Inayat Rahman
Latest updates in science, technology and education
07/11/2024
’کیا ٹرمپ ہمارا ابا لگتا ہے؟‘ وسعت اللہ خان کی تحریر - BBC News اردو مگر واشنگٹن میں ہوا کا رُخ بدل چکا ہے۔ کانگریس کے دونوں ایوان ریپبلیکنز کے کنٹرول میں ہیں۔ خارجہ پالیسی کے مینیو میں مشرقِ وسطیٰ، ایران، یوکرین، چین، بھارت، غیرقانو....
20/04/2024
8 types Of Intelligence
IQ (intelligence quotient) tests aren’t the only way to measure intelligence. For one, these tests evaluate specific skills like memory, logic, and problem-solving. But that doesn’t encompass all kinds of intelligence or measure people’s overall abilities. After all, intelligence is a broad topic and psychologists study it from many different angles.
Essentially, people with low abilities tend to overestimate their competence while smart people often underestimate their brain power. So if someone is unsure about their level of intellect, it may indicate that they are smarter than they might think. At the very least, they are introspective and aware of their own limitations. Remember, intelligence isn’t all about test scores. It can appear in all areas of life, sometimes in very surprising ways.
“A highly intelligent person is one who is flexible in their thinking and can adapt to changes, they think before they speak or act, and they’re able to effectively manage their emotions,” Dr. Catherine Jackson, licensed clinical psychologist and board-certified neurotherapist. “In short, they possess several different types of intelligence, including but not limited to intellectual, social, and emotional intelligence.”
Measuring Intelligence
While some experts maintain the validity of the IQ test, some believe it can’t fully measure intelligence since there are too many facets of it. Psychologist and professor Howard Gardner proposed the now-popular theory that there are eight types of intelligence
1. Logical – This involves the ability to logically analyze, as well as skills in math and scientific investigation.
2. Interpersonal – Also known as social intelligence. It helps people understand and positively interact with others.
3. Intrapersonal – This is the ability to reflect and understand oneself. It can overlap with self-awareness.
4. Naturalist – Good recognition and classification of different elements of nature.
5. Musical – This is the skill of performing, composing, and appreciating music.
6. Spatial – This is the awareness of how to use large space and smaller patterns.
7. Linguistic – This refers to having strong abilities to use language effectively, whether written or spoken.
8. Bodily-kinesthetic – Also known as the ability to use the body to create and problem-solve.
08/03/2024
This strange creature remained undetected for a long time, and now its population is in decline. Meet the okapi.
How can we use resources?
22/10/2023
Mendelian Laws of Inheritance: Scientific Fact, Scientific Law and Scientific Theory
سائنسی حقیقت، سائنسی قانون اور سائنسی تھیوری: مینڈل کے قوانین کی کہانی
ڈاکٹر محمد طارق
یہ بات ہماری زندگی کی اولین amateur ماہرِ جینیات یعنی ہماری دادی بھی جانتی ہیں کہ بچے میں ساری خصوصیات ایک ہی parent سے منتقل نہیں ہوتیں چنانچہ وہ پوتے/پوتی کی ساری خوبیوں کو چاچوں اور پھوپھیوں جبکہ ساری خامیوں کو ماموں اور خالاؤں سے ملا دیتی ہیں۔ بچوں میں ساری خصوصیات ایک ہی parent سے نہیں آتیں، یہ ایک حقیقت (Fact) ہے جو نامعلوم زمانے سے انسان کے مشاہدے میں آ رہی ہے۔ تاہم ایسا ہوتا کیسے ہے، انسان کو اس کا علم ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔
1856 سے 1863 تک گریگور مینڈل (Gregor Mendel) نے مٹر کے پودے کی اونچائی، اس کے دانوں کی ساخت اور رنگ، پھولوں کی پوزیشن اور رنگ اور پھلیوں کی ساخت اور رنگ کی نسل درنسل منتقلی کو سمجھنے کی غرض سے بے شمار تجربات کئے۔ یہ وہ دور تھا جب ڈاروِن کی تھیوری اف نیچرل سلیکشن (جسے عام طور پر نظریۂ ارتقاء کہا جاتا ہے) کے نتیجے میں جانداروں کی بنیادی خصوصیات کی نسل در نسل منتقلی (inheritance) کے پیچھے کارفرما عوامل (factors) کے متعلق نئے سوالات نے جنم لیا تھا۔ ان خصوصیات کا تعین کرنے والے فیکٹرز کونسے ہیں اور ان کی ہیئت (nature) کیا ہے؟ یعنی وہ فیکٹرز کونسے اور کیا ہیں جو ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتے ہیں تو اپنے ساتھ نئی نسل میں پرانی نسل کی خصوصیات لیکر جاتے ہیں؟ سات سال تک مسلسل ہزاروں پودوں پر تجربات کر کے مینڈل نے ڈیٹا اکھٹا کیا اور اس کا تجزیہ کیا تو نتائج انتہائی دلچسپ تھے۔ ان نتائج کے مطابق ہر خصوصیت کا تعین کرنے والے فیکٹرز ڈومینینٹ یا ریسیسیو (dominant or recessive) ہو سکتے ہیں۔ چاہے کوئی خصوصیت اگلی نسل میں نظر آئے یا نہ آئے اس کا تعین کرنے والے فیکٹرز اگلی نسل میں لازمی منتقل ہوتے ہیں۔ ہر خصوصیت کے تعین کیلئے ایک جاندار میں دو فیکٹرز پر مشتمل جوڑی ہوتی ہے۔ خصوصیات کے نظر آنے یا نہ آنے کا انحصار اس بات پر ہے کہ ان کا تعین کرنے والے فیکٹرز dominant ہیں یا recessive۔ اگر کسی جوڑی میں ایک بھی فیکٹر dominant ہو تو وہ اپنی خصوصیت ظاہر کرے گا۔ recessive فیکٹر کے اظہار کیلئے ضروری ہے کہ جوڑی میں دونوں ہی فیکٹرز recessive ہوں۔ جب جاندار gametes (سپرم اور بیضہ) بناتے ہیں تو یہ جوڑی ٹوٹ جاتی ہے چنانچہ سپرم اور بیضے میں ہر خصوصیت کیلئے ایک ایک فیکٹر ہوتا ہے۔ جب سپرم اور بیضہ مل کر نیا جاندار بناتے ہیں تو ایک نئی جوڑی بن جاتی ہے۔ نئی جوڑی میں کسی خصوصیت کیلئے جس parent کا فیکٹر dominant ہوگا وہی نظر آئے گی۔
ہزاروں پودوں میں سات مختلف خصوصیات کی نسل در نسل inheritance کے ڈیٹا میں یہی ترتیب دیکھ کر مینڈل نے ایک نیا ٹیسٹ (Test Cross) ایجاد کیا اور اس کے ذریعے مٹر کی مختلف خصوصیات کیلئے موجود فیکٹرز کے بارے میں اپنی پیش گوئی کو ٹیسٹ کیا تو وہ درست نکلی۔ یہ تجربات مینڈل کے دو مشہور قوانین کی بنیاد بنے۔ ان میں سے پہلا قانون segregation کا قانون ہے جس کے مطابق کسی بھی خصوصیت کا تعین کرنے والے فیکٹرز سپرم اور بیضہ بننے کے دوران ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں چنانچہ سپرم اور بیضہ میں جوڑی کے بجائے ایک ہی فیکٹر ہوتا ہے۔ دوسرا قانون independent assortment کا قانون ہے جس کے مطابق گیمیٹس بننے کے دوران دو مختلف خصوصیات کے فیکٹرز ایک دوسرے سے آزاد ہوتے ہیں۔ مثلاً گول اور پیلے مٹر کے دانے والا پودا جب گیمیٹس بنائے گا تو ضروری نہیں کہ گول ساخت کے فیکٹرز اور پیلے رنگ کے فیکٹرز ایک ہی گیمیٹ میں چلے جائیں۔ یہ علٰیحدہ بھی ہو سکتے ہیں اور ایک ساتھ بھی (آزادانہ تقسیم ہوتی ہے)۔
ان قوانین کو 20 ویں صدی کے آغاز تک کئی محققین نے مختف پودوں اور کیڑے مکوڑوں تک میں آزمایا اور (کچھ استثنائیں چھوڑ کر) سب میں ان کی تصدیق ہوگئی۔ لیکن ایک مشکل ابھی بھی درپیش تھی۔ ایک خصوصیت کا تعین کرنے والی جوڑی کے فیکٹرز ہوں یا دو مختلف خصوصیات کا تعین کرنے والے فیکٹرز، گیمیٹس بننے کے دوران علٰیحدہ کیوں (کیسے) ہوتے ہیں؟ ان قوانین کی وضاحت کے بارے میں سائنس تہی دامن تھی۔
مینڈل کی وفات سے دو سال قبل 1882 میں chromosomes دریافت ہو چکے تھے لیکن بنیادی خواص کی منتقلی میں ان کے کردار کے بارے میں پہلی پیش رفت بیس سال بعد 1902 میں اس وقت ہوئی جب والٹر سٹن (Walter Sutton) نے cell کی تقسیم کے دوران دیکھا کہ کروموسوم بالکل ایسے ہی علٰیحدہ ہوتے ہیں جیسے مینڈل کے فیکٹرز۔ عام cell کے مقابلے میں گیمیٹس میں کروموسوم کی تعداد ایسے ہی آدھی ہوتی ہے جیسے فیکٹز کی۔ ایک سال بعد 1903 میں تھیوڈور بویری (Theordor Boveri) نے بھی اپنے تجربات سے یہی نتیجہ اخذ کیا۔ ان نتائج اور مشاہدات نے Chromosome Theory of Inheritance کیلئے مواد مہیا کیا جس نے مینڈل کے فیکٹرز اور کروموسوم کے متوازی رویے کی بنیاد پر پہلی بار خواص کی منتقلی کا تعین کرنے والے مادے کا سراغ دیا کہ مینڈل کے فیکٹرز کروموسوم کے اندر ہی ہیں۔ کروموسوم بھی جوڑیوں میں ہوتے ہیں، اور سپرم اور بیضہ بننے کے دوران ایک دوسرے سے علٰیحدہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح گیمیٹس بننے کے دوران مختلف جوڑیوں کے کروموسوم علٰیحدہ ہوتے وقت دوسری جوڑیوں کے کروموسوم سے آزاد ہوتے ہیں۔ یعنی فیکٹرز کی ہیئت (nature) مادی ہے جو پروٹین یا ڈی این اے ہو سکتا تھا کیونکہ کروموسوم ان دونوں سے بنے ہیں۔ 1909 میں ولیئم جوہانسن نے مینڈل کے فیکٹرز کو Gene کا نام دیا۔ ڈی این اے اور پروٹین میں سے خواص کی منتقلی کس کے ذریعے ہوتی ہے، یہ جاننے کیلئے مزید 51 سال لگے جب اپریل 1953 میں ڈی این اے کو inheritance material کے طور پر شناخت کیا گیا۔ اس دریافت کا سہرا بھی کروموسوم تھیوری کے سر ہے۔
یوں مینڈل کے قوانین اپنی وضاحت کیلئے کروموسوم تھیوری کے محتاج تھے۔ جن احباب کو یہ غلط فہمی ہے کہ تھیوری ثابت ہو کر قانون بنتی ہے، وہ یہ دیکھ لیں کہ 1902 میں پیش کردہ کروموسوم تھیوری کو 120 سال سے زیادہ ہو گئے ہیں۔ آج ولدیت کے معاملات ہوں یا اپنی ذات، برادری اور خاندان کی تلاش کی کاوشیں، تمام تحقیقات ڈی این اے اور کروموسوم کے ذریعے ہی ہوتی ہیں جس کی بنیاد کروموسوم تھیوری ہے۔ تمام تر ثبوتوں اور تصدیق کے باوجود کروموسوم تھیوری آج بھی ایک تھیوری ہی ہے، قانون نہیں بنی۔ تھیوری کبھی قانون نہیں بنتی۔ قوانین اپنی وضاحت کیلئے تھیوری کے محتاج ہوتے ہیں، اور قوانین ہوں یا حقائق یہ تھیوری کا ایک حصہ ہوتے ہیں۔ تھیوری کی حیثیت قوانین سے بڑھ کر ہے۔
Tropic cascade and the role of wolves
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
Mingora
19140
08/06/2024