29/12/2025
*ہمارا نظام شمسی بال بال بچ گیا*
(تحریر: ڈاکٹر احمد نعیم)
ایک حالیہ تحقیق میں اس بات کا سراغ ملا ہے ہمارا سورج اور پورا نظامِ شمسی تقریباً پینتالیس لاکھ سال پہلے دو دیوہیکل اور غصیلے ستاروں کی مار سے بال بال بچ گیا تھا اور اس نامکمل حادثے کی کچھ نشانیاں اب بھی ہمارے نظام شمسی کے قرب و جوار میں موجود ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے تک یہ خیال عام تھا کہ ہمارا نظامِ شمسی گزشتہ کئی ارب سالوں سے ایک نسبتاً محفوظ اور پرسکون کہکشانی ماحول میں ارتقا پذیر رہا لیکن یہ خیال اس وقت متزلزل ہو گیا جب سائنس دانوں نے مقامی بین النجمی خلا کی طبیعی حالت کا باریک بینی سے جائزہ لینا شروع کیا اور ایک عجیب سا تضاد سامنے آیا۔ ہمارے آس پاس موجود گیس غیر معمولی حد تک زیادہ آئنائز تھی اور ایسی حالت ہمارے نظام شمسی کے موجودہ محل وقوع اور حالیہ سائنسی تجزیات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اگر ہمارا نظام شمسی پرسکون اور نسبتاً الگ تھلگ ماحول میں ہروان چڑھتا رہا ہے تو پھر ہمارے آس پاس موجود گیسز کو اس حد تک آئنائزڈ نہیں ہونا چاہیے تھا اور یہی وہ معمہ تھا جس کے جواب کی تلاش میں ماہرین فلکیات سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔
ماجرا کچھ یوں ہے کہ تقریباً پینتالیس لاکھ سال پہلے ہماری کہکشاں میں ایک دلچسپ مگر خطرناک واقعہ پیش آیا۔ دو نہایت بڑے اور شدید گرم ستارے ہمارے سورج کے قریب سے گزرے جن میں سے ایک بیٹا کینس میجرس (Beta Canis Majoris) تھا جسے عرف عام میں مرزم (Mirzam) کہا جاتا ہے اور دوسرا ایپسیلون کینس میجرس Epsilon Canis) Majoris) تھا جسے ادھارا (Adhara) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آج یہ ستارے برجِ کلبِ اکبر (Canis Major) میں ہم سے قریباً چار سو نوری سال سے زائد کے فاصلے پر موجود ہیں مگر اُس زمانے میں ان کا راستہ ہمارے نظامِ شمسی کے محض تیس سے پینتیس نوری سال کے فاصلے سے گزرا تھا۔ کائناتی پیمانے پر فلکیاتی حرکیات کی رو سے یہ فاصلہ بڑے ستاروں کے معاملے میں اس حد تک کم ہے کہ خلائی ماحول کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ دونوں ستارے کمیت کے لحاظ سے سورج سے تقریباً تیرہ گنا بڑے تھے اور ان کی سطحی حرارت اتنی زیادہ تھی کہ وہ طاقتور بالائے بنفشی یا الٹرا وائلٹ شعاعیں خارج کرتے تھے۔ اُس وقت یہ ستارے اپنی جوانی کے عروج کے مرحلے میں تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی روشنی اور تابکاری آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید تھی۔ سائنسی تخمینوں کے مطابق یہ دونوں ستارے آج کے روشن ترین ستارے سیریس سے بھی چار سے چھ گنا زیادہ چمک، تپش اور حرارت رکھتے تھے اور اُس دور میں زمین کے آسمان پر سب سے زیادہ چمکدار ستارے تھے۔
ان ستاروں کی خارج کردہ شدید توانائی والی بالائے بنفشی شعاعوں نے نظام شمسی کے اردگرد موجود بین النجمی گیس پر براہِ راست اثر ڈالا۔ خلا میں موجود ہائیڈروجن اور ہیلیم ابتدائی طور پر غیر جانبدار حالت میں ہوتے ہیں مگر جب ان پر شدید توانائی پڑتی ہے تو ان کے ایٹم الیکٹران کھو دیتے ہیں اور اس عمل کو آئنائزیشن کہا جاتا ہے۔ مرزم اور ادھارا کی شعاعوں نے نزدیکی گیس کے بادلوں میں ہائیڈروجن کے تقریباً بیس فیصد اور ہیلیم کے قریب چالیس فیصد ایٹموں کو آئنائز کر ڈالا۔ اتنی بڑی مقدار میں آئنائزیشن قدرتی طور پر بہت کم ہی ممکن ہے اور ماضی میں کسی بلند توانائی والی سرگرمی کے وقوع پذیر ہونے کا اشارہ دیتی ہے۔
حالیہ تحقیق میں جب ماہرین نے نظام شمسی کے قریب خلا میں آئنائزیشن کی پیمائش کی تو یہ سوال پیدا ہوا کہ اتنی توانائی آخر کہاں سے آئی ہوگی۔ سورج کے آس پاس موجود زیادہ تر ستارے نسبتاً چھوٹے ہیں یا پھر ایسے ستارے ہیں جو کم یا محدود بالائے بنفشی شعاعیں خارج کرتے ہیں اور اس قسم کی ستاروں کے اثرات اس آئنائزیشن کی وجہ نہیں بن سکتے۔ اسی طرح ایک اور تصور لوکل ہاٹ ببل کا تھا جو ہمارے نظام شمسی کے ارد گرد ایک کم کثیف مگر نسبتاً گرم خلائی خطہ ہے مگر اس کا درجۂ حرارت اور تابکاری بھی کافی نہیں ہے کہ ہیلیم جیسی گیس کو اتنی بڑی مقدار میں آئنائز کر سکے۔
یہ معمہ اس وقت حل ہونا شروع ہوا جب سائنس دانوں نے ستاروں کی حرکات کا لاکھوں سال ماضی میں دیکھتے ہوئے حساب لگانا شروع کیا۔ مرزم اور ادھارا کی موجودہ رفتار، سمت اور مقام کو مدنظر رکھتے ہوئے ماضی میں ان کی کہکشانی حرکت ایک نقشہ تیار کیا۔ اس تحقیق سے واضح ہوا کہ یہی دو ستارے لاکھوں سال پہلے ہمارے نظامِ شمسی کے قریب سے گزرے تھے اور یہی وہ وقت تھا جب مقامی خلا میں غیر معمولی آئنائزیشن پیدا ہوئی۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ اثر عارضی نہیں تھا۔ بین النجمی خلا میں مادہ نہایت کم کثیف ہوتا ہے اور اسی لیے ایک بار آئنائزڈ ایٹموں کا دوبارہ الیکٹران حاصل کر کے غیر چارج شدہ حالت میں آنا بہت سست عمل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک دفعہ پیدا ہونے والی آئنائزیشن لاکھوں سال تک برقرار رہ سکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہمارے اردگرد خلا میں اس قدیم فلکیاتی ملاقات کا ایک مدھم مگر قابلِ پیمائش نشان موجود ہے۔
یہ واقعہ صرف خلائی طبیعیات تک محدود نہیں کیونکہ ایسے ستاروں کی شدید تابکاری اتنے قریبی فاصلے سے زمین تک پہنچنے والی کائناتی شعاعوں کی مقدار کو بھی بدل سکتی ہے اور پھر طویل المدت انداز میں یہ تبدیلیاں بالواسطہ طور پر زمینی ماحول، بالائی فضاء کی کیمیائی ساخت اور حتیٰ کہ حیاتیاتی ارتقا کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔
ایک دلچسپ نقطہ یہ بھی ہے کہ سورج اس فلکیاتی حادثے میں بال بال بچ گیا۔ اگر یہ دونوں دیوہیکل ستارے سورج کے اس سے بھی زیادہ قریب آ جاتے تو یا تو ان کی کششِ ثقل سورج کے مدار اور نظام شمسی کی شکل کو بگاڑ دیتی جس کے نتیجے میں سیاروں کی ترتیب درہم برہم ہو سکتی تھی یا پھر یہ بھی ممکن تھا کہ سورج ان کے ساتھ کششِ ثقل میں بندھ کر تین ستاروں پر مشتمل ایک غیر مستحکم نظام بنا لیتا۔ ایسے کسی بھی منظر میں زمین جیسی دنیا کا وجود یا اس کا طویل مدتی استحکام شدید خطرے میں پڑ جاتا۔ یوں یہ حقیقت اور بھی نمایاں ہو جاتی ہے کہ ہمارا نظامِ شمسی نہ صرف ایک متحرک کہکشانی ماحول میں موجود ہے بلکہ اس کی تاریخ میں ایسے لمحے بھی آئے ہیں جہاں چند نوری سال کا فرق زندگی اور تباہی کے درمیان فیصلہ کن حد بن گیا۔
(تحریر: ڈاکٹر احمد نعیم)
RESEARCH PAPERS:
Beta Canis Majoris: The Other Major Ionization Source of the Local Interstellar Clouds
Authors: J. Michael Shull, Rachel M. Curran, Michael W. Topping
Published on arXiv, August 5, 2025.
Ionization Sources of the Local Interstellar Clouds: Two B-stars, Three White Dwarfs, and the Local Hot Bubble
Authors: J. Michael Shull, Rachel M. Curran, Michael W. Topping, Jonathan D. Slavin
Published on arXiv, October 6, 2025.
Copy