جانے کس جرم کی سزا پائی ہے یاد نہیں ۔۔۔۔۔
غربت ، فاقہ کشی ، گھٹیا طرز زندگی اور تشنہ خواہشات کے حصول میں رکاوٹیں انسان کی پیدا کردہ ہوتی ہیں قدرت کی نہیں ، فطرت سب کو ایک سے ڈھانچے میں ڈھال کر دائرہ حیات میں داخل کرتی ہے ، انسان چند سیکنڈ کے لطف کے عوض بچوں کی ایک طویل لائن لگا لیتے ہیں اور بعد میں ضروریات زندگی پوری نہ ہونے کی وجہ سے انہیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں ۔۔۔۔
اب معاشرہ جو سلوک بھی کرے کیا فرق پڑتا ہے ، والدین کی نظر میں تو بچے ایک طرح سے مزدور ہی ہوتے ہیں اور وہ دن بھر کی آمدن شام کو اپنے والدین کے حوالے کر دیتے ہیں ، کون جانے اور کس کو خبر کہ وہ کیسے کماتے ہیں ، گلیوں اور چوکوں چوراہوں کے ایندھن کو کیا خبر کہ کیسے ایک غیر محسوس انداز میں ان کے جسم اور روح پر گہرے گھاؤ لگ رہے ہیں جو ان کو ایک دن خود سے ہی بیگانہ کر دیں گے ۔۔۔۔
پھر وہ استحصال کی چوٹ سے ہی بیگانہ ہو جائیں گے ، کوئی کیا کرتا ہے ، کس انداز میں پکارتا ہے وہ اس احساس سے ہی ماورا ہو جائیں گے ۔۔۔۔
ہائے زندگی تیرے انجام پہ رونا آیا ۔۔۔۔۔
Abdul Sattar
The Vision Academy
**The Vision Academy: Shaping Futures, Igniting Dreams**
*Empowering Minds, Inspiring Excellence*
ڈاکٹر نبیحہ کے نکاح کی تقریب میں مولانا طارق جمیل کا ساتھ جڑ کر بیٹھنا اور مولانا یوسف جمیل کی وضاحت ۔
گزشتہ دنوں ڈاکٹر نبیحہ کے عقد ثانی کی ایک دلفریب تقریب منعقد ہوئی ، زہے نصیب نکاح پڑھانے کا یہ اعزاز بھی مولانا طارق جمیل کے حصے میں آیا ، سوشل میڈیا پر دکھائی دینے والی تصاویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ مولانا طارق جمیل ڈاکٹر نبیحہ کے بالکل ساتھ بیٹھ کر نکاح پڑھا رہے ہیں ، اس میں مولانا کا وجود اطہر ڈاکٹر نبیحہ کے ساتھ ٹچ ہو رہا ہے ۔
سوشل میڈیائی لائم لائٹ کی وجہ سے یہ منظر خاصا وائرل ہو چکا ہے ، لوگ اعتراض کر رہے ہیں کہ مولانا کا یوں ساتھ چپک کر نکاح پڑھانا کیا مناسب بات ہے ؟
کیا شرعی حیثیت میں دو نامحرم یوں ایک ساتھ بیٹھ سکتے ہیں کہ ان کے وجود کے بیچ میں سے ہوا کا گزر بھی نہ ہو سکے ؟
کیا نکاح میں رسم ایجاب و قبول کے لیے کسی بھی مولانا کا بقلم خود خاتون کے روبرو ہونا ضروری ہے ؟
کیا کسی مولانا کا نامحرم کے ساتھ بات چیت کرنا بھلے رسم نکاح کی خاطر ہی کیوں نہ ہو شرعی حیثیت میں جائز تصور ہوگا ؟
کیا کسی عالم کا تصدیق نکاح کے لیے اپنے کان کی لو کو اس قدر قریب کر لینا کہ منکوحہ کے منہ کے ساتھ لمس کا احساس پیدا ہونے لگے تو کیا یہ جائز امر ہوگا ؟
اس طرح کے سوال من میں پیدا ہونے کی وجہ کچھ یوں ہے کہ اس سوشل میڈیائی نکاح کی تقریب کا مکمل احوال فوٹیج کی صورت میں سوشل میڈیا پر موجود ہے اور مولانا طارق جمیل کو کچھ ایسی صورت حال میں دیکھا گیا ہے کہ جس پر کئی سارے سوالات کھڑے ہو جاتے ہیں ، واضح رہے کہ یہاں مولانا کی کردار کشی ہرگز مقصود نہیں ہے بلکہ شرعی اعتبار سے ریکارڈ کی درستگی مطلوب ہے ، اس طرح کے سوالات اٹھانے کی قطعاً ضرورت نہیں تھی ، وجہ صرف اتنی سی ہے کہ مولانا ایک پبلک فیگر ہیں اور ان کی کم و بیش ساری حیات ہی تقریباً پبلک ہے ، عوامی ہونے کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ آپ مطلوبہ شخص پر تنقید کر سکتے ہیں یا سوال اٹھا سکتے ہیں ، مولانا کے لاکھوں عقیدت مند دنیا بھر میں موجود ہیں اور اس عقیدت کی بنیاد مذہب ہے تو مذہبی ریکارڈ بھی تو درست ہونا چاہیے نا!
نکاح کی اس تقریب کے حوالے سے مولانا یوسف جمیل جو پسر مولانا طارق جمیل ہیں وضاحت کے لیے آگے بڑھے ہیں ، اس وضاحت میں جو بڑا مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ جہاں انہوں نے کھلے دل سے یہ تسلیم کیا ہے کہ مولانا نے نکاح پڑھاتے وقت حد سے تجاوز کیا ہے اور انہیں یوں قطعاً ساتھ نہیں بیٹھنا چاہیے تھا وہیں ساتھ میں یہ بھی فرمایا ہے کہ مولانا عمر کے جس حصے میں ہیں اس مرحلے میں خواہش کا طوفان تھم جاتا ہے اور ڈاکٹر نبیحہ ہوں یا دیگر بچیاں وہ مولانا کی نظر میں ان کی بیٹیاں ہی ہیں اور سب سے بڑھ کر مولانا ان کے لیے ایک طرح سے بزرگ کا درجہ رکھتے ہیں ۔
بالکل ٹھیک وضاحت ہے اور انسان دوستی کے فلسفے پر یقین رکھتے ہوئے ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں ہے ، ہم تو مذاہب عالم کو کشادہ دامن ہی سمجھتے ہیں جن کا مقصد ہی انسانوں کو جوڑنا اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہے ، یہ تو آپ ایسوں کا ہی حسن کرشمہ ساز ہے کہ آپ نے مذاہب کی حدود کو خاصا تنگ کر دیا ہے اور اس میں مختلف الخیالی کی تو قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے ، یہ بھی ایک المیہ ہے کہ مذاہب عالم کا مقصد تو من کی میل کو اجلا کرنا تھا لیکن ہم نے اس کو دوسروں کی مورل پولیسنگ کرنے اور دوسروں پر داروغہ بننے میں ساری توانائیاں خرچ کر ڈالیں ۔ جان کی امان پائیں تو کچھ عرض کرنے کی اجازت درکار ہے کہ تقوی و طہارت کی جس پل صراط پر آپ کاربند رہنے کے دعویدار ہیں کیا اس بندوست کے مطابق اس حد تک نرم روی کی گنجائش موجود ہے ؟
کیا تقوی و طہارت کے بنیادی حدود و قیود میں اس بےباکی کو حد سے تجاوز تو نہیں سمجھا جائے گا ؟
کیا شرعی حیثیت میں اس قدر غلو کی رعایت موجود ہے ؟
سب سے اہم بات جس کا تذکرہ بہت ضروری ہے کہ کیا بڑھاپا یا روحانی عقیدت اس بات کی ضمانت ہو سکتی ہے کہ دو نامحرم کے درمیان تیسرا "شیطان" کے موجود ہونے کا خطرہ ٹل جاتا ہے ؟
یہ مضمون لکھنے کا مقصد شرعی نقطہ نظر جاننا ہے نا کہ کردار کشی یا مولانا کی نجی حیات کو ہدف تنقید بنانا مقصود ہے ۔
تحریر: عبدالستار (میاں چنوں)
Abdul Sattar
10/11/2025
جنریشن " زی " ایک معجزاتی دنیا کی نسل جدید ۔
(نئی نسل کے نام ایک پیغام)
جنریشن زی انٹرنیٹ ، کمپیوٹر ، سمارٹ فون ، فلڈ آف انفارمیشن اور دیگر معجزاتی گیجٹ کے سائے میں نا صرف بالغ ہوئی ہے بلکہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال بھی بخوبی جانتی ہے ، اس حقیقت کا اعتراف اور ادراک کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ہم اپنے بچوں سے سیکھ رہے ہیں ، ہمارے بچے ہماری گزشتہ نسلوں سے کہیں ذہین اور بااعتماد ہیں ، موبائل اور دیگر گیجٹ کا استعمال وہ ہم سے کہیں بہتر جانتے ہیں ۔
چیٹ جی پی ٹی ، ڈیپ سیک ، گوگل اور الیکٹرانک جیمنائی جنریشن زی کی بہترین دوست ہیں ، کچھ بھی پوچھ لیں اور کسی بھی زبان میں اس سے باتیں کریں یہ آلات آپ کو مایوس نہیں کریں گے ، شاید یہی وجہ ہے کہ آج کی نسل ہم سے کہیں زیادہ ذہین ، چست اور حاضر دماغ ہے ۔
آج کی نسل کے سامنے کچھ بھی چھپانا ممکن نہیں رہا ، علم فنگر ٹپس میں سمٹ چکا اور محظ چند انچ کی دوری پر ہوتا ہے بس تجسس ضروری ہے ، اس جدید ٹیکنالوجی نے جہاں حصول علم کے ذرائع تبدیل کیے ہیں وہیں ان مداریوں کو بھی بےنقاب کیا ہے جو یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ علم کی ایک قسم سینہ بہ سینہ بھی ہوتی ہے اور اس کے ارد گرد بھول بھلیوں اور پراسراریت کا ایک ایسا جالا سا بن دیتے ہیں اور باقاعدہ اعلان کرتے ہیں کہ اس سوغات تک ہر کوئی نہیں پہنچ سکتا بالکل انہی پرانے جوگیوں اور سنیاسیوں کی طرح سے جو اپنے چیلوں اور شاگردوں سے پہلے اچھی طرح ناک رگڑواتے تھے پھر کہیں جا کر اپنا حکیمی و روحانی راز یا نسخہ بتایا کرتے تھے اور کئی تو اتنے حریص ہوتے تھے کہ وہ اپنا راز قبر میں ساتھ لے جانا زیادہ مناسب سمجھتے تھے ۔
جنریشن زی کی خوش قسمتی ہے کہ ان کے ہاتھ انٹرنیٹ کی صورت میں ایک ایسا جادوئی پیالہ لگا ہے جو ان سارے مداریوں کو چند سیکنڈ میں بےنقاب کرکے رکھ دیتا ہے ، کوئی بھی استاد ، مرشد بھلے کسی بھی فیلڈ کا ہو وہ اس نسل جدید کو زیادہ دیر تک بیوقوف بنا کر نہیں رکھ سکتا ، خود تعریفی کی ڈھینگیں زیادہ دیر تک نہیں مار سکتا اور اپنی باتوں کی زنبیل سے مسلسل کبوتر نہیں نکال سکتا ۔
ایک بات کو اپنے ذہن میں بٹھا لیجیے کہ جو کامیاب انسان ہوتا ہے اسے بتانے اور ہر وقت اپنا اشتہار اٹھائے رکھنے کی حاجت نہیں ہوتی کیونکہ شور ہمیشہ خالی برتن ہی کرتے ہیں بھرے ہوئے نہیں ، خود کا معیار بلند رکھیں ، سوال کی اڑان بلند رکھیں اور نگاہ اپنے مقصد پر ، ایک دن کامیابی خود آپ کے قدم چومے گی بس یقین محکم رکھیں اور کوشش جاری رکھیں ۔
میرا نسل جدید کو بس اتنا سا پیغام ہے کہ وہ حواس برقرار رکھیں ، محنت ، لگن اور تجسس کو زاد سفر رکھیں اور جو کوئی بھی آپ کا ذہنی استحصال یا کسی بھی طرح سے کم ظرفی کا مظاہرہ کرتا ہے تو اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے یہ منترہ دہرائیں
" آل از ویل "
پھر اس جملے کا معجزہ دیکھنا اور کبھی آپ کا کسی بھی استحصالی سے سامنا ہو جائے تو اسے یہ چند جملے ضرور سناییے گا ۔
جو خاندانی رئیس ہیں وہ مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا ،
تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ۔
ذرا سا قدرت نے کیا نوازا ، کہ آ کے بیٹھے ہو پہلی صف میں ،
ابھی سے اڑنے لگے ہو ہوا میں ، ابھی تو شہرت نئی نئی ہے ۔
معذرت کے ساتھ شاعر کا نام معلوم نہیں ہے لیکن تصور بہت باکمال ہے ۔
تحریر: عبدالستار (میاں چنوں)
Abdul Sattar
09/11/2025
Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Muhammad Sohail Khan, Fakhar Abbas, Mehmood Ul Hassan Toor, Safdar Javed
Please follow my page.
The Vision Academy
**The Vision Academy: Shaping Futures, Igniting Dreams**
*Empowering Minds, Inspiring Excellence*
09/11/2025
کیا حکومت مراعات دے کر اہل جبہ و دستار کے ضمیر خریدنا چاہتی ہے ؟
کیا حکومت جب مراعات کا اعلان کرتی ہے تو اس کا مقصد عوام کے ضمیر کو خریدنا ہوتا ہے ؟
کیا چند روپوں کے عوض کوئی اپنا ضمیر کسی کے آگے گروی رکھ سکتا ہے ؟
کیا حکومت مراعات اپنی جیب سے دیتی ہے یا ہمارے ہی ٹیکسوں کا ریٹرن ہمیں ملتا ہے ؟
لفظ ضمیر یا غیرت ایسی مبہم سی اصطلاحات کو کیسے ڈیفائن کیا جا سکتا ہے ؟
حکومتی امداد کو آزمائش کی پل صراط بنا کر پیش کرنے میں کیا حکمت ہو سکتی ہے ؟
کیا ضمیر یا غیرت نام کا کوئی وجود ہے بھی یا فقط انسانی دماغ کی کھچڑی یا لفاظی ہے ؟
اس طرح کے سوالات ذہن میں پیدا ہونے کا کارن حکومت پنجاب کا علماء کرام کو 25000 روپے کی امداد دینا ہے جو شاید انہیں ماہانہ بنیادوں پر ملا کریں گے ، اس رقم کا اعلان ہوتے ہی مختلف علماء کرام کا موقف سامنے آیا ہے ۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ یہ ایک طرح سے علمائے کرام کے ضمیر کو خریدنے کے مترادف ہے اور ہم اس خطیر سی رقم کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں اور ہم بحیثیت مجموعی اس رقم کو لینے سے انکار کرتے ہیں ، یہاں لفظ " ہم " پر خاصے سوال کھڑے ہو جاتے ہیں ، کیا بہتر نہ ہوتا کہ اس امداد کو ہر عالم دین کی چوائس پر چھوڑ دیا جاتا ہے ، چونکہ مالی حالات تو بہرحال ہر ایک کے اپنے ہوتے ہیں نا اور وہی بہتر فیصلہ لے سکتا ہے ۔
مفتی طارق مسعود کا کہنا ہے کہ یہ ہر ایک کا ذاتی صوابدید ہے ، کسی ایک فرد کو قطعاً یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ خود کی ذات کو بحثیت مجموعی تصور کرتے ہوئے حکومتی مراعات کو قبول کرنے سے انکار کرے ، دیوبند مسلک کے دیگر علماء کرام کا بھی یہی کوئی ملا جلا سا ردعمل ہے ، باقی فرقوں کے علماء کرام کا موقف بھی اس سے مختلف نہیں ہوگا ۔
مفتی طارق مسعود کی بات سے اتفاق کیے بنا نہیں رہا جا سکتا ، ان کی رائے میں وزن ہے ، کوئی بھی شخص اپنی ذاتی حیثیت میں یہ رقم حاصل کرے یا نہ کرے اس کا استحقاق ہے لیکن دوسروں پر اپنا پیمانہ زبردستی لاگو نہ کرے ۔
دوسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو علمائے کرام اس رقم کو لینے سے انکاری ہیں ، مثال کے طور پر مولانا فضل الرحمٰن ہوں یا مولانا قاری حنیف جالندھری ، یہ اصحاب نجی طور پر اچھے کھاتے پیتے اور بڑی جماعت کے سربراہ ہونے کے علاوہ کئی سارے مدارس کے مالک ہیں اور اچھا خاصا فضل سمیٹتے ہیں ، ذاتی حیثیت میں ان کو تو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا لیکن ان علماء کرام کا کیا جن کی گزر بسر ہی مشکل سے ہوتی ہے ؟
اب جس مولوی کی تنخوا ہی 15000 ہو اور 8 بچے ہوں اس کا اس تھوڑی سی تنخواہ میں کیا بنے گا ؟
اگر اس کی تنخواہ میں 25000 کے اضافے سے زندگی بہتر ہوتی ہے تو کسی کا کیا جاتا ہے اور اس میں ضمیر فروشی یا غیرت کیا عمل دخل ؟
جگنو محسن نے ایک بار مولانا فضل الرحمٰن سے ایک انٹرویو میں پوچھا تھا کہ آپ کا ذریعہ آمدن کیا ہے ؟
مولانا نے جھٹ سے جواب دیا تھا کہ مجھے غیب سے ملتا ہے تو جناب یہ غیبی سلسلے ہر ایک کی قسمت اور دسترس میں کہاں ؟
غیب سے مراد حلقہ مریداں ہی تو ہوتا ہے جو اپنے مربی کی ہر ضرورت کا بھرپور خیال رکھتے ہیں ۔
محلات کی قربتیں اور بڑے لوگوں کا ساتھ کوئی گھاٹے کا سودا تھوڑے ہوتا ہے ، یہ بافیض سلسلے ہوتے ہیں اور سب سے بڑھ کر مالدار ہستیوں کے تحفہ تحائف اور نذرانے کس خاتے میں جاتے ہیں ، عقیدت کے لحاف میں یہ ذرہ نوازی ضمیر فروشی کے زمرے میں آئے گی یا عقیدتی بندوست میں ؟
حج کے وزیر ہوا کرتے تھے حامد سعید کاظمی جنہیں ایک بار کرپشن کے الزام میں دھر لیا گیا تھا ، جب راز تجوری کھلا تو فرمانے لگے کہ یہ سب تو فیضان مریداں ہے ، میں زبردستی تھوڑے اینٹھتا ہوں ان سے بھلا ۔
دوسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو امراء علماء کرام کی بھاری بھرکم انداز میں خدمت کرتے ہیں اس معاوضے کو کیا نام دیں گے ؟
یہ دنیا ہے پیارے یہاں مفت میں کون کسی کو دیتا ہے میاں ؟
"دئیر از نو فری لنچ"
ہر قربت کی ایک قیمت ہوتی ہے جو بہرحال پورا کرنا پڑتی ہے ۔
مفادات ، تعلق داریاں ، بڑے لوگوں کی قربتیں اور سرکاری راہداریوں کی سیریں یہ بھی تو ایک طرح کی مارکیٹنگ ہی ہوتی ہے اور مارکیٹنگ کا اصول سرمایہ داری ہوتا ہے اور سرمایہ بنا کوشش کیسے جمع ہو سکتا ہے ؟
25000 سے ضمیر اور غیرت کی حرمت پر حرف آتا ہے لیکن سیاسی جوڑ توڑ اور وابستگیوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا ؟
سرکار کے عہدے ، اپنے بچوں کو بیرونی یونیورسٹیوں میں پڑھنے بھیجنا ، اپنے بچوں اور عزیز و اقارب کو سینٹ کے عہدے دلوانا اورحکومت سے سرکاری ملازمتوں میں بھرپور تعاون کی درخواست کرنے کو کیا نام دینا پسند فرمائیں گے ؟
حکومتی سطح پر اتحادی ہونے کے نام پر راہ رسم بنانے کا فائدہ جہاں بوقت اتحادی ہوتا ہے وہیں اپوزیشن میں بھی ہوتا ہے اور مستقبل میں اس دور رس وابستگی اور انویسٹمنٹ کے ثمرات مختلف اوقات میں میسر ہوتے رہتے ہیں ، کبھی انڈر دی ٹیبل تو کبھی گراؤنڈ پر ، جیسا سیاسی منظرنامہ ویسا ہی شئیر ، سوال یہ ہے کہ ان تعلق داریوں کے ثمرات ضمیر پر بوجھ نہیں ہوں گے یا غیرت پر سوال کھڑے نہیں کریں گے ؟
پیسہ ، شہرت اور تعلق داریاں انسان کی بنیادی ترین ضروریات ہیں جن سے صرف نظر ناممکن ہے ، تقوی و بےرغبتی کا اقبال بلند رکھنے کے لیے جتنے مرضی حیلے کر لیں لیکن حقائق تو وہیں کے وہیں رہیں گے اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے بھلے تسلیم کریں یا نہ کریں کوئی فرق نہیں پڑتا بھائی ۔
اصول پرستی خود کے قائم کردہ واہمے ہوتے ہیں ، عرض بس اتنی سی ہے کہ آپ بیشک 25000 کی رقم نجی حیثیت میں لیں یا نہ لیں لیکن ضمیر فروشی کی آڑ میں یا جواز بنا کر ان علماء کرام کو مجبور مت کریں جو مالی طور پر خاصے کمزور ہیں ، ہمارے محلے کے امام مسجد ہیں جن کے تقریباً 9 بچے ہیں اب خود حساب لگا لیں کیسے گزر بسر ہوتی ہوگی ؟
ویسے بھی یہ عوام کے ٹیکس ہوتے ہیں اور اگر عوام کی خوشحالی پر خرچ ہو جائیں تو اس میں کیا مضائقہ ہے ؟
تحریر: عبدالستار (میاں چنوں)
Abdul Sattar
ہمارے سماج کے موٹیویشنل اسپیکرز کی اصلیت ۔۔۔۔۔۔۔
"ٹو میک اے ماؤنٹین آؤٹ آف اے مول ہل "
مبالغہ آرائی سے چھوٹی سی بات یا واقعے کو اس قدر بڑھا دینا کہ وہ پہاڑ کا سا لگنے لگے ۔
جی جناب یہی کام تو موٹیویشنل اسپیکرز کرتے ہیں ، اپنی محرومیوں کو چکنی چپڑی باتوں میں تولتے ہیں ، لب و لہجہ اور الفاظ کے زیروبم کو موقع کی مناسبت سے اوپر نیچے کر کے سادہ لوحوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں اور ان الفاظ کی قیمت لاکھوں میں وصولتے ہیں ۔۔۔۔
عملی طور پر یہ " اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت کے مصداق ہوتے ہیں"
اسٹیج کی باتیں بس اسٹیج تک ہوتی ہیں ، عملی زندگی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا ، خوش لفاظی اپنی جگہ لیکن ہر ایک کے حالات و واقعات یکساں نہیں ہوتے اور نا ہی ایک فارمولا دوسروں کی زندگیوں پر اپلائی ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔
اس چھوٹے سے کلپ میں یہ تضاد موجود ہے ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔۔
Abdul Sattar
06/11/2025
میڈیا والے دوزخ میں جلیں گے ، معروف اداکار زاہد احمد کا دعویٰ ۔
کنٹینٹ کیرئیٹر اور سوشل میڈیا والے دوزخ میں جلیں گے اور سوشل میڈیا سے متعلقہ سارے کام ہی " دی ورک آف دی ڈیول ہیں"
کیا یہ درست رویہ کہلائے گا کہ زندگی سے خوب لطف اٹھاؤ اور آخر میں ڈیول پر ڈال کر مکت ہو جاؤ ؟
زندگی میں ہر طرح کے اللے تللے کرنے کے بعد کیریئر کے اختتام اور زندگی کی آخری ساعتوں میں حج ، عمرہ ، صدقہ و خیرات یا دعا و مناجات کے رعایتی پیکجز سے فایدہ اٹھا کر ضمیر کو شانت کریں اور ستو پی کر سو جائیں ۔
سوال یہ ہے کہ اگر سوشل میڈیا واقعی ڈیول ہاؤس ہے تو یہیں ٹک کر شہرت انجوائے کرنے اور پیسہ بناتے رہنے میں کیا مصلحت ہو سکتی ہے ؟
سوشل میڈیا اگر مجسم برائی ہے اور اسکرین آلہ شیطان تو بن سنور کر ڈرامے میں نامحرم خواتین سے آنکھ مٹکا کرنا ، گلے لگنا اور رومانوی گفتگو کرنا ، اس کے علاوہ مختلف پوڈ کاسٹ میں خوبصورت دکھنے کے لیے بننا سنورنا اور اسکرین کے مکمل تقاضے پورے کرنا کیا درست رویہ ہوگا ؟
کیا آرٹ ، فن ، فنون لطیفہ ، موسیقی ، قوالی ، شعر و شاعری ، اسٹیج ڈرامے اور اداکاری برے یا گندے میدان ہوتے ہیں ؟
ان فنون میں جو کچھ پیش کیا جاتا ہے کیا اس میں معاشرے کی عکاسی نہیں پائی جاتی یا خلا کی ترجمانی کی جاتی ہے ؟
زندگی تو بذاتِ خود ایک اسٹیج کی مانند نہیں ہوتی کیا ، جس پر سب اپنے اپنے حصے کا کردار نبھا کر تاریخ کے بلیک ہول میں کہیں گم ہو جاتے ہیں ؟
کیا ضروری ہے کہ خود کو پارسا یا اچھا مسلمان ثابت کرنے کے لیے ہر میدان کو ریلئیجسنائز یا مسلمائیز کر دیا جائے ، کیا چیزوں یا حقائق کو گڈ مڈ کرنا کوئی صحت مندانہ رویوں میں شمار ہوگا ؟
نجی زندگی میں آپ جو بھی بننا چاہیں ، اختیار کرنا چاہیں یا کسی بھی طرح کا نقطہ نظر یا رائے رکھنا چاہیں کسی کو بھلا کیا اعتراض ہوسکتا ہے لیکن جس پیڈسٹل پر کھڑے ہو کر روزی روٹی کمائی ہو اس کے متعلق اس طرح کی جرنلائز سی رائے قائم کر لینا کہ یہ سب نرک میں جلیں گے کچھ عجیب سی بات نہیں لگتی ؟
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ موصوف ان ساری نصیحتوں کے لیے میڈیم سوشل میڈیا کا ہی استعمال کر رہے ہیں ، اداکاری کے ذریعے سے پیسہ بھی خوب کما رہے ہیں ، ویسے حیرت ہوتی ہے زندگی کے انتہائی قیمتی ماہ وسال سوشل میڈیا کی نذر کر دیے اور ساری خیر وبرکات سمیٹ لینے کے بعد آخر میں نتیجہ کیا نکالا کہ سوشل میڈیا والے جہنم کا ایندھن بنیں گے ۔
اس خیال کے پیچھے اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ نیا ٹیلنٹ آگے نہ آئے اور ان کے سامنے کیریئر کے شروع میں ہی اخلاقی رکاوٹ کھڑی کر دیں تاکہ پھلانگنے میں کچھ تو وقت ضائع ہو اور ذرا توقف کے بعد وہ اپنے اندر موجود خدا داد ٹیلنٹ کا گلا خود اپنے ہاتھوں سے گھونٹ دیں ، ان ماں باپ کا کیا جنہوں نے انہیں اس مقام تک پہنچانے کے لیے نجانے کتنی راحتیں قربان کی ہیں ، خود ہی رو دھو کر بیٹھ جائیں گے ، خسارہ تو والدین کو ہوگا ، زاہد احمد ایسے نصیحت خان کو تو رتی بھر فرق نہیں پڑے گا ۔
کسی بحث میں الجھے بنا موصوف سے یہ پوچھنا تو بنتا ہے کہ آپ نے جو نتائج اخذ کیے ہیں اس کے متعلق آپ کے پاس کیا شواہد ہیں اور آپ کو کیسے پتا کہ وہ سارے جہنم میں جلیں گے ؟
جنت اور دوزخ کا معاملہ تو قدرت کی ڈومین ہے آپ کب سے اس طرح کے فیصلے کرنے لگے ، سویپنگ اسٹیٹمنٹ دینا یا انسانی پہلوؤں کو محض بلیک اینڈ وائٹ کے تناظر میں دیکھ کر رائے قائم کرنا کوئی دانشمندانہ رویہ تھوڑے ہوتا ہے اور آپ کے نتائج سے اتفاق ہی کیوں کیا جائے ؟
منافقت کا بھی کیا لیول ہے کہ میڈیا میں رہتے ہوئے کیریئر کا اسٹارڈم اور شہرت کا عروج انجوائے کرنے کے بعد کیریئر کے آخری پہر ہیرو یہ کہتا ہوا پایا جائے کہ یہ فیلڈ تو مکمل گند بازار ہے ، یہ تو پھر وہی بات ہوئی نا کہ جب چبانے کو منہ میں دانت نہ رہیں تو بندہ نیک پاک بن جائے ، مزا تو تب تھا کہ کیرئیر کے شروع میں ہی اس فیلڈ کو خیر آباد کہہ دیتے اور لوگوں کو بھی اس گند بازار میں قدم رکھنے سے روکتے ۔
اس طرح کے منافقانہ رویوں سے یہ سماج اٹا پڑا ہے ، یہ رویے بڑے بڑے ہیروز کھا گئے ، بہت سوں کے ٹیلنٹ کو نگل گئے ، قدرت کی عطا کردہ صلاحیتوں کے بیچ گناہ و ثواب آڑے آگئے ، اندر کا خلا انسان کو کیا کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے ، اس خلا کو معنویت سے بھرنے کے لیے بعض اوقات وہ اپنی صلاحیتوں کی بلی تک چڑھا دیتا ہے ۔
جن معاشروں میں چوائسز کا فقدان ہوتا ہے یا زندگی کا دائرہ گناہ و ثواب کی حد تک ہو وہاں کے ذہنی رویے انتہائی محدود ہوتے ہیں ، محدود فکر کوتاہ نظری کا سبب بنتی ہے اور زندگی کی بنیادی حقیقتوں سے منہ موڑ کر آگے نہیں بڑھا جاسکتا ، مذہب کا چناؤ اور اخلاقی پیمانے ہر شخص کے اپنے ہوتے ہیں اور اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ اپنے حاصلات کو زبردستی دوسروں پر لازم نہ کیے جائیں ۔
سماج کے حمام میں تو سبھی ننگے ہوتے ہیں ، پارسا صرف وہی ہوتا ہے جسے موقع نہیں ملتا ، لحاظہ ججمینٹل بننے کی بجائے انسان کو محض انسان ہی سمجھنا چاہیے نا کہ فرشتہ یا اوتار ۔
تحریر: عبدالستار (میاں چنوں)
Abdul Sattar
05/11/2025
ظہران ممدانی نیویارک سے اور غزالہ ہاشمی ورجینیا سے منتخب ۔
بڑے معاشروں کی بڑی مثالیں ہوتی ہیں ، بندہ حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ کیسے عظیم معاشرے رنگ ، نسل ، قبیلہ اور مذہب سے اوپر اٹھ کر انسانوں کو پرکھتے ہیں ، ان کی نظر میں انسان اور ان کی صلاحیتیں قیمتی اور معتبر ہوتی ہیں ، وہ انسانوں کو ان کے سماجی ٹریک ریکارڈ کی بنیاد پر پرکھتے ہیں ، وہ یہ ہرگز نہیں دیکھتے کہ فلاں کا تعلق کس مذہب یا قبیلے سے ہے ، ان کی نظر میں انسان اپنے مضبوط کردار ، رویوں اور سماجی فہم سے پہچانا جاتا ہے ۔
اس کا ثبوت ظہران ممدانی ہے جو نیویارک کے ایک ایسے شہر سے میئر منتخب ہوا ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی صرف 6.3 فیصد ہے اور اس کا تعلق بھی شیعہ کمیونٹی سے ہے ، دوسری طرف ورجینیا میں غزالہ ہاشمی منتخب ہوئی ہیں جو کہ مسلمان ہونے کے ساتھ انڈین امریکن ہیں ، سوال یہ ہے کہ اگر ان علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی انتہائی کم ہے تو ممدانی پھر کس طبقے کے ووٹوں سے منتخب ہوئے ہیں ؟
ظاہر ہے دیگر مذاہب یا قبیلے کے لوگوں نے ان کو علاقے کی خدمت کے لیے منتخب کیا ہے ، سوال یہ ہے کہ انہوں نے ممدانی کو کس بنیاد پر منتخب کیا ہے پھر ، اس کا سادہ سا جواب یہ ہے آفاقی بنیادوں پر ، انسان کا " کاسمو پولیٹن" ہونا مہذب معاشروں میں معتبر مانا جاتا ہے ، یہ ایسے معاشرے ہوتے ہیں جہاں دنیا بھر سے مختلف الخیال و مذاہب کے لوگ آباد ہوتے ہیں اسی لیے وہاں یونیورسیلٹی کو اہم ترین کسوٹی تصور کیا جاتا ہے اور وہ اسی پیمانے پر اپنے نمائندے چنتے ہیں ، شاید یہی وجہ ہے کہ وہاں ریاست سیکولر ہوتی ہے ، اس کا کسی بھی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور نہ ہی اس بنیاد پر کوئی فیصلے کیے جاتے ہیں ۔
اگر اسی یونیورسل کسوٹی یا پیمانے کی بنیاد پر ہم اپنے معاشرے کو دیکھنے کی کوشش کریں تو مایوسی کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا ، ہمارے ہاں تو انسان کو فوکس ہی نہیں کیا جاتا بلکہ مذہب اور سماجی مرتبے کو اہم سمجھا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر ووٹ بنک کو ترجیح دی جاتی ہے ، کیا ہمارے سسٹم میں اتنی سکت ہے کہ وہ اہم مناصب پر کسی دوسرے مذہب کے انسان کو برداشت کرسکے یا سماجی ڈھانچے میں کھل کھلا کر ان کی شرکت کو سہار سکے ؟
یہاں تو کھلم کھلا دکانوں کے اندر لکھا ہوتا ہے کہ فلاں مذہب یا فرقے کے شخص کا داخلہ ممنوع ہے ۔
ستم ظریفی کا یہ عالم ہے کہ جنازوں تک میں اعلان کر دیا جاتا ہے کہ فلاں فرقے کے لوگ خود بخود جنازے سے نکل جائیں ، یہ مرنے والے کی وصیت تھی ، اس طرح کی وڈیوز یوٹیوب پر موجود ہیں ، اس طرح کے عجیب و غریب مناظرے موجود ہیں جس میں وارثان ممبر محض مختلف فرقے کی وجہ سے ایک دوسرے پر فحش گوئی کر رہے ہیں ۔
بڑی حیرت ہوتی ہے کہ مذہب سے ماورا معاشرے ہم ایسے مذہبی معاشروں سے کس قدر بلند ہیں ، کشادگی کا یہ عالم ہے کہ ہر ایک کو اپنے سماج میں نا صرف جگہ دیتے ہیں بلکہ ازدواجی حیثیت اور سماج میں پھلنے پھولنے اور ایڈجسٹ ہونے کے پورے مواقع دیتے ہیں اور ایک دن ایسا بھی آتا ہے کہ انہی کو اپنے نمائندے کے طور پر منتخب کرنے میں انہیں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی ۔
وہاں انسانی جان بچانے والوں کو ہیرو گردانا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں جان لینے والے کو ، یہاں کسی بے گناہ کی جان لینے پر شرمندگی کی بجائے سیلیبریٹ کیا جاتا ہے جبکہ وہاں ہسپتالوں تک میں ڈاکٹر کو موت کی باقاعدہ وجہ لکھنا پڑتی ہے اور ثابت کرنا پڑتا ہے کہ مریض نیچرل موت مرا ہے نا کہ ڈاکٹر کی غفلت سے ۔
معاشروں کی ترجیحات ان کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ، وہی معاشرے زمین پر جنت کے عکاس ہوتے ہیں جہاں نظام ریاست عوام کے گرد گھومتا ہے اور لوگوں کو ہر حیثیت میں انسان سمجھا جاتا ہے ، ریاست تمام تر تعصبات سے بالاتر ہوتی ہے اور اس کی نظر میں تمام انسان برابر ہوتے ہیں ۔
تحریر: عبدالستار(میاں چنوں)
Abdul Sattar
02/11/2025
سب عقیدتوں کا کھیل ہے ۔۔۔۔۔
عقل تو سولو فلائٹ ہی پسند کرتی ہے اور اسے زنجیروں میں جکڑنا تقریباً ناممکن ہے ، یہ فقط تجسس اور کھوج کا ساجھی ہوتا ہے ، عقل کو صرف ایک طریقے سے ہی نکیل ڈالی جا سکتی ہے اگر اسے عقیدت کے حضور گروی رکھ دیا جائے ، روایتی تسلسل عقیدت کے گرد ہی تو گھومتا ہے ، اسی لیے تو سوال کو مخل ہونے کی قطعاً اجازت نہیں دی جاتی ۔۔۔۔
سوال کی چوٹ اور دھمک بہت دلخراش ہوتی ہے ، اس کی بازگشت دماغ کو بےچین کیے رکھتی ہے اور یہی علت روایتی بندوست کو پریشان کرتی ہے ، ویسے بھی یقین کی دنیا اور سوال کی دنیا بعد المشرقین کے مترادف ہیں ، ان کے قریب آنے سے سوال کا تو کچھ نہیں بگڑتا لیکن یقین کو خاصے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔
جاوید احمد غامدی بھی دست بوسی کے نشے کے اسیر ہیں ، تسلیم ، دست بوسی اور جھک کر پاؤں اور گھٹنوں کو چھونے کا ایک الگ ہی لطف ہوتا ہے ،
ہر وقت سوال کا سامنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے بھلا ؟
کبھی کبھی روایتی تسلسل کا مزہ بھی لے لینا چاہیے نا!
Abdul Sattar
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Mian Channun
58000