02/02/2026
The Readers Academy Mingora
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from The Readers Academy Mingora, School, mohallah shaheed abad near old Daewoo bus terminal GT Road mingora swat kpk, Mingora.
02/02/2026
دی ریڈرز سکول اینڈ کالج
Practical activity of Grade 4
والدین سمجھتے ہیں کہ وہ پرورش کر رہے ہیں، مگر اصل میں وہ ایک ایسے دور سے لڑ رہے ہیں جس کی رفتار ان کے تجربے سے کہیں آگے ہے۔ پہلے بچے گلی میں پڑوسیوں کے ساتھ کھیل کر بڑے ہوتے تھے، اب وہ موبائل، ٹیبلٹ اور گیمز کے الگ بنے ہوئے جہان میں رہتے ہیں۔ والدین کے لیے یہ سب محض تفریح نہیں بلکہ ایک ایسا بوجھ بن چکا ہے جس کے نتائج آنے والے برسوں میں سامنے آتے ہیں رویے بدل جاتے ہیں، گفتگو کم ہوجاتی ہے، ضد بڑھ جاتی ہے، اور گھر میں ایک خاموش کشمکش پھیل جاتی ہے۔ اصل بحران یہ نہیں کہ بچے اسکرین استعمال کرتے ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ والدین اپنی تھکن، مصروفیت یا مجبوری کی وجہ سے اسکرین کو نگران سمجھ کر اس پر بھروسہ کرنے لگے ہیں۔ بچے جب بار بار اسکرین کی طرف بھاگتے ہیں تو والدین اسے 'وقت گزارنے کا آسان حل' سمجھ لیتے ہیں، مگر انہیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ یہ آسان حل کتنی بڑی قیمت لے کر آتا ہے۔ اسکرین بچے کی توجہ توڑ دیتی ہے، مزاج بدل دیتی ہے، ان کی حقیقت کی سمجھ کم کر دیتی ہے، اور ان کے دماغ کو تیز، مسلسل اور غیر حقیقی محرکات کی طرف عادی بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بچوں میں جلد غصہ آنا، بات نہ سننا، میل جول کم ہونا، بے صبری، نیند کی خرابی، اور پڑھائی میں عدم دلچسپی عام ہوتی جا رہی ہے۔ والدین اکثر یہ سمجھنے میں غلطی کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی مانع نہیں، اور صحیح بھی ہیں مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، بے لگام استعمال ہے۔ لیکن وہ یہ ماننے سے کتراتے ہیں کہ بے لگام استعمال کی اجازت وہ خود دیتے ہیں کیونکہ یہ ان کی ذمہ داری آسان کر دیتی ہے۔ اس بحران کے پیچھے ایک اور حقیقت بھی ہے: نسلوں کا فرق۔ والدین جن دور میں بڑے ہوئے، اس میں تفریح محدود تھی اور بچوں کو خود کو مصروف رکھنا آتا تھا۔ مگر آج بچے ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں ہر سیکنڈ نئی چیز سامنے آتی ہے۔ انہیں اگر متبادل مصروفیت، توجہ اور وقت نہ ملے تو وہ لازمی طور پر اسکرین کے عادی ہو جاتے ہیں۔ حل مشکل ضرور ہے مگر سیدھا ہے۔ سب سے پہلے والدین کو اسکرین کے استعمال کے لیے واضح قوانین بنانے ہوں گے جو گھر کے ہر فرد پر لاگو ہوں۔ یہ اصول جذباتی کمزوری یا لمحاتی تھکن میں نہیں بدلنے چاہئیں۔ دوسرا، بچوں کے لیے حقیقی سرگرمیوں کا ماحول بنانا ہوگا: کھیل، کتابیں، چھوٹے کام، والدین کے ساتھ وقت یہ سب اسکرین کی لت توڑنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ تیسرا، والدین کو خود اپنی اسکرین کا استعمال کم کرنا ہوگا کیونکہ بچے سننے سے نہیں، دیکھنے سے سیکھتے ہیں۔ چوتھا، والدین کو سختی کا نہیں، مستقل مزاجی کا رویہ اپنانا ہوگا۔ اگر اصول ایک دن ٹوٹ جائیں تو بچے سمجھ جاتے ہیں کہ اصول اہم نہیں بلکہ موڈ اہم ہے۔ آخر میں سچ یہی ہے کہ یہ لڑائی بچوں سے نہیں بلکہ اپنے رویوں سے ہے۔ اسکرین بچے کے ہاتھ میں تب تک طاقت ہے جب تک والدین کی گرفت کمزور ہے۔ اگر گھر میں اصول واضح ہوں، وقت مشترکہ ہو، سرگرمیاں حقیقی ہوں اور والدین اپنی مثال قائم کریں، تو بچے آہستہ آہستہ اسکرین نہیں بلکہ زندگی سے جڑنے لگتے ہیں۔ ورنہ گھر میں یہی سوال بڑھے گا: کیا ہم بچوں کی پرورش کر رہے ہیں، یا اسکرین ان کی پرورش کر رہی ہے؟
THE READERS #
SCHOOL #
COLLEGE #
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Mingora
19130
Opening Hours
| Monday | 08:00 - 14:00 |
| Tuesday | 08:00 - 14:00 |
| Wednesday | 08:00 - 14:00 |
| Thursday | 08:00 - 14:00 |
| Friday | 08:00 - 12:30 |
| Saturday | 08:00 - 14:00 |