Science. سائنس

Science. سائنس

Share

science

12/01/2026

زمین اپنے محور پر تقریباً 23.5 ڈگری جھکی ہوئی ہے۔

یہ معمولی سا جھکاؤ دراصل زمین پر زندگی کے مستقبل کا فیصلہ بن گیا۔
جھکنا ضروری ہے
جھکاؤ غرور اور اکڑ کو توڑ دیتا ہے۔
جس شجر پر پھل آتے ہیں، وہ خودبخود جھک جاتا ہے۔
زمین بھی کچھ ایسی ہی ہے۔

زمین کا محورِ گردش، جو اسے گھومنے کی شناخت دیتا ہے، سورج کے گرد اس کے مدار کے عمودی خط سے تقریباً 23.5 ڈگری جھکا ہوا ہے۔ یہ جھکاؤ کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں، بلکہ کائنات کے ابتدائی دور کے ایک عظیم حادثے کی یادگار ہے۔

تقریباً 4.5 ارب سال پہلے، جب زمین ابھی گرم اور نیم پگھلی ہوئی تھی، مریخ کے حجم کا ایک سیارہ نما جسم جسے سائنس دان “تھیا” کہتے ہیں، انتہائی تیز رفتاری سے زمین سے ٹکرایا۔
اس تصادم کی شدت نے زمین اور تھیا کے مادّے کو خلا میں بکھیر دیا، جو بعد میں کششِ ثقل کے تحت جمع ہو کر چاند بن گیا۔

اسی ٹکر کے زاویے اور توانائی نے زمین کے انگولر مومنٹم کو بدل دیا، اور یوں زمین ہمیشہ کے لیے جھک گئی۔
یہ نظریہ، جسے Giant Impact Hypothesis کہا جاتا ہے، آج سائنسی دنیا میں سب سے زیادہ قبول شدہ وضاحت ہے جسے کمپیوٹر سمولیشنز، اپولو مشنز سے لائے گئے چاند کے پتھروں، اور زمین و چاند کے آئسوٹوپک مشابہت نے مضبوط بنیاد دی ہے۔

اگر یہ تصادم نہ ہوتا،
اگر زمین سیدھی رہ جاتی
تو شاید موسم وجود میں ہی نہ آتے۔
نہ بہار، نہ خزاں،
نہ زندگی کے لیے وہ اعتدال جو ہمیں میسر ہے۔
چاند کی موجودگی اس جھکاؤ کو مستحکم بھی رکھتی ہے۔
اس کی کششِ ثقل زمین کے محور کو بھٹکنے نہیں دیا ورنہ زمین بھی مریخ کی طرح غیر متوازن موسم شدتوں کا شکار ہو سکتی تھی۔
یوں ایک قدیم حادثہ
زندگی کا محافظ بن گیا۔
کبھی کبھی
جھک جانا ہی
زندہ رہنے کی وجہ بنتا ہے۔





02/01/2026
02/01/2026

*علم کی نظر*
نیپچون کی دریافت فلکیات کی تاریخ میں ایک ایسا واقعہ ہے جب انسانی عقل نے ظاہری مشاہدے سے ایک قدم آگے بڑھ کر علم ریاضی کی طاقت سے ایک ایسا سیارہ دریافت کیا جسے کسی نے دوربین سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ کہانی یوں شروع ہوتی ہے کہ یورینس کو 1781 میں دریافت کیا گیا مگر جلد ہی ماہرینِ فلکیات نے محسوس کیا کہ یورینس اپنی متوقع جگہ پر نہیں چل رہا۔ اس کی رفتار اور مدار میں بار بار معمولی مگر مستقل قسم کی بے قاعدگیاں نظر آتی تھیں۔ اگر نظام شمسی میں صرف سورج اور پہلے چھ سیارے ہی یورینس پر اثر انداز ہوتے تو اس کا مدار نیوٹن کے قوانین کے مطابق بالکل ٹھیک پیش گوئی کے مطابق ہونا چاہیے تھا لیکن وہ حساب کتاب کے مقابلے میں کبھی تھوڑا آگے تو کبھی کچھ پیچھے رہتا دکھائی دیتا۔ اس انحراف کا مطلب تھا کہ کوئی اور وزنی جسم یورینس کو اپنی گریویٹی سے کھینچ رہا ہے۔

یہاں سے ریاضی کا اصل کھیل شروع ہوا۔ نیوٹن کے قوانین اس وقت تک اتنے طاقتور ثابت ہو چکے تھے کہ ماہرین کو یقین تھا کہ یورینس کی بے قاعدگی کوئی غلطی نہیں بلکہ کسی پوشیدہ جسم کا اثر ہے۔ فرانس میں لی وریئیر اور انگلینڈ میں ایڈمز نے ایک ہی وقت میں الگ الگ بیٹھ کر یہ حساب لگایا کہ اگر یورینس پر کوئی نامعلوم سیارہ اثر انداز ہو رہا ہے تو وہ کہاں ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یورینس کی ہر چھوٹی سی بے ضابطگی کو مدنظر رکھ کر کئی مہینوں تک پیچیدہ مساوات حل کیں۔ انہیں یہ معلوم کرنا تھا کہ ایسا کون سا مقام اور کتنی ماس والا سیارہ ہو سکتا ہے جو یورینس کی حرکت میں وہی تبدیلی پیدا کرے جو حقیقت میں دیکھی جا رہی تھی۔

یہ کام آسان نہیں تھا، کیونکہ آپ کو نہ صرف یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ اضافی سیارہ کہاں ہے بلکہ اس کی کمیت، اس کا مدار، اس کی رفتار، یہاں تک کہ وہ یورینس کو کس زاویے سے کھینچ رہا ہے، یہ سب تحقیق کے دائرے میں آتا ہے۔ مگر جوں جوں وہ اپنی مساوات حل کرتے گئے، تصویر آہستہ آہستہ واضح ہوتی گئی۔ انہوں نے نتیجہ نکالا کہ یورینس کے پیچھے سورج سے بہت دور ایک بڑا سیارہ موجود ہے جس کی گریویٹی یورینس کو کبھی کھینچ کر آگے کر دیتی ہے اور کبھی روک کر پیچھے کر دیتی ہے۔ آخرکار لی وریئیر نے 1846 کے وسط میں جرمنی کی برلن آبزرویٹری کو ایک خط بھیجا کہ اپنی دوربین اس مخصوص مقام پر مرکوز کریں کیونکہ ریاضی کے مطابق نیا سیارہ یہیں موجود ہو گا۔

یہ فلکیات کی تاریخ کا سب سے حیران کن لمحہ تھا جب یوہان گالے نے اس پیش گوئی کے عین مطابق دوربین لگائی تو نیپچون تقریباً اسی جگہ موجود تھا جس جگہ ریاضی نے پہلے سے بتا دیا تھا۔ یہ انسانی ذہن اور عقل کی جیت تھی کیونکہ اس وقت تک کوئی بھی دوربین اتنی وسیع اور مسلسل تلاش نہیں کر سکتی تھی کہ اتنے مدھم اور اس قدر دور موجود ایک جسم کا پہلا نشان مل سکے۔ دراصل یورینس کی بے قاعدگی نیوٹن کے قانون کی شاندار تصدیق بن گئی کیونکہ اس نے واضح کر دیا کہ طبیعیات محض زمین تک محدود نہیں بلکہ پورے نظامِ شمسی پر وہی اصول لاگو ہوتے ہیں۔

نیپچون کی دریافت اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اگر کسی سیارے پر کوئی غیر مرئی اثر موجود ہو تو محض مساوات اور مشاہدے کے امتزاج سے اس کی موجودگی اور مقام بتایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہم کسی نامعلوم سیارے یا کسی بڑے بلیک ہول کے بارے میں اس کے اثرات دیکھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کہاں چھپا ہو سکتا ہے۔

نیپچون کی دریافت سے ظاہر ہوتا ہے کہ کائنات محض آنکھ سے دیکھی جانے والی چیزوں کا مجموعہ نہیں بلکہ علم وہ روشنی ہے جو نظر نہ آنے والی حقیقتوں کو بھی ظاہر کر دیتی ہے۔

Copy

02/01/2026
02/01/2026

*نظام شمسی کا حفاظتی غلاف*
رات کو ستاروں بھرا آسمان دیکھ کر کائنات ہمیں ایک پرسکون اور محفوظ جگہ محسوس ہوتی ہے لیکن حقیقت اس سے ذرا مختلف ہے۔ ہمارا نظام شمسی دراصل ایک انتہائی پرہجوم اور خطرناک کائناتی سمندر میں تیر رہا ہے جہاں ہر وقت مردہ ستاروں کا ملبہ اور تباہ کن تابکار شعاعیں سفر کر رہی ہوتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اربوں سال سے زمین اور اس پر موجود زندگی ان نظر نہ آنے والے خطرات سے کیسے محفوظ ہے؟ اس کا جواب ہمارے سورج کے پاس ہے جو صرف روشنی اور حرارت کا ذریعہ نہیں بلکہ ہمارا سب سے بڑا محافظ بھی ہے۔

سورج اپنی سطح سے ہر وقت انتہائی تیز رفتار برقی ذرات کا ایک طوفان خلا میں خارج کرتا ہے جسے سائنسی اصطلاح میں سولر ونڈ یا شمسی ہوا کہا جاتا ہے۔ یہ ہوائیں محض سورج کے قریب تک محدود نہیں رہتیں بلکہ یہ ایک سیکنڈ میں سینکڑوں کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی ہوئی ہمارے نظام شمسی کے آخری کناروں تک پہنچ جاتی ہیں۔

جہاں تک ان شمسی ہواؤں کا دباؤ برقرار رہتا ہے، وہاں خلا میں ایک بہت بڑا اور غیر مرئی غلاف سا بن جاتا ہے جسے ہیلیو اسفیئر کہا جاتا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے پانی کے تیز بہاؤ میں ہوا کا ایک بہت بڑا بلبلہ بن جائے جو باہر کے پانی کو اندر آنے سے روک دے۔

اس غلاف کے باہر کی دنیا انتہائی بے رحم ہے۔ کائنات میں دوسرے ستارے جب اپنی عمر پوری کر کے پھٹتے ہیں تو وہ اپنے پیچھے انتہائی طاقتور اور جان لیوا کائناتی شعاعیں چھوڑ جاتے ہیں جنہیں کہکشانی کونیاتی شعاعیں یا گیلیکٹک کاسمک ریز کہا جاتا ہے۔ اگر ہمارے پاس ہیلیو اسفیئر کا قدرتی دفاعی نظام نہ ہوتا تو یہ شعاعیں براہ راست ہمارے سیاروں پر بمباری کرتیں جس سے نہ صرف ہماری فضا کو نقصان پہنچتا بلکہ زمین پر زندگی کے بنیادی اجزا تک محفوظ نہ رہ پاتے۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ غلاف ستاروں کے درمیان موجود خطرناک شعاعوں اور گرد و غبار کے ستر فیصد حصے کو ہمارے نظام شمسی میں داخل ہونے سے پہلے ہی باہر روک دیتا ہے۔

یہ بات حیران کن ہے کہ ہم اس وقت کائنات کے جس حصے سے گزر رہے ہیں وہاں گیس اور گرد کے بادل موجود ہیں مگر سورج کا یہ دباؤ ہمیں ان بادلوں کے مضر اثرات سے بچائے ہوئے ہے۔ البتہ یہ ڈھال مکمل طور پر غیر نفوذ پذیر نہیں ہے بلکہ کچھ انتہائی طاقتور ذرات اور نیوٹرل ایٹمز اب بھی اس رکاوٹ کو عبور کر کے اندر آ جاتے ہیں لیکن ان کی مقدار اتنی کم ہوتی ہے کہ مجموعی طور پر وہ زمین کے ماحول یا زندگی کے لیے فوری خطرہ نہیں بنتے۔

یہ پورا نظام ہمیں سوچنے کا ایک نیا زاویہ دیتا ہے کہ ہم خلا میں کھلے آسمان تلے نہیں رہ رہے بلکہ ہم ایک ایسے محفوظ بلبلے کے اندر سفر کر رہے ہیں جسے ہمارے ستارے نے اپنے دم سے قائم رکھا ہوا ہے۔ اگر سورج کی یہ شمسی ہوائیں تھم جائیں تو یہ حفاظتی غلاف سکڑ کر ختم ہو جائے گا اور ہم کائنات کی بے رحم لہروں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ گویا زمین پر زندگی کا انحصار صرف سورج کی روشنی پر نہیں بلکہ اس کے اس غیر مرئی حصار پر بھی ہے جو اربوں کلومیٹر دور سرحدوں پر پہرہ دے رہا ہے۔

Copy

Photos from ‎Science. سائنس‎'s post 29/12/2025

اینٹوں اور لکڑیوں کے نیچے چھپے اس کیڑے کو مارنے سے پہلے جان لیں !

بنی نوع انسان کیلئے الله کا ایک مفرد تحفہ جسے بچپن میں ہم نے انجانے میں اینٹوں یا لکڑیوں کے نیچے سے نکال کر بہت نقصان پہنچایا ہے . وہ ایک اینٹ کے نیچے پھسلتے ہوئے چھوٹے رینگنے سے زیادہ کچھ نہیں لگ سکتے ہیں.
اس کیڑے کو wood louse کہتے ہیں جس کا جمع woodlice ہے یہ زمینی Isopods ہیں اس کا سائنسی نام oninus asellus ہے
یہ حقیر سا کیڑا (woodlice ) اتنا بڑا کام سرانجام دیتا ہے کہ جان کر آپ سبحان الله بولیں گے - زمین دوز صاف پانی کا نظام اسی مخلوق کی بدولت ہے . الله کے حکم سے یہ زمین کی سطح پر موجود زہریلے مادوں مرکری، کیڈمیم، اور سیسہ جیسی خطرناک بھاری دھاتوں کو جذب اور بے اثر کرتے ہیں جو کہ زمینی پانی کو ہمارے پینے کی قابل بناتا ہے ، اس کے ساتھ ساتھ پودوں اور ماحولیاتی نظام کی حفاظت ہوتی ہے .

الله کے حکم سے یہ ان زمینی آلودگیوں کو اپنے جسم میں ذخیرہ کرکے قدرتی بائیو فلٹر کے طور پر کام کرتے ہیں . آئندہ انکو مارنے سے پہلے سوچنا یہ آپکا دشمن
نہیں دوست ہے .پہاڑی میں گہدڑا اور گوجری میں گہدڑی کہتے ہیں
آپ انکو کس نام سے جانتے ہیں ؟
Copy

29/12/2025

اس کائنات میں کوئی بھی چیز اللہ پاک نے بیکار پیدا نہیں کی اور کسی بھی چیز پہ غور کیا جائے تو انسان کا رونگٹا رونگٹا اللہ پاک کی قدرت کی گواہی دیتا ہوں۔

آج میں آپ کو ایک ایسے کیڑے کے بارے میں بتانے جارہا ہوں جس کے بارے میں سن کر آپ ششدر رہ جائیں گے۔

ڈایا بولیکل آئرن کلیڈ بیٹل ایسا سخت جان کیڑا ہے کہ گاڑی کے ٹائر کے نیچے بھی کچلا نہیں جاسکتا۔۔ جی ہاں دوستوں۔ آپ نے بلکل ٹھیک پڑھا ،، اس کا اپنا وزن 0.5 گرام ہے لیکن یہ اپنے وزن سے 39,000 انتالیس ہزار گنا زیادہ وزن برداشت کرنے کی طاقت رکھتا ہے یہ کیڑا امریکہ اور میکسیکو میں پایا جاتا ہے

اگر یہ طاقت مجھ جیسے کمزور اور پتلے بندے کے اندر آجا ئے تو میں اکیس لاکھ پینتالیس ہزار کلو گرام وزن برداشت کرسکتا ہوں.
Copy

29/12/2025

*ہمارا نظام شمسی بال بال بچ گیا*
(تحریر: ڈاکٹر احمد نعیم)

ایک حالیہ تحقیق میں اس بات کا سراغ ملا ہے ہمارا سورج اور پورا نظامِ شمسی تقریباً پینتالیس لاکھ سال پہلے دو دیوہیکل اور غصیلے ستاروں کی مار سے بال بال بچ گیا تھا اور اس نامکمل حادثے کی کچھ نشانیاں اب بھی ہمارے نظام شمسی کے قرب و جوار میں موجود ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے تک یہ خیال عام تھا کہ ہمارا نظامِ شمسی گزشتہ کئی ارب سالوں سے ایک نسبتاً محفوظ اور پرسکون کہکشانی ماحول میں ارتقا پذیر رہا لیکن یہ خیال اس وقت متزلزل ہو گیا جب سائنس دانوں نے مقامی بین النجمی خلا کی طبیعی حالت کا باریک بینی سے جائزہ لینا شروع کیا اور ایک عجیب سا تضاد سامنے آیا۔ ہمارے آس پاس موجود گیس غیر معمولی حد تک زیادہ آئنائز تھی اور ایسی حالت ہمارے نظام شمسی کے موجودہ محل وقوع اور حالیہ سائنسی تجزیات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اگر ہمارا نظام شمسی پرسکون اور نسبتاً الگ تھلگ ماحول میں ہروان چڑھتا رہا ہے تو پھر ہمارے آس پاس موجود گیسز کو اس حد تک آئنائزڈ نہیں ہونا چاہیے تھا اور یہی وہ معمہ تھا جس کے جواب کی تلاش میں ماہرین فلکیات سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔

ماجرا کچھ یوں ہے کہ تقریباً پینتالیس لاکھ سال پہلے ہماری کہکشاں میں ایک دلچسپ مگر خطرناک واقعہ پیش آیا۔ دو نہایت بڑے اور شدید گرم ستارے ہمارے سورج کے قریب سے گزرے جن میں سے ایک بیٹا کینس میجرس (Beta Canis Majoris) تھا جسے عرف عام میں مرزم (Mirzam) کہا جاتا ہے اور دوسرا ایپسیلون کینس میجرس Epsilon Canis) Majoris) تھا جسے ادھارا (Adhara) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آج یہ ستارے برجِ کلبِ اکبر (Canis Major) میں ہم سے قریباً چار سو نوری سال سے زائد کے فاصلے پر موجود ہیں مگر اُس زمانے میں ان کا راستہ ہمارے نظامِ شمسی کے محض تیس سے پینتیس نوری سال کے فاصلے سے گزرا تھا۔ کائناتی پیمانے پر فلکیاتی حرکیات کی رو سے یہ فاصلہ بڑے ستاروں کے معاملے میں اس حد تک کم ہے کہ خلائی ماحول کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ دونوں ستارے کمیت کے لحاظ سے سورج سے تقریباً تیرہ گنا بڑے تھے اور ان کی سطحی حرارت اتنی زیادہ تھی کہ وہ طاقتور بالائے بنفشی یا الٹرا وائلٹ شعاعیں خارج کرتے تھے۔ اُس وقت یہ ستارے اپنی جوانی کے عروج کے مرحلے میں تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی روشنی اور تابکاری آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید تھی۔ سائنسی تخمینوں کے مطابق یہ دونوں ستارے آج کے روشن ترین ستارے سیریس سے بھی چار سے چھ گنا زیادہ چمک، تپش اور حرارت رکھتے تھے اور اُس دور میں زمین کے آسمان پر سب سے زیادہ چمکدار ستارے تھے۔

ان ستاروں کی خارج کردہ شدید توانائی والی بالائے بنفشی شعاعوں نے نظام شمسی کے اردگرد موجود بین النجمی گیس پر براہِ راست اثر ڈالا۔ خلا میں موجود ہائیڈروجن اور ہیلیم ابتدائی طور پر غیر جانبدار حالت میں ہوتے ہیں مگر جب ان پر شدید توانائی پڑتی ہے تو ان کے ایٹم الیکٹران کھو دیتے ہیں اور اس عمل کو آئنائزیشن کہا جاتا ہے۔ مرزم اور ادھارا کی شعاعوں نے نزدیکی گیس کے بادلوں میں ہائیڈروجن کے تقریباً بیس فیصد اور ہیلیم کے قریب چالیس فیصد ایٹموں کو آئنائز کر ڈالا۔ اتنی بڑی مقدار میں آئنائزیشن قدرتی طور پر بہت کم ہی ممکن ہے اور ماضی میں کسی بلند توانائی والی سرگرمی کے وقوع پذیر ہونے کا اشارہ دیتی ہے۔

حالیہ تحقیق میں جب ماہرین نے نظام شمسی کے قریب خلا میں آئنائزیشن کی پیمائش کی تو یہ سوال پیدا ہوا کہ اتنی توانائی آخر کہاں سے آئی ہوگی۔ سورج کے آس پاس موجود زیادہ تر ستارے نسبتاً چھوٹے ہیں یا پھر ایسے ستارے ہیں جو کم یا محدود بالائے بنفشی شعاعیں خارج کرتے ہیں اور اس قسم کی ستاروں کے اثرات اس آئنائزیشن کی وجہ نہیں بن سکتے۔ اسی طرح ایک اور تصور لوکل ہاٹ ببل کا تھا جو ہمارے نظام شمسی کے ارد گرد ایک کم کثیف مگر نسبتاً گرم خلائی خطہ ہے مگر اس کا درجۂ حرارت اور تابکاری بھی کافی نہیں ہے کہ ہیلیم جیسی گیس کو اتنی بڑی مقدار میں آئنائز کر سکے۔

یہ معمہ اس وقت حل ہونا شروع ہوا جب سائنس دانوں نے ستاروں کی حرکات کا لاکھوں سال ماضی میں دیکھتے ہوئے حساب لگانا شروع کیا۔ مرزم اور ادھارا کی موجودہ رفتار، سمت اور مقام کو مدنظر رکھتے ہوئے ماضی میں ان کی کہکشانی حرکت ایک نقشہ تیار کیا۔ اس تحقیق سے واضح ہوا کہ یہی دو ستارے لاکھوں سال پہلے ہمارے نظامِ شمسی کے قریب سے گزرے تھے اور یہی وہ وقت تھا جب مقامی خلا میں غیر معمولی آئنائزیشن پیدا ہوئی۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ اثر عارضی نہیں تھا۔ بین النجمی خلا میں مادہ نہایت کم کثیف ہوتا ہے اور اسی لیے ایک بار آئنائزڈ ایٹموں کا دوبارہ الیکٹران حاصل کر کے غیر چارج شدہ حالت میں آنا بہت سست عمل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک دفعہ پیدا ہونے والی آئنائزیشن لاکھوں سال تک برقرار رہ سکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہمارے اردگرد خلا میں اس قدیم فلکیاتی ملاقات کا ایک مدھم مگر قابلِ پیمائش نشان موجود ہے۔

یہ واقعہ صرف خلائی طبیعیات تک محدود نہیں کیونکہ ایسے ستاروں کی شدید تابکاری اتنے قریبی فاصلے سے زمین تک پہنچنے والی کائناتی شعاعوں کی مقدار کو بھی بدل سکتی ہے اور پھر طویل المدت انداز میں یہ تبدیلیاں بالواسطہ طور پر زمینی ماحول، بالائی فضاء کی کیمیائی ساخت اور حتیٰ کہ حیاتیاتی ارتقا کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔

ایک دلچسپ نقطہ یہ بھی ہے کہ سورج اس فلکیاتی حادثے میں بال بال بچ گیا۔ اگر یہ دونوں دیوہیکل ستارے سورج کے اس سے بھی زیادہ قریب آ جاتے تو یا تو ان کی کششِ ثقل سورج کے مدار اور نظام شمسی کی شکل کو بگاڑ دیتی جس کے نتیجے میں سیاروں کی ترتیب درہم برہم ہو سکتی تھی یا پھر یہ بھی ممکن تھا کہ سورج ان کے ساتھ کششِ ثقل میں بندھ کر تین ستاروں پر مشتمل ایک غیر مستحکم نظام بنا لیتا۔ ایسے کسی بھی منظر میں زمین جیسی دنیا کا وجود یا اس کا طویل مدتی استحکام شدید خطرے میں پڑ جاتا۔ یوں یہ حقیقت اور بھی نمایاں ہو جاتی ہے کہ ہمارا نظامِ شمسی نہ صرف ایک متحرک کہکشانی ماحول میں موجود ہے بلکہ اس کی تاریخ میں ایسے لمحے بھی آئے ہیں جہاں چند نوری سال کا فرق زندگی اور تباہی کے درمیان فیصلہ کن حد بن گیا۔

(تحریر: ڈاکٹر احمد نعیم)

RESEARCH PAPERS:

Beta Canis Majoris: The Other Major Ionization Source of the Local Interstellar Clouds

Authors: J. Michael Shull, Rachel M. Curran, Michael W. Topping

Published on arXiv, August 5, 2025.

Ionization Sources of the Local Interstellar Clouds: Two B-stars, Three White Dwarfs, and the Local Hot Bubble

Authors: J. Michael Shull, Rachel M. Curran, Michael W. Topping, Jonathan D. Slavin

Published on arXiv, October 6, 2025.

Copy

12/07/2025
30/07/2023

قرآن میں لوھے کےمتعلق پیشن گوئیاں اور قرآن کا معجزہ

سائنسانوں کا کہنا ھے کہ لوہا اس زمین اور نظام شمسی کا حصہ نہیں ھے۔ کیونکہ لوھے کے پیدا ہونے کے لئے ایک خاص درجہ حرارت کی ضرورت ھوتی ھے جو ہمارے نظام شمسی کے اندر بھی موجود نہیں۔ لوہا صرف سوپر نووا supernova کی صورت میں ھی بن سکتا ھے۔ یعنی جب کوئی سورج سے کئی گنا بڑا ستارہ پھٹ جائے اور اس کے اندر سے پھیلنے والا مادہ جب شہاب ثاقب meteorite کی شکل اختیار کرکے کسی سیارے پر گر جائے جیسا کے ھماری زمین کے ساتھ ھوا۔
سائنسدان کہتے ہیں کہ ھماری زمین پر بھی لوھا اسی طرح آیا۔ اربوں سالوں پہلے اسی طرح شہاب ثاقب meteorites اس دھرتی پر گرے تھے جن کے اندر لوھا موجود تھا۔

اللہ سبحان وتعالی نے یہی بات قرآن میں بیان فرمائی ہے، 1400 سال پہلے اس بات کا وجود تک بھی نہیں تھا کہ لوھا کیسے اور کہاں سے آیا؟

عرب کے صحراؤں میں تو لوھے کا استعمال بھی صرف تلوار اور ڈھال کے لئے ھوتا تھا۔

قرآن کی 57 ویں سورة کا نام الحدید ھے جس کا مطلب لوھا ھے۔ لوھے کے نام پر پوری سورة موجود ھے اور اسی سورة کی آیت میں اللہ فرماتا ھے کہ:

"اور ہم نے لوھے کو اتارا، اس میں سخت قوت اور لوگوں کے لئے فائدے ہیں۔”

(سورة الحدید، آیت نمبر 25)

سبحان اللہ

قرآن میں موجود یہ سائنسی حقائق اس بات کی دلیل ھے کہ یہ رب کا سچا کلام ھے۔ جو اس آخری پیغمبر پر نازل ھوا جو اُمی کہلاتے تھے۔

سورہ حدید آیت 4

﴿۴﴾ وھی ھے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ جو چیز زمین میں داخل ھوتی اور جو اس سے نکلتی ھے اور جو آسمان سے اُترتی اور جو اس کی طرف چڑھتی ھے سب اس کو معلوم ھے۔ اور تم جہاں کہیں ھو وہ تمہارے ساتھ ھے۔ اور جو کچھ تم کرتے ھو خدا اس کو دیکھ رھا ھے۔

یعنی اللہ جانتا ھے جو کچھ زمین میں داخل ھوتی ھے اور جو اس سے نکلتی ھے۔

اس سے بھی زیادہ حیران کر دینے والی بات یہ ھے کہ لوہا زمین کے بالکل درمیان میں ھے۔ اور لوھے کی بدولت مقناطیسی لہریں زمین کے گرد پیدا ہوتی ہیں جس سے زمین پر سورج کی الٹرا ریز اثر انداز نہیں ہو سکتی اور یہ وائرلیس کمیونیکیشن میں بھی مدد فراہم کرتی ھے۔

اب حیران کرنے والی بات یہ ھے کہ قرآن میں 114 سورتیں ہیں اور سورہ الحدید کا نمبر 57 ھے یعنی سورت حدید عین قرآن کے بیچ میں ھے۔ اور لوہا اسی طرح زمین کے درمیان ھے۔ یعنی اللہ نے اس سورہ

Want your school to be the top-listed School/college in Mirpur?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Mirpur Azad Kashmir
Mirpur