12/09/2024
اپوریلی برازیل کا ایک جرنلسٹ تھا.
بچپن میں سکول کلاس روم میں استاد نے اس سے پوچھا۔
" ہمارے کتنے گردے ہوتے ہیں؟"
اپوریلی نے سکون سے کہا چار گردے۔۔
استاد کا قہقہہ نکل گیا۔۔
کلاس روم سے کہا دیکھو ہمارے درمیان ایک گدھا بھی موجود ہے۔ اگے بیٹھے ایک طالب علم سے کہا۔ جاو گھاس لے کر آو. آج گدھے کو گھاس کھلاتے ہیں۔۔
بچہ جب باہر نکلنے لگا تو اپوریلی نے اسے کہا دیکھو گدھے کیلئے گھاس لاتے ساتھ میرے لئے چائے کا کپ لیتے آنا۔۔
استاد یکدم غصے سے بھڑک گیا۔کہا نکلو میری کلاس سے ایک تو گردوں کا پتہ نہیں دوسرا مجھے ہی گدھا کہہ رہے ہو۔۔
کلاس سے نکلتے نکلتے اپوریلی نے کہا سر آپ نے پوچھا تھا ہمارے کتنے گردے ہوتے ہیں. تو ہم دونوں کے ملا کر چار ہی گردے بنتے ہیں۔۔
اگر آپ کو میرا جواب سمجھ نہیں آیا تو پلیز اپنے سوال کو ضرور چیک کر لیں۔۔
ایک چیز علم یعنی knowledge ہوتی ہے.
ایک سمجھ یعنی understanding ہوتی ہے.
ہم میں اکثریت کا مسئلہ علم نہیں یہی understanding ہے۔۔۔
یہی سمجھ کبھی ہم سے بلاوجہ قہقہے لگواتی ہے. کبھی یکدم آپے سے باہر کروا دیتی ہے۔۔
کیوں...؟ اس کیوں پر ہم کیونکہ سوچتے کم ہیں. اور یہی کیوں انسان کی understanding بناتی ہے۔۔
منقول
10/08/2024
بچے آپ کو حیران کر دیتے ہیں. مثلاً آپ نے ٹافیوں کا ڈبہ اپنی دانست میں ان کی پہنچ سے کافی اونچا رکھ دیا تب بھی یہ مختلف چیزیں ملا کر اوپر پہنچ جاتے ہیں. جیسے سٹول سے صوفہ اور اس سے ٹیبل پر پہنچ جائیں گے. اسے چالاکی کہتے ہیں.
لیکن فرض کیا وہاں یہ اسباب دستیاب نہ ہوں اور ایک گروپ کو آپ چیلنج کریں کے مل کر کوئی طریقہ ڈھونڈو تو تدبیر کی اس تلاش کو ذہانت کہا جاتا ہے. کوئی ایک دو بچے کوئی نہ کوئی حل ڈھونڈ لیں گے اسباب بنا لیں گے. کوشش ضرور کریں گے بھلے کامیاب نہ ہوں.
یہ دونوں صلاحیتیں فطرت نے بچوں کو دی ہیں. لیکن ایک صلاحیت ہمیں ہمیشہ اپنے بچوں کو سکھانی ہوتی ہے. مثلاً اجازت لینا، پوچھ لینا، کیا آپ ان ٹافیوں کے ڈبے میں سے چند ٹافیاں دے سکتے ہیں.؟ اسے دانائی کہتے ہیں. دانائی وہ سبق ہے جو اسباب و تدبیر ہوتے ہوئے بھی اجازت مانگنا ضروری سمجھے. اس لئے یہ وہاں بھی راستہ ڈھونڈ لیتی ہے جہاں بظاہر منزل تک کوئی راستہ نظر ہی نہ آتا ہو.
یہ دانائی ہی ہے جو ہمیں بتاتی ہے اسباب کی اس دنیا کا ایک مالک و مختار ہے. وہ ہمیں دیکھ رہا ہے آزما رہا ہے.
جو بچے صرف چالاک بن جاتے ہیں وہ اپنے مقصد کیلئے کوئی بھی راستہ اور کسی کو بھی اپنا راستہ بنا کر منزل تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ چالاکی۔۔۔۔فوری نتائج دیتی ہے. لیکن معاشرے کا اعتبار کھا جاتی ہے.
ذہانت۔۔۔۔ تدبیر کرتی ہے۔ لیکن اگر کوئی تدبیر کام نہ آئے تو بہت ذہین لوگ بھی مایوس ہو جاتے ہیں۔۔۔ جبکہ
دانائی۔۔۔۔۔ انسان کو انسان سے اور اپنے اس مالک و مختار سے جوڑ دیتی ہے جو اسباب بھی بنا سکتا ہے اور راستے بھی وہی تخلیق کرتا ہے۔
اس لئے دانائی ایک دوسرے پر اور اللہ رب العالمین پر اعتبار و اعتماد کا نام ہے۔
آج ہم اپنے بچوں کو دانائی نہیں سکھاتے. ہمارے بچے چالاک بھی ہیں اور ذہین بھی لیکن یہ پھر بھی ایک دوسرے سے ڈرتے ہیں. یہ اپنی بے بسی کمزوری چھپاتے ہیں. یہ تو دعا مانگتے بھی شرماتے ہیں. اس لئے نماز پڑھتے ہی سب منہ پر فوری ہاتھ پھیر کر مسجد سے بھاگ جاتے ہیں۔۔
ریاض علی خٹک
29/07/2024
سر عامر خان
بہت ہی قابل ٹیچر
ایم ایس سی ریاضی
آج Al-Sakhi Academy السخی اکیڈمی میں ریاضی کا ماہ جولائی کا ٹیسٹ لے رہے تھے۔
میں نے ویسے پوچھا طلباء کتنے غیر حاضر ہیں؟
کیوں کہ اکثر میں نے دیکھا ہے کہ بچے ٹیسٹ سے ڈرتے ہیں۔ ٹیسٹ کا نام سن کر سکول بھی نہیں جاتے۔ اور طرح طرح کی بیماریوں کا بہانہ بناتے ہیں۔
لیکن سر عامر کی بات سن کر میں حیران ہوا کہ ان کے ٹیسٹ میں بچے کبھی غیر حاضر ہوتے ہی نہیں ہیں۔
ان جیسے اساتذہ ہوتے ہیں۔ جو بچوں کے آئیڈیل ہوتے ہیں۔ جو بچوں کو اسم اعظم " محنت " سے روشناس کرواتے ہیں۔ جو محنت و لگن سے کام کرنا سکھاتے ہیں۔ جو محنت کی عظمت پر یقین دلاتے ہیں۔
سلیوٹ ٹو سر عامر۔۔۔
از : یونس عاصمی
25/07/2024
جانیے کہ کب خاموش رہنا ہے! 👇🤫
1. خاموش رہیں۔۔۔اگر آپ غصےمیں ہیں۔
2. خاموش رہیں۔۔۔ اگر آپ حقیقت نہیں جانتے۔
3. خاموش رہیں۔۔۔ اگر آپ نے بات کی پہلے تصدیق نہیں کی ہے۔
4. خاموش رہیں۔۔۔ اگر آپ کے الفاظ ایک کمزورشخص کو ناراض کر رہے ہیں۔
5. خاموش رہیں۔۔۔ جب سننے کا وقت ہو.
6. خاموش رہیں۔۔۔ جب آپ کو مقدس چیزوں (مذہب وغیرہ )کے بارے آزمایا جائے۔
7. خاموش رہیں۔۔۔ جب آپ کو گناہ کے بارے میں مذاق کرنے پر آزمایا جائے۔
8. خاموش رہیں۔۔۔ جب آپ کو لگتا ہے۔ کہ آپ بعد میں اپنے لفظوں پر شرمندہ ہوں گے۔
9. خاموش رہیں۔۔۔ اگر آپ کے الفاظ غلط تاثر دے رہے ہیں۔
10. خاموش رہیں۔۔۔ اگر مسئلہ آپ کے ساتھ نہیں ہے۔
11. خاموش رہیں۔۔۔ جب آپ کو صریح جھوٹ بولنے کا پتہ ہو۔ کہ آپ جھوٹ بولیں گے۔۔
12. خاموش رہیں۔۔۔ اگر آپ کے الفاظ کسی اور کی ساکھ کو نقصان پہنچائیں گے۔
13. خاموش رہیں۔۔۔اگر آپ کے الفاظ دوستی کو نقصان پہنچائیں گے۔
14. خاموش رہیں۔۔۔ جب آپ تنقیدی محسوس کر رہے ہوں۔ یعنی کسی کے اوپر تنقید کر رہے ہوں۔
15. خاموش رہیں۔۔۔ اگر آپ چیخے بغیر بات نہیں کہہ سکتے۔
16. خاموش رہیں۔۔۔ اگر آپ کے الفاظ آپ کے دوستوں اور خاندان کے عکاس ہوں۔۔
17.خاموش رہیں۔۔۔ اگر آپ کو بعد میں اپنے الفاظ کھانے پڑیں۔ یعنی شرمندہ ہونا پڑے۔
18. خاموش رہیں۔۔۔اگر آپ پہلے ہی کوئی بات ایک سے زیادہ بار کہہ چکے ہیں۔
19. خاموش رہیں۔۔۔جب آپ کو کسی شریر کی چاپلوسی کرنے پر اکسایا جائے۔
20. خاموش رہیں۔۔۔ جب آپ کو کوئی کام دیا گیا ہو۔تو بولنے کی بجائے آپ وہ کام کریں!!
نوٹ کر لیں۔
"جو اپنے منہ اور زبان کی حفاظت کرتا ہے وہ اپنے نفس کو مصیبتوں سے بچاتا ہے"
جیسے کہتے ہیں۔۔۔
"ایک چپ سو سکھ"
از
یونس عاصمی
23/07/2024
سات قسم کے دوست جن سے آپ کو بچنا چاہیے!
جو آپ کےاردگرد آپ کے دوستوں کی صورت بکثرت پائے جاتے ہیں۔ ان سے خود کو بچا کر ہی آپ اپنے منزل اور مقصد کو حاصل کر سکتے ہیں۔
آپ انہیں اپنی فہرست میں جانتے ہیں جیسا کہ میری فہرست میں بھی وہ ہیں۔
نوٹ:
یہ آپ کی واحد ذمہ داری ہے کہ آپ اپنی زندگی کا جائزہ لیں تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ آپ کس قسم کے دوستوں اور لوگوں سے گھرے ہوئے ہیں۔ آپ کی زندگی صرف اسی لمحے صحیح سمت میں آگے بڑھ سکتی ہے جب آپ مثبت لوگوں کے ساتھ جڑیں گے اور منفی لوگوں سے رابطہ منقطع کریں گے۔
✅️ تصویر پر کلک کریں اور ان کی خصوصیات جان لیں۔
شکریہ۔
22/07/2024
بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے پوسٹ نظر سے گزری۔ جس میں ہم سب کیلئے ایک سبق پوشیدہ ہے۔
کہتے ہیں کہ
جب قدیم چینیوں نے محفوظ زندگی گزارنے کی خواہش کی، تو انہوں نے دیوارِ چین بنائی اور یہ سوچا کہ اس کی بلندی کی وجہ سے کوئی اس پر چڑھ نہیں سکے گا۔
لیکن دیوار کی تعمیر کے پہلے سو سال کے دوران، چین تین بار حملوں کا شکار ہوا!! ہر بار دشمن کے جتھے نہ تو دیوار کو توڑنے کی کوشش کرتے اور نہ ہی اس پر چڑھنے کی!!
بلکہ ہر بار وہ (دربان کو) چوکیدارکو رشوت دیتے اور دروازے سے داخل ہو جاتے۔ چینی دیوار بنانے میں مصروف تھے اور دربان کی تربیت کو بھول گئے تھے..!
انسان کی تعمیر، ہر چیز کی تعمیر سے پہلے آتی ہے اور یہی چیز آج ہمارے طلبا کو ہمارے بچوں کو درکار ہے۔
ایک عقل مند کہتا ہے.. اگر تم کسی قوم کی تہذیب کو تباہ کرنا چاہتے ہو تو تین طریقے ہیں:
1: اس قوم کے خاندان کو تباہ کرو۔
*خاندان کو تباہ کرنے کے لیے: (ماں) کے کردار کو ختم کرو، اسے یہ محسوس کرواؤ کہ "گھر کی عورت" کہلانے میں شرم ہے۔
2: اس قوم کی تعلیم کو تباہ کرو۔
*تعلیم کو تباہ کرنے کے لیے: (استاد) کو بے وقعت کرو، اس کی اہمیت کو کم کرو تاکہ اس کے طلبا اس کی بے عزتی کریں۔
3: ان کے رہنماؤں اور ماہرین کو گرا دو۔
*رہنماؤں کو گرانے کے لیے: (علماء، محققین، اور دانشوروں) کو نشانہ بناو، ان کی قدر و قیمت کو کم کرو، ان پر شک کرو تاکہ کوئی ان کی بات نہ سنے اور ان کی پیروی نہ کرے۔
اگر (باشعور ماں) غائب ہو جائے
اور اگر (مخلص استاد) غائب ہو جائے
اور اگر (رہنما اور ماہرین) گر جائیں
تو پھر نوجوانوں کو اقدار کی تعلیم کون دے گا!
وہ قوم صفحہ ہستی سے ہی مٹ جائے گی۔۔۔
09/07/2024
پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈ آج صبح دس بجے میٹرک کے سالانہ امتحانات کے نتائج کا اعلان کریں گے۔۔۔۔انشاءاللہ
تمام طلباء کیلیے دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کو زندگی کے اس مرحلے میں کامیاب و کامران کرے۔اور آپ کو اپنی محنت کا صلہ محنت سے زیادہ دے۔۔ آمین۔۔۔۔
انگریزی کا ایک قول ہے۔۔۔
"Excellence is not a destination; it is a continuous journey that yields remarkable results."
Remember, results are not the only measure of success, but they are a celebration of your hard work and progress. Keep pushing forward!
ﺭﺯﻟﭧ بورڈ ویب سائٹ اور ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﻓﻮﻥ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﮯ ﮔﺎ.
ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺳﮯ ﺭﺯﻟﭧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﻧﮯ کے لیے ﺍﭘﻨﺎ ﺭﻭﻝ ﻧﻤﺒﺮ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ''ﺑﻮﺭﮈ ﮐﻮﮈ'' ﭘﺮ ﺑﮭﯿﺠﯿﮟ ﮔﮯ۔
ﺗﻤﺎﻡ ﺑﻮﺭﮈ ﮐﮯ ﮐﻮﮈﺯ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﮨﯿﮟ.
ﻓﯿﺼﻞ ﺁﺑﺎﺩ:. . . . . . . 800240
ﮈﯾﺮﮦ ﻏﺎﺯﯼ ﺧﺎﻥ. :. . . 800295
ﮔﻮﺟﺮﺍﻧﻮﺍﻟﮧ:. . . . . . . 800299
ﺭﺍﻭﻟﭙﻨﮉﯼ:. . . . . . . . 800296
ﻻﮨﻮﺭ: . . . . . . . 800291
ﺑﮩﺎﻭﻟﭙﻮﺭ: . . . . . . . . 800298
ﺳﺮﮔﻮﺩﮬﺎ: . . . . . . . . 800290
ﺳﺎﮨﯿﻮﺍﻝ: . . . . . . . 800292
ﻣﻠﺘﺎﻥ: . . . . . . . 800293
05/07/2024
.....Today update.....
At Al-Sakhi Academy السخی اکیڈمی Monthly Test of Subject English conducted under the supervision of Sir Gulmir (SS urdu)....!
ہم بطور ایک طالب علم ان مرحلوں سے گزر کر آئے ہیں۔ ہمیں پتہ ہے کہ یہ گرمیوں کی چھٹیاں کتنی قیمتی ہوتی ہیں۔ اور ہمارے ان بچوں کو بھی پتہ ہے۔ کہ ان چھٹیوں کو ضائع ہونے سے کیسے بچایا جاسکتا ہے۔
انشاءاللہ
یہی بچے ساری زندگی اپنی ان چھٹیوں کو کارآمد بنانے پر خود پر فخر محسوس کریں گے۔
یہی بچے چھٹیوں کے بعد جب کالج میں داخلہ لینے جائیں گے۔۔
تو آدھے سے زیادہ کورس پڑھ چکے ہوں گے۔
جس سے ان کے اندر خود اعتمادی پیدا ہوگی۔
کلاس میں وہی بچہ استاد کی توجہ حاصل کرتا ہے جس کو کچھ آتا جاتا ہو ۔ میں وثوق سے کہتا ہوں۔کہ اساتذہ کے پسندیدہ طلباء یہی بچے ہونگے۔ اور ان ہی بچوں میں سے ہمارے مکڑوال کالج کے 2025 اور 2026بورڈ کے نتائج میں پوزیشن ہولڈر ہونگے۔
انشاءاللہ
دعا ہے اللہ تعالی ہر میدان میں ہمارے ان بچوں کو کامیابی و کامرانی نصیب کرے۔۔ آمین ثمہ آمین
23/06/2024
📢Re-Opening Announcement📢
𝐂𝐥𝐚𝐬𝐬𝐞𝐬 𝐟𝐨𝐫 𝐅𝐢𝐫𝐬𝐭 𝐘𝐞𝐚𝐫 and Second Year
*'AL-SAKHI'* Academy is pleased to announce that Insha ALLAH classes for 11th and 12th Grade students will resume from tomorrow 24th June 2024.
Where students are gearing up for the new PS-based exams or simply looking to excel in their studies, our expert faculty is here to guide you every step of the way.
𝐓𝐢𝐦𝐢𝐧𝐠𝐬:
Monday- Saturday
07:00 AM
09:30 AM
𝐖𝐡𝐚𝐭 𝐭𝐨 𝐄𝐱𝐩𝐞𝐜𝐭:
✅ Comprehensive Subject Coverage: subjects included ENGLISH, MATH, BIOLOGY, ChEMISTERY, PHYSICS, COMPUTER
✅ New Curriculum Ready: Prepare for the new SLO-based exams as per the NCP 2024.
✅ Expert Guidance: Our Permenant SUBJECTS specialize in New SLO based exams preparation for Sargodha boards.
✅ Interactive Lectures.
✅ Supervision Method.
✅️ Supportive Enviroment
𝐋𝐢𝐦𝐢𝐭𝐞𝐝 𝐒𝐞𝐚𝐭𝐬: Limited seats are available.
For Information ...
📞 +92 300 8832484 Sir Younis SST sci
📞 +92 301 2715361 Sir Gulmeer SS Urdu
𝐋𝐨𝐜𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐬:
MLW HSS MAKERWAL.
Mianwali.
Note:
Images are created with Meta Ai.
11/06/2024
مکڑوال اور ملحقہ علاقاجات کے مائینز ورکرز اور والدین کیلیے خوشخبری
میٹرک اور فرسٹ ائیر کے فارغ طلباء
آج ہی ہمارے پاس داخل کروائیں۔
اپنے بچوں کے وقت کو ضائع ہونے سے بچائیں۔
السخی اکیڈمی میں ہر سال کی طرح اس سال بھی
ایف ایس سی پری میڈیکل ( فرسٹ ایئر اور سیکنڈ ایئر )
ایف ایس سی پر انجینئرنگ ( فرسٹ ایئر اور سیکنڈ ایئر )
آئی سی ایس 1 ( فرسٹ ایئر اور سیکنڈ ایئر )
آئی سی ایس 2( فرسٹ ایئر اور سیکنڈ ایئر )
ایف اے آئی ٹی( فرسٹ ایئر اور سیکنڈ ایئر )
کی ٹیوشن جاری ہیں۔
انشاءاللہ دو ماہ جب یہ بچے پڑھیں گے۔ تو
👈آدھا سیلیبس ان کا پہلے سے مکمل ہوگا۔ جس کا فائدہ ریگولر کلاسسز میں بچہ پر اعتماد ہوگا۔
👈ستمبر تک کتابوں سے جڑے رہیں گے۔۔۔ تو ان کا تسلسل نہیں ٹوٹے گا۔ بچہ ریگولر کلاسسز کے وقت اکتائے گا نہیں۔
👈 خاص کر میٹرک کا امتحان دینے والوں کو بہت زیادہ فائدہ ہوگا۔ ایک تو انگلش میڈیم سے واقفیت ہوجائے گی۔ دوسرا اپنے لیے درست مضامین کا انتخاب کرسکیں گے۔
👈مناسب فیس کے ساتھ آج ہی اپنے بچے کو ہمارے پاس داخل کروائیں۔
👈اپنے بچوں کے وقت کو ضائع ہونے سے بچائیں۔
👈اعلی تعلیم یافتہ سٹاف کی زیرنگرانی:
سر گل میر خان ایس ایس اردو (اردو ، انگلش)
0301-2713561
سر محمد یونس خٹک ایس ایس ٹی ( بائیولوجی ،کیمسٹری)
0300-8832484
سر محمد عامر ایم ایس سی میتھ، بی ایڈ ( میتھ ، فزکس)
محمد نادر خان ( کمپیوٹر، اکنامکس)
15/07/2023
پروفیسر صاحب کا لیکچر جاری تھا وہ کہنے لگے اب آپ لوگوں کا اگلا ٹاسک یہ ہے کہ کل ہر شخص ٹماٹروں سے بھرا ہوا ایک ایک شاپر اپنے ساتھ لے کر آئے گا۔۔
اگلے دن کلاس کی ہر سیٹ کیساتھ ٹماٹروں کا ایک عدد شاپر لٹک رہا تھا۔۔اسٹوڈنٹس کے درمیان اس ضمن میں چہ میگوئیاں جاری تھیں کہ اچانک پروفیسر صاحب کی گھمبیر آواز گونجی، "اب کرنا آپ نے یہ ہے کہ آج پورا دن آپ نے ٹماٹروں کا یہ شاپر ہر وقت ہر جگہ اپنے ساتھ ساتھ رکھنا ہے اور یہی آج آپ کا نیا ٹاسک ہے"۔۔
اب پوری کلاس جہاں بھی جاتی، کمبائن کلاس ، لیب، لائبریری ، کینٹین یا یونیورسٹی لان ،،، ہر جگہ ٹماٹروں کا وہ شاپر ہر طالبعلم کے ہاتھ میں رہتا یہانتک کہ پورا دن گزر گیا اور اب تو ان ٹماٹروں سے بو بھی پھوٹنے لگی۔۔
آخر تنگ آ کر پوری کلاس نے پروفیسر صاحب سے کہا، "سر اب بس ہو گئی اب ہم مزید ان ٹماٹروں کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے ، براہ مہربانی ہماری ان سے اب جان چھڑائیں"۔۔
پروفیسر صاحب یہ سن کر تھوڑا مسکرائے اور بولے، "اچھا ٹھیک ہے ، اب آپ یہ شاپر باہر ڈسٹ بن میں ڈال آئیں"
شاپر ڈسٹ بن میں ڈالنے کے بعد پوری کلاس نے سکھ کا سانس لیا کہ خدا خدا کر کے ٹماٹروں سے جان تو چھوٹی۔۔
اب کلاس سوالیہ نگاہوں کیساتھ پروفیسر صاحب کی طرف تکنے لگی کہ آخر اس سارے پاکھنڈ کے پیچھے وجہ کیا تھی ۔
پروفیسر صاحب کو بچوں کے چہروں پر لکھے سوال صاف نظر آ رہے تھے۔۔
ہممم۔۔پروفیسر صاحب گویا ہوئے۔۔دراصل میں آپ کو یہ سمجھانا چاہ رہا تھا جس طرح ٹماٹروں سے بھرے شاپر کچھ وقت گزرنے کے بعد بدبو دینے لگے ٹھیک اسی طرح
منفی سوچیں،
لوگوں کے منفی رویوں کے بوجھ ،
دوسروں سے مسابقت ،
موازنہ کرنے کی سوچ ،
حسد،
جلن،
غصہ،
نفرت
اور
اسی طرح کی تمام منفی سوچیں ایک حد تک تو دماغ میں رہ سکتی ہیں پر انہیں جلد از جلد دماغ سے اگر نہ نکالا جائے تو پھر ان میں سے بھی بدبو پھوٹنے لگتی ہے اور پھر یہ ہر وقت کا مستقل بوجھ دماغ پر بہت برے اثرات چھوڑتا ہے۔۔
تو میں آپ کو یہ سبق دینا چاہتا ہوں کہ اپنے دماغ میں کبھی منفی سوچوں کا غیر ضروری بوجھ نہ رہنے دیں، کیونکہ اس سے سب سے زیادہ آپ خود متاثر ہوتے ہیں۔ہمیشہ مثبت رہیں، مثبت سوچیں اور دوسروں کے غلط رویوں ، غلطیوں کی سزا خود کو کبھی مت دیں۔
شکریہ ۔
ماخوذ ۔
تحریر محمد گلزار