11/11/2025
جانے کس جرم کی سزا پائی ہے یاد نہیں ۔۔۔۔۔
غربت ، فاقہ کشی ، گھٹیا طرز زندگی اور تشنہ خواہشات کے حصول میں رکاوٹیں انسان کی پیدا کردہ ہوتی ہیں قدرت کی نہیں ، فطرت سب کو ایک سے ڈھانچے میں ڈھال کر دائرہ حیات میں داخل کرتی ہے ، انسان چند سیکنڈ کے لطف کے عوض بچوں کی ایک طویل لائن لگا لیتے ہیں اور بعد میں ضروریات زندگی پوری نہ ہونے کی وجہ سے انہیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں ۔۔۔۔
اب معاشرہ جو سلوک بھی کرے کیا فرق پڑتا ہے ، والدین کی نظر میں تو بچے ایک طرح سے مزدور ہی ہوتے ہیں اور وہ دن بھر کی آمدن شام کو اپنے والدین کے حوالے کر دیتے ہیں ، کون جانے اور کس کو خبر کہ وہ کیسے کماتے ہیں ، گلیوں اور چوکوں چوراہوں کے ایندھن کو کیا خبر کہ کیسے ایک غیر محسوس انداز میں ان کے جسم اور روح پر گہرے گھاؤ لگ رہے ہیں جو ان کو ایک دن خود سے ہی بیگانہ کر دیں گے ۔۔۔۔
پھر وہ استحصال کی چوٹ سے ہی بیگانہ ہو جائیں گے ، کوئی کیا کرتا ہے ، کس انداز میں پکارتا ہے وہ اس احساس سے ہی ماورا ہو جائیں گے ۔۔۔۔
ہائے زندگی تیرے انجام پہ رونا آیا ۔۔۔۔۔
Abdul Sattar