24/12/2025
*حافظ دیرہ ودان مرحوم ایک باوقار زندگی، ایک خاموش چراغ*
آج بروز بدھ 24/12/2015 تندوڈاگ، سوات کے مٹی نے ایک ایسے مرد خدا کو اپنی آغوش میں لے لیا جس کی زندگی سادگی، علم، اور اخلاص کا حسین امتزاج تھی۔ حافظ دیرہ ودان مرحوم کا شمار اُن خوش نصیب نفوس میں ہوتا ہے جن کی پہچان شور و نمود سے نہیں بلکہ کردار کی خوشبو سے ہوتی ہے۔
مرحوم فطرتاً عاجز، خاکسار اور منکسر المزاج انسان تھے۔ عصری علوم کے اعتبار سے نہایت ہائیلی کوالیفائیڈ ہونے کے باوجود، اُن کے لہجے میں انکسار، نشست و برخاست میں وقار اور گفتگو میں شائستگی نمایاں تھی۔ عملی زندگی میں انہوں نے *محکمہ زراعت میں بطور ڈائریکٹر* اپنی خدمات انجام دیں اور باعزت انداز میں سبکدوش ہوئے، مگر ریٹائرمنٹ بھی اُن کے لیے آرام نہیں بلکہ حب قرآن کا ایک نیا عنوان بن گئی۔
دینی نسبت کے اعتبار سے مرحوم محض ایک طالبِ علم نہیں بلکہ *بانیِ مدرسہ حافظ القاری الحاج فضل ہادی نورہ مرقدہؒ* کے شاگردِ رشید تھے اور حقیقت یہ ہے کہ وہ شاگرد سے بڑھ کر اولاد کی مانند تھے۔ اس تعلق میں ادب بھی تھا، وفا بھی، اور وہ اخلاص بھی جو کم کم نصیب ہوتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اُن کی ذات میں علم کے ساتھ حلم، اور تقویٰ کے ساتھ تواضع جمع ہو گئی تھی۔
ان کی شخصیت کا سب سے روشن پہلو اُن کا ملنسار ہونا تھا۔ ہر دل اُن کے لیے کشادہ تھا اور اُن کا دل ہر ایک کے لیے۔
*کسی کی تکلیف دیکھتے تو خود بے چین ہو جاتے،*
*کسی کی خوشحالی دیکھتے تو دل سے خوش ہوتے،*
ہر ماحول میں اس طرح گھل مل جاتے کہ اجنبیت کا احساس باقی نہ رہتا۔
وہ نہ کسی کو کمتر سمجھتے تھے، نہ خود کو برتر۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو انسان کو صرف بااثر نہیں بلکہ باعزت بناتے ہیں۔
قرآن کی تلاوت سے قلبی لگاؤ، اہلِ علم سے محبت، اور عام لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک یہ سب مرحوم کی زندگی کے روشن عنوانات تھے۔ وہ خاموشی سے جینے اور خاموشی سے دوسروں کے دلوں میں جگہ بنانے والے انسان تھے۔ ایسے لوگ رخصت ہو جائیں تو محفلیں ویران نہیں ہوتیں، مگر دلوں میں ایک خلا ضرور چھوڑ جاتے ہیں۔
آج تندوڈاگ کی زمین نے ایک امانت قبول کی ہے، اور ہمیں یقین ہے کہ
*اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ*
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے، قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، اور اپنے قرب و جوار میں جگہ عطا فرمائے۔ پسماندگان کو صبرِ جمیل نصیب ہو، اور ہمیں بھی ایسی زندگی گزارنے کی توفیق دے جو انجام کے اعتبار سے باعثِ نجات ہو۔
مرحوم کی زندگی کا ایک نہایت روشن اور قابلِ رشک پہلو اُن کا قرآنِ مجید، مسجد، مدرسہ اور طلبۂ علم سے بے پناہ شغف تھا۔ قرآن حکیم اُن کے لیے محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ ہدایتِ حیات تھا؛ اس کی آیات اُن کے اخلاق میں جھلکتی تھیں اور اس کی تعلیمات اُن کے عمل میں بولتی تھیں۔ مسجد سے اُن کا تعلق محض نماز تک محدود نہ تھا بلکہ وہ اسے ایمان کی تربیت گاہ اور امت کی روحانی پناہ گاہ سمجھتے تھے۔
مدرسہ اور طلبۂ علم سے اُن کی محبت ایسی تھی جیسے کوئی شجرِ سایہ دار ننھے پودوں کو تپتی دھوپ سے بچاتا ہے۔ وہ طالبِ علموں کی حوصلہ افزائی کو صدقۂ جاریہ سمجھتے، ان کی ضروریات پر دل سے کڑھتے اور جہاں ممکن ہوتا خاموشی سے تعاون کرتے۔ علمِ دین کے چراغ جلتے دیکھ کر اُن کی آنکھوں میں خوشی اور دل میں شکر کا جذبہ موجزن ہو جاتا۔ بلاشبہ وہ اُن لوگوں میں سے تھے جن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ
وہ خود بھی نفع اٹھاتے تھے اور دوسروں کے لیے بھی نفع کا سبب بنتے تھے۔
رب کریم ان کو کروٹ کروٹ چھین نصیب فرمائیں
آمین یا رب العالمین
ابن نعیم مفتاح الدین