Government High School Barnala

Government High School Barnala

Share

I want to update 10th class of 1971 1972 BARNALA HIGH SCHOOL BHIMBER AJK IF ANY ONE SEE THIS

19/11/2025

افغانستان پر بمباری، امریکی حملے، پاکستان کے اڈے اصل سچ جو افغان بھائی نہیں سنتے
نائن ایلیون کے بعد افغانستان پر جو فضائی حملے ہوئے، وہ پاکستان کی سرزمین سے نہیں ہوئے تھے
پہلی بمباری 7 اکتوبر 2001 کو کی گئی اور یہ حملے عرب ممالک کی زمین اور سمندری حدود سے ہوئے
بحرِ عرب میں موجود امریکی طیارہ بردار جہاز، آبدوزیں، اور خلیج فارس کے ممالک کے فوجی اڈے استعمال کیے گئے۔ یعنی آپ کی ریاست کو پہلی بار نشانہ پاکستان سے نہیں، عربوں کے اڈوں سے بنایا گیا
مگر آج الزام پاکستان پر لگایا جاتا ہے
عرب دنیا پر ایک لفظ نہیں بولا جاتا۔
ان فضائی حملوں کے تقریباً 26 دن بعد، یعنی نومبر 2001 کے شروع میں امریکی اور اتحادی زمینی فوج افغانستان میں اتر گئی
زمینی فوج بھی پاکستان سے نہیں گئی، بلکہ عرب ممالک کے ہوائی اڈوں سے اڑان بھر کر افغانستان میں اتاری گئی
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ افغانستان پر قبضہ کرنے والی فوج پاکستان کے اڈوں سے نہیں اتری تھی۔
پاکستان کے اڈے امریکہ نے بعد میں استعمال کیے، وہ بھی اس وقت جب افغانستان پہلے ہی مکمل امریکی قبضے میں آ چکا تھا
یہ استعمال دسمبر 2001 – جنوری 2002 کے بعد شروع ہوا، اور وہ بھی صرف ڈرون حملوں اور انٹیلیجنس مشن کے لیے نہ ابتدائی بمباری پاکستان سے ہوئی، نہ امریکی فوج پاکستان کے راستے افغانستان میں اتری
یہ حقیقت افغان بھائیوں کو سمجھنی چاہیے کہ پاکستان کا ابتدائی حملے اور قبضے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
اب اصل سوال: پاکستان کس کا ساتھ دیتا؟
یہ وہ نقطہ ہے جسے افغان بھائی ہمیشہ نظرانداز کرتے ہیں
صرف 20–30 دن میں طالبان کابل چھوڑ گئے، بگرام چھوڑ دیا، قندھار چھوڑ دیا اور پہاڑوں میں چلے گئے۔ جب ایک مہینے کے اندر اندر پوری ریاست ٹوٹ گئی، صدر بھاگ گیا، فوج بکھر گئی، اور حکومت دم توڑ گئی، تو پاکستان کس ریاست کا دفاع کرتا؟ کس حکومت کے ساتھ کھڑا ہوتا؟ ایک ایسی ریاست جو خود اپنے دارالحکومت میں کھڑی نہ رہ سکی، پاکستان اس کے لیے کس بنیاد پر لڑتا؟
یہ بات سمجھ لو:
جب کوئی ملک اپنی سرزمین کی حفاظت نہ کر سکے، کوئی حکومت باقی نہ رہے، تو بیرونی ملک اس کا "ساتھ" نہیں دے سکتے، وہ صرف اس کی لاش اٹھا سکتے ہیں۔
اگر پاکستان اس وقت طالبان کے ساتھ کھڑا ہوتا، تو اس کا مطلب تھا کہ پاکستان پوری دنیا کا دشمن بنتا
اُس وقت نہ کوئی مسلم ملک طالبان کے ساتھ کھڑا تھا، نہ کوئی غیر مسلم ملک
عرب دنیا سے لے کر وسطی ایشیا تک سب امریکہ کے ساتھ تھے
طالبان کے ساتھ کھڑے ہونے کا مطلب تھا کہ پاکستان خود کو "دہشتگرد ریاست" قرار پاتا، پابندیاں لگ جاتیں، معیشت ختم ہو جاتی، ایٹمی پروگرام تباہ ہو جاتا، اور پاکستان بھی افغانستان کی طرح برباد ہو جاتا۔
اور سب سے گہری بات:
جب طالبان خود اپنے ملک میں کھڑے نہ رہ سکے…
جب طالبان اپنی ریاست نہ بچا سکے…
جب طالبان خود پہاڑوں میں چلے گئے…
تو پاکستان کس کے ساتھ کھڑا ہوتا؟
پہاڑوں میں بھاگ جانے والوں کے ساتھ؟ یا ایک ختم ہو چکی ریاست کے ساتھ؟
پاکستان نے اس کے باوجود امریکہ کے ساتھ کھڑے ہو کر بھی مکمل تعاون نہیں کیا
افغانی یہ حقیقت آج بھی ماننے کو تیار نہیں:
پاکستان نے امریکہ کو ہر جگہ پر آنکھ بند کر کے ساتھ نہیں دیا، بلکہ اسے بار بار محدود کیا، گمراہ کیا اور کئی بار طالبان کی حفاظت کی
اگر پاکستان امریکہ کے ساتھ پورا کھڑا ہوتا، تو آج افغانستان میں طالبان نام کی کوئی چیز نہ ہوتی
یہ پاکستان ہی تھا جس نے توازن رکھا، اپنی سرزمین کو بھی بچایا، اور طالبان کی مکمل تباہی بھی نہ ہونے دی۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کی ریاست کو توڑنے والی قوتیں عرب اڈے تھے، پاکستان نہیں
افغانستان میں پہلی بمباری پاکستان سے نہیں ہوئی، پہلی امریکی فوج پاکستان سے نہیں اتری، اور پہلی ریاستی شکست پاکستان کی وجہ سے نہیں تھی
پاکستان نے بعد میں صرف محدود تعاون کیا
وہ بھی اپنی ریاست کی بقا کے لیے، نہ کہ افغانستان کے خلاف جنگ کے لیے۔
لہٰذا افغان بھائیوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کو الزام دینا آسان ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جو تباہی آپ پر آئی، وہ عرب زمین اور امریکی فیصلہ تھا، نہ کہ پاکستان کی مرضی یا پاکستان کی فضائی حدود سے

پاکستان زندہ باد، پاک فوج پائندہ باد

13/11/2025

افغانیوں کا پاکستان کو لگایا گیا سب سے گہرا زخم!

اے پی ایس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان کے صوبے کنڑ میں کی گئی تھی۔
حملہ آور تنظیم کا بیس کیمپ افغانستان تھا۔
حملے کے ماسٹر مائنڈ خراسانی کو اس وقت کی افغان حکومت نے افغانستان میں چار گھر دے رکھے تھے۔
حملے کی قیادت نعمان شاہ ہلمند نامی افغانی کر رہا تھا۔ پاکستان میں حملہ آؤروں کے سہولت کار بھی افغانی تھے۔
اس حملے پر پوری دنیا نے دکھ کا اظہار کیا تھا۔ لیکن افغانیوں نے اس عظیم سانحے پر بھی "خوند ی شتہ" یعنی "مزہ آیا؟" کے سٹیٹس لگائے تھے۔

اگر یہ کہا جائے کہ اے پی ایس کا حملہ افغانیوں کا پاکستان کو لگایا گیا سب سے گہرا زخم ہے تو غلط نہ ہوگا۔ اس حملے میں مجموعی طور پر 149 لوگ شہید ہوئے جن 134 بچے تھے۔ جب کہ 121 زخمی ہوئے تھے۔ سکول میں موجود 950 بچوں اور استاتذہ کو پاک فوج نے ریسکیو کر لیا تھا۔

جون 2014ء میں دہشت گردوں نے کراچی انٹرنیشنل ائر پورٹ پر حملہ کر دیا۔ ٹی ٹی پی نے ذمہ داری قبول کی۔ جس کے جواب میں پاک فوج نے فاٹا میں آپریشن ضرب عضب کے نام سے دہشت گردوں کے خلاف سب سے بڑا آپریشن لانچ کیا۔

اس آپریشن کے لیے ملک بھر میں جگہ جگہ سیکیورٹی پر تعئنات فوجیوں کی تعداد کم کر دی گئی اور زیادہ تر فوج دہشتگردوں سے فیصلہ کن جنگ کرنے کے لیے وزیرستان بھیج دی گئی۔ اس جنگ میں دہشت گردوں سے تمام زیر قبضہ علاقے چھڑا لیے گئے۔ ان کے مراکز کا خاتمہ کر دیا گیا۔ بہت سے مارے گئے۔ کچھ پکڑے گئے اور باقیوں نے بھاگ کر افغانستان میں پناہ لے لی۔

اس کے جواب میں 16 دسمبر 2014ء کی صبح دس بجے کے وقت ٹی ٹی پی کے سات دہشت گردوں نے پشاور میں ورسک روڈ پر قائم اے پی ایس سکول پر حملہ کر دیا۔ یہ سکول پشاور کینٹ سے باہر ورسک روڈ پر واقع ہے۔ دہشت گرد آٹومیٹک گنوں، ہینڈ گرنیڈ اور مختلف طرح کے بموں سے لیس تھے۔ انہوں نے سکول میں گھستے ہی بے دریغ بچوں اور بڑوں کو قتل کرنا شروع کردیا۔

پاک فوج کے ایس ایس جی کمانڈوز کو پہنچنے میں شائد پندرہ سے بیس منٹ لگے ہونگے۔ کمانڈوز نے سکول میں داخل ہوتے ہی دہشت گردوں پر حملہ کر کے ان کو انگیج کر لیا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ مزید بچوں کے پیچھے نہ جاسکے۔

شیر دل کمانڈوز کے ابتدائی حملے میں ہی تین دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے جن میں سے ایک کو سنائپر نے نشانہ بنایا تھا۔ اس دوران پاک فوج بچوں اور استاتذہ کو مسلسل ریسکیو کرتی رہی۔ لڑائی کے دوران ہی پولیس اور پاک فوج کے جوانوں نے سکول کو حصار میں لے لیا تاکہ کوئی دہشت گرد بھاگ نہ سکے۔

باقی بچ جانے والے دہشت گرد مرکزی آڈیٹوریم کی طرف بھاگے جہاں کمروں میں بہت سے بچے ابھی موجود تھے۔ ایس ایس جی کمانڈوز برق رفتاری سے آڈیٹوریم پہنچے جہاں دہشت گردوں سے دوبدو مقابلہ ہوا۔ ان دہشت گردوں میں ایک خودکش حملہ آور بھی تھا۔ اس دوبدو لڑائی میں بچ جانے والے باقی تمام دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

مقابلے میں دو افسروں سمیت پاک فوج کے سات جوان زخمی ہوئے۔ آپریشن کے فوراً بعد ایک سرچ آپریشن کیا گیا تاکہ اگر کہیں دہشت گردوں نے کوئی بم وغیرہ نصب کیے ہیں تو ان کو ڈی فیوز کیا جاسکے۔

حملہ کرنے والوں کا منصوبہ تھا کہ نیچے سے اوپر تک اس انداز میں جائنگے کہ کوئی ایک بچہ یا بندہ زندہ نہ بچنے پائے۔ وہ اس میں تو ناکام رہے لیکن پھر بھی بہت بڑا نقصان پہنچا گئے۔ سکول میں اس وقت کل بچوں اور سٹاف سمیت 1099 لوگ تھے جن میں سے 950 کو بچا لیا گیا تھا۔

ٹی ٹی پی نے اعلان کیا کہ شہید ہونے والوں بچوں میں سے 50 کے قریب فوجیوں کے بچے ہیں۔ ان کے امیر فضل اللہ نے افغانستان سے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں اس حملہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس کو ضرب عضب کا بدلہ قرار دیا۔

حملے کے اگلے ہی دن اس وقت کے آرمی چیف راحیل شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی افغانستان کے ایک طوفانی دورے پر گئے جہاں انہوں نے اشرف غنی اور نیٹو کمانڈر سے ملاقات کی۔ مختلف مصدقہ رپورٹس کے مطابق اس ملاقات میں راحیل شریف نے اشرف غنی اور نیٹو کمانڈر کو دھمکی دی کہ مقررہ مدت کے اندر اندر حملے کے ذمہ داروں کے خلاف نتیجہ خیز کاروائی نہ ہوئی تو ہم ہر آپشن استعمال کرینگے اور اافغانستان کے اندر بھی کاروئیاں کرینگے۔

راحیل شریف کے الفاظ تھے " "Wipe out Taliban or we will"
یہ دھمکی کسی حد تک کام کر گئی۔ گو کہ افغانستان نے کچھ تعاون کیا لیکن پاک فوج نے اس کے باؤجود افغانستان میں دہشت گردوں پر براہ راست حملے کیے جس پر اشرف غنی نے احتجاج بھی کیا۔ انہی حملوں میں اے پی ایس کا ماسٹر مائنڈ مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والا عمر خالد خراسانی شدید زخمی ہوا۔ جس کے بارے میں احسان اللہ احسان نے انکشاف کیا تھا کہ اس کو افغان اسٹیبلشمنٹ نے افغانی کاغذات پر علاج کے لیے انڈیا بھیج دیا تھا۔

پاکستان میں اس حملے کے تمام سہولت کاروں کو پکڑ کر پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ سوائے ایک کے جس کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے بچا لیا اور وہ آج تک زندہ ہے۔

اس حملے کے بعد افغانیوں کے خلاف بہت بڑا کریک ڈاؤن ہوا جس کی وجہ سے پشاور سے کم از کم تیس ہزار افغانی واپس افغانستان چلے گئے جو کچھ عرصے بعد رفتہ رفتہ پھر واپس آگئے۔
حملہ اس قدر ظالمانہ تھا کہ اس کے بعد خود ٹی ٹی پی میں بھی پھوٹ پڑ گئی۔ القاعدہ جیسی تنظیم نے بھی اس حملے کی مزمت کی اور کہا کہ بچوں کو نشانہ بنانا غلط تھا۔

اے پی ایس حملہ افغانستان کا پاکستان میں سکول بچوں پر پہلا حملہ نہیں تھا۔ شائد کچھ لوگوں کو یاد ہو 1994ء میں بھی کچھ افغان دہشت گردوں نے ایک سکول بس میں ساٹھ سے ستر بچوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ انہوں نے کئی لاکھ ڈالر رقم مانگی تھی بصورت دیگر بچوں کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔
اس وقت بھی ایس ایس جی کمانڈوز نے آپریشن کیا تھا اور کسی ایک بچے کو بھی گزند پہنچائے بغیر ان دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا تھا۔

اے پی ایس نے ہمیں دہشت گردوں کے خلاف کچھ عرصہ کے لیے متحد کر دیا تھا۔ لیکن ان کی پشت پناہی کرنے والی اصل طاقت افغانستان کے خلاف ہم لوگ آج بھی منتشر ہیں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Mirpur?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Mirpur