30/01/2026
Faran children academy
Faran children academy barama road mingora swat
30/01/2026
Admission Open
11/01/2026
ادھیڑ عمری میں کیسے خوش رہیں؟
(قاسم علی شاہ)
چھوٹے سے ہال میں چاروں طرف خوب صورت غبارے اور مبارک باد کے کارڈ لگے تھے۔ ہال کے درمیان میں بڑی میز تھی جس پر کیک پڑا تھا اور اردگرد گھر کے افراد کھڑے تھے۔ آج فیصل کی 43 ویں سالگرہ تھی۔ اس نے چھری تھامی اور کیک کاٹنا شروع کیا۔ ہر طرف سے تالیاں بجنے اور مبارک باد کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ کچھ دیر میں مہمان کھانے پینے میں مصروف ہوگئے تو فیصل باہر نکلا اور کھلی فضا میں سانس لینے لگا۔ اندر سے موسیقی اور قہقہوں کی آوازیں آرہی تھیں لیکن فیصل خوش نہیں تھا، وہ کئی دن سے گھٹن کا شکار تھا۔ اس کی اندرونی کیفیت مزید بگڑ گئی تو اس نے گاڑی نکالی اور گھر سے دور ساحل سمندرکی طرف چلا گیا۔ گیلی ریت پر ننگے پاؤں بیٹھے وہ اپنی زندگی کے بارے میں سوچنے لگا۔ اس نے گذشتہ دس سال میں بھرپور محنت کی تھی۔ اسی بنیاد پر آج وہ سینئر ایگزیکٹو کے عہدے پر پہنچ چکا تھا۔ اس کے پاس گھر، گاڑی اور دنیا کی ہر وہ نعمت تھی جس کے لیے لوگ ترستے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ پچھتاوے کا شکار تھا۔ اس کی زندگی انتہائی مصروف تھی۔ وہ رات 10 بجے گھر پہنچتا اور صبح ناشتہ کرکے دفتر کے لیے نکل جاتا۔ بچے اپنی دنیا میں مگن تھے اور بیگم کو برینڈڈ جوتوں اور کپڑوں سے فرصت نہیں تھی۔ جوانی میں اس نے تنگ دستی کا سامنا کیا تھا، وہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا چاہتا تھا لیکن اس فکر نے اسے مادیت پرست بنا دیا تھا اور آج وہ بہترین منصب پر ہونے کے باوجود گھٹن کا شکار تھا۔ رات بھر وہ اسی کیفیت میں رہا، صبح ہوئی تو کچھ دیر بعد سمندر کی سطح پر سورج کی کرنیں پھیلنے لگیں، یہ منظر اس قدر دلکش تھا کہ فیصل کچھ لمحوں کے لیے اپنی تمام فکریں بھول گیا۔ وہ دیر تک سورج کو طلوع ہوتا دیکھتا رہا، یکایک اسے 18سال پہلے والا فیصل یاد آگیا جو عزم و ارادے سے بھرپور تھا، جس کے سینے میں خواب تھے اور وہ سورج کی کرنوں کی طرح اپنی زندگی کو روشن کرنا چاہتا تھا لیکن فکر معاش نے اس سے وہ تمام خواب چھین لیے۔ اسے خیال آیا کہ جب تک وہ مقصد کی تلاش میں تھا وہ مطمئن تھا لیکن جیسے جیسے دولت کمانے میں مصروف ہوتا گیا، ویسے ویسے بے چینی کے دلدل میں پھنستا گیا۔ اسے پتا چل گیا کہ زندگی کا مقصد صرف دولت جمع کرنا نہیں، اگر میں اسی طرح دن رات پیسے کمانے میں مگن رہا تو بہت جلد ڈیپریشن کا شکار ہو کر ذہنی مریض بن جاؤں گا، مجھے اپنی سوچ بدلنا ہوگی۔ اسی صبح اس نے زندگی بدلنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنے تمام خواب پورا کرنے کا پختہ عزم کیا۔ جوانی میں اسے مصوری کا شوق تھا، اس نے دوبارہ مصوری شروع کرنے کا ارادہ کیا۔ اس نے حقیقی رشتوں کی مٹھاس سے لطف اندوز ہونے اور بامقصد زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا اور کچھ دیر بعد جب وہ گاڑی کی طرف جارہا تھا تو اس کی تمام فکریں ختم ہوچکی تھیں۔ وہ ایک نئے جذبے کے ساتھ زندگی کی چوالیس ویں سال میں قدم رکھ رہا تھا۔
البرٹ آئن سٹائن کہتا ہے کہ اگر تم خوشی چاہتے ہو تو زندگی کو انسانوں اور چیزوں کے ساتھ نہیں بلکہ مقصد کے ساتھ جوڑ دو۔
زندگی کی عمارت سے اگر خوشی کا ستون نکال دیا جائے تو یہ دھڑام سے گرجائے گی، کیوں کہ انسان تمام زندگی خوشی حاصل کرنے کی تلاش میں رہتا ہے۔ بچپن میں کھلونے حاصل کرنے کی ضد، جوانی میں نوکری حاصل کرنے کی جستجو اور زیادہ پیسے کمانے کی خواہش تاکہ بڑھاپا پرسکون رہے، یہ سب کچھ خوشی پانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس موضوع پر بہت سے لوگوں نے کام کیا ہے البتہ ’’اینڈریو آس ولڈ‘‘اور’’ڈیوڈ بینچ فلاور‘‘کی تحقیق خاصی دلچسپ ہے۔ ان دونوں ماہرین نے 2000ء میں یہ بات معلوم کرنے کی کوشش کی کہ انسان زندگی کے کس حصے میں زیادہ خوش ہوتا ہے۔ انھیں پتا چلا کہ خوشی کے حوالے سے انسانی زندگی انگریزی کے حرف U کی طرح ہے۔ ابتدائی عمر میں انسان زیادہ خوش اور تجسس سے بھرپور ہوتا ہے۔ البتہ درمیانی عمر (40سے50سال کی عمر والا دورانیہ) میں پہنچ کر اس کی خوشی آہستہ آہستہ کم ہونے لگتی ہے اور بعض دفعہ ختم ہونے کے قریب پہنچ جاتی ہے، جب کہ آخری عمر میں خوشی واپس آجاتی ہے۔
40 سے 50سال کی عمر میں اکثر لوگ ایک خاص قسم کی کیفیت سے گزرتے ہیں جو مایوسی، پریشانی اور پچھتاوے سے بھرپور ہوتی ہے۔ اسے Middle-age Crises کہا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں انسان کو کسی تجربہ کار شخص کی رہنمائی کی اشد ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ اگر وہ اس کیفیت سے نہ نکل پائے تو اس کے انتہائی خطرناک نتائج بھی واقع ہوسکتے ہیں۔
انسان Middle-Age Crises کا شکاراس لیے ہوتا ہے کیوں کہ چالیس سال کی عمر میں تبدیلی آجاتی ہے، زندگی کا حسن ڈھل جاتا ہے، بال سفید ہونا شروع ہوجاتے ہیں، صحت کمزور ہوجاتی ہے، جوانی جیسی طاقت نہیں رہتی، عمر گزرنے کا احساس شدید ہوجاتا ہے اور مستقبل دھندلا دکھائی دیتا ہے۔
بہت سے کام یاب لوگ ایسے ہیں جو Middle-age Crises کا شکار ہوئے لیکن اسے برداشت نہ کرپائے اور خودکشی پر مجبور ہوئے۔’’رابن ولیم‘‘جو اپنے زمانے کا معروف اداکار تھا، اس نے بہترین کارکردگی کی بنیاد پر شان دارکام یابیاں سمیٹیں، وہMiddle-age Crises کا شکارہوکر ڈیپریشن میں چلا گیا لیکن اس کی شدت برداشت نہ کرپایا اور 2014ء میں اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ معروف بھارتی خوبرو اداکار ’’سوشانت سنگھ راجپوت‘‘ بھی پیشہ ورانہ زندگی کے مسائل سے اس قدر دلبرداشتہ ہوا کہ 14 جون 2020 کو 34 سال کی عمر میں خودکشی کرلی۔ صف اول کا فن کار’’کورٹ کوبین‘‘ شہرت کم ہونے کی وجہ سے اس قدرپریشان ہوا کہ نشے کی لت میں مبتلا ہوگیا اور27سال کی عمر میں اس نے خودکشی کرلی۔ معروف امریکی ناول نگار ارنسٹ ہیمنگوے کی پوتی مارگوکس ہیمنگوے بھی پیشہ ورانہ زندگی کے مسائل سے اس قدر تنگ آگئی کہ 42 سال کی عمر میں اس نے زندگی کا خاتمہ کرلیا۔’’کیٹ سپاڈ‘‘جو کہ ایک مشہور امریکی برانڈ کی مالکہ اور فیشن ڈیزائنر تھی، وہ بھی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی کا دباؤ برداشت نہ کرسکی اور 55 سال کی عمر میں خودکشی کرلی۔
آج کی تحریر میں ہم ان عوامل پر روشنی ڈالیں گے جن کی وجہ سے انسانMiddle-age Crises کا شکار ہوتا ہے۔
ادھورے خواب
جوانی میں انسان بڑے بڑے خواب دیکھتا ہے اور انھیں حاصل کرنے کے لیے بھرپور محنت کرتا ہے۔ چالیس سال کی عمر میں انسان کو احساس ہوتا ہے کہ آج سے پندرہ بیس سال پہلے میں نے جو خواب دیکھے تھے، وہ میں گھر بار چلانے کی فکر میں بھول گیا۔ وہ پچھتاتا ہے کہ شاید میں نے زندگی ضائع کر دی۔ یہ سوچ اسے ڈیپریشن میں مبتلا کر دیتی ہے۔
دنیا ہی سب کچھ ہے
جو لوگ موت کے بعد والی زندگی پر یقین نہیں رکھتے وہ بھی Middle-age Crises کا شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ موت کو اپنا خاتمہ سمجھتے ہیں، اس لیے زندگی کے بارے میں بہت زیادہ سوچتے ہیں اور یہ سوچیں انھیں مختلف پریشانیوں میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ آخرت پریقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ آخرت کی ابدی اور نعمتوں سے بھرپور زندگی ہماری منتظر ہے وہ زندگی کی مشکلات اور مصائب کا مقابلہ بہتر انداز میں کرسکتے ہیں۔
موت کا خوف
ادھیڑ عمری میں انسان اپنے والدین اور دیگر رشتہ داروں کو فوت ہوتے دیکھتا ہے جس کی وجہ سے اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اس کے بعد میری باری ہے۔ یہ بات اسے ذہنی تناؤ شکار بنا دیتی ہے۔
بے مقصد زندگی
اکثر لوگ ادھیڑ عمری میں دولت، شہرت اور ہر قسم کے مادی وسائل حاصل کرلیتے ہیں۔ وہ اپنی تمام خواہشات پوری کرلیتے ہیں، چوں کہ اس کے بعد ان کی زندگی میں کوئی ہدف نہیں ہوتا اس وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ زندگی بس یہیں تک تھی۔ مقصد کی عدم موجودگی انھیں ڈپریشن میں مبتلا کر دیتی ہے۔
یکسانیت
زندگی بھر ایک خاص روٹین پر عمل پیر اہونے کے بعد جب فرد ادھیڑ عمری تک پہنچتا ہے تو خود کو پھنسا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ میں نے تمام زندگی دائرے کے سفر میں گزاری ہے۔ یکساں معمولات زندگی کی وجہ سے اس کا جوش ماند پڑجاتا ہے اور وہ مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے۔
تنہائی
ادھیڑ عمری میں انسان بچوں کی شادیاں کرواتا ہے۔ بیٹے اپنی زندگی میں مگن ہوجاتے ہیں، بچیاں سسرال منتقل ہوجاتی ہیں جس کے بعد گھر خالی ہوجاتا ہے اور فرد احساس تنہائی کا شکار ہوجاتا ہے۔ یہ احساس جب شدت اختیار کرجائے تو فرد ذہنی تناؤ کا شکار ہوجاتا ہے۔
مالی خدشات
چالیس سال کے بعد اگر فرد معاشی طور پر مضبوط نہ ہو تو وہ مالی خدشوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ بچوں کی شادیاں کروانا، ذاتی گھر خریدنا، ریٹائرمنٹ کے بعد اچھی زندگی گزارنا ایسی فکریں ہیں جو انسان کو ڈیپریشن میں مبتلا کردیتی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ Middle-age Crises کا سامنا کیسے کیا جائے؟
اس کے لیے ذیل میں چند مفید تجاویز ذکر کی جاتی ہیں۔
تسلیم کریں
اگر آپ اس وقت Middle-age Crises کا شکار ہیں تو سب سے پہلے اسے قبول کریں اور یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہ مرحلہ ہر فرد کی زندگی میں آسکتا ہے۔ اسے قبول کرلینے سے اس کی شدت کم ہوجائے گی اور آ پ آسانی کے ساتھ اس پر قابو پاسکیں گے۔
اقدار
اپنی اقدار اور اہداف متعین کریں اور ان چیزوں کی فہرست بنائیں جو آپ کی زندگی میں اہمیت رکھتی ہیں۔ اس اقدام کی بدولت آپ زندگی کو بہتر انداز میں بدل سکیں گے۔
اہداف
بین الاقوامی شہرت یافتہ کتاب Man's Search for Meaning کا مصنف وکٹر فرینکل کہتا ہے کہ ’’وہ لوگ زیادہ خوش رہتے ہیں جو اپنے لیے ہدف بناتے ہیں اور قدم بہ قدم اس کی جانب قدم بڑھتے ہیں۔‘‘
آپ بھی اپنے لیے حقیقت پسندانہ اور قابل حصول اہداف طے کریں۔ اہداف حاصل کرنے کاسفر آپ کو بھرپور خوشی اور سکون فراہم کرے گا۔ آپ کا عزم جوان رہے گا اور آپ مایوسی کا شکار نہیں ہوں گے۔
نئے مشاغل اپنائیں
ایسے کام تلاش کریں جن میں آپ دلچسپی رکھتے ہیں نیز ان کاموں کے لیے بھی وقت نکالیں جو آپ کرنا چاہتے تھے لیکن کسی وجہ سے نہیں کر پا رہے۔ ان مشاغل میں مصروف رہنے سے آپ کی فکریں کم ہوں گی۔
جسمانی اور ذہنی صحت
باقاعدگی سے ورزش کریں۔ جسمانی سرگرمیاں تناؤ کو کم کرتی ہیں۔ صحت مند غذا کھائیں، اس سے آپ کی جسمانی اور ذہنی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
رشتوں کو مضبوط بنائیں
رشتوں کی اپنائیت محسوس کریں۔ اپنے پیاروں کے ساتھ وقت گزاریں۔ پرانے دوستوں سے ملیں، نئے دوست بنائیں۔ یہ چیز آپ کی خوشی کو دوبالا کرے گی۔
تبدیلی قبول کریں
موجودہ تبدیلی کو قبول کرنے کے لیے اپنے اندر لچک پیدا کریں۔ زندگی میں آنے والے نئے حالات کے لیے تیار رہیں اور کھلے دل سے مشکلات کا سامنا کریں۔ یکسانیت ختم کرنے کی کوشش کریں تاکہ آپ بیزاری محسوس نہ کریں۔
خدمت
معاشرے کی بہتری کے لیے اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کریں۔ اس سے آپ روحانی طور پر مضبوط ہوں گے اور آپ کی زندگی پرسکون ہوگی۔
مسلسل سیکھیں
اگر چہ آ پ کی عمر بڑھ چکی ہے لیکن اس کے باوجود آگے بڑھنے کے لیے تیار رہیں، ہر وقت سیکھنے کی کوشش کریں اور شخصی ترقی کے لیے نئی سرگرمیاں اپنائیں۔
23/12/2025
゚viralシfypシ゚
13/11/2025
فاران چلڈرن اکیڈمی میں نئے تعلیمی سال کے لیے داخلے کھلے ہیں۔ یہ ادارہ علم، اخلاقی تربیت اور شاندار کارکردگی کے ذریعے بچوں کی زندگیوں کو روشن کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے علیحدہ سیکشن قائم کیے گئے ہیں، جہاں انہیں تجربہ کار اساتذہ، جدید نصاب اور پرسکون ماحول میں اعلیٰ تعلیمی معیار کی تعلیم دی جاتی ہے۔ فاران چلڈرن اکیڈمی اپنے بچوں کے لیے ایک تابناک مستقبل کی تعمیر کے لیے آج ہی اپنایا جانے والا ایک بہترین انتخاب ہے
Contact 03429158356/03425340792
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Mingora Swat