پیارے بچوں کے لیے پیارے نبی ﷺ کی سیرت کہانی، قسط: 201
غزوۂ خیبر (محرم 7 ہجری) پہلا حصہ:
محرکات واسباب اور تیاری:
پیارے بچو!
پچھلی قسط میں ہم نے پڑھا تھا کہ غزوۂ ذی قرد (غابہ) میں حضرت سلمہ بن اکوعؓ نے اپنی بہادری، حاضر دماغی اور رسول اللہ ﷺ سے بے مثال محبت کا ثبوت دیا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کامیابی عطا فرمائی، رسول اللہ ﷺ نے حضرت سلمہؓ اور حضرت ابو قتادہؓ کی تعریف فرمائی اور صحابۂ کرامؓ کی ہمت افزائی کی۔
اب آئیے! آج ہم صلحِ حدیبیہ کے بعد پیش آنے والے ایک نہایت اہم غزوے، غزوۂ خیبر کے بارے میں جانتے ہیں۔
پیارے بچو!
مدینہ منورہ سے تقریباً 170 کلومیٹر شمال کی طرف خیبر نامی ایک بڑا اور مشہور علاقہ تھا۔ وہاں بہت سے مضبوط قلعے، سرسبز کھیت اور کھجوروں کے باغات تھے۔ اس زمانے میں خیبر یہودی قبائل کا ایک اہم مرکز تھا، جہاں وہ بڑی تعداد میں آباد تھے۔
پیارے بچو!
جب صلحِ حدیبیہ ہوگئی تو قریش کی طرف سے مسلمانوں کو کچھ اطمینان حاصل ہوگیا۔ اب رسول اللہ ﷺ چاہتے تھے کہ مدینہ اور اس کے آس پاس بھی مکمل امن قائم ہو، تاکہ مسلمان سکون سے اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچا سکیں۔
لیکن خیبر میں رہنے والے بعض یہودی سردار مسلسل مسلمانوں کے خلاف منصوبے بنا رہے تھے۔ وہ مختلف قبائل کو مسلمانوں سے لڑنے پر آمادہ کرتے، دشمنوں کی مدد کرتے اور ہر وقت نئی سازشیں کرتے رہتے تھے۔
پیارے بچو!
آپ کو یاد ہوگا کہ غزوۂ خندق میں مدینہ پر بہت بڑا حملہ ہوا تھا۔ اس حملے کے پیچھے بھی خیبر کے بعض یہودی سرداروں کا بڑا کردار تھا۔ انہوں نے عرب کے مختلف قبائل کو اکٹھا کیا اور مسلمانوں کے خلاف جنگ پر ابھارا تھا۔
صرف یہی نہیں، انہوں نے بنو قریظہ کو بھی معاہدہ توڑنے اور مسلمانوں سے غداری کرنے پر آمادہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ منافقین اور دوسرے دشمن قبائل سے بھی مسلسل رابطے میں رہتے تھے تاکہ مسلمانوں کو نقصان پہنچا سکیں۔
پیارے بچو!
رسول اللہ ﷺ کسی سے بلاوجہ جنگ نہیں کرتے تھے۔ آپ ﷺ ہمیشہ امن کو پسند فرماتے تھے اور چاہتے تھے کہ لوگ سکون سے رہیں، اسی لیے جب تک قریش کا خطرہ موجود تھا، مسلمانوں نے خیبر کی طرف توجہ نہیں دی، کیونکہ ایک وقت میں دو بڑی طاقتوں سے لڑنا مناسب نہیں تھا۔
لیکن جب صلحِ حدیبیہ کے بعد قریش کی طرف سے وقتی امن قائم ہوگیا تو اب خیبر کی مسلسل سازشوں کا خاتمہ کرنا ضروری ہوگیا، تاکہ مدینہ اور اس کے آس پاس کے علاقے محفوظ ہو جائیں اور اسلام کا پیغام امن کے ساتھ لوگوں تک پہنچ سکے۔
پیارے بچو!
رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے صحابۂ کرامؓ کو اس مہم کے لیے تیار ہونے کا حکم دیا۔ سب جانتے تھے کہ خیبر کے مضبوط قلعوں کا مقابلہ آسان نہیں ہوگا، لیکن انہیں یقین تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی مدد شاملِ حال ہو تو کوئی مشکل بڑی نہیں رہتی۔
یوں مسلمان اللہ تعالیٰ کا نام لے کر خیبر کی طرف روانہ ہونے کی تیاری کرنے لگے۔
✺ اس قسط سے حاصل ہونے والے مختصر سبق:
✦ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ امن کو پسند فرماتے تھے اور بلاوجہ جنگ نہیں کرتے تھے۔
✦ دشمن کی مسلسل سازشوں سے ہوشیار رہنا ضروری ہے۔
✦ مشکل فیصلے ہمیشہ حکمت اور دور اندیشی سے کرنے چاہییں۔
✦ مسلمانوں کا مقصد صرف جنگ نہیں بلکہ امن قائم کرنا اور اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا تھا۔
✦ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور نیک مقصد میں ثابت قدمی کامیابی کا راستہ ہے۔
✺ بچوں کے لیے سوالات:
سوال ❶: خیبر مدینہ منورہ سے کس سمت واقع تھا؟
سوال ❷: خیبر کس چیز کے لیے مشہور تھا؟
سوال ❸: صلحِ حدیبیہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے خیبر کی طرف توجہ کیوں فرمائی؟
سوال ❹: غزوۂ خندق میں مسلمانوں کے خلاف قبائل کو اکٹھا کرنے میں کن لوگوں کا کردار تھا؟
سوال ❺: رسول اللہ ﷺ جنگ کے بارے میں کیا طرزِ عمل رکھتے تھے؟
سوال ❻: مسلمانوں کا اصل مقصد کیا تھا؟
سوال ❼: اس پوری قسط کا سب سے اہم سبق کیا ہے؟
========> جاری ہے ۔۔۔
جمع وترتیب: محمد احمد صارم
پیشکش: ”ٹیم صرف اسلام فیس بک گروپ“
Alhadi Online Quran Academy
"Waheed Ullah | Quran Tutor/Teacher | Guiding souls towards spiritual growth | Follow me for Quranic insights, lessons, and inspiration |"
بیت المقدس کے اہم مقامات، قسط: 277
ساکنانِ بیت المقدس:
(صحابہ، تابعین، ائمہ و صلحاء کے احوال و آثار)
پانچواں حصہ:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما — مسجد اقصیٰ سے خصوصی تعلق رکھنے والے عظیم صحابی:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان جلیل القدر صحابۂ کرام میں سے ہیں جو اتباعِ سنت میں اپنی مثال آپ تھے۔ ان کی پوری زندگی رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کی عملی تصویر تھی۔ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ سے ان کا تعلق بھی اسی جذبۂ اتباع کا مظہر تھا۔ اگرچہ انہوں نے بیت المقدس میں مستقل سکونت اختیار نہیں کی، لیکن متعدد مرتبہ وہاں حاضر ہوئے، عبادت کی، اور مسجد اقصیٰ کے آداب و فضائل کو عملی طور پر زندہ رکھا۔
آپ کا نام عبداللہ بن عمر بن الخطاب القرشی العدوی رضی اللہ عنہما ہے۔ آپ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فرزند اور ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے بھائی تھے۔ کم عمری میں اسلام قبول کیا اور رسول اللہ ﷺ کی صحبت سے خوب فیض پایا، حدیث، فقہ، عبادت اور تقویٰ میں آپ کا مقام نہایت بلند تھا۔ آپ سے تقریباً 2630 احادیث مروی ہیں۔
بیت المقدس کی زیارت:
معتبر تاریخی مصادر سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیت المقدس کی زیارت کے لیے تشریف لاتے تھے۔ امام مجیر الدین حنبلی رحمة الله علیه اور دیگر مؤرخین نے نقل کیا ہے کہ آپ مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرتے، طویل ذکر کرتے اور وہاں عبادت میں مشغول رہتے تھے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام مسجد اقصیٰ کو ایک عظیم عبادت گاہ سمجھتے تھے، اگرچہ وہ کسی غیر ثابت فضیلت کا دعویٰ نہیں کرتے تھے۔
مسجد اقصیٰ میں نمازِ فجر کے بعد معمول:
ڈاکٹر جواد بحر النتشة نے اپنی کتاب میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق یہ روایت نقل کی ہے:
"وہ جب مسجد اقصیٰ میں نمازِ فجر ادا کرتے تو طلوعِ آفتاب تک مسجد ہی میں بیٹھے رہتے، پھر اشراق (چاشت) کی نماز ادا کرتے۔"
اس روایت کا مفہوم صحابۂ کرام کے عمومی معمولات سے بھی موافق ہے، کیونکہ صحیح احادیث میں فجر کے بعد ذکر میں مشغول رہنے کی فضیلت ثابت ہے۔
البتہ یہ واضح رہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے اس مخصوص معمول کی مستقل سند تمام حدیثی مصادر میں موجود نہیں، بلکہ یہ زیادہ تر تاریخی اور فضائلِ بیت المقدس کی کتب میں مذکور ہے۔ اس لیے اسے تاریخی روایت کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے، نہ کہ صحیح مرفوع حدیث کے طور پر۔
اتباعِ سنت کی بہترین مثال:
حضرت نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ کے ہر عمل کی پیروی کرتے تھے، حتیٰ کہ جن راستوں سے آپ ﷺ گزرے، وہاں سے گزرنے کی کوشش کرتے۔ (صحیح بخاری، کتاب الاقتداء۔)
اسی مزاج کی وجہ سے مسجد اقصیٰ میں بھی آپ کی عبادت انتہائی خشوع اور سکون کے ساتھ ہوتی تھی۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اکثر راتوں کو قیام کرتے، دن میں نفلی روزے رکھتے، اور قرآن کی تلاوت میں مشغول رہتے۔ امام ذہبیؒ لکھتے ہیں:
"كان من أعبد الناس وأورعهم."
"وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار اور پرہیزگار تھے۔" (سير أعلام النبلاء، جلد: 3)
بیت المقدس کے بارے میں ان کا طرزِ عمل:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مسجد اقصیٰ کی زیارت کی، وہاں نماز ادا کی، لیکن انہوں نے ایسی کسی بدعت یا غیر ثابت عمل کی ترغیب نہیں دی جو رسول اللہ ﷺ یا دیگر صحابہ سے ثابت نہ ہو۔
یہی ان کی سب سے بڑی علمی میراث ہے کہ انہوں نے فضائلِ مسجد اقصیٰ کا احترام بھی کیا اور سنت کی حدود کو بھی برقرار رکھا۔
وفات:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی وفات 73 ہجری میں مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ کو مقبرۂ فخ میں سپردِ خاک کیا گیا۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں درج ذیل امور ثابت ہیں: مسجد اقصیٰ کی زیارت کرنا، وہاں نماز اور عبادت کرنا اور سنت کے مطابق ذکر و عبادت کا اہتمام کرنا۔
البتہ یہ دعویٰ کہ آپ نے بیت المقدس میں مستقل سکونت اختیار کی، معتبر تاریخی مصادر سے ثابت نہیں۔ اسی طرح نمازِ فجر کے بعد طلوعِ آفتاب تک مسجد اقصیٰ میں بیٹھنے کا واقعہ مشہور تو ہے، مگر اس کی سند صحیح حدیث کے درجے تک نہیں پہنچتی، اس لیے اسے احتیاط کے ساتھ نقل کیا جانا چاہیے۔
اہم مراجع و مصادر:
❶ ابن سعدؒ، الطبقات الكبرى، جلد: 4۔
❷ امام ذہبیؒ، سير أعلام النبلاء، جلد: 3۔
❸ امام ابن حجر عسقلانیؒ، الإصابة في تمييز الصحابة، جلد: 4۔
❹ ابن عساکرؒ، تاريخ دمشق۔
❺ مجیر الدین الحنبلیؒ، الأنس الجليل بتاريخ القدس والخليل، جلد:1۔
=========> جاری ہے ۔۔۔
مَعالِمُ القُدس الشریف
پیشکش: الکمال نشریات
جمع وترتیب: محمد احمد صارم
ٰ
”الجزری“ آٹھ سو سال پہلے حیرت انگیز خودکار مشینیں بنانے والا عظیم مسلمان انجینئر:
جب بھی روبوٹ، خودکار مشینوں یا جدید انجینئرنگ کی بات ہوتی ہے تو اکثر لوگوں کے ذہن میں یورپ، جاپان یا امریکہ کا نام آتا ہے۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ آج سے تقریباً آٹھ سو سال پہلے ایک مسلمان انجینئر نے ایسی حیرت انگیز مشینیں بنائیں جنہیں دیکھ کر آج بھی انجینئر حیران رہ جاتے ہیں۔
اس عظیم سائنسدان کا نام بدیع الزمان ابو العز ابن اسماعیل الجزری تھا۔ وہ بارہویں صدی عیسوی میں موجودہ ترکی کے شہر دیار بکر کے قریب آرتقی حکمرانوں کے دربار میں چیف انجینئر تھے۔ انہوں نے تقریباً پچیس سال تک مختلف مشینیں، پانی اٹھانے کے آلات، گھڑیاں اور خودکار نظام تیار کیے۔
الجزری کی پیدائش تقریباً 1136ء میں ہوئی اور وفات 1206ء میں ہوئی۔ ان کا تعلق جزیرہ (میسوپوٹیمیا) کے علاقے سے تھا، اسی نسبت سے وہ "الجزری" کہلائے۔
ان کی سب سے مشہور کتاب "الجامع بین العلم والعمل النافع فی صناعة الحیل" ہے، جسے انہوں نے 1206ء میں مکمل کیا۔ اس کتاب میں تقریباً پچاس مشینوں کی تفصیل، ان کے نقشے، پرزے اور انہیں بنانے کا طریقہ درج ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج بھی تاریخِ سائنس کے ماہرین اس کتاب کو انجینئرنگ کی اہم ترین قدیم کتابوں میں شمار کرتے ہیں۔
الجزری کی حیرت انگیز ایجادات:
❶ خودکار وضو اور ہاتھ دھلوانے والا خادم:
الجزری نے ایک ایسی مشین تیار کی جو انسانی خادم کی شکل میں تھی۔ جب استعمال کرنے والا اس کے سامنے آتا تو یہ خود بخود پانی انڈیلتی، اور مقررہ مقدار ختم ہونے پر تولیہ پیش کرتی۔ یہ نظام پانی کے دباؤ، تیرنے والے حصوں (Floats)، والو اور لیور کے ذریعے چلتا تھا۔ اُس دور میں یہ خودکار خدمت انجام دینے والی مشین انجینئرنگ کا ایک غیر معمولی نمونہ تھی۔
❷ ہاتھی گھڑی:
الجزری کی سب سے مشہور ایجاد ہاتھی گھڑی ہے۔ یہ صرف وقت بتانے والی گھڑی نہیں تھی بلکہ مختلف تہذیبوں کی علامتوں پر مشتمل ایک مکمل خودکار نظام تھا۔ ہر آدھے گھنٹے بعد گیند حرکت کرتی، اژدہا اسے اپنی چونچ میں لیتا، مختلف پرزے حرکت کرتے اور آخر میں وقت ظاہر ہو جاتا۔ یہ پورا نظام پانی کے بہاؤ سے نہایت درست انداز میں چلتا تھا۔
❸ دوہرا پسٹن والا پانی کا پمپ:
الجزری نے ایسا پانی کا پمپ بنایا جس میں دو پسٹن باری باری کام کرتے تھے، جس سے پانی مسلسل اوپر پہنچایا جاتا تھا۔ اس میں کرینک، راڈ اور پسٹن کا استعمال کیا گیا، جو بعد کی صنعتی انجینئرنگ میں بنیادی اہمیت اختیار کر گئے۔ یہ ان کی اہم ترین عملی ایجادات میں شمار ہوتی ہے۔
❹ شمعی گھڑی:
الجزری نے ایسی شمعی گھڑی بھی بنائی جس میں شمع کے جلنے کے ساتھ اندرونی میکانیکی نظام حرکت کرتا تھا۔ جیسے جیسے شمع پگھلتی، ویسے ویسے گھڑی وقت ظاہر کرتی رہتی۔ یہ ایک سادہ مگر نہایت ذہین خودکار نظام تھا۔
❺ خودکار فوارے:
الجزری نے ایسے فوارے تیار کیے جن میں پانی کا بہاؤ اور شکل خود بخود بدلتی رہتی تھی۔ اندر نصب والو، پانی کے دباؤ اور میکانیکی حصوں کی مدد سے فوارے مختلف انداز میں پانی اچھالتے تھے۔ یہ صرف خوبصورتی کے لیے نہیں بلکہ خودکار انجینئرنگ کا بہترین نمونہ بھی تھے۔
❻ کیم شافٹ اور کرینک راڈ کا نظام:
الجزری نے اپنی مشینوں میں کیم شافٹ (Camshaft) اور کرینک راڈ (Crank-Connecting Rod) جیسے اہم میکانیکی اصولوں کا کامیاب استعمال کیا۔ انہی اصولوں پر بعد میں انجن، پمپ اور بے شمار صنعتی مشینیں تیار ہوئیں۔ اسی لیے تاریخِ انجینئرنگ میں الجزری کو میکانیکی نظاموں کے اہم معماروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ ایجادات الجزری کی مستند اور معروف اختراعات میں شمار ہوتی ہیں اور علمی و تاریخی اعتبار سے ان پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔
کیا الجزری نے واقعی روبوٹ بنائے تھے؟
اگر "روبوٹ" سے مراد کمپیوٹر سے چلنے والی مصنوعی ذہانت والی مشین ہو تو جواب نہیں ہے۔ لیکن اگر روبوٹ سے مراد ایسی مشین ہو جو خودکار طریقے سے مخصوص کام انجام دے، تو الجزری کی کئی مشینیں اسی تعریف میں آتی ہیں۔
اسی لیے بہت سے مؤرخ انہیں جدید خودکار مشینوں (Automata) اور میکانیکی انجینئرنگ کے اہم ترین ابتدائی معماروں میں شمار کرتے ہیں۔
الجزری کی کتاب کی اہمیت:
ان کی کتاب "الجامع بین العلم والعمل النافع فی صناعة الحیل" صرف نظری باتیں نہیں کرتی بلکہ ہر مشین کا مکمل نقشہ، پرزوں کی ترتیب اور بنانے کا طریقہ بھی بیان کرتی ہے۔
اسی وجہ سے آج بھی دنیا کی کئی یونیورسٹیوں میں تاریخِ سائنس اور انجینئرنگ پڑھانے کے دوران اس کتاب کا ذکر کیا جاتا ہے۔
الجزری کی زندگی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ مسلمان سائنس دان صرف فلسفہ یا ریاضی تک محدود نہیں تھے، بلکہ انہوں نے عملی انجینئرنگ، پانی کے نظام، گھڑی سازی اور خودکار مشینوں میں بھی اہم خدمات انجام دیں۔
بحوالہ:
الجامع بین العلم والعمل النافع فی صناعة الحیل (1206ء)
============
عربی سے اردو ترجمہ:
محمد احمد صارم
کتاب زبدۃ الفقہ سید زوار حسین شاہ رحمہ اللہ
قسط نمبر 7
فرشتوں پر ایمان لانا
فرشتوں پر ایمان لانے سے مراد یہ ماننا ہے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ہیں، وہ سب نور سے پیدا ہوئے ہیں، دن رات عبادتِ الہی میں مشغول رہتے ہیں، ہماری نظروں سے غائب ہیں، وہ نہ مرد ہیں نہ عورت، رشتہ ناتے کرنے اور کھانے پینے کے محتاج نہیں، تمام فرشتے معصوم ہیں اللہ کی نافرمانی اور گناہ نہیں کرتے۔ جن کاموں پر اللہ تعالیٰ نے انہیں مقرر فرما دیا ہے انہی میں لگے رہتے ہیں اور تمام کام و انتظام اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق پورا کرتے ہیں۔وہ بے شمار ہیں ان کی گنتی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان میں سے چار فرشتے مقرب اور مشہور ہیں۔
1. حضرت جبرائیل علیہم السلام۔جو اللہ تعالیٰ کی کتابیں اور احکام و پیغام پیغمبروں کے پاس لاتے تھے بعض مرتبہ انبیاء علیہم السلام کی مدد کرنے اور اللہ و رسول کے دشمنوں سے لڑنے کے لئے بھی بھیجے گئے بعض مرتبہ اللہ۔تعالیٰ کے نافرمان بندوں پر عذاب بھی ان کے ذریعے سے بھیجا گیا
2. حضرت میکائیل علیہم السلام۔جو بارش وغیرہ کا انتظام کرنے اور مخلوق کو روزی پہچانے کے کام پر مقرر ہیں اور بے شمار فرشتہ ان کی ماتحتی میں کام کرتے ہیں۔ بعض بادلوں کے انتظام پر مقرر ہیں، بعض ہواؤں کے انتظام پر مامور ہیں اور بعض دریاؤں اور تالابوں اور نہروں پر مقرر ہیں اور ان تمام چیزوں کا انتظام اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کرتے ہیں۔
3. حضرت اسرافیل علیہم السلام۔جو قیامت میں صور پھونکیں گے
4. حضرت عزرائیل علیہم السلام۔جو مخلوق کی روحیں قبض کرنے یعنی جان نکالنے پر مقرر ہیں، ان کو ملک الموت بھی کہتے ہیں، ان کی ماتحتی میں بھی بے شمار فرشتے کام کرتے ہیں، نیک بندوں کی جان نکالنے والے فرشتے علیحدہ اور بدکار آدمیوں کی جان نکالنے والے علیحدہ ہیں،
یہ چاروں فرشتے باقی سب فرشتوں سے افضل ہیں ان کے علاوہ اور فرشتے بھی ہیں جو آپس میں کم زیادہ مرتبہ رکھتے ہیں، یعنی کوئی زیادہ مقرب ہے کوئی کم۔
ان میں سے مشہور فرشتے یہ ہیں
کراماً کاتبین۔ حفظہ۔ منکر نکیر۔ مجالس ذکر تلاوت و دیگر اعمال خیر میں حاضر ہونے والے فرشتے۔ رضوان یعنی داروغۂ جنّت اور ان کے ماتحت فرشتے مالک یعنی داروغۂ جہنم۔اللہ تعالیٰ کا عرش اٹھانے والے فرشتے۔ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی یاد و عبادت و تسبیح و تحمید و تہلیل و تقدیس میں مشغول رہنے والے فرشتے، سب فرشتے معصوم ہیں، ان میں سے بعض دو پر رکھتے ہیں بعض تین اور بعض چار پر بھی رکھتے ہیں اور بعض بہت زیادہ، ان پروں کی حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ سب باتیں قرآن مجید اور صحیح حدیثوں میں مذکور ہیں ان میں شک کرنا یا ان کی توہین و دشمنی کفر وبال ہے۔
جہنم سے برأت کا نبوى نسخہ
صبح و شام چار مرتبہ پڑھیں
اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَصْبَحْتُ اُشْهِدُكَ وَاُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ وَمَلَآئِكَتَكَ وَجَمِيْعَ خَلْقِكَ اَنَّكَ اَنْتَ اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُوْلُكَ
ترجمہ: اے اللہ ! میں نے اس حالت میں صبح کی ہے کہ میں آپ کو گواہ بناتا ہوں اور میں گواہ بناتا ہوں آپ کے عرش اٹھانے والے فرشتوں کو ، اور آپ کے تمام فرشتوں کو اور آپ کی تمام مخلوق کو یقیناً آپ ہی اللہ ہیں ، آپ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، آپ تنہا ہیں ، آپ کا کوئی ساجھی نہیں۔ اور یہ بات یقینی ہے کہ محمد (ﷺ) آپ کے بندے اور رسول ہیں۔
فضیلت: جو شخص صبح اور شام کے وقت چار مرتبہ یہ دعا پڑھ لے تو اللہ تعالىٰ جہنم سے اس کو آزاد فرما دیتے ہیں ۔(اخرجہ ابوداود 3/317، بخاری فی ادب المفرد رقم: 1201)
وضو کی سنتیں
أشْہَدُ أنْ لَّا إلٰہَ إلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَأشْہَدُ أنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ
1 وضو گھر میں کرنا
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ جو شخص اپنے گھر میں وضو کرے اور فرض نماز ادا کرنے کیلئے مسجد کی طرف چل کر جائے تو اس کے ایک قدم پر اس کی ایک غلطی مٹا دی جاتی ہے اور دوسرے پر اس کا ایک درجہ بلند کردیا جاتا ہے۔‘‘ [مسلم]
2 وضو سے پہلے ’ بسم اللہ ‘ پڑھنا۔
3 وضو کے شروع میں اپنی ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھونا۔
4 چہرہ دھونے سے پہلے کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا۔
5 بائیں ہاتھ کے ساتھ ناک جھاڑنا۔
ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنی ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھویا،پھر کلی کی،پھر ناک میں پانی چڑھایا اور اسے جھاڑا،پھر اپنا چہرہ تین مرتبہ دھویا۔ [بخاری ومسلم]
6 کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرنا(پورے منہ میں پانی گھمانا اور ناک کے آخری حصے تک پانی پہنچانا)
ایک حدیث میں ہے:
’’ ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کیا کرو،الا یہ کہ تم روزہ دار ہو۔‘‘ [سنن اربعہ]
7 ایک ہی چلو سے کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیلی میں پانی بھرا اور ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا۔ [بخاری ومسلم]
8 کلی کے وقت مسواک کرنا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ:
’’ اگر مجھے امت کی مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں انھیں ہر وضو کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔‘‘ [احمد،نسائی]
9 چہرہ دھوتے ہوئے گھنی داڑھی کا خلال کرنا:
ایک حدیث میں ہے کہ
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کے دوران اپنی داڑھی کا خلال کیا کرتے تھے۔‘‘ [ترمذی]
10 مسنون کیفیت کے مطابق مسح کرنا:
’’ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھوں کو سر کے شروع سے گُدی تک لے جاتے،پھر انھیں اسی طرح سر کے شروع تک واپس لے آتے۔‘‘ [بخاری ومسلم]
یہی مسنون کیفیت ہے مسح کی۔تاہم اگر کوئی شخص پورے سر پر ہاتھ پھیر لے تو اس سے بھی وضو کا فرض پورا ہو جائے گا۔جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسح اِس طرح کیا کہ اپنے ہاتھوں کو آگے سے پیچھے اور پیچھے سے آگے لے گئے۔ [متفق علیہ]
11 ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرنا:
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ مکمل وضو کیا کرو اور انگلیوں کے درمیان خلال کیا کرو۔‘‘
[سنن اربعہ]
12 ہاتھ پاؤں دھوتے ہوئے پہلے دائیں ہاتھ پاؤں کو دھونا:
حدیث میں ہے کہ:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتا پہنتے ہوئے اور طہارت میں دائیں طرف پسند تھی۔‘‘ [بخاری،مسلم]
13 چہرہ،ہاتھ،بازو اور پاؤں کو ایک سے زیادہ(تین مرتبہ تک)دھونا۔
14 پانی بہاتے ہو�
صحیح مسلم
کتاب: فضائل قرآن کا بیان
باب: نماز میں قرآن مجید پڑھنے اور اسے سیکھنے کی فضلیت کے بیان میں
حدیث نمبر: ١٨٧٢
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُحِبُّ أَحَدُکُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَی أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَأُ بِهِنَّ أَحَدُکُمْ فِي صَلَاتِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ
Translation:
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Would any one of you like, when he returns to his family, to find there three large, fat, pregnant she-camels? We said: Yes. Upon this he said: Three verses that one of you recites in his prayer are better for him than three large, fat, pregnant she-camels.
صحیح مسلم
کتاب: فضائل قرآن کا بیان
باب: نماز میں قرآن مجید پڑھنے اور اسے سیکھنے کی فضلیت کے بیان میں
حدیث نمبر: ١٨٧٢
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُحِبُّ أَحَدُکُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَی أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَأُ بِهِنَّ أَحَدُکُمْ فِي صَلَاتِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ
ترجمہ:
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوسعید اشج، وکیع، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی اس کو پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر والوں کی طرف واپس جائے تو وہاں تین حاملہ اونٹنیاں موجود ہوں اور وہ بہت بڑی اور موٹی ہوں ہم نے عرض کیا کہ جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو کوئی اپنی نماز میں تین آیات پڑھتا ہے وہ تین بڑی بڑی موٹی اونٹنیوں سے اس کے لئے بہتر ہے۔
Translation:
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Would any one of you like, when he returns to his family, to find there three large, fat, pregnant she-camels? We said: Yes. Upon this he said: Three verses that one of you recites in his prayer are better for him than three large, fat, pregnant she-camels.
Al-Quran
Surah No. 23 - Ayah No. 6
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِلَّا عَلٰٓى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَۚ ۞
اِلَّا: مگر | عَلٰٓي: پر۔ سے | اَزْوَاجِهِمْ: اپنی بیویاں | اَوْ: یا | مَا مَلَكَتْ: جو مالک ہوئے | اَيْمَانُهُمْ: ان کے دائیں ہاتھ | فَاِنَّهُمْ: پس بیشک وہ | غَيْرُ مَلُوْمِيْنَ: کوئی ملامت نہیں
Translation:
except from their wives or from those (bondwomen who are) owned by their hands, as they are not to be blamed.
القرآن - سورۃ نمبر ٢٣ المؤمنون
آیت نمبر ٦
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِلَّا عَلٰٓى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَۚ ۞
لفظی ترجمہ:
اِلَّا: مگر | عَلٰٓي: پر۔ سے | اَزْوَاجِهِمْ: اپنی بیویاں | اَوْ: یا | مَا مَلَكَتْ: جو مالک ہوئے | اَيْمَانُهُمْ: ان کے دائیں ہاتھ | فَاِنَّهُمْ: پس بیشک وہ | غَيْرُ مَلُوْمِيْنَ: کوئی ملامت نہیں
ترجمہ:
مفتی محمد تقی عثمانی
سوائے اپنی بیویوں اور ان کنیزوں کے جو ان کی ملکیت میں آچکی ہوں۔ کیونکہ ایسے لوگ قابل ملامت نہیں ہیں۔
Muhammad Taqi Usmani
except from their wives or from those (bondwomen who are) owned by their hands, as they are not to be blamed.
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
تفسیر:
5: اس سے مراد وہ کنیزیں ہیں جو شرعی احکام کے مطابق کسی کی ملکیت میں آئی ہوں لیکن آج کل ایسی کنیزوں کا کوئی وجود نہیں رہا۔
بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
سورۃ نمبر ٢٣ المؤمنون
آیت نمبر ٦
تفسیر:
آیت 6 اِلَّا عَلآی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ ”
ان کا چوتھا وصف یہ بیان ہوا کہ وہ صرف جائز طریقے سے اپنی جنسی خواہش پوری کرتے ہیں اور اس میں کچھ مضائقہ نہیں۔ یعنی جنسی جذبہ فی نفسہُٖ برا نہیں ‘ بلکہ برائی اس کے غلط استعمال میں ہے۔ اسلام کے سوا دوسرے مذاہب میں تجرد کی زندگی بسر کرنا اور اپنے جنسی جذبہ کو ‘ جو فطرت اور جبلتّ میں ایک نہایت قوی جذبہ ہے ‘ کچلنا ایک اعلیٰ ترین روحانی قدر قرار دیا جاتا ہے ‘ جبکہ اسلام دین فطرت ہے ‘ چناچہ وہ اس فطری و جبلی جذبہ کو بالکلیہ کچلنے اور دبانے کو قطعاً پسند نہیں کرتا۔ اس کا منشا و مدعا یہ ہے کہ اس جذبہ کی تسکین کے لیے جائز اور حلال راہیں اختیار کی جائیں۔ نکاح کو اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے اپنی سنتوں میں سے ایک سنتّ قرار دیا ہے۔ چناچہ یہاں جنسی تسکین کے جائز راستوں کے لیے ”غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ“ کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Mianwali