21/05/2025
ہم کب تک مرتے رہیں گے؟ ہم کب تک لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟ ہماری ماؤں کی آہیں، ہماری بہنوں کے آنسو، ہمارے بچوں کی لاشیں... کب تک؟
پشتون قوم دہائیوں سے دہشتگردی، ریاستی بے حسی، اور امتیازی رویوں کا شکار ہے۔ ہر بار جب کوئی واقعہ ہوتا ہے، ہمیں صبر کی تلقین کی جاتی ہے، انصاف کے وعدے کیے جاتے ہیں، لیکن پھر وہی خاموشی، وہی بے بسی۔
یہ کوئی اتفاقیہ نہیں، یہ منظم خاموش نسل کشی ہے۔ ہمیں ہمارے ہی وطن میں اجنبی بنایا جا رہا ہے، ہمارے حقِ زندگی، حقِ آزادی، حقِ امن کو چھینا جا رہا ہے۔
ہم صرف امن چاہتے ہیں، ہم صرف انصاف چاہتے ہیں۔ اگر جرم صرف پشتون ہونے کا ہے، تو یہ دنیا کو سوچنا ہوگا کہ انسانیت کہاں مر گئی ہے؟
ہماری خاموشی ہماری رضا مندی نہیں ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم متحد ہوں، آواز بلند کریں اور دنیا کو بتائیں کہ پشتون خون ارزاں نہیں.
Musiab Dawar