molana jamshid Abbas Haqqani

molana jamshid Abbas Haqqani

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from molana jamshid Abbas Haqqani, Educational Research Center, swat shangla, Mingora.

01/12/2025

ایک بار ضرور سنیں اور شئیر کریں ایسے حقیقت جو کہ انسان کہ آنکہیں کھولتے ہیں

30/11/2025
Photos from molana jamshid Abbas Haqqani 's post 30/11/2025

سلطان محمد الفاتحؒ کی وفات، جس پر یورپ نے خوشیاں منائیں اور کہا، کہ بڑا عقاب مر گیا!
تاریخ کی جُستجو رکھنےوالے عزیز دوستو،11 ربیع الاول 886ھ/ بمطابق 3 مئی 1481ء وہ سیاہ دن ہے جب عظیم عثمانی فرمانروا، فاتحِ قسطنطنیہ سلطان محمد الفاتح رحمہ اللہ اس دنیا سے رخصت ہوئے، اللہ ان کا مقام علیّین میں بلند فرمائے۔
آپ کا انتقال صرف 49 سال کی عمر میں ہوا، جب کہ وہ 30 سال تک جہاد،فتوحات اور اسلامی سلطنت کی وسعت میں لگے رہے، اور اسی سفر میں وہ روم (اِٹلی) کی فتح کے لیے روانہ تھے، یہ وہی خواب تھا جو مسلمان صدیوں سے دیکھتے آئے تھے:
روم کی فتح، جو حضور ﷺ کی احادیث میں بھی مذکور ہے۔
سلطان محمد الفاتح پہلے ہی قسطنطنیہ شہر کو فتح کر کے عظیم پیشگوئی پوری کر چکے تھے، اس شہر کو فتح کرنے والا “بہترین امیر اور بہترین لشکر” تھا۔
خبرِ وفات اور یورپ کا کانپ اٹھنا:
سلطان کی ناگہانی وفات کی خبر 16 دن بعد وینس پہنچی۔ وہاں سیاسی ڈاک (Political Dispatch) نے قسطنطنیہ میں موجود وینس کے سفارت خانے کو صرف ایک جملہ بھیجا، لیکن وہ ایک جملہ پورے یورپ کے دل کے اندر تک اُتر گیا:
“لقد مات النسر الكبير”
“بڑا عقاب مر گیا ہے!”
یہ جملہ دراصل یورپ کی اُس خوفناک کیفیت کا اظہار تھا جو محمد الفاتح کے نام سے ان کے دلوں میں بٹھ چکی تھی۔ خبر پھیلتے ہی وینس سے پورے یورپ تک صدیوں میں پہلی بار ایسا منظر دیکھنے کو ملا، چرچوں کے گھنٹے تین دن تک بجتے رہے، پوپ کے حکم پر شکرانے کی دعائیں کی گئیں، یورپ بھر میں جشن کی فضا قائم ہو گئی،
مگر سوال یہ ہے کہ آخرکیوں؟
کیونکہ وہ جانتے تھے کہ سلطان کی اگلی منزل روم تھی۔ اگر محمد الفاتح زندہ رہتے… تو یورپ کے قلب میں عثمانی پرچم اگلے چند برسوں میں لہرا سکتا تھا۔
یورپ کے مؤرخین بھی لکھتے ہیں کہ:
"سلطان کی موت نے پورے براعظم کو آنے والے اسلامی سیلاب سے بچا لیا۔"
اٹلی کی طرف بڑھتا ہوا اسلامی سیلاب کیوں رک گیا؟
اصل حقیقت یہی ہے کہ سلطان محمد الفاتح کی اچانک وفات وہ واحد رکاوٹ تھی
جس نے اٹلی کی طرف عثمانی پیش قدمی روک دی۔ سلطان کا لشکر پہلے ہی جنوبی اٹلی میں داخل ہو چکا تھا۔ لیکن وفات کی خبر پہنچتے ہی سپہ سالار کدیك احمد پاشا کو فوری طور پر: تمام فتوحات چھوڑنی پڑیں، اٹلی کا جنوبی حصہ خالی کرنا پڑااور پوری فوج واپس بلانی پڑی یوں عثمانی پیش قدمی وہیں رک گئی…
اور یورپ کئی دہائیوں تک ایک بڑے طوسلطان محمد الفاتحؒ کی وفات، جس پر یورپ نے خوشیاں منائیں اور کہا، کہ بڑا عقاب مر گیا!
تاریخ کی جُستجو رکھنےوالے عزیز دوستو،11 ربیع الاول 886ھ/ بمطابق 3 مئی 1481ء وہ سیاہ دن ہے جب عظیم عثمانی فرمانروا، فاتحِ قسطنطنیہ سلطان محمد الفاتح رحمہ اللہ اس دنیا سے رخصت ہوئے، اللہ ان کا مقام علیّین میں بلند فرمائے۔
آپ کا انتقال صرف 49 سال کی عمر میں ہوا، جب کہ وہ 30 سال تک جہاد،فتوحات اور اسلامی سلطنت کی وسعت میں لگے رہے، اور اسی سفر میں وہ روم (اِٹلی) کی فتح کے لیے روانہ تھے، یہ وہی خواب تھا جو مسلمان صدیوں سے دیکھتے آئے تھے:
روم کی فتح، جو حضور ﷺ کی احادیث میں بھی مذکور ہے۔
سلطان محمد الفاتح پہلے ہی قسطنطنیہ شہر کو فتح کر کے عظیم پیشگوئی پوری کر چکے تھے، اس شہر کو فتح کرنے والا “بہترین امیر اور بہترین لشکر” تھا۔
خبرِ وفات اور یورپ کا کانپ اٹھنا:
سلطان کی ناگہانی وفات کی خبر 16 دن بعد وینس پہنچی۔ وہاں سیاسی ڈاک (Political Dispatch) نے قسطنطنیہ میں موجود وینس کے سفارت خانے کو صرف ایک جملہ بھیجا، لیکن وہ ایک جملہ پورے یورپ کے دل کے اندر تک اُتر گیا:
“لقد مات النسر الكبير”
“بڑا عقاب مر گیا ہے!”
یہ جملہ دراصل یورپ کی اُس خوفناک کیفیت کا اظہار تھا جو محمد الفاتح کے نام سے ان کے دلوں میں بٹھ چکی تھی۔ خبر پھیلتے ہی وینس سے پورے یورپ تک صدیوں میں پہلی بار ایسا منظر دیکھنے کو ملا، چرچوں کے گھنٹے تین دن تک بجتے رہے، پوپ کے حکم پر شکرانے کی دعائیں کی گئیں، یورپ بھر میں جشن کی فضا قائم ہو گئی،
مگر سوال یہ ہے کہ آخرکیوں؟
کیونکہ وہ جانتے تھے کہ سلطان کی اگلی منزل روم تھی۔ اگر محمد الفاتح زندہ رہتے… تو یورپ کے قلب میں عثمانی پرچم اگلے چند برسوں میں لہرا سکتا تھا۔
یورپ کے مؤرخین بھی لکھتے ہیں کہ:
"سلطان کی موت نے پورے براعظم کو آنے والے اسلامی سیلاب سے بچا لیا۔"
اٹلی کی طرف بڑھتا ہوا اسلامی سیلاب کیوں رک گیا؟
اصل حقیقت یہی ہے کہ سلطان محمد الفاتح کی اچانک وفات وہ واحد رکاوٹ تھی
جس نے اٹلی کی طرف عثمانی پیش قدمی روک دی۔ سلطان کا لشکر پہلے ہی جنوبی اٹلی میں داخل ہو چکا تھا۔ لیکن وفات کی خبر پہنچتے ہی سپہ سالار کدیك احمد پاشا کو فوری طور پر: تمام فتوحات چھوڑنی پڑیں، اٹلی کا جنوبی حصہ خالی کرنا پڑااور پوری فوج واپس بلانی پڑی یوں عثمانی پیش قدمی وہیں رک گئی…
اور یورپ کئی دہائیوں تک ایک بڑے طوفان سے بچا رہا۔
سلطان محمد الفاتحؒ، وہ نام جس نے دنیا کا نقشہ بدل دیا
سلطان نےصرف 21 سال کی عمر میں قسطنطنیہ فتح کیا۔ بحری جہاز خشکی پر چلائے، توپ خانے کی نئی تکنیکیں ایجاد کیں، یورپ کو سیاسی و عسکری سطح پر ہلا کر رکھ دیا اور آخری لمحے تک روم کی فتح کے منصوبے پر گامزن رہے۔ان کی وفات صرف ایک شخص کی موت نہیں تھی…
بلکہ اسلامی فتوحات کے ایک سنہری دور کا وقتی اختتام تھا۔
تحریر: capy

29/11/2025

پختون خواہ میں دو وزیر اعلی ہونا چاہئے ایک عوام کے خدمت کے لیے دوسرا بنی گالا اور عمران خان کے بہنوں کے چاپلوسی کے لیے تب پختون خواہ کے لوگوں کو فائدہ ہوگا ورنہ شین آسمان زرے زرے😭😭....

29/11/2025

حقیقت

28/11/2025

*ملامبارک ناگوری اور اس کے جانشین*
(دوسری قسط)
*حافظ مومن خان عثمانی*
مغل بادشاہ جلال الدین اکبر 25اکتوبر 1542ء کو عمرکوٹ کے راجپوت قلعہ میں پیداہوا،جہاں اس کے والدین کو مقامی ہندو حکمران راناپرساد نے پناہ دی تھی،ہمایوں کے طویل جلاوطنی کے دورمیں اکبر کی پرورش کابل میں ہوئی،اس نے شکار،دوڑ اور لڑائی میں مہارت سیکھی لیکن لکھنے پڑھنے میں اس کا دل نہیں لگا،20نومبر 1551ء کو ہمایوں کے چھوٹے بھائی کی وفات کے بعد اکبر کو 9 سال کی عمر میں غزنی کا گورنر بنایاگیا،1556ء میں ہمایوں کی وفات کے بعد وہ14سال کی عمر میں ہندوستان میں مغلیہ خاندان کا تیسرا بادشاہ بن گیا،اسی نوعمری میں اس نے لاہور،ملتان،اجمیر اور گوالیار کوفتح کیا،اگست 1581ء کو اکبر نے کابل پر قبضہ کیا،1585 ء میں اکبر نے پختونخواپر حملہ کیا،سوات،بونیر،مردان،صوابی،چارسدہ میں بہت سارے پشتونوں کو قتل کیا اور بڑی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کرکے چارسدہ اور پشاور میں قید کیا مگر مغل فوجوں کا بھی بہت زیادہ نقصان ہوا،فروری 1586ء کواکبر چہیتا اور مشہور وزیر راجہ بیربل ملندری بونیر میں قتل ہوا،یوسف زئیوں نے اس کا ایسا حشرکیا کہ اس کی لاش بھی نہیں ملی،جس کے غم میں اکبر نے دودن تک کھانابھی نہیں کھایا،اکبر نے 50سال تک ہندوستان پر بڑے جاہ وجلال کے ساتھ حکومت کی اور بہت سے علاقے فتح کرکے مغلیہ سلطنت میں شامل کئے،26اکتوبر 1605ء میں انتقال ہوا۔اکبر علماء ومشائخ کی صحبت میں رہ کر ابتدائی دور میں راسخ العقیدہ مسلمان بن گیا تھا،اولیاء کرام کے ساتھ اسے بڑی عقیدت تھی،دہلی میں سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیاء کے مزار پر وہ اکثر فاتحہ خوانے کے لئے جایاکرتاتھا،خواجہ معین الدین چشتی اور بابا فریدالدین گنج شکر کے مزارات پربھی حاضرہوتاتھا،شیخ سلیم چشتی کے ساتھ اس کی بہت زیادہ عقیدت تھی،موصوف کا روضہ جو اکبر نے تعمیر کروایاہے،وہ فن تعمیرکے شاہکار ہونے کے ساتھ شیخ موصوف سے اس کی عقیدت کامنہ بولتا ثبوت بھی ہے،اسی عقیدت کی بناپر اس نے اپنے بیٹے کانام شیخ کے نام پر سلیم رکھاتھا،حدیث کے ساتھ کے شغف کایہ حال تھا کہ وہ اکثر شیخ عبدالنبی کے درس میں جاکر حدیث شریف کا درس سنتاتھا،شیخ طاہرپٹنی ؒاس دور کے عظیم محدث تھے جب ان کی قوم نے مہدوی فرقہ کے عقائداپنالئے توشیخ طاہرؒ نے اپنے سرسے دستار اُتارلی اور یہ عہدکیا کہ جب تک وہ ان کو راہ راست پر نہیں لے آتے اس وقت تک اپنے سرپر دستار نہیں باندھیں گے،980ھ میں جب اکبر نے گجرات فتح کیا تو شیخ کی خدمت میں حاضرہوا اور اپنے ہاتھ سے ان کے سر پردستار باندھی اور کہا کہ آپ بلاوجہ غمگین نہ ہوں دین کا غم کھانے کے لئے میں موجود ہوں،اکبر صوم وصلاۃ کا پابندتھا،خود اذان دیتا اور امامت بھی کرتاتھا، ثواب کی نیت سے مسجدمیں جھاڑوبھی دیاکرتاتھا،نمازباجماعت کا اس قدر اہتمام کرتاتھا کہ اس نے ہفتے کے سات دنوں کے لئے سات امام مقررکررکھے تھے جو باری باری مقررہ دن پر نماز پڑھایاکرتے تھے،بادشاہ ہر سال ایک امیرحاج مقررکرکے اعلان کرتا کہ جو شخص اس کے ساتھ حج بیت اللہ کے لئے جاناچاہے اس کے اخراجات سرکار کی طر ف سے اداکئے جائیں گے،جب حج کا قافلہ روانہ ہوتا تو اس دن بادشاہ حاجیوں کی طرح احرام باندھ کر سرکے بال قصرکرواتا اور تکبیر کہتاہوا سروپا برہنہ انہیں رخصت کرنے دور تک ان کے ساتھ جاتا،یہ اکبربادشاہ کی ابتدائی حالت تھی، لیکن جب ملامبارک ناگوری اور اس کے صاحبزادے ابولفیض فیضی اور ابوالفضل بادشاہ کے نورتنوں میں شامل ہوئے توانہوں نے اکبر کوایسا ملحد وزندیق بنادیا کہ آج تک وہ داغ نہیں دھویاجاسکا،اکبر نے982ھ میں ایک عبادت خانہ تعمیر کیااور علماء ومشائخ سے اپیل کی کہ وہ عبادت خانہ میں آکر اپنے مواعظ حسنہ سے بادشاہ کو مستفید فرمائیں،بادشاہ اس عبادت خانہ میں تمام رات اللہ کا ذکرکرتا صبح سویرے عبادت خانہ سے باہر آکر ایک پتھرکی سل پر بیٹھ کر مراقبہ کرتا،لیکن جب علماء کی آمداور بحث مباحثہ شروع ہوا،توعلماء اپنی اپنی قابلیت جتانے کے لئے مختلف مسائل میں ایک دوسرے سے الجھنے لگے،بات بڑھتے بڑھتے تلخ کلامی،،شورغل ہلڑبازی تک پہنچ گئی،کہتے ہیں کہ ایک مچھلی پورے تالاب کو گنداکردیتی ہے،ملامبارک ناگوری اور اس کے بیٹوں نے تمام علماء کو سرکش بنادیا،اسی مجلس میں کچھ علماء نے حج کی فرضیت ساقط ہونے کا فتویٰ جاری کیا،کسی نے زکاۃ سے بچنے کے لئے حیلہ تراشا،کسی نے داڑھی منڈوانے کوجائز قراردیا،کسی نے بے شمار عورتوں سے نکاح جائز قراردیا،کسی نے متعہ کو حلال قرار دیا،کسی نے شراب پینا جائز قراردیا،نوبت باین جارسید کہ ہندووں کے نوروزکی مجالس میں اکثر علماء وصلحاء بلکہ قاضی اور مفتی بھی شراب نوشی کی محفل میں تشریف لاتے،بادشاہ ان کو شراب پیتے دیکھ کر بڑامحظوظ ہوتاتھا،مبارک ناگوری کے صاحبزادے ملاابوالفضل کے سامنے اگر کوئی امام قفال الشاشی ؒ،امام باقلانی ؒ،شمس الائمہ حلوانی ؒ،امام غزالیؒ،امام ابوبکر جصاصؒ،یاامام قدوریؒ کا قول پیش کرتا تو وہ بادشاہ کو مخاطب کرکے کہتا لواور سنو!یہ ہمارے مقابلہ میں حلوائیوں،کنجڑوں، موچیوں اور قفل سازوں کے اقوال بطور حجت پیش کرتا ہے،اس مسخرہ پن سے بادشاہ کے دل سے علماء وفقہاء کا احترام نکل گیا،عبادت خانہ کی مجالس میں شعائراسلام اور مقدس ہستیوں کا مذاق اڑایاجانے لگا،ان حالات کو دیکھ کر راسخ العقیدہ علماء ومشائخ نے عبادت خانہ میں جاناچھوڑدیا،شیخ سلیم چشتی کے صاحبزادے مولانابدرالدین ؒچپکے سے نکل کر مکہ مکرمہ پہنچے اور بقیہ عمر وہاں گزاری،انہی دنوں ایک ہندو گستاخ رسول کو صدرالصدور شیخ عبدالنبی نے سزائے موت دی جو بادشاہ کی حرم میں ایک رانی کا رشتہ دار تھا جس کووہ بچاناچاہتی تھی، اس واقعہ کو دیکھ کر شیخ کے مخالفین نے بادشاہ سے کہا کہ حنفی قانون کے مطابق صدرالصدور شاتم رسول کو سزائے موت دینے کا مجازہی نہیں،جس کی وجہ سے بادشاہ شیخ پر بہت زیادہ برہم ہوا،اس دوران بادشاہ کی سالگرہ کی تقریب تھی،ملامبارک ناگوری بادشاہ کی خدمت میں مبارکباد دینے کے لئے حاضرہوا،بادشاہ کو مغموم پاکر سبب دریافت کیا،بادشاہ نے برہمن کے قتل کا واقعہ بیان کیا،اس پر ملامبارک ناگوری نے بادشاہ کو بتایا کہ چونکہ وہ خود امام عادل اور مجتہد ہیں اس لئے وہ علماء کے فتووں کا محتاج نہیں بلکہ اس کا اپنافیصلہ علماء کے لئے آخری حکم کی حیثیت رکھتا ہے (جاری ہے)

23/11/2025

حضرت زنیرہ واقعہ

#

10/11/2025

پشتون قوم میں یہ فتنہ روز بروز بڑھی ہیں
اس فتنہ کو جڑ سے اکھاڑنا ھمارا فریضہ ہے ۔
توجہ فرمائیں 👇👇👇👇👇👇👇👇

05/11/2025

مفتی عبد الواحد قریشی صاحب کا مفتی طارق مسعود صاحب کو مدلل جواب

02/11/2025
30/10/2025

غزوہ تبوک یو جلک صحابہ کرام رضوان اللہ تکلیف او تندہ۔😢😥😢

#شیخ
keram

Want your school to be the top-listed School/college in Mingora?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Swat Shangla
Mingora