26/05/2025
Al saif | Learning Online Quran | Online class
Academy
We teach Quran online through Skype, whatsapp and zoom to the students from UK, USA, Canada, Australi
26/05/2025
Al saif | Learning Online Quran | Online class
Academy
*کبار علمائے ازہر کا عوام کے نام تاریخی اعلان*
▪️ اے اسلام کے فرزندو! صہیونیوں سے جنگ کرو اور اللہ کے راستے میں جہاد کرو فلسطین مسلمانوں کی ملکیت ہے، کسی کو حق نہیں کہ اس میں جھگڑا کرے
▪️ ہوشیار رہو! تاریخ یہ نہ لکھے کہ عرب ظلم کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے جہاد کی صفیں تیار کرو، یہ ہر صاحبِ استطاعت پر فرضِ عین ہے
علمائے جامعہ ازہر شریف کی جانب سے اہلِ عرب و اسلام کے نام پیغام:
﴿هٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ﴾
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اے مسلمانوں کی جماعت! فیصلہ ہو چکا، ظلم و ستم کی تمام قوتیں فلسطین پر ٹوٹ پڑی ہیں—وہ سرزمین جس میں مسجد اقصیٰ واقع ہے، جو مسلمانوں کا پہلا قبلہ، تیسرا حرم اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا مقامِ معراج ہے۔
فیصلہ صادر ہو چکا ہے اور یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ باطل اپنی سرکشی میں اب بھی اندھا ہے، خواہشاتِ نفس نے عقلوں کو جکڑ رکھا ہے، اور وہ معاہدہ جسے انصاف اور عدل کا ذریعہ کہا گیا، درحقیقت ظلم و زیادتی کو منظم کرنے کا ایک ہتھکنڈہ ہے۔
اب مزید صبر کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ دشمن ہم پر ذلت مسلط کرنا چاہتے ہیں، ہمارے شہروں پر قابض ہونا چاہتے ہیں، اور ان امتوں کے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں جنہیں اللہ نے دین، زبان اور جذبات کے رشتے سے جوڑا ہے۔
اقوامِ متحدہ کا فیصلہ ایک ایسی تنظیم کا فیصلہ ہے جس کے پاس یہ اختیار ہی نہیں، یہ ایک ظالمانہ اور باطل فیصلہ ہے، جس کا حق و انصاف سے کوئی تعلق نہیں۔
فلسطین عربوں اور مسلمانوں کی ملکیت ہے، انہوں نے اس کے لیے اپنی قیمتی جانیں اور پاکیزہ خون قربان کیا ہے، اور ان شاء اللہ، تمام باطل پرستوں کے اتحاد کے باوجود یہ زمین عربوں اور مسلمانوں ہی کی رہے گی۔ کسی کو، چاہے وہ کوئی بھی ہو، اس میں جھگڑے یا اسے تقسیم کرنے کا حق نہیں۔
ماضی میں جب ظالموں نے ان مقدس مقامات کو نقصان پہنچانا چاہا، تو عرب و اسلام کے بہادر سپوت شیر بن کر اٹھے، اپنے مقدس مقام کا دفاع کیا اور دشمن کو پسپا کر دیا۔ آج بھی ہمارے سینوں میں وہی جذبہ زندہ ہے، اور ہمارے دلوں میں وہی چنگاریاں سلگ رہی ہیں۔ تاریخ اپنی عظمت کے ساتھ لوٹ رہی ہے،
﴿وَسَيَعْلَمُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ﴾
اے اہلِ عرب و اسلام!
تم نے پہلے ہی اپنے حق کے لیے حجت و برہان سے بھرپور دفاع کیا، یہاں تک کہ حق کا چہرہ بے نقاب ہو گیا۔ لیکن صہیونیت کی چالاکیاں، اس کی فتنہ انگیزیاں اور دولت نے باطل کو تقویت دی، یہاں تک کہ آنکھیں اندھی، کان بہرے، اور گردنیں جھک گئیں۔ تم اقوامِ متحدہ میں تنہا کھڑے رہ گئے، اور جو انصاف کے دعوے دار تھے وہ چپکے سے کھسک گئے۔
کوئی تمہارا مذاق اڑا رہا تھا، کوئی تمہارے دشمنوں کا ساتھ دے رہا تھا، اور کوئی خاموش رہ کر خود کو غیر جانبدار ظاہر کر رہا تھا۔
اگر تم نے دلیل و منطق سے حق کا دفاع مکمل کر لیا ہے، تو اب اس کے دفاع کا دوسرا مرحلہ آ چکا ہے—وہ جہاد جو مشروع ہے، جس کی پکار بلند ہے، اور جس کا مقصد تمہارے وجود، تمہارے بچوں اور تمہارے مستقبل کا تحفظ ہے۔
اپنے دین، اپنی سرزمین اور اپنے عزت و ناموس کا دفاع کرو، اور اللہ کے راستے میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کا حق ہے۔
﴿فَلْيُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يَشْرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ...﴾ [النساء: 74]
﴿الَّذِينَ آمَنُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ...﴾ [النساء: 76]
اے اہلِ عرب و اسلام!
اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے لیے تیار ہو جاؤ، چھوٹے گروہوں میں نکلو یا سب ایک ساتھ۔
خبردار! تاریخ کہیں یہ نہ لکھ دے کہ عرب و (مسلم )جو غیرت و حمیت کے پیکر تھے، ظلم کے سامنے جھک گئے اور ذلت کو گلے لگا لیا۔
آج کا دن فیصلہ کن ہے، یہ کوئی مذاق یا کھیل نہیں۔ ہر مسلمان، خواہ زمین کے کسی بھی کونے میں ہو، اپنی جان اور مال سے اس مقدس مقصد کے لیے ہر ممکن تعاون دے۔
دشمن کی راہیں بند کرو، ہر جگہ ان کا تعاقب کرو، ان کی تجارت اور لین دین کا بائیکاٹ کرو، اور آپس میں جہاد کی جماعتیں تشکیل دو۔
اب جہاد ہر اس مسلمان پر فرضِ عین ہو چکا ہے جو اس کی قدرت رکھتا ہو، چاہے وہ جان سے ہو یا مال سے۔ جو اس فرض سے پیچھے ہٹے گا وہ اللہ کے غضب اور بڑے گناہ کا مرتکب ہو گا۔
﴿إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم...﴾ [التوبہ: 111]
اگر تم نے اللہ کے ساتھ یہ سودا کر لیا ہے، تو اب وقت آ گیا ہے کہ اس وعدے کو پورا کرو۔ اللہ تمہارے وعدے کو پورا کرے گا، دنیا تمہارے غضب، تمہاری غیرت، اور تمہارے حق کے دفاع کا مشاہدہ کرے۔ تمہارا یہ غضب صرف دشمنوں کے لیے ہو—ان کے لیے نہ ہو جو تمہارے ساتھ پناہ لینے آئے ہیں، جن کا تم پر حق ہے۔
کہیں تم ظلم نہ کر بیٹھو، کیونکہ:
﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾
اب صدا گونجنے لگی ہے—پورے مشرق و مغرب میں، مومنوں کے دلوں کو گرماتی ہوئی:
جہاد! جہاد! جہاد!
اور اللہ تمہارے ساتھ ہے!
دستخط کنندگان:
شیخ محمد مامون الشناوی، شیخ الجامع الأزہر
شیخ محمد حسنین مخلوف، مفتی دیارِ مصر
شیخ عبد الرحمن حسن، نائب شیخ الجامع الأزہر
شیخ عبد المجید سلیم، سابق مفتی دیارِ مصر
*ودیگر علمائے کرام*
21/05/2025
Al saif | Learning Online Quran | Online class
Academy