31/03/2023
Rising Moon Public School
Knowledge is Power. Seek Knowledge from Cradle to Grave. Quality Education is our Mission Statement.
31/03/2023
05/10/2022
آج ادارہ رائزنگ مون پبلک اسکول فیضپور شریف ڈھانگری بالا میں یوم تکریم اساتذہ کے سلسلہ میں بچوں نے ایک مختصر مگر خوبصورت تقریب کا انعقاد کیا۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا حمد،نعت اور ٹیبلو بھی پیش کیا گیا۔
تقریب کے اختتام پر بچوں نے اپنے اساتذہ کو تحائف بھی پیش کیے۔
اس موقع پر بچوں(طلباء و طالبات ) کے لیے دعا
اللّٰہ پاک میرے students کو باادب اور باکمال کرے۔اور میرے اساتذہ کی شفقت مجھ پر تا دیر جاری رکھے آمین
السلامُ علیکم
ایمان بخیر زندگی
*آج کا سبق*
*استاد کا احترام کریں*
ویسے تو تاریخ ایسے بے شمار اسباق سے بھری ہے جن میں استاد کی عظمت کو سراہا گیا مگر آج میں اسی صدی کا ایک واقعہ کا اشتراک کروں گا۔جس کا الٹ ہمارے معاشرے میں بہت عام ہے۔
سابق ڈائریکٹر تعلیم
"ایوب خان" اپنی کتاب "تنگ آمد" میں لکھتے ہیں
" میں ایک تقریب میں بیٹھا تھا اور میرے ساتھ مل میرا چھوٹا بیٹا جو پرائمری کا طالب علم تھا بھی بیٹھا تھا تقریب میں مختلف لوگ آ رہے تھے جن میں محکمہ تعلیم کے ضلعی افسران بھی تھے ان افسران کی آمد پر میں بیٹھے بیٹھے ان سے ہاتھ ملاتا تھا کچھ دیر بعد ہمارے محلے کا پرائمری سکول ٹیچر آیا۔انہیں دیکھ کر میں کھڑا ہوا اور ان سے ہاتھ ملا کر خیریت دریافت کی۔وہ بھی ایک طرف جا کر بیٹھ گیا۔میرت پاس بیٹھے ایک شخص نے مجھ سے پوچھاکہ ڈائریکٹر صاحب ضلعی افسران سے بیٹھے بیٹھے ہاتھ ملاتے ہواور ایک پرائمری استاد کے لیے کھڑے ہو گئے ۔تو میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔محترم یہ ٹیچر میرے بیٹے کا ٹیچر ہے اگر میں اس کو اٹھ کر نہ ملتا تو میرے ساتھ بیٹھے میرے بیٹے کے دل میں آتاکہ میرے ابو میرے استاد سے بڑے افسر ہیں اور میرے خیال میں استاد سے بڑا کوئی افسر نہیں ہوتا۔
*"سلام استاد"*
خوش رہیں ،خوشیاں بانٹیں
31/07/2022
یکم محرم الحرام
یوم شہادت خلیفہ ثانی
السلامُ علیکم
ایمان بخیر زندگی
*آج کا دن*
19اپریل 1931ء کو جموں کی جامع مسجد کے امام مفتی محمد اسحٰق میونسپل باغ کمیٹی میں عیدالاضحی کا خطبہ دینے کیلئے موجود تھے کہ ڈوگرہ پولیس کے انتہائی متعصب ڈی آئی جی چوہدری رام چند نے انہیں عید کا خطبہ دینے اور نماز کی ادائیگی سے روک دیا جس پرمقامی مسلمانوں نے اسے مذہبی معاملات میں مداخلت قرار دیا اور پورے جموں میں ایک زبردست احتجاجی لہر چھڑ گئی۔
ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ جموں میں ہی 4جون 1931ء کوایک ہندو پولیس انسپکٹر لبھو رام نے (نعوذ بااللہ) قرآن پاک کی بے حرمتی کا ارتکاب کیا جس پر کشمیری مسلمانوں کے جذبات مزید مشتعل ہو گئے اور پوری ریاست جموں کشمیر میں احتجاج کاایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔
ان واقعات کیخلاف 25جون 1931کو ریڈنگ روم پارٹی کی جانب سے سرینگر میں ایک بہت بڑے جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا جس میں شیخ محمد عبداللہ سمیت کئی لیڈروں نے ڈوگرہ راج کے خلاف تقریریں کیں۔اسی جلسے میں عبدالقدیر نامی ایک نوجوان جسے مجمع میں کوئی نہیں جانتا تھا’ نے آگے بڑھ کر ڈوگرہ حکمرانوں کے خلاف قرآن و حدیث کی روشنی میں ایسی زبردست تقریر کی جس نے لوگوں کا خون گرما کر رکھ دیا۔ انہوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں شرکاء کو بتایاکہ جب مسلمانوں کی عزتیں، جان و مال اور حقوق محفوظ نہ ہوں اور انہیں عبادات کی بھی مکمل آزادی حاصل نہ ہو تو پھر مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ میدان عمل میں نکلیں اور دین اسلام کے دفاع کیلئے قربانیوں و شہادتوں کاراستہ اختیار کیا جائے۔
ان کے اس خطاب کے فوری بعد انہیں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔پانچ جولائی کو اس کیس کی سماعت سنٹرل جیل سری نگر میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے خلاف 12جولائی 1931 کو پورے شہر میں تاریخی ہڑتال کی۔
13 جولائی 1931
یوم شہداء کشمیر
13جولائی 1931ء کا دن کشمیر کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔جب ایک اذان کے 17 کلمات کو ادا کرنے کے لئے وادی کشمیر نے اپنے 22 بیٹے قربان کر دیے تھے۔
یہی وہ دن تھا کہ جب سری نگر کی سنٹرل جیل کے باہر ڈوگرہ فوج نے بدترین ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 22 افرادکو فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔
13جولائی 1931کو سنٹرل جیل میں کیس کی سماعت ہونا تھی۔اس دن صبح سے ہی سری نگر اور گردونواح سے قافلوں نے جیل کے باہر پہنچنا شروع کر دیا۔ آہستہ آہستہ یہ تعداد اس قدر بڑھی کہ دور دور تک ہر طرف لوگوں کا ایک سمندر نظر آتا تھا جو دینی جذبہ کے تحت اپنے اس بھائی کو جیل میں ڈالے جانے کے خلاف احتجاج کرنے اور اس کیس کی کاروائی سے متعلق آگاہی کیلئے یہاں پہنچے تھے۔ ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ نماز ظہر کا وقت آن پہنچا اورلاکھوں کشمیریوں نے نماز کی تیاری کا آغاز کر دیا۔ اس دوران ایک نوجوان اذان کہنے کیلئے آگے بڑھا اور ابھی اس نے اللہ اکبر ہی کہا تھا کہ ڈوگرہ فوجیوں نے گولی چلائی جو اس کے سینے پر لگی اور وہ موقع پر شہید ہوگیا۔
ڈوگرہ فوجیوں کی یہ حرکت پورے مجمع کیلئے بہت بڑا چیلنج تھی۔پہلے نوجوان کی شہادت کے بعد دوسرا آگے بڑھا ‘ اس نے بھی ابھی اللہ اکبر ہی کہا تھا کہ اسے بھی گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ جیل کے باہر موجود کشمیری اس قدر پرعزم تھے کہ ہر شخص آگے بڑھ کر اذان کہتے ہوئے شہادت حاصل کرنے کا متمنی تھا ۔ کسی کو یہ بات گوارا نہ تھی کہ جس نماز کی نیت سے اذان کہی جارہی ہے وہ مکمل نہ ہو سکے ۔اس طرح غیور کشمیری آگے بڑھتے اور اذان کے الفاظ کہتے ہوئے اپنے سینوں پر گولیاں کھاتے رہے۔
یوں پوری دنیاکی تاریخ میں یہ منفرد اذان تھی جسے کہنے کیلئے 22 افراد نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
سنٹرل جیل کے باہر نہتے کشمیریوں پر اس طرح گولیاں برسانے کی خبر جب وادی کے اطراف و کناف میں پھیلی تو ہر طرف ایک طوفان بپا ہو گیا اور ڈوگرہ حکمرانوں کے خلاف نفرت کا لاوا پھوٹ پڑا۔ جگہ جگہ لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج شروع کر دیا جو کئی ماہ تک جاری رہا۔
آج اس واقعہ کو86 برس گزر چکے ہیں لیکن ان شہداء کی قربانیوں کو آج بھی اسی طرح یاد کیا جا تا ہے جنہوں نے اس وقت اپنے آج کو کشمیری قوم کے کل کیلئے قربان کر دیا۔13جولائی کے شہداء کا مشن آج بھی ادھورا ہے۔ غاصب بھارتی فوج کے خلاف قربانیاں پیش کرنے والے کشمیریوں نے ثابت کیا ہے کہ انہوں نے اپنے اس مشن کوفراموش نہیں کیا ہے۔
کشمیرمیں اگر اسوقت لوگ اپنے بچوں کے جنازوں کو کندھا دیتے تھے تو آج بھی اس جیسے واقعات پیش آرہے ہیں’ جہاں بوڑھے والدین اپنے بچوں کومنوں مٹی تلے دفن کرتے نظر آتے ہیں۔
14/05/2022
ضرورت اسٹاف
میل/فیمیل
رائزنگ مون پبلک اسکول فیضپور شریف ڈھانگری بالا
خواہشمند اس نمبر پر رابطہ کریں
03425044609
السلامُ علیکم
ایمان بخیر زندگی
*آج کا سبق*
زمانے کی قسم۔ بےشک انسان گھاٹے میں ہے۔ سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے ہیں اور آپس میں حق بات کی وصیت اور صبر کی تلقین کرتے ہیں۔
خوش رہیں ،خوشیاں بانٹیں
الحمدللہ ثم الحمدللہ
گزشتہ کل ادارہ کے سالانہ نتائج کے سلسلہ میں ایک تقریب تقسیم انعامات کا انعقاد کیا گیا ۔عوام علاقہ کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔
بچوں نے سٹیج خوب پرفارم کیا ۔تقاریر ،ٹیبلوز،مزاحیہ خاکے،پیروڈی اور مزاحیہ خبروں سے مہمانان کو خوب محظوظ کیااپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.