13/06/2025
*خلیفۃ المسلمین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی فقید المثال سخاوت*
✍️:میر احمد ملک عطاری
11 جون 2025ء
اسلامی تاریخ کا جب بھی ذکر آتا ہے تو سخاوت اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا باب امیر المومنین حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے نام کے بغیر ادھورا رہتا ہے۔ آپ کو بارگاہِ رسالت ﷺ سے " *غنی* " کا لقب عطا ہوا کیونکہ آپ نے اپنا مال دینِ اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے اس طرح لٹایا کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ آپ تیسرے خلیفہ راشد، رسول اللہ ﷺ کے دوہرے داماد (ذوالنورین) اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ آپ کی زندگی جود و کرم اور ایثار و قربانی کا ایک روشن مینار ہے۔
ذیل میں آپ رضی اللہ عنہ کے چند صدقات کی تفصیلات پیش کی جا رہی ہیں جنہوں نے اسلامی تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے۔
1. جیش العسرہ (غزوہ تبوک) کی تیاری:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روم کی عظیم سلطنت کے خلاف غزوہ تبوک کی تیاری کا حکم دیا تو یہ مسلمانوں کے لیے انتہائی تنگی اور مشکل کا وقت تھا، اسی لیے اس لشکر کو "جیش العسرہ" یعنی "تنگی والا لشکر" کہا جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی۔
اس موقع پر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے سخاوت کی وہ تاریخ رقم کی جس پر خود زبانِ رسالت ﷺ نے آپ کو جنت کی بشارت دی۔ آپ نے اس لشکر کی تیاری کے لیے:
950 اونٹ فراہم کیے۔
50 گھوڑے پیش کیے۔
1000 سونے کے دینار (اشرفیاں) اپنی جھولی میں بھر کر لائے اور رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں ڈھیر کر دیے۔
یہ عطیہ اتنا بڑا تھا کہ اس سے اسلامی لشکر کا تقریباً ایک تہائی حصہ تیار ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ ان دیناروں کو اپنے دستِ مبارک سے الٹتے پلٹتے جاتے اور فرماتے:
"مَا ضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ"
ترجمہ: "آج کے بعد عثمان کوئی بھی عمل کرے، اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔"
(یہ کلمات آپ ﷺ نے دو مرتبہ ارشاد فرمائے)
2. میٹھے پانی کا کنواں "بئر رومہ" کا وقف:
جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں میٹھے پانی کی شدید قلت تھی۔ شہر میں "بئر رومہ" (رومہ کا کنواں) نامی ایک کنواں تھا جس کا مالک ایک یہودی تھا اور وہ مسلمانوں کو مہنگے داموں پانی فروخت کرتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"کون ہے جو رومہ کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دے؟ اس کے لیے جنت میں اس سے بہتر چشمہ ہے۔"
یہ اعلان سنتے ہی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ فوراً اس یہودی کے پاس پہنچے۔ اس نے پورا کنواں بیچنے سے انکار کیا تو آپ نے 100 جوان اونٹوں کے عوض آدھا کنواں خرید لیا اور یہ شرط طے کی کہ ایک دن کنویں کا پانی آپ کا ہوگا اور دوسرے دن یہودی کا۔ آپ نے اپنا دن مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔ مسلمان آپ کے دن میں دو دن کا پانی بھر لیتے اور یہودی کے دن کوئی پانی خریدنے نہ جاتا۔ آخرکار یہودی نے تنگ آکر کنویں کا باقی نصف حصہ بھی آپ کو فروخت کر دیا اور آپ نے اسے بھی اللہ کی راہ میں مسلمانوں کے لیے وقف فرما دیا۔
3. قحط کے زمانے میں تجارتی قافلے کی قربانی:
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں شدید قحط پڑا اور لوگ بھوک سے بے حال ہوگئے۔ اسی دوران حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ شام سے مدینہ پہنچا، جو غلے، لباس اور دیگر ضروریاتِ زندگی کے سامان سے لدا ہوا تھا۔
مدینہ کے بڑے بڑے تاجر آپ کے پاس پہنچے اور اس سامان کو خریدنے کی پیشکش کی۔ انہوں نے پانچ فیصد منافع کی پیشکش کی، لیکن آپ نے فرمایا کہ مجھے اس سے زیادہ نفع مل رہا ہے۔ تاجروں نے حیرانی سے پوچھا کہ ہم سے زیادہ کون دے رہا ہے؟ آپ نے فرمایا:
"میرا رب مجھے ایک درہم کے بدلے سات سو گنا یا اس سے بھی زیادہ عطا فرماتا ہے۔"
یہ کہہ کر آپ نے وہ پورا کا پورا قافلہ، جس کی مالیت لاکھوں میں تھی، مدینہ کے غریب اور نادار مسلمانوں میں مفت تقسیم فرما دیا۔ یہ دین کے لیے اخوت اور ہمدردی کی عظیم ترین مثال ہے۔
4. مسجد نبوی اور مسجد حرام کی توسیع:
مسلمانوں کی تعداد میں اضافے کے باعث مسجد نبوی تنگ پڑنے لگی۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:
"کون ہے جو فلاں خاندان کی زمین خرید کر مسجد میں شامل کر دے؟ اس کے بدلے اسے جنت میں اس سے بہتر جگہ ملے گی۔"
اس سعادت کو بھی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حاصل کیا اور وہ زمین 25,000 چاندی کے درہم کے عوض خرید کر مسجد نبوی کی توسیع کے لیے وقف کر دی۔ بعد میں اپنے دورِ خلافت میں بھی آپ نے مسجد نبوی اور مسجد حرام دونوں کی شاندار توسیع کروائی۔
5. غلاموں کی آزادی:
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد یہ معمول بنا لیا تھا کہ وہ ہر جمعہ کو ایک غلام خرید کر اللہ کی رضا کے لیے آزاد فرماتے۔ تاریخ کی کتابوں میں یہ درج ہے کہ آپ نے اپنی زندگی میں تقریباً 2,400 غلاموں کو آزادی کا پروانہ عطا فرمایا۔
صدقاتِ عثمانی کی آج کے دور کے مطابق تخمینی مالیت:
اگر ہم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ان چند مشہور صدقات کی مالیت کا آج کے دور کے مطابق اندازہ لگائیں تو یہ اعداد و شمار ناقابلِ یقین حد تک حیران کن ہیں۔
نوٹ: یہ صرف ایک تخمینہ ہے جو کم از کم مارکیٹ ریٹ پر مبنی ہے۔ اصل قیمت اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
جیش العسرہ کے لیے عطیہ:
1000 سونے کے دینار: ایک اسلامی دینار 4.25 گرام 24 قیراط کا ہوتا ہے۔
کل سونا: 1000 دینار × 4.25 گرام = 4,250 گرام۔
آج سونے کی قیمت (تقریباً 21,500 روپے فی گرام): 4,250 گرام × 21,500 روپے = 91,375,000 روپے (تقریباً 9 کروڑ 13 لاکھ روپے)۔
950 اونٹ: ایک اچھے اونٹ کی اوسط قیمت (تقریباً 300,000 روپے):
950 اونٹ × 300,000 روپے = 285,000,000 روپے (28 کروڑ 50 لاکھ روپے)
50 گھوڑے: ایک اچھی نسل کے عربی گھوڑے کی قیمت لاکھوں میں ہوتی ہے۔ کم سے کم تخمینہ (تقریباً 1,500,000 روپے فی گھوڑا):
50 گھوڑے × 1,500,000 روپے = 75,000,000 روپے (7 کروڑ 50 لاکھ روپے)
بئر رومہ کی خریداری:
100 جوان اونٹ: 100 اونٹ × 300,000 روپے = 30,000,000 روپے (3 کروڑ روپے)
(دوسرے نصف کی قیمت کا ذکر نہیں، لیکن یہ بھی ایک خطیر رقم ہوگی)
مسجد نبوی کی توسیع کے لیے زمین:
25,000 چاندی کے درہم: ایک اسلامی درہم تقریباً 2.975 گرام چاندی کا ہوتا ہے۔
کل چاندی: 25,000 درہم × 2.975 گرام = 74,375 گرام۔
آج چاندی کی قیمت (تقریباً 270 روپے فی گرام): 74,375 گرام × 270 روپے = 20,081,250 روپے (تقریباً 2 کروڑ روپے)
قحط کے زمانے کا قافلہ: اس کی مالیت کا درست تعین ممکن نہیں، لیکن یہ ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ تھا جس کی مالیت آج کے حساب سے بلاشبہ کئی کروڑ روپے بنتی ہے۔
غلاموں کی آزادی: 2,400 غلاموں کی آزادی ایک ایسا عظیم عمل ہے جس کی مالی قدر کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ یہ انسانی جانوں کو عزت اور وقار بخشنے کا عمل تھا جس کا اجر صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
کل تخمینی مالیت (صرف قابلِ حساب اشیاء کی)
شے آج کی تخمینی مالیت (پاکستانی روپے)
1000 سونے کے دینار 91,375,000
950 اونٹ 285,000,000
50 گھوڑے 75,000,000
100 اونٹ (بئر رومہ) 30,000,000
25,000 چاندی کے درہم 20,081,250
مجموعی تخمینہ 501,456,250 روپے
(پچاس کروڑ چودہ لاکھ چھپن ہزار دو سو پچاس روپے)۔
یعنی صرف ان چند صدقات کی آج کے دور میں تخمینی مالیت
پچاس کروڑ چودہ لاکھ چھپن ہزار دو سو پچاس روپے سے زائد بنتی ہے۔
اس میں قحط کے قافلے کی مالیت اور غلاموں کو آزاد کرنے کا روحانی و سماجی پہلو شامل نہیں ہے۔
یہ اعداد و شمار حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی لگن اور بے مثال سخاوت کی ایک چھوٹی سی جھلک ہیں، جس کی وجہ سے آپ رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ بنے رہیں گے۔