04/08/2026
پیارے بچوں کے لیے پیارے نبی ﷺ کی سیرت کہانی، قسط: 201
غزوۂ خیبر (محرم 7 ہجری) پہلا حصہ:
محرکات واسباب اور تیاری:
پیارے بچو!
پچھلی قسط میں ہم نے پڑھا تھا کہ غزوۂ ذی قرد (غابہ) میں حضرت سلمہ بن اکوعؓ نے اپنی بہادری، حاضر دماغی اور رسول اللہ ﷺ سے بے مثال محبت کا ثبوت دیا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کامیابی عطا فرمائی، رسول اللہ ﷺ نے حضرت سلمہؓ اور حضرت ابو قتادہؓ کی تعریف فرمائی اور صحابۂ کرامؓ کی ہمت افزائی کی۔
اب آئیے! آج ہم صلحِ حدیبیہ کے بعد پیش آنے والے ایک نہایت اہم غزوے، غزوۂ خیبر کے بارے میں جانتے ہیں۔
پیارے بچو!
مدینہ منورہ سے تقریباً 170 کلومیٹر شمال کی طرف خیبر نامی ایک بڑا اور مشہور علاقہ تھا۔ وہاں بہت سے مضبوط قلعے، سرسبز کھیت اور کھجوروں کے باغات تھے۔ اس زمانے میں خیبر یہودی قبائل کا ایک اہم مرکز تھا، جہاں وہ بڑی تعداد میں آباد تھے۔
پیارے بچو!
جب صلحِ حدیبیہ ہوگئی تو قریش کی طرف سے مسلمانوں کو کچھ اطمینان حاصل ہوگیا۔ اب رسول اللہ ﷺ چاہتے تھے کہ مدینہ اور اس کے آس پاس بھی مکمل امن قائم ہو، تاکہ مسلمان سکون سے اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچا سکیں۔
لیکن خیبر میں رہنے والے بعض یہودی سردار مسلسل مسلمانوں کے خلاف منصوبے بنا رہے تھے۔ وہ مختلف قبائل کو مسلمانوں سے لڑنے پر آمادہ کرتے، دشمنوں کی مدد کرتے اور ہر وقت نئی سازشیں کرتے رہتے تھے۔
پیارے بچو!
آپ کو یاد ہوگا کہ غزوۂ خندق میں مدینہ پر بہت بڑا حملہ ہوا تھا۔ اس حملے کے پیچھے بھی خیبر کے بعض یہودی سرداروں کا بڑا کردار تھا۔ انہوں نے عرب کے مختلف قبائل کو اکٹھا کیا اور مسلمانوں کے خلاف جنگ پر ابھارا تھا۔
صرف یہی نہیں، انہوں نے بنو قریظہ کو بھی معاہدہ توڑنے اور مسلمانوں سے غداری کرنے پر آمادہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ منافقین اور دوسرے دشمن قبائل سے بھی مسلسل رابطے میں رہتے تھے تاکہ مسلمانوں کو نقصان پہنچا سکیں۔
پیارے بچو!
رسول اللہ ﷺ کسی سے بلاوجہ جنگ نہیں کرتے تھے۔ آپ ﷺ ہمیشہ امن کو پسند فرماتے تھے اور چاہتے تھے کہ لوگ سکون سے رہیں، اسی لیے جب تک قریش کا خطرہ موجود تھا، مسلمانوں نے خیبر کی طرف توجہ نہیں دی، کیونکہ ایک وقت میں دو بڑی طاقتوں سے لڑنا مناسب نہیں تھا۔
لیکن جب صلحِ حدیبیہ کے بعد قریش کی طرف سے وقتی امن قائم ہوگیا تو اب خیبر کی مسلسل سازشوں کا خاتمہ کرنا ضروری ہوگیا، تاکہ مدینہ اور اس کے آس پاس کے علاقے محفوظ ہو جائیں اور اسلام کا پیغام امن کے ساتھ لوگوں تک پہنچ سکے۔
پیارے بچو!
رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے صحابۂ کرامؓ کو اس مہم کے لیے تیار ہونے کا حکم دیا۔ سب جانتے تھے کہ خیبر کے مضبوط قلعوں کا مقابلہ آسان نہیں ہوگا، لیکن انہیں یقین تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی مدد شاملِ حال ہو تو کوئی مشکل بڑی نہیں رہتی۔
یوں مسلمان اللہ تعالیٰ کا نام لے کر خیبر کی طرف روانہ ہونے کی تیاری کرنے لگے۔
✺ اس قسط سے حاصل ہونے والے مختصر سبق:
✦ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ امن کو پسند فرماتے تھے اور بلاوجہ جنگ نہیں کرتے تھے۔
✦ دشمن کی مسلسل سازشوں سے ہوشیار رہنا ضروری ہے۔
✦ مشکل فیصلے ہمیشہ حکمت اور دور اندیشی سے کرنے چاہییں۔
✦ مسلمانوں کا مقصد صرف جنگ نہیں بلکہ امن قائم کرنا اور اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا تھا۔
✦ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور نیک مقصد میں ثابت قدمی کامیابی کا راستہ ہے۔
✺ بچوں کے لیے سوالات:
سوال ❶: خیبر مدینہ منورہ سے کس سمت واقع تھا؟
سوال ❷: خیبر کس چیز کے لیے مشہور تھا؟
سوال ❸: صلحِ حدیبیہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے خیبر کی طرف توجہ کیوں فرمائی؟
سوال ❹: غزوۂ خندق میں مسلمانوں کے خلاف قبائل کو اکٹھا کرنے میں کن لوگوں کا کردار تھا؟
سوال ❺: رسول اللہ ﷺ جنگ کے بارے میں کیا طرزِ عمل رکھتے تھے؟
سوال ❻: مسلمانوں کا اصل مقصد کیا تھا؟
سوال ❼: اس پوری قسط کا سب سے اہم سبق کیا ہے؟
========> جاری ہے ۔۔۔
جمع وترتیب: محمد احمد صارم
پیشکش: ”ٹیم صرف اسلام فیس بک گروپ“