19/02/2022
spsc and other competitive Exams
میں اب تک کی گئی 25 ترامیم آسان اردو زبان میں اختصار کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں۔
آئین پاکستان 1973 کی پہلی ترمییم میں پاکستان کے حدود اربعہ کا دوبارہ تعین کیا گیا
قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا
اس ترمیم میں Preventive Detention کی مدت کو بڑھایا گیا، Preventive Detection کا مطلب ہے کسی ایسے شخص کو نامعلوم مقام پر رکھنا جو ریاست پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہو۔
اقلیتوں کو پارلیمنٹ میں اضافی سیٹیں دی گئیں۔
ہائ کورٹ کا اختیار سماعت وسیع کیا گیا
ہائ کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز کی ریٹائرڈمنٹ کی مدت بالترتیب 62 اور 65 سال کی گئ۔
وزیر اعظم کو یہ پاور دی گئ کہ وہ کسی بھی وقت پاکستان کی عوام سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر سکتا ہے۔
پارلیمانی نظام سے سیمی صدارتی نظام متعارف کروایا گیا اور صدر کو اضافی پاورز دی گئیں۔
شریعہ لاء کو لاء آف دی لینڈ کا درجہ دیا گیا۔
پارلیمنٹ کے اجلاس کا دورانیہ مقرر کیا گیا کہ دو اجلاس کا درمیانی وقفہ 130 دن سے نہیں بڑھے گا
دونوں اسمبلیوں میں سیٹوں کی Revision کی گئ۔
سنگین جرائم کے تیز ترین ٹرائل کے لئے خصوصی عدالتیں عرصہ 3 سال کے لئے قائم کی گئیں
صدر کی نیشنل اسمبلی تحلیل کرنے اور وزیر اعظم ہٹانے کی پاورز کو ختم کیا گیا۔
ممبران پارلیمنٹ میں Defect پائے جانے کی صورت میں ان کو عہدوں سے ہٹانے کا قانون وضح کیا گیا۔
شریعہ لاء کو لاگو کرنے کے بل کو پاس نا کیا گیا۔
کوٹہ سسٹم کی مدت 20 سے بڑھا کر 40 سال کی گئ
صدر کی پاورز میں اضافہ کیا گیا
اس ترمیم میں
NWFP
کا نام تبدیل کیا گیا اور آرٹیکل 6 متعارف کروایا گیا،اور اس کے علاوہ صدر کی نیشنل اسمبلی تحلیل کرنے کی پاور کو ختم کیا گیا۔
اسلام آباد ہائ کورٹ قائم کی گئ،اور سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے حوالے سے قانون وضح کیا گیا۔
صاف شفاف انتخابات کے لئے چیف الیکشن کمشنر کو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں تبدیل کیا گیا۔
سانحہ APS کے بعد ملٹری کورٹس متعارف کروائ گئیں۔
چیف الیکشن کمیشن آف پاکستان کی اہلیت کا دائرہ کار تبدیل کیا گیا کہ بیورو کریٹس اور ٹیکنو کریٹس بھی ممبر الیکشن کمیشن آف پاکستان بن سکیں گے۔
سال 2015 میں قومی اسمبلی نے اکیسویں ترمیم میں 2 سال کے لئے ملٹری کورٹس قائم کیں۔ یہ دوسال کا دورانیہ 6 جنوری 2017 کو ختم ہو گیا،اس تئیسویں ترمیم میں ملٹری کورٹس کے دورانیے کو مزید 2 سال کے لئے 6 جنوری 2019 تک بڑھایا گیا۔
مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر حلقہ بندیوں کو دوبارہ تشکیل دیا گیا۔
فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ملانے کے لئے صدر نے 31 مئ 2018 کو دستخط کئے.
Let's explore the world of Knowledge through internet