01/05/2026
(مزدوروں کے دن کےلیے خاص!)
ایک مزدور ساری زندگی مزدور ہی کیوں رہتا ہے؟
دنیا میں سب سے زیادہ محنت کرنے والا شخص شاید مزدور ہو، لیکن وہی شخص اکثر ساری زندگی مزدور ہی رہتا ہے۔ اس کا دن طلوعِ آفتاب سے پہلے شروع ہوتا ہے اور شام کی تھکن سے پہلے ختم نہیں ہوتا، مگر مہینے کے آخر میں وہ پھر اسی جگہ کھڑا ہوتا ہے جہاں پچھلے مہینے تھا۔
پاکستان میں ایک عام مزدور کی یومیہ اجرت تین ہزار روپے سے کم ہے۔ سالوں کی یہ محنت نہ بچت دیتی ہے، نہ ترقی۔ وہ نہ سرمایہ کاری جانتا ہے، نہ سیکھنے کے لیے وقت رکھتا ہے۔ وہ جو سارا دن جسمانی مشقت کرتا ہے، ذہنی اور جذباتی محنت سے محروم رہتا ہے اور یہی محرومی اُس کے سفر کو محدود رکھتی ہے۔ ترقی اُس کے لیے خواب بن کر رہ جاتی ہے کیونکہ سیکھنے کی فرصت نہیں، اور جو سیکھا وہ صرف دن بھر روٹی کمانے کا طریقہ تھا۔
جس دن وہ اپنی محنت کے ساتھ علم، سکل، اور شعور کو شامل کر لے گا، وہ دن مزدوری سے آزادی کا آغاز ہوگا۔ مگر یہ آغاز سوچ سے ہوتا ہےاور یہی وہ شے ہے جو آج بھی مزدور کو مہیا نہیں۔ اسی لیے وہ ساری زندگی مزدور رہتا ہے۔