11/08/2023
The richest tomb of the fifth millennium BC
In the 1970s, archaeological excavations in Bulgaria, near the modern city of Varna, identified a large Copper Age necropolis, dating back to the 5th millennium BC, which featured the oldest gold artifacts ever discovered until that time.
The most prestigious burial was tomb , inside which the remains of a man of the highest rank were found... the first elite male burial known in Europe.
05/01/2023
ڈاکٹر شیر افگن خان ۔۔۔اپنے مادر علمی گورنمنٹ کالج میانوالی میں ۔۔اوپن ائیر تھیٹر کا 23 جون 1979 کو افتتاح کر رہے ہیں ۔۔۔(سلیم احسن)
05/01/2023
قلعہ کافر کوٹ کا پولیٹیکل سو سائٹی کا ٹور۔۔۔۔۔تصویر میں پروفیسر منظور احمد ۔۔۔پروفیسر سلیم احسن اور پروفیسر اشفاق خان نظر آ رہے ہیں
04/10/2021
college students, staff and NCC staff. 1965
12/09/2021
کیلاش اور چترال کا سفر
تحریر۔۔۔وقاراحمدملک
قسط نمبر 14
سب سے مشہور تہوار ''چاوموس'' جاتے سال کو الوداع کہنے اور آنے والے سال کا خیرمقدم کرنے کے لیے منعقد کیا جاتا ہے۔ یہ تہوارسات دسمبر سے شروع ہوکر بائیس دسمبرتک دو ہفتے جاری رہتا ہے۔ تہوار کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم نے تین موسم خیرخیریت سے گزار لیے اور موسمِ سرما بھی اس تہوار کی خیروبرکت کے باعث ہم خیریت سے گزارنا چاہتے ہیں۔اس تہوار میں کیلاشی لوگ پچھلے موسموں کے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور آئندہ موسم میں گناہوں سے بچنے کا عہد کرتے ہیں۔اس تہوار کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں آئندہ موسم کی پیشن گوئی کی جاتی ہے۔ اس کام کے لیے لومڑی کو بھگایا جاتا ہے۔ اگر لومڑی بھاگتے بھاگتے دھوپ میں چلی جائے تو اچھے موسم کی علامت سمجھا جاتا ہے اور اگر چھاؤں میں پہنچ جائے تو برے موسم کی بدشگونی قرار دیا جاتا ہے۔ ایک مقامی فرد نے بتایا کہ اس تہوار کے دوران پندرہ دسمبر سے اکیس دسمبر تک وادی رمبور میں اور اٹھارہ دسمبر سے اکیس دسمبر تک وادی بمبوریت میں غیرکیلاش لوگوں کے وادیوں میں داخلے پر پابندی رہتی ہے۔ تاہم بریر میں باہر کے لوگ آ جا سکتے ہیں۔ ان پابندیوں کو اگر کوئی شخص توڑتا ہے تو سزا کے طور پر اس پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔چاوموس کے اس تہوار میں 350 بکرے ذبح کیے جاتے ہیں۔ ملوش اور شل یعنی عبادت گاہوں اور مویشی خانوں میں ذبح کیے جانے والے جانوروں کا گوشت خواتین نہیں کھا سکتیں۔ جن جانوروں کو گھر میں ذبح کیا جاتا ہے اس کا گوشت مَردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی کھا سکتی ہیں۔مقامی روایات کے مطابق اس تہوار کے دوران رمبور کے گاؤں میں مرد ایک ہفتہ تک اپنی بیویوں کے قریب نہیں جا سکتے۔ بمبوریت میں تین دنوں کی پابندی ہے جبکہ بریر میں ایسی کوئی پابندی نہیں۔ ہر روز نت نئی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ دل کھول کر رقص کیا جاتاہے، گیت گائے جاتے ہیں اور بزرگ لوگ اپنے قبیلے کی بہادری اور دلیری کی داستانیں بیان کرتے ہیں۔ اسی تہوار میں کئی جوڑے اپنی نئی زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔ ان کی شادیاں ذاتی پسند پر مبنی ہوتی ہیں۔ عورتوں اور مَردوں میں گانے بجانے کے مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں۔ غرض یہ دو ہفتے کا جشن یہ لوگ بھرپور انداز میں مناتے ہیں۔ شادی سے قبل نوجوان جوڑے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر ایک ساتھ زندگی گزارنے کا اعلان کرتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورا میدان شادی کے خواہاں نوجوان جوڑوں سے بھر جاتا ہے۔ اس موقع پر خوشی کے گیت گائے جاتے ہیں۔ بانسریوں کے ذریعے سے مسرت بھری دھنیں بکھیری جاتی ہیں۔ سارا ماحول خوشی کے شادیانوں سے بھر جاتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد یہ جوڑے اپنے گھروں کو رخصت ہو جاتے ہیں۔ عزیز واقارب باری باری گھر جا کر ان کو مبارکباد دیتے ہیں۔ کیلاشی روایت کے مطابق جب لڑکا لڑکی لے کر گھر جاتا ہے تو لڑکے کا والد لڑکی کے گھر والوں سے اس رشتے کی اجازت طلب کرتا ہے۔ لڑکی کے گھر والے لڑکے کے گھر آ کر لڑکی کی پسند اور مرضی کا پوچھتے ہیں۔ جب لڑکی اپنی پسند اور رضامندی کا اظہار کردے تو رشتہ طے پا جاتا ہے۔ پھر لڑکے کا خاندان لڑکی کے خاندان کی دعوت کرتا ہے۔ اس دعوت میں رشتے دار نئے جوڑے کو تحائف دیتے ہیں۔ شادی کیچوتھے دن لڑکی کا ماموں لڑکے کے گھر آ کر تحفے کے طور پر ایک بندوق اور ایک بیل لے جاتا ہے۔ تحائف کا یہ سلسلہ دونوں گھرانوں کے مابین کافی دنوں تک چلتا رہتا ہے۔ شادی کی باقاعدہ تقریب کیلاشی ٹیمپل میں ہوتی ہے جہاں جوڑے کو لایا جاتا ہے اور جانوروں کی قربانیکی جاتی ہے۔ جانوروں کے خون کے چند قطرے میاں بیوی کے سر پرچھڑکے جاتے ہیں۔ خون کے چھڑکاؤ سے ہی ان کے مذہب میں نکاح کی رسم مکمل ہو جاتی ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ لوگ کزن میرج کے خلاف ہیں۔ شادیاں سات سے دس پشت قبل کے رشتہ داروں میں جاتی ہیں۔ کیلاشی روایات میں مرد کے نسبت عورت کو زیادہ آزادیاں حاصل ہیں۔ اگر ایک شادی شدہ عورت کو کوئی اور مرد پسند ا ٓ جائے تو وہ اس سے شادی کرنے میں آزاد ہے۔ خاتون کی دوسری شادی میں پہلا شوہر رکاوٹ پیدا نہیں کر سکتا۔
پہلے بچے کی پیدائش پر بھی خوب ہلا گلا کیا جاتا ہے۔ لڑکے والے ایک بڑی دعوت کا اہتمام کرتے ہیں جس میں بکرے اور بیل ذبح کیے جاتے ہیں۔ اگر دوسرا بچہ بھی پہلے بچے کی جنس کا ہو تو گذشتہ دعوت کی طرح دوبارہ ایسی ہی دعوت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دعوتوں کا یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب پیدا ہونے والے بچے کی جنس بدل نہ جائے۔
کیلاش کے لوگوں کا ایک اور مقبول تہوار '' اوچاؤ'' کا تہوار ہے جو فصل کی کٹائی اور پھلوں کے پکنے پر منعقد کیا جاتا ہے۔ اس تہوار میں بھی تینوں وادیوں کے لوگ دشوار گزار راستوں پر چل کر بمبوریت کے گاؤں میں اکٹھے ہوتے ہیں اور خوب ہلا گلا کرتے ہیں۔یہ تہوار گرمیوں کے موسم کے اختتام کا اعلان سمجھا جاتا ہے۔ اس تہوار کے بعد پہاڑوں کی بلند چوٹیوں پر موجود کیلاشی چرواہے اور گڈریے سردیوں کی آمد کے باعث نیچے وادیوں میں اترنا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر وہ مزید کچھ دن وہاں ٹھہرے رہے تو موسم کی اچانک تبدیلی نہ صرف ان کے لیے بلکہ مویشیوں کے لیے بھی خطرے کا موجب بن سکتی ہے۔ جون جولائی کے مہینوں میں جہاں کیلاش کے علاقوں میں مکئی اور گندم کی فصل تیار ہوتی ہے وہاں خوبانی، سیب، آڑو، توت، شہتوت اور آلوبخارے کے پھل بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ ''اوچاؤ'' کا تہوار نصف اگست میں شروع ہوتا ہے۔ گرمیوں کے باعث کافی تعداد میں ملکی اور غیرملکی سیاح بھی اس میلے میں شرکت کرتے ہیں۔ کیلاشی میزبان اپنے مہمانوں کو اس خوشی کے موقع پر مکئی کی روٹی کے ساتھ انواع و اقسام کے کھانے اور لسی، پنیر وغیرہ پیش کرتے ہیں۔ اس دوران کیلاشی خواتین اپنے مخصوص سیاہ لباس پہن کر دائروں میں مقامی روایتی رقص پیش کرتی ہیں۔
10/06/2021
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
ڈاکٹر سرور نیازی صاحب کی ایک یادگار تصویر
12/02/2021
میانوالی۔۔۔میونسپل کمیٹی ہال میں۔۔۔میانوالی سے تعلق رکھنے والے ۔۔معروف افسانہ نگار ناول نگار۔۔۔بیشمار کتابوں کےمصنف۔۔۔رام لعل۔۔کے اعزاز میں ایک یاد گار تقریب۔۔۔سٹیج پر موجود۔۔۔رام لعل کے علاوہ ان کے بچپن کے دوست۔۔سلطان کندی۔۔معروف افسانہ نگار لیہ کے سینٸر سول جج غلام عباس اور منور علی ملک۔۔۔میانوالی اکیڈمی کے زیر اہتمام یہ تقریب منعقد ہوٸ