07/06/2026
ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ
اس کے بعد تو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے
(افتخار عارف)
••••••••••••••••••
ویسے تو پورا ملک بلکہ پورا خطہ شدید اضطراب کا شکار ہے۔ ایران امریکا جنگ اور اس سے پیدا ہونے والے شدید معاشی اور دفاعی مسائل نے اس ریجن کے تمام ممالک کی پہلے سے کمزور معیشتوں کو ایسے جکڑا ہے کہ اب بظاہر اس سے جان چھڑانے کے مستقبل قریب میں کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ دوسرے شعبہ جات کی طرح تعلیم کا شعبہ بھی اس جکڑن کا شکار ہے۔اساتذہ کی کمی شدید مالی مسائل اوپر سے نت نئے مطالبے اور ٹارگٹس اور ساتھ حوصلہ افزائی کے بجائے معلم جیسے قابل احترام منصب کو آئے روز کسی نہ کسی طرح تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس سے پہلے سے موجود مایوسی اور نا امیدی میں مزید اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ ایک طرف انرولمنٹ ٹارگٹس دیے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ہر صورت میں یہ تعداد پوری کرنی ہی کرنی ہے۔ہیڈز بچارے پریشانی میں ہاتھ پاؤں مارتے ہیں اور "کسی نہ کسی طرح" مطلوبہ تعداد کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ظاہر ہے یہ داخلے کا آرگینک طریقہ کار نہیں ہوتا اس میں نہ کوالٹی رہتی ہے اور نہ ہی کوانٹٹی مطلب نہ میعار اور نہ ہی مقدار ۔ وقتی طور پر "فگرز" حاصل کرلیے جاتے ہیں لیکن کچھ عرصے بعد صورت حال بگڑنے لگتی ہے۔ غیر سنجیدہ منت سماجت کے ذریعے داخل ہونے والے اور " گھوسٹ" طلباء اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیتے ہیں اور MEAs کی وزٹس کے دوران یہی طلباء کلاس انچارج اور سکول ہیڈز کیلئے درد سر بن جاتے ہیں۔ سالانہ امتحانات میں ایسے طلباء سکول انتظامیہ کیلئے ایک نئی پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔عدم دلچسپی، بےقاعدگی اور کمزور تعلیمی حالت کی وجہ سے سکول بیسڈ امتحانات میں انہیں اگر فیل کیا جائے تو یہ سکول چھوڑ جاتے ہیں اور اگر پاس کردیا جائے جو اکثر کردیا جاتا ہے تو پھر بورڈ کے امتحانات میں ان کی یقینی ناکامی دوسرے سوالیہ نشان چھوڑ جاتی ہے ۔نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی ہر طرف سرکاری سکولز اور ان کے اساتذہ کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا جاتا ہے اور سرکاری سطح پر کمزور نتائج پر شو کاز کے ذریعے محکمانہ کاروائی کا آغاز کردیا جاتاہے۔اعلیٰ حکام دانش سکولز اور ان جیسے دوسرے اداروں کے ساتھ موازنہ اور تقابلی جائزہ پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں جہاں سخت داخلہ ٹیسٹ کے بعد میرٹ پر طلباء کو داخل کیا جاتا ہے۔ جبکہ سرکاری سکولز میں داخلہ ٹیسٹ کب کا شجر ممنوعہ بن چکا ہے۔صاحب اختیار کہتے ہیں کہ سکول میں داخلے کیلئے آنے والے کسی بھی طالب علم کو انکار نہیں کرنا۔اس دفعہ میں نے اپنے سکول میں جماعت ششم سے لیکر نہم تک ایسے طلباء کو داخل کیا جو واقعی اپنا نام تک صحیح نہیں لکھ سکتے ۔پڑھانے والے اساتذہ کرام ہمدردانہ امید کے ساتھ سوال کرتے رہے کہ سر ان کو بھی داخلہ دینا ہے۔جواب تھا" جی بالکل "انرولمنٹ ٹارگٹ کے حصول کیلئے ۔۔۔۔۔دوسرے انتظامی مسائل کیا کم ہیں کہ سرکاری تعلیمی اداروں کے سربراہان کو ان مشکلات کے ساتھ مالی مسائل کے چیلنجز کا بھی سامنا رہتا ہے فنڈز کی کمی کی وجہ سے یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی درد سر بنی رہتی ہے۔ دوسرے سکولز کی طرح ہمارا سکول بھی گزشتہ چند سالوں سے ایسی ہی صورت حال سے نمٹ رہا ہے۔سکول کے نان سیلری بجٹ کی مد میں سالانہ اڑھائی لاکھ ملتے ہیں۔اس قلیل رقم سے سکول کا ترقیاتی اور تعمیر و مرمت کا پلان کس طرح بنایا جا سکتا ہے" کوئی بتلائے یا ہم بتلائیں کیا" ۔اوپر سے صرف بجلی بلز کی ادائیگی کیلئے درکار رقم چار لاکھ سے اوپر رہتی ہے۔ عدم ادائیگی بلز بجلی گزشتہ دنوں واپڈا نے کنکشن منقطع کردیا تھا منت سماجت کے بعد عارضی طور پر کنکشن بحال ہوا ہے لیکن اگر بلز جمع نہ ہوئے تو جون کے مہینے میں دوبارہ کنکشن منقطع ہو جائے گا۔ تمام متعلقہ فورمز پر درخواست کی گئی ہے لیکن ابھی تک مسئلہ حل ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ان تمام مشکلات کے باوجود ہمارے سکول کی طرح دوسرے ادارے پرفارم کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی کار کردگی پر تنقید ضرور کی جائے لیکن ساتھ ان مشکلات اور چیلنجز کو بھی سامنے رکھا جائے جن کا سامنا ان اداروں کی انتظامیہ کر رہی ہے۔ دوسری اصلاحات کے ساتھ ساتھ اگر ان اداروں کو وسائل مہیا کیے جائیں اور میرٹ بیسڈ داخلہ ہو اور پاس فیل کاتصور پرائمری سطح سے شروع ہو جیسے اچھے پرائیوٹ تعلیمی اداروں کی چیننز میں ہوتا ہے تو یقینی طور پر سرکاری تعلیمی اداروں میں بھی مزید بہتری ممکن ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں اصلاحات اور نئی تعلیمی پالیسیوں کے ذریعے تبدیلی لانے کی کوشش جاری ہے ۔ اپنے منشور کے مطابق پالیسی بنانا ہر حکومت کا حق ہے۔عوام کو تعلیم ،صحت اور دوسری سہولیات دینا حکومت وقت کی آئینی ذمہ داری ہے لیکن کوالٹی ایجوکیشن کیلئے جب تک طویل منصوبہ بندی اور واضح اہداف مقرر نہ کیے جائیں کوئی فائدہ نہیں ملنے والا۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی آؤٹ سورسنگ ، پیف ماڈل اور دوسرے طریقہ کار سے اب تک جو نتائج سامنے آئے ہیں وہ کسی طرح بھی حوصلہ افزا نہیں ہیں۔انفرادی سطح پر کچھ ادارے شاید بہتر پرفارم کر رہے ہوں لیکن مجموعی طور پر صورت حال بہت نازک اور پریشان کن ہے۔ کوالٹی ایجوکیشن اب خواب بنتی جا رہی ہے۔بڑھتی آبادی ،کم ہوتے وسائل ، عدم استحکام اور بے روزگاری اور شدید غربت نے طلباء کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کو تعلیم سے دور کرنا شروع کر دیا ہے۔ میٹرک، انٹر تو ایک طرف جب ڈاکٹرز، انجینئرز اور پی ایچ ڈی سکالرز بے روزگار رہیں گے تو کون تعلیم کی طرف راغب ہو گا۔کہنے کو تو یہ بہت اچھا لگتا ہے کہ علم بڑی دولت ہے لیکن اس سے گھر کا چولہا تو نہیں جلتا اور نہ ہی بیمار کو دوا ملتی ہے۔ ہمارے جیسے ممالک میں تعلیم برائے روزگار کا تصور اس وقت تک رہے گا جب تک ریاست واقعی ماں جیسی نہیں بن جاتی ۔۔۔۔۔۔۔۔
---------------------------------
23/05/2026
20/05/2026
19/05/2026