06/09/2026
ایک سابقہ چالیس سال کافر کزاب خائن چور
نے فاطمہ علیہم السلام سے گواہ مانگے
فاطمہ ع نے گواہ پیش کیے علی علیہ السلام حسن علیہ السلام حسین علیہ السلام آور رسولِ خدا کی بیوی ام ایمن
کزاب نے کہا قبول نھی گواہی جن ہستیوں کو دیکھ کر مباہلہ والے عیسائی لوگوں نے ھار تسلیم کر لی
مگر اسی کزاب نے ایک صحابی کو مال دے دیا جتنا مانگا کوی گواہ رسید کچھ نھی مانگا
صواعقہ معرقہ
حضرت ابوبکر نے اس گواہی کو قبول کرنے سے معذرت کی، جس کی وجہ الصواعق المحرقہ میں یہ بیان کی گئی ہے کہ اسلامی قانونِ شہادت (Judicial Law) کے تحت کسی بھی مالی یا جائیداد کے مقدمے کے فیصلے کے لیے دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے۔ چونکہ وہاں ایک مرد (حضرت علی) اور ایک عورت (ام ایمن) یا بچے (حسنینؑ) تھے، اس لیے یہ شرعی نصاب پورا نہیں ہو رہا تھا
مستدرک حاکم حدیث 4731
" حضرت جمیع بن عمیر بیان کرتے ہیں : میں اپنی والدہ کے ہمراہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گیا ، میں نے پردہ کے پیچھے سے ان کی آواز سنی ، میری والدہ ان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھ رہی تھیں ، تو ام المومنین نے فرمایا : تم مجھ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھ رہی ہو ، خدا کی قسم ! میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سوا اور کسی شخص کو نہیں جانتی جو رسول اللہ ﷺ کو ان سے زیادہ محبوب ہو ، اور ان کی زوجہ سے بڑھ کر اور کسی خاتون کو نہیں جانتی جو روئے زمین پر ان سے زیادہ محبوب ہو ۔
٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"
بخآری حدیث 2683
نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ( بحرین کے عامل ) علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کی طرف سے مال آیا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اعلان کرا دیا کہ جس کسی کا بھی نبی کریم ﷺ پر کوئی قرض ہو ، یا آنحضرت ﷺ کا اس سے وعدہ ہو تو وہ ہمارے پاس آئے ۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر میں نے ان سے کہا کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے وعدہ فرمایا تھا کہ آپ ﷺ اتنا مال مجھے عطا فرمائیں گے ۔ چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ اپنے ہاتھ بڑھائے اور میرے ہاتھ پر پانچ سو ، پھر پانچ سو اور پھر پانچ سو گن دئیے ۔