے،
جو تاجدارِ انبیاء ﷺ کی زبانِ اقدس سے یوں جاری ہوا:
“وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا”
اور
“اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ”
جب بھی مسلمان متحد ہوئے،
انہوں نے طاقت و تکبر کے بتوں کو توڑ ڈالا۔
313 نے بدر میں ایک ہزار کو شکست دی،
تین ہزار نے خندق میں دس ہزار کو،
تیس ہزار نے موتہ میں ڈیڑھ لاکھ کو زیر کر لیا۔
یہی اتحاد تھا جو یرموک، قادسیہ، جلولہ اور یمامہ کے میدانوں میں
باطل کے ایوان ہلا گیا۔
یہی اتحاد محمد بن قاسم، طارق بن زیاد، موسیٰ بن نصیر،
اور صلاح الدین ایوبی کی کامیابیوں کا راز تھا۔
---
جب امتِ مسلمہ دوبارہ ایک جسم کی مانند تڑپنے لگے گی،
ایک دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے گی،
عصبیت، مفاد پرستی اور فرقہ واریت کی زنجیروں کو توڑ دے گی —
تب علامہ اقبال کا یہ آفاقی پیغام
پھر روحوں میں بجلی بن کر گونجے گا:
“ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر”
24/10/2025
1ST TERM PTM
بچوں کی حقیقی تربیت تب ہی ممکن ہے جب اساتذہ اور والدین دونوں مل کر کوشش کریں گے تمام والدین کا شکریہ جو اپنے بچوں کی بہتری کے لیے تشریف لائے امید ہے آئندہ بھی اسی طرح تعاون کریں گے
06/10/2025
گورنمنٹ بوائز ہائی سکول خادم آباد میں تقریری مقابلہ کی چند تصویر ی جھلکیاں