01/03/2026
حضرت آدم علیہ السلام سے اب تک کتنے سال گزر چکے ہیں؟
سائنسی اور اسلامی نظریات کا جائزہ...
یہ سوال کہ انسان اس دنیا میں کب سے آباد ہے، دو بڑے علمی زاویوں سے دیکھا جاتا ہے.. ایک زاویہ سائنس کا ہے اور دوسرا مذہب کا۔ دونوں کا دائرۂ کار الگ ہے، اسی لیے ان کے نتائج بھی مختلف سامنے آتے ہیں۔
سائنسی نظریہ کیا کہتا ہے؟
سائنس کے مطابق زمین پر انسان اچانک وجود میں نہیں آیا بلکہ وہ لاکھوں سال کے ارتقائی عمل سے گزرا۔ فوسلز، ڈی این اے اور جینیاتی تحقیق کی بنیاد پر سائنس دان کہتے ہیں کہ:
• انسان نما مخلوق (Hominins) تقریباً 60 لاکھ سال پہلے ظاہر ہوئی..
• جدید انسان (Homo sapiens) تقریباً 3 لاکھ سال پہلے سامنے آیا..
• غاروں، ہڈیوں اور قدیم اوزاروں کے آثار اسی طویل تاریخ کی طرف اشارہ کرتے ہیں...
سائنس اس کو حیاتیاتی ارتقا (Biological Evolution) کا نتیجہ سمجھتی ہے اور مذہبی تاریخ یا وحی کو اپنے دائرے میں شامل نہیں کرتی۔
بائبل کا کیلنڈر... بائبل میں آدمؑ سے لے کر حضرت عیسیٰؑ تک نسب نامے اور عمریں درج ہیں۔ انہی کو جمع کر کے یہودی و عیسائی علماء نے یہ نتیجہ نکالا کہ...
آدمؑ کی تخلیق آج سے تقریباً 6000 تا 7000 سال پہلے ہوئی۔ مثلاً مشہور عیسائی مؤرخ آرچ بشپ اُشر (Ussher) نے حساب لگایا کہ آدمؑ کی تخلیق 4004 قبل مسیح میں ہوئی۔یہ کیلنڈر مذہبی نسب ناموں پر مبنی ہے، اور اس کا مقصد زمین کی عمر نہیں بلکہ انسانی مذہبی تاریخ کو ترتیب دینا ہے۔ اس کی تصویر میں نے اس معلومات پلس پیج پر لگا دی ہے۔
اسلامی تاریخی نظریہ...
اسلامی روایات اور قدیم مؤرخین کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام پہلے انسان اور پہلے نبی تھے۔ امام ابن سعد نے الطبقات الکبریٰ میں حضرت عکرمہؒ سے روایت نقل کی ہے کہ:
حضرت آدم اور حضرت نوح علیہما السلام کے درمیان دس قرن تھے اور وہ سب لوگ اسلام پر تھے۔
(الطبقات الکبریٰ، ج 1، ص 42)
اور محمد بن عمر الواقدی سے روایت ہے کہ:
• آدمؑ → نوحؑ = 10 قرن
• نوحؑ → ابراہیمؑ = 10 قرن
• ابراہیمؑ → موسیٰؑ = 10 قرن
اور ایک قرن = 100 سال
اسی روایت میں حضرت ابن عباسؓ کا قول ہے:
موسیٰؑ اور عیسیٰؑ کے درمیان 1900 سال اور
عیسیٰؑ اور نبی کریم ﷺ کے درمیان 569 سال کا فاصلہ تھا۔
(الطبقات الکبریٰ، ج 1، ص 53)
مجموعی حساب
ان روایات کو جمع کرنے سے یہ ترتیب بنتی ہے:
• آدمؑ → موسیٰؑ = 3000 سال
• موسیٰؑ → عیسیٰؑ = 1900 سال
• عیسیٰؑ → محمد ﷺ = 569 سال
• عمرِ نبوی = 63 سال
• ہجرت سے اب تک = 1445 ہجری سال
یوں حضرت آدمؑ سے آج تک تقریباً 7000 سال کا زمانہ بنتا ہے۔
قمری اور شمسی کیلنڈر کا فرق
یہاں ایک نہایت اہم سائنسی اور تقویمی نکتہ بھی سمجھنا ضروری ہے.
• قمری سال = تقریباً 354 دن
• شمسی سال = تقریباً 365 دن
یعنی ہر سال میں تقریباً 10–11 دن کا فرق ہوتا ہے۔ اگر 6000 شمسی سال کو قمری نظام میں بدلا جائے تو وہ تقریباً 6900 تا 7000 قمری سال بن جاتے ہیں۔ اسی لیے مغربی مؤرخین جب حضرت آدمؑ کو تقریباً 4000 قبل مسیح قرار دیتے ہیں، تو وہ شمسی حساب سے بات کر رہے ہوتے ہیں، اور اسلامی روایت قمری حساب سے۔ یوں دونوں کیلنڈر بظاہر مختلف ہو کر بھی دراصل ریاضی کے اعتبار سے ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔
اس نظریے کے حق میں مزید دلائل
1. قرآن مجید نے آدمؑ کو انسانیت کی اخلاقی و نبوی تاریخ کا نقطۂ آغاز قرار دیا.
2. تمام انبیاء کے درمیان تسلسلِ رسالت رہا — کہیں بھی “انسان بغیر وحی” کا طویل خلا نہیں بتایا گیا.
3. صحابہ و تابعین کی روایات میں ہزاروں سالہ فاصلوں کا ذکر ملتا ہے، لاکھوں سال کا نہیں.
4. قدیم یہودی و مسیحی کیلنڈر بھی انسانی تاریخ کو چند ہزار سال میں محدود رکھتے ہیں
5. اسلامی مؤرخین نے آدمؑ کو انسان بطور مکلف مخلوق کا آغاز قرار دیا، نہ کہ حیاتیاتی ارتقا کا مرحلہ
ہم اعتماد کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک انسان بطور باشعور، مکلف، صاحبِ وحی مخلوق کے طور پر تقریباً 7000 سال گزر چکے ہیں۔
البتہ چونکہ یہ حساب قمری تقویم پر مبنی ہے، اس میں کچھ کمی بیشی ممکن ہے، اور قطعی علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
یہ ساری تحریر میری تحقیق اور مطالعے پر مبنی ہے۔ میں ذاتی طور پر اسلامی نقطۂ نظر کو زیادہ درست اور معتبر سمجھتا ہوں۔ لیکن ساتھ ہی میں یہ بھی مانتا ہوں کہ: یہ کوئی قطعی، حتمی یا فیصلہ کن بات نہیں۔ ہر شخص کو حق ہے کہ وہ سائنس کے نظریے کو مانے یا اسلامی نظریے کو۔ آپ جس نظریے کی پیروی کرنا چاہیں، وہ آپ کی فکری آزادی ہے۔ اصل مقصد سچ کی تلاش اور علم میں اضافہ ہے، نہ کہ کسی پر رائے مسلط کرنا۔
01/02/2025
نا بھائی اس معاملے میں مذاق نہیں چلے گا
22/12/2024
شیطان مر گیا ہے اور اس موجود مشن اس کے چیلے یا اولاد چلا رہے ہیں ۔ پروفیسر غامدی
ایک دن ٹی وی پر میں نے غامدی کو یہ کہتے ہوئے سنا تو سب سے پہلے تو مجھ جیسے جاہل انسان کو بھی وہ آیت یاد اگئ جس میں اللّٰہ تعالیٰ شیطان کو اس کے درخواست پر قیامت تک کا وقت دیتا ہے ۔پھر اس کے علاؤہ میں نے اے آئی سے بھی کچھ سوالات کئے کیونکہ مولوی تو اس کے مطابق علم میں اس سے کم ہیں تو مندرجہ ذیل معلومات ملی باقی آپ خود فیصلہ کریں کہ کیا غامدی صاحب ٹھیک ہے یا غلط ؟
کیا شیطان کا کوئی وجود ہے اور کیا وہ مر سکتا ہے اسلامی تعلیمات کے مطابق بھی بتائیں ۔
جی پی ٹی کے جوابات ۔۔۔
شیطان کا جسمانی وجود یا اس کے مرنے کی صلاحیت کا تصور مختلف مذاہب اور فلسفیانہ مکاتبِ فکر میں مختلف ہے۔ اگر ہم عقلی بنیاد پر اس موضوع کا جائزہ لیں، تو یہ سوال زیادہ تر مذہبی یا علامتی نظریات پر منحصر ہے۔ یہاں مختلف زاویوں سے اس پر غور کرتے ہیں:
---
1. اسلامی نکتۂ نظر
اسلام کے مطابق، شیطان ایک جن تھا، جسے آگ سے پیدا کیا گیا تھا (قرآن، سورہ الحجر: 27)۔
جنات مادی اجسام نہیں رکھتے جیسا کہ انسان، لیکن وہ موجود ہیں اور مر سکتے ہیں۔
قرآن یا حدیث میں کہیں ذکر نہیں کہ شیطان (ابلیس) مر چکا ہے، بلکہ قیامت تک اسے مہلت دی گئی ہے (سورہ الحجر: 36-38)۔
نتیجہ: اسلامی عقائد کے مطابق، شیطان ایک زندہ ہستی ہے اور قیامت تک زندہ رہے گا۔
---
2. عیسائیت اور یہودیت
عیسائیت میں، شیطان ایک گرا ہوا فرشتہ ہے، جو ابدی زندگی رکھتا ہے اور مر نہیں سکتا۔
یہودیت میں، شیطان خدا کے منصوبے کا حصہ ہے اور ایک روحانی وجود ہے، جس پر موت کا اطلاق نہیں ہوتا۔
نتیجہ: ان مذاہب میں شیطان کو غیر مادی اور غیر فانی تصور کیا جاتا ہے۔
---
3. فلسفیانہ نکتۂ نظر
اگر شیطان کو علامتی طور پر برائی کی قوت سمجھا جائے تو وہ کسی جسمانی وجود سے منسلک نہیں۔
برائی انسان کے اعمال میں موجود ہے اور اسے موت کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
نتیجہ: فلسفے کے مطابق، شیطان ایک تصور یا علامت ہے، نہ کہ مادی وجود۔
---
4. عقلی دلیل
جسمانی وجود رکھنے والی ہر مخلوق فناپذیر ہے، کیونکہ جسمانی عناصر محدود ہیں۔
اگر شیطان کو مادی ہستی سمجھا جائے، تو یہ منطقی ہے کہ وہ مر سکتا ہے۔
لیکن زیادہ تر مذاہب میں شیطان کو روحانی یا غیر مرئی قوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو موت سے آزاد ہے۔
---
5. نفسیاتی نکتۂ نظر
اگر شیطان کو انسان کے اندرونی منفی خیالات یا جذبات کا نمائندہ سمجھا جائے، تو وہ کسی جسم کا محتاج نہیں۔
منفی جذبات انسان کے ذہن سے جڑے ہوتے ہیں، اور ان کا خاتمہ انسان کی موت کے ساتھ ممکن ہے۔
نتیجہ: اس زاویے سے، شیطان جسمانی وجود نہیں رکھتا، بلکہ انسان کی نفسیاتی کیفیت کا حصہ ہے۔
---
خلاصہ
شیطان کے جسمانی وجود یا اس کے مرنے کی صلاحیت کا انحصار اس پر ہے کہ ہم شیطان کو کس زاویے سے دیکھتے ہیں:
1. مذہبی عقائد کے مطابق، شیطان ایک غیر مادی اور غیر مرئی وجود ہے، جو قیامت تک زندہ رہے گا۔
2. عقلی اور فلسفیانہ بنیاد پر، اگر شیطان جسمانی ہوتا، تو وہ فناپذیر ہوتا، لیکن اکثر اسے ایک علامت یا قوت سمجھا جاتا ہے جو موت سے آزاد ہے۔
3. نفسیاتی پہلو میں، شیطان کو انسان کے اندرونی منفی رجحانات کا استعارہ سمجھا جا سکتا ہے، جو مادی جسم سے آزاد ہیں۔
اسلام میں شیطان (ابلیس) کے بارے میں قرآن و سنت کے ذریعے جو معلومات ملتی ہیں، ان کی روشنی میں یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ:
1. شیطان کا وجود
شیطان، یا ابلیس، ایک حقیقی مخلوق ہے جس کا وجود ہے۔ قرآن کے مطابق:
پیدائش: ابلیس جنات میں سے ہے اور اسے آگ سے پیدا کیا گیا (سورۃ الکہف: 50، سورۃ الحجر: 27)۔
انکارِ سجدہ: جب اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور فرشتوں کو ان کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا، تو ابلیس نے تکبر کی وجہ سے انکار کیا (سورۃ البقرہ: 34)۔
شیطان کا مشن: ابلیس نے اللہ سے قیامت تک مہلت مانگی تاکہ وہ انسانوں کو گمراہ کرے (سورۃ الاعراف: 14-17)۔
2. کیا شیطان جسمانی وجود رکھتا ہے؟
شیطان ایک جن ہے، اور جنات انسانوں کی طرح مادی جسم نہیں رکھتے، بلکہ وہ لطیف مخلوق ہیں۔
لطیف مخلوق: جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا گیا ہے (سورۃ الرحمن: 15)۔
غیر مرئی: انسانوں کی آنکھیں انہیں عام طور پر نہیں دیکھ سکتیں (سورۃ الاعراف: 27)۔
لہذا، شیطان کا جسمانی وجود ایسا نہیں جیسا انسانوں کا ہے، لیکن وہ موجود ہے اور اثر انداز ہو سکتا ہے۔
3. کیا شیطان مر سکتا ہے؟
قرآن میں واضح ہے کہ اللہ نے شیطان کو قیامت تک مہلت دی ہے:
> "کہا: مجھے قیامت کے دن تک کی مہلت دے۔ فرمایا: بے شک تمہیں مہلت دی گئی ہے۔" (سورۃ الحجر: 36-38)
شیطان کی موت قیامت کے بعد ہوگی، کیونکہ تمام مخلوقات کو موت کا سامنا کرنا ہے (سورۃ الرحمن: 26-27)۔
قیامت کے دن شیطان کو اور اس کے پیروکاروں کو جہنم میں ڈالا جائے گا (سورۃ ص: 85)۔
4. شیطان کی نوعیت اور اثر
وسوسے ڈالنا: شیطان انسان کے دل میں برے خیالات اور وسوسے ڈال سکتا ہے (سورۃ الناس: 4-5)۔
براہ راست کنٹرول نہیں: شیطان انسان کو مجبور نہیں کر سکتا، بلکہ صرف بہکاتا ہے (سورۃ ابراہیم: 22)۔
نتیجہ
اسلامی عقائد کے مطابق:
شیطان ایک زندہ مخلوق ہے، لیکن اس کا جسم انسانوں جیسا مادی نہیں۔
شیطان فی الحال زندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گا، کیونکہ اسے اللہ نے مہلت دی ہے۔
قیامت کے بعد، شیطان بھی موت کا سامنا کرے گا اور پھر ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گا۔
22/12/2024
حال ہی میں نیٹ فلیکس پر ریلیز کیا گیا حضرت مریم علیہا السلام کے زندگی پر مبنی یہ فلم Mary شاید آپ لوگوں نے دیکھا ہوگا ۔
اس فلم کی کہانی ہمارے مذھب اسلام کے علاؤہ دیگر مذاھب میں بھی ملتا ہے جس میں ایک بہت ہی نا آشنا معجزہ ہوتا ہے یعنی حضرت مریم علیہا السلام کو بغیر خاوند کے بچہ ہوتا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوتا ہے ۔ اب یہ سب تو آپ سب جانتے ہونگے لیکن ہم اس کو سائنسی لحاظ سے سمجھنے کی کوشش کرے گی ؛ کیا واقعی بغیر خاوند کے بچہ ممکن ہے ؟
یہ تحریر ڈاکٹر احید حسن صاحب کی وال سے لیا گیا ہے
چلو آغاز کرتے ہیں
بہت سے پودے اور جانور جیسا کہ
نیماٹوڈز، مچھلیاں، شارک، پرندے ،بھڑیں اور کچھ بڑی چھپکلیاں جیسا کہ کموڈو ڈریگن بغیر کسی جنسی ملاپ کے بچے پیدا کرتے ہیں ہیں جس کو کنواری پیدائش یا Virgin births
یا Parthenogenesis
کہا جاتا ہے۔1,2,3
یہ لفظ یونانی لفظ پارتھینو جس کا مطلب کنواری اور
Genesis
جس کا مطلب پیدائش ہے، سے اخذ کیا گیا ہے یعنی کہ کنواری ماں کے پاس بچے کی بغیر جنسی عمل کے پیدائش۔4
پارتھینوجینسیس کا پہلا ذکر سوئس نیچرلسٹ چارلس بونٹ
Charles Bonnet)
نے کیا، جس نے مشاہدہ کیا کہ کملہ سبز یا Aphids انڈے بغیر کسی مردانہ سپرم کے بچے پیدا کرتے ہیں۔5
تحریری تاریخ یا Written history میں کئی ایسے نامور مردوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو کنواری ماں سے پیدا ہوئے تھے۔ تقریباً ہر براعظم، ثقافت اور مذہب میں کنواری ماں سے پیدا ہونے والا نجات دہندہ موجود ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، بدھا، ہورس، جان دی بپٹسٹ، ڈریوڈ گاڈ ہو Druid God) Hu)، صوفی ہوا ( Suffi Huwa), کوئٹزالکوٹ ( Quetzalcoatl)، زرتشت، مرلن، سکندر، بطلیموس، جولیس اور آگسٹس سیزر جیسے لوگوں کے بارے میں مؤرخین نے کہا کہ وہ "کنواری ماں سے پیدا ہوئے ہیں"۔ اگرچہ ہم یہ نہیں کہتے کہ ان سب افراد کی کنواری ماں سے بغیر جنسی ملاپ کے پیدائش ثابت ہے لیکن اس پہ ملحدین نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اسلام اور عیسائیت کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے کنواری مریم سے پیدائش کا تصور ان دیگر مذاھب اور ثقافتوں سے اخذ کیا گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سب افراد حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہٰذا یہ کہا جائے گا کہ ان حضرات کی بغیر باپ کے کنواری ماں سے پیدا ہونے کا تصور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بغیر والد کے کنواری ماں سے پیدا ہونے کے تصور سے نقل کیا گیا ہے نہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بغیر والد کے کنواری ماں سے پیدا ہونے کا تصور ان حضرات سے۔ یہ سوا بہتان کے کچھ بھی نہیں ہے۔
لیکن اس وقت تک قدرتی طور پر ممالیہ میں پارتھینوجینسیس کے کوئی معروف واقعات ثابت نہیں ہیں، لیکن سائنسدانوں نے اسے مصنوعی طور پہ خرگوش، چوہوں اور بندروں میں کامیابی کے ساتھ حاصل کیا ہے۔ لہذا یہ کہنا کہ یہ عمل ممالیہ یعنی بچوں کو دودھ پلانے والے جانوروں میں ناممکن ہے، غلط ہے۔ تاہم ممالیہ (اور کچھ پھولوں والے پودوں) میں اس عمل سے حاصل ہونے والے جنین یا ایمبریو ایک حیاتیاتی رجحان یعنی کہ Genomic imprinting کی وجہ سے مسائل کا شکار ہوئے جس میں مرد سپرم اور زنانہ انڈوں میں پائے جانے والے مردانہ اور زنانہ جین دونوں جنین یا ایمبریو کی نشوونما کے لئے ضروری ہوتے ہیں، اور بغیر والد کے صرف پارتھینوجینیسس Parthenogenesis سے بننے والا جنین یا ایمبریو صحیح نشونما نہیں پا پاتا۔ 6,7
اگرچہ پارتھینوجینیسس ان جانوروں کے لئے بقا کی حکمت عملی ثابت ہوتی ہے جو ماحولیاتی دباؤ کا شکار یا اکیلے ہوں، یہ ممالیہ جانوروں میں "جینومک امپرینٹنگ"
Genomic imprinting
نامی ایک عمل کی طرف سے محدود ہے، جہاں ماں یا والد سے جین کا ایک سیٹ دوسرے پر غالب ہوتا ہے۔ لہٰذا بغیر والد کے ممالیہ میں پارتھینوجینیسس کے عمل سے کلون شدہ سیل میں یا دونوں جین سرگرم ہوں گے جس سے جنین یا ایمبریو کی اضافی اور ناقص نشوونما ہوگی اور ٹیومرز کا خطرہ بڑھ جائے گا یا دوںوں غیر سرگرم ہوں گے جس سے جنین یا ایمبریو کی نشوونما ٹھیک سے ہوگی ہی نہیں۔ جینین یا ایمبریو سے اگلے مرحلے میں بچے کی پیدائش کے لئے والد کے جین بھی درکار ہوتے ہیں، لہٰذا اکیلی ماں سے بچے کی پیدائش ناممکن ہے۔ ہاں اگر کسی خاتون کے دو ایکس کروموسوم میں سے ایک میں ایسی میوٹیشن یا قدرتی جینیاتی تبدیلی واقع ہو جائے جو اس کروموسوم سے ایمبریو سے اگلی نشوونما کو Genomic imprinting سےروکنے والے جین ہٹا دے تو مردانہ سپرم کے بغیر بھی مفروضاتی طور پہ یہ نشوونما آگے چل کر بچے کی پیدائش کا سبب بن سکتی ہے۔ سائنسدانوں نے 2022ء میں Genomic imprinting کے اس عمل پہ قابو پا کر چوہوں میں بغیر باپ کے اور بغیر جنسی ملاپ کے بچے پیدا کئے۔9
اگرچہ جنوبی کوریا کے سائنسدان ہوانگ وو سک
(Hwang Woo-suk) نے دنیا کو یہ دھوکا دیا کہ وہ مصنوعی طور پر کلون زدہ انسانی جنین یا ایمبریو پیدا کرنے والا پہلا انسان ہے، لیکن اس نے بغیر باپ کے بچوں کی پیدائش یا پارتھینوجینسیس کا استعمال کرتے ہوئے انسانی جنین پیدا کرکے اسٹیم سیل کی تحقیق میں اہم پیشرفت کی۔ اگست 2007 ء میں ہوانگ وو سک نے بغیر جنسی ملاپ کے انسانی ساقی خلیے یا سٹیم سیل پارتھینو جینیسس کے عمل سے پیدا کیے اور ان سے بغیر باپ کے انسانی ایمبریو یا جنین تخلیق کیا گیا۔ 15,16
دراصل انسانوں میں بغیر کسی جنسی ملاپ کے بچہ پیدا ہونے کے جدید واقعات موجود ہیں، جو غیرجنسی تولید یا Asexual reproduction کی ایک شکل ہے جس میں جنین یا ایمبریو کی افزائش اور نشوونما بغیر جنسی ملاپ اور بغیر مردانہ جنسی سیل یا سپرم کے ہوتی ہے۔
انسانوں میں، کنواری پیدائش یا غیر جنسی تولید صرف اس صورت میں ہوسکتی ہے جب عورت کے انڈے کسی ساتھی سے جنسی تعلقات یا نطفہ کے بغیر کامیابی کے ساتھ جنین یا ایمبریو میں تبدیل ہوں۔ انسانوں میں خواتین میں ایکس ایکس کروموسوم ( XX chromosomes ) ہوتے ہیں جبکہ مرد ایکس وائے ( XY chromosome )ہوتے ہیں، اس لیے کہا جاتا ہے کہ عورت بغیر جنسی ملاپ کے کبھی بیٹا پیدا کرنے کے قابل نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کے پاس مرد پیدا کرنے کے لیے ضروری Y کروموسوم نہیں ہیں۔ یہ کروموسوم صرف باپ ہی سے آ سکتے ہیں۔ لیکن ایسی بات نہیں ہے۔
ملحدین کہتے ہیں کہ پارتھینو جینیسس کے عمل سے پیدا ہونے والے بچے اپنی ماں کے کلون ہوتے ہیں اور اپنی ماں کی طرح مادہ ہوتے ہیں لہٰذا پارتھینو جینیسس کا عمل کنواری مریم علیہا السلام سے ایک مرد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی وضاحت نہیں کرتا لیکن ایسا نہیں ہے۔ پارتھینو جینیسس کے عمل سے بغیر والد یا بغیر جنسی ملاپ کے ماں سے نر بچے بھی پیدا ہو سکتے ہیں جیسا کہ کملہ سبز یا aphids جن میں ماں سے نر بچے بھی پارتھینو جینیسس کے عمل سے پیدا ہوتے ہیں۔8
2009 میں، تولیدی صحت یا Reproductive health کے طویل مدتی مطالعے اور برطانوی طبی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ دو سو امریکی خواتین میں سے ایک نے کہا کہ انہوں نے کبھی جنسی عمل کیے بغیر بچے کو جنم دیا ہے۔ یہ مطالعہ 1995 سے 2009 تک 15 سے 28 سال کی عمر کی 7,870 خواتین اور لڑکیوں پہ تحقیق پر مبنی تھا۔ 45 (0.5 ٪) نے بتایا کہ ان کو بغیر جنسی ملاپ کے "کنوارا حمل" یا Virgin pregnancy ہوئی۔10
یونیورسٹی آف ایڈنبرگ کے شعبہ ہیومن جینیٹکس کی 1995 کی ایک رپورٹ برطانیہ کے نیچر جینٹکس کے جرنل میں جاری کی گئی تھی۔ میگزین سلیٹ نے 2007 ء میں اس کی رپورٹ کے حوالے سے لکھا:
" پارتھینوجینیسس ( Parthenogenesis ) یا کنواری پیدائش کا عمل درحقیقت انسانی بچوں کی پیدائش کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ "
ڈاکٹر اریتھی پرشاد نے دی گارڈین میں مریم علیھا السلام کے کنوارے حمل اور ان سے بغیر والد کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا سوال کیا۔ وہ کہتی ہیں: کہ یسوع یا عیسیٰ علیہ السلام ایکس اور وائے کروموسوم رکھنے والے ایک مرد تھے لیکن چونکہ انسانی عورتوں میں صرف ایکس کروموسوم ہوتے ہیں، لہذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے مریم سے اپنے لئے بغیر والد کے Y کروموسوم حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہوگا لیکن کچھ وراثتی ماہرین یا geneticists کے ساتھ بات کرنے کے بعد، پرساد ایک امکان پیش کرتی ہے:
… مریم میں Testicular feminization نامی جینیاتی مسئلہ ہو سکتا ہے ۔ یہ حالت رکھنے والی خواتین میں مردوں کی طرح ایک ایکس اور Y کروموسوم ہوتا ہے، لیکن ان کا ایکس کروموسوم ایک ایسا جینیاتی تغیر یا میوٹیشن رکھتا ہے جو ان کے جسم کو مرد جنسی ہارمون ٹیسٹوسٹیرون ( Testosterone) سے بے حس بنا دیتا ہے۔ اس سے ان کی جسمانی نشوونما ایک خاتون کی حیثیت سے ہوتی ہے جس میں وہ جینیاتی طور پر مرد، اور ظاہری طور پہ عورت ہوتی ہیں لیکن اس صورت میں حضرت مریم علیہا السلام بانجھ ہوتیں لیکن اگر وہ بغیر شوہر کے حاملہ ہو جائیں تو ان کا بچہ ان سے مردانہ وائے کروموسوم لے سکتا ہے (اگرچہ ہمیں یہ وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے)۔ 11 جہاں تک بات ہے
testicular feminization
کی تو یہ مسئلہ رکھنے والے لوگ ظاہری طور پہ کسی طرح بھی ایک درمیانی جنس نہیں لگتے بلکہ ان کی مکمل خصوصیات عورت والی ہوتی ہیں۔خوشی سے ان کی شادی بھی کی جاتی ہے لیکن یہ خواتین بچہ جننے سے قاصر ہوتی ہیں لیکن ایک رب کے لیے کیا ممکن ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے بھی اولاد پیدا کرکے دکھائے۔
اریتھی پرساد نے اس کی ایک اور سائنسی وضاحت بھی پیش کی ہے۔ اپنی 2012ء کی کتاب Like a virgin میں سائنسی لکھاری اراتھی پرساد نے اس کی ایک ممکنہ سائنسی توجیہ پیش کی۔ اس کے مطابق حضرت مریم علیہا السلام جینیاتی طور پہ مخلوط یا Genetic chimera تھیں جو
مردانہ اور زنانہ ایمبریو سے وجود میں آئی تھیں اور ان میں مردانہ ایمبریو کا وائے کروموسوم بعد ازاں ان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بغیر والد کے پیدائش کا سبب بنا۔ یا وہ نعوذ باللہ مخلوط جنس پہ مشتمل یا Intersex تھیں جن میں بیضہ دانی اور خصیے دونوں یعنی Ovotestis تھیں جن میں والد کے ایکس کروموسوم کے ساتھ وائے کروموسوم کا بھی تھوڑا حصہ موجود تھا۔ اس طرح انہوں نے خود ہی اپنے جسم میں مردانہ سپرم سیل اور زنانہ انڈے پیدا کئے جس سے انہیں بغیر کسی شوہر کے حمل ہوا اور اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے کیونکہ ایسے لوگوں میں بچہ دانی یا Uterus بالکل نارمل ہوتی ہے (اگرچہ ہمیں یہ شرمناک وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے) یا کافی ممکنہ طور پر ان کے جسم میں داخل ہونے والے ایک نر کیڑے یا Male worm
نے ان کے جسم میں وائے کروموسوم داخل کیا جس سے ان کے ہاں بغیر شوہر کے کنوارے حمل اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ممکن ہوئی۔11
2005ء میں انگلینڈ میں یونیورسٹی آف ایڈنبرگ کے سائنسدانوں نے FD دریافت کیا یعنی ایک ساڑھے تین سالہ صحتمند بچہ جس کی ابتدائی نشوونما پارتھینوجینیسس Parthenogenesis سے ہوئی لیکن بعد ازاں اس کے ساتھ نر جنسی سیل یا سپرم کا ملاپ یا فرٹیلائزیشن ہوئی۔ اس لئے اس کے بنیادی اعضاء جیسا کہ مہرے، جلد اور جسمانی اعضاء میں ماں کا ایکس اور والد کا وائے کروموسوم دوںوں موجود تھے، لیکن اس کے خون کے خلئے یا سیلز مکمل طور پر پارتھینوجینیسس Parthenogenesis کے عمل سے صرف ماں کے ایکس کروموسوم خلیوں یا سیلز پہ مشتمل تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ اسی طرح حضرت مریم علیہا السلام میں اللہ تعالیٰ نے پارتھینوجینیسس Parthenogenesis کا عمل شروع کیا اور بعد ازاں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے ان میں سے بغیر کسی والد کے اپنے حکم سے وائے کروموسوم منتقل کیا یا براہ راست بغیر پارتھینوجینیسس Parthenogenesis کے ان میں وائے کروموسوم منتقل کر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا فرمایا.12,13
دوسروں نے اس کا موازنہ مصنوعی تخم ریزی یا Artificial insemination کے عمل سے کیا ہے، جس کے ذریعے منی کو مصنوعی طور پر اصل جنسی ملاپ کے بغیر انڈے میں متعارف کرایا جاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے معاملے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بغیر جنسی ملاپ کے مردانہ سپرم کو حضرت مریم علیہا السلام کے بطن میں منتقل کیا جیسا کہ قرآن کریم میں ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ںے ان کے پیٹ میں روح پھونکی یا جیسا کہ قرآن کریم میں مذکور ہے۔
بی بی سی نے رپورٹ کیا کہ فطرت میں فقاریہ جانوروں یا Vertebrates میں کلوننگ کا پہلا عملی مشاہدہ قید میں موجود ایک اژدھے میں دیکھنے میں آیا جس نے بغیر جنسی تولید کے اور غیر ملاپ شدہ انڈوں سے دو طرح کے بچے پیدا کئے جن میں سے ہر ایک میں میوٹیشن کی وجہ سے رنگ بھی ماں سے مختلف تھا۔ جب محققین نے ان پیدا ہونے والے بچوں کے ڈی این اے پہ تحقیق کی تو پتہ چلا کہ وہ نہ صرف قدرتی طور پہ کلوننگ کے عمل سے پیدا ہوئے تھے بلکہ اس دوران نئی جنس بھی پیدا ہوئی یعنی مادہ سے نر بچے بغیر کسی جنسی ملاپ کے جیسا کہ کنواری مریم سے بغیر والد کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش۔
جبکہ انسانوں کے کروموسوم خواتین میں ایکس ایکس اور مردوں میں ایکس وائے ہوتے ہیں، سانپوں 'اور دوسرے بہت سے رینگنے والے جانوروں کے کروموسوم مختلف ہیں: نر سانپ زیڈ زیڈ
( ZZ )
ہوتے ہیں، اور مادہ سانپ زیڈ ڈبلیو
( ZW)
ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود، ان پیدا ہونے والے بچوں میں موجود تمام سانپ ڈبلیو ڈبلیو کروموسوم
(WW chromosomes )
پہ مشتمل تھے، جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اپنی ماں کے صرف دو کروموسوم سے نکلے تھے۔ یہ
WW
کروموسوم رکھنے والے فقاریہ یا Vertebrates کبھی پہلے مشاہدہ نہیں کئے گئے تھے۔ ایسا نیچر میں کبھی مشاہدہ نہیں کیا گیا تھا۔ شاید یہی وہ عمل تھا جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت حوا علیہا السلام کو حضرت آدم علیہ السلام سے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر والد کے کنواری مریم سے پیدا کیا.14
ملحدین کے مطابق پارتھینو جینیسس کے عمل کے مطابق ایک مادہ سے صرف مادہ جیسا جانور پیدا ہونا چاہئے جب کہ اوپر پیش کی گئی وضاحت سے جدید سائنسی تحقیق کے مطابق ایسا نہیں ہے اور مادہ سے نر بچے بھی پیدا ہوئے ہیں۔اور یہ بات ثابت کرتی ہے کہ ایک ایکس ایکس کروموسوم عورت مریم علیہ السلام سے ایک ایکس وائے کروموسوم مرد حضرت عیسی علیہ السلام کا پیدا ہونا خود سائنس کے مطابق عین ممکن ہے اور مذہب کی اس بات کو سائنس کے کلاف کہنا محض الحادی تعصب ہے اور کچھ نہیں۔
اللہ تعالیٰ کے لئے یہ بالکل ممکن تھا کہ وہ خدا کسی شے سے، یا کنواری مریم کے پیٹ میں موجود ایٹموں سے وائے کروموسوم پیدا کر کے اس کے انڈے کا ملاپ کرا کے مکمل طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسا انسان پیدا کر سکتا تھا، اگر یہ نہیں ہوسکتا تو حضرت آدم علیہ السلام میں پہلی بار Y کروموسوم کیسے تیار کیا گیا تھا جبکہ اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ یسوع یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام تخلیق کے معاملے میں حضرت آدم علیہ السلام کی طرح ہیں۔
جو اللہ مٹی میں
XYکروموسوم اولاً تخلیق کرسکتا ھے وہ ایک ایکس ایکس کروموسوم مریم علیہا السلام سے ایکس وائے کروموسوم حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا کیوں نہیں کر سکتا جب کہ وہ خود اپنے کلام میں فرما چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایسے ہی پیدا فرمایا جیسے پہلی بار حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔
ایک
xx
کروموسوم والی عورت مریم علیہ السلام سے ایک
xy
مرد حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کے بارے میں ملحدین کہتے ہیں کہ یہ سائنسی طور پہ جھوٹ اور نامکمل ہے جب کہ جدید سائنسی تحقیق پہ غور کیا جائے تو یہ بات سائنس کے مطابق عین ممکن ہے۔ایک مرد یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کی باپ کے بغیر پیدائش کے لیے مادہ مواد یعنی ایکس کروموسوم حضرت مریم میں موجود تھا۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ کہیں سے انہیں وہ
y
کروموسوم مہیا کر دیا جائے تو جو ایک ایکس وائے کروموسوم مرد کی بغیر باپ پیدائش کے لیے لازمی تھا۔ یہ وائے کروموسوم اللہ تعالی نے حضرت جبریل علیہ السلام کے ذریعے مریم علیہ السلام کے پیٹ میں پھونک مار کر مہیا کر دیا۔ایک وہ رب جو مٹی سے ایکس وائے کروموسوم آدم علیہ السلام پیدا کر سکتا ہے وہ رب مریم کے جسم میں موجود ایکس ایکس کروموسوم میں سے ایک کو وائے کروموسوم میں تبدیل کرکے ان سے بغیر باپ کے حضرت عیسی علیہ السلام کو پیدا کیوں نہیں کر سکتا یا حضرت جبریل علیہ السلام کی پھونک کے ذریعے ان کے پیٹ میں بغیر باپ کے وائے کروموسوم والا سپرم منتقل کیوں نہیں کر سکتا۔اگر وہ ایسا نہ کرتا تو خدا کیوں کہا جاتا جب کہ خدا ہے وہی جو وہ کرے جو عقل کی حد سے آگے ہو۔
جو رب آدم علیہ السلام کے پتلے میں ایک پھونک سے ایکس وائے دونوں کروموسوم پیدا کرسکتا ہے وہ جبریل علیہ السلام کی پھونک سے مریم علیہ السلام کے جسم میں وائے کروموسوم پیدا کیوں نہیں کرسکتا۔
اگر ان سب عوامل کو الگ الگ سمجھنے کی کوشش کی جائے بجائے اس کے کہ سب کو ایک ہی وقت میں حضرت مریم علیہ السلام کے جسم میں سمجھا جائے جیسا کہ یہ ملحد اپنی سائنسی کم فہمی ظاہر کرتے ہوئے کر رہا ہے تو کسی طرح بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش ایکس ایکس کروموسوم عورت مریم علیہ السلام سے ناممکن نہیں۔
اس ساری وضاحت کے باوجود ملحدین کہتے ہیں کہ کوئی سائنسی اصول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کنواری مریم علیہا السلام سے بغیر والد کے پیدائش کی سائنسی وضاحت نہیں کرتا۔ اس کا سادہ سا جواب ہے ۔ کسی سائنسی اصول کے تحت نہیں ۔ ﷲ تعالیٰ کو اس کام کے لئے کسی سائنسی اصول کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس کے سارے کام کن فیکون سے ہو جاتے ہیں ۔ اگر ارتقائی ملحدین کے دعوے کے مطابق ایک یک خلوی جاندار بغیر کسی کی مداخلت کے ارتقائی عمل سے خودبخود پیدا ہو سکتا ہے تو کنواری مریم سے اللہ تعالیٰ کی مداخلت سے بغیر والد کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیوں نہیں۔ جو سائنس آج تک یہ بتانے سے قاصر ہو کہ بے جان چیزوں سے زندہ جرثومہ کیسے وجود میں آگیا وہ سائنس کنواری مریم سے بغیر والد کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش پہ اعتراض اور سوال کیونکر اٹھا سکتی ہے۔
اگرارتقا کی تھیوری کے مطابق ایک کروموسوم کا وجود ہے ہی نہیں
اور اس سے 46 کروسوم بن سکتے ہیں تو کیا کنواری مریم علیہا السلام کے دو ایکس ایکس کروموسوم میں سے ایک ایکس وائے کروموسوم میں تبدیل ہو کر ان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کیوں نہیں کر سکتا تھا؟ اگر سائنس میں جینٹیک انجنیرنگ کے ذریعے ایک جین ڈالا جا سکتا ہے تو اس کائنات کا مالک کروموسوم انجنیرنگ کے ذریعے ایکس ایکس کروموسوم مریم علیہا السلام سے ایکس وائے کروموسوم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیونکر پیدا نہیں کر سکتا تھا۔
وہ کوںسا سائنسی اصول ہے جس کے تحت ارتقا میں پہلے بیکٹیریا نے توانائی یا انرجی کے حصول کے لئے آکسیجن استعمال کرنی شروع کی یعنی Aerobic respiration کو اپنایا اور آکسیجن ان بیکٹیریا کے لئے مضر کی جگہ مفید ثابت ہونا شروع ہوئی۔ وہ کونسا سائنسی اصول تھا جس کے تحت ان بیکٹریا نے خوراک ڈھونڈنی اور ان کی طرف حرکت شروع کی۔ وہ کوںسا سائنسی اصول تھا جس کے تحت اس حرکت کے لئے ان بیکٹیریا میں فلیجیلا ( Flagella) خود بخود وجود میں آئے۔ وہ کوںسا سائنسی اصول تھا جس کے تحت وجود میں آنے والے پہلے خلئے یا سیل میں خلوی عضویہ یا Organelle نے خودبخود حرکت اور کام شروع کیا۔ وہ کوںسا سائنسی اصول تھا جس کے تحت پہلے ایکس اور وائے کروموسوم پیدا ہوئے۔ جس سائنسی اصول کے تحت پہلے ایکس کروموسوم پیدا ہوئے اسی سائنسی اصول کے تحت کنواری ایکس ایکس کروموسوم ( XX) مریم علیہا السلام میں وائے کروموسوم پیدا ہوئے۔اگر سائنس آج اس بات پہ حیران ہے کہ xx کروموسوم سے xy کروموسوم کیسے بنا تو سائنس اس بات پہ حیران کیوں نہیں ہوتی کہ
پہلی دفعہ ایک بیکٹیریاسے جس کے اندر کروموسوم ہوتے ہی نہیں اس سے کاہنات کا پہلا کروموسوم کیسے بنا؟
اگر پہلے ایکس اور وائے کروموسوم کے پہلے جاندار میں خود بخود پیدا ہونے پہ کوئی اعتراض نہیں، اس کا کوئی سائنسی اصول نہیں تو پھر کنواری ایکس ایکس کروموسوم مریم ( XX Chromosome) مریم علیہا السلام سے ایکس وائے کروموسوم ( XY chromosome) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش پہ اعتراض کیونکر؟ کیا یہ دوغلا پن اور تضاد نہیں؟
غیر جنسی تولید اور پارتھینوجینیسس کو ماننے والے کس منہ سے حضرت عیسیؑ کے بن باپ کے پیدائش پہ اعتراض کر سکتے ہیں ؟
پہلی بار ایک زندہ خلیے یا سیل کے ایک بے جان ان آرگینک میٹر یا غیر نامیاتی مادے سے وجود میں آنے پہ یقین رکھنے والے کس منہ سے اس بات کا انکار کر سکتے ہیں کہ ایک جاندار سے دوسری جنس کا جاںدار یعنی حضرت مریم علیہا السلام سے حصرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا نہیں ہو سکتے؟
اگر آپ ایک طرف کسی چیز کا انکار صرف اس وجہ سے کرتے ہیں کہ یہ مذہب کہ رہا ہے اور دوسری طرف اسی طرح کے نامعقول اور عقل کو ہضم نہ والے سائنسی واقعات کو صرف اس وجہ سے تسلیم کر رہے ہیں کہ یہ سائنس کہ رہی ہے تو آپ غیر جانبدار نہیں بلکہ آپ متعصب ہیں ۔
یہاں پہ اگر مذہب کی باتیں آپ کو نامعقول لگ رہی ہیں تو وہ تمام نامعقولیت سائنس کے ان بیان کردہ اشیاء میں بھی موجود ہیں اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر چیز کو آپ کے عقل اور سوچ کے مطابق ہونا ضروری نہیں اور نہ کسی چیز کی نامعقولیت اس چیز کے عدم وجود پہ دلیل ہیں ہم الحمد للہ یہاں پہ ساینس اور مذہب دونوں کو تسلیم کرتے ہیں جو خدا بغیر قوانین کے کائنات ، مٹی یا بےجان مادے سے جاندار اور صفر حجم میں لاتعداد کمیت سما سکتا ہے اس کے لیے یہ کیسے مشکل ہو سکتا ہیں کہ وہ کنواری ایکس ایکس کروموسوم مریم علیہا السلام سے بغیر والد کے ایکس وائے کروموسوم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کر دے۔
نوٹ: یہ مضمون مکمل طور پہ میری یعنی ڈاکٹر احید حسن کی تصںیف نہیں ہے، اس میں کئی دیگر مضامین اور ذرائع سے لیا گیا مواد بھی شامل کیا گیا ہے۔
22/11/2024
کچھ اھم سوالات کے جوابات ۔
یہ سوالات بہت گہرے اور تحقیق طلب ہیں، اور ہر سوال کا جواب تاریخ، سائنس، فلسفہ یا ثقافت کی بنیاد پر مختلف انداز سے دیا جا سکتا ہے۔ میں ان سوالات کے جوابات وضاحت کے ساتھ فراہم کرتا ہوں:
---
1. امریکی ڈالر پر مصری اہرام کیوں موجود ہے؟
امریکی ڈالر پر مصری اہرام اور "آل سیئنگ آئی" (All-Seeing Eye) کا نشان فری میسنز کے نظریات اور علامتی نظام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ نشان 1776 میں امریکی انقلاب کے دوران "نئے عالمی نظام" (New World Order) کی علامت کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔ اہرام طاقت، استحکام، اور پائیداری کی علامت ہے۔
---
2. 56 ممالک نے انٹارکٹیکا میں داخلے پر معاہدہ کیوں کیا؟
انٹارکٹیکا ٹریٹی سسٹم (1959) کے تحت یہ معاہدہ کیا گیا تاکہ انٹارکٹیکا کو سائنسی تحقیق کے لیے مختص رکھا جائے اور اسے کسی بھی فوجی یا تجارتی سرگرمی سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس کا مقصد عالمی امن کو فروغ دینا ہے۔
---
3. ہوائی جہاز انٹارکٹیکا کے اوپر کیوں نہیں اڑتے؟
ہوائی جہاز عام طور پر انٹارکٹیکا کے اوپر اس لیے نہیں اڑتے کیونکہ:
خراب موسم اور شدید سردی۔
ایمرجنسی لینڈنگ کے لیے مناسب جگہوں کی کمی۔
مقناطیسی قطب پر جی پی ایس سسٹم کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
---
4. ناسا نے چاند کی لینڈنگ کی ریکارڈنگ کیسے کھو دی؟
ناسا نے اعتراف کیا کہ چاند کی لینڈنگ کی اصل ٹیپیں دیگر ویڈیوز پر دوبارہ ریکارڈنگ کے دوران ضائع ہو گئیں۔ اس وقت ڈیٹا اسٹوریج کا نظام محدود تھا، اور یہ حادثہ تنظیمی لاپرواہی کا نتیجہ تھا۔
---
5. نیل آرمسٹرانگ کے چاند پر قدم رکھنے کے وقت کیمرہ کون رکھ رہا تھا؟
چاند پر لینڈنگ کے وقت کیمرہ "ایگل لینڈر" کے باہر نصب کیا گیا تھا۔ نیل آرمسٹرانگ کے قدم رکھنے سے پہلے یہ خودکار طور پر چلایا گیا۔
---
6. انسان نے دوبارہ چاند پر قدم کیوں نہیں رکھا؟
چاند پر دوبارہ مشنز نہ ہونے کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں:
مالیاتی وسائل کی کمی۔
ترجیحات میں تبدیلی (مثلاً مریخ مشنز پر توجہ)۔
جدید ٹیکنالوجی کی تیاری میں وقت لگنا۔
---
7. بندر انسان میں تبدیل ہو گئے تو بندر اب بھی کیوں ہیں؟
ارتقائی عمل میں یہ تصور غلط ہے کہ بندر انسان میں تبدیل ہوئے۔ انسان اور بندر ایک مشترکہ جد (ancestor) سے ارتقاء پذیر ہوئے ہیں، اور دونوں کی اپنی الگ الگ ارتقائی شاخیں ہیں۔
---
8. 95% اضافی DNA کیسے موجود ہے؟
"اضافی DNA" کو کبھی "جنک DNA" کہا جاتا تھا، کیونکہ اس کا کوئی معلوم کام نہیں تھا۔ آج، سائنسدان جانتے ہیں کہ اس کا کردار ریگولیٹری اور جینیاتی پروسیس میں اہم ہے۔ یہ "اضافی" صرف ہماری محدود معلومات کی نشاندہی کرتا ہے۔
---
9. قدیم لوگ کیسے بڑے ڈھانچے بنا سکتے تھے؟
قدیم تعمیرات کے لیے انجینئرنگ مہارت، مشاہدہ، اور سخت محنت کا استعمال کیا جاتا تھا۔ کئی طریقے جیسے لیورز، پللیز، اور انسانی مزدوری اس میں شامل تھی۔
---
10. دنیا بھر میں ایک جیسے قدیم طرز تعمیرات کیسے ملتی ہیں؟
قدیم طرز تعمیرات اکثر فطری انسانی سوچ اور وسائل کے مشترکہ استعمال کا نتیجہ ہیں، جیسے اہرام کی شکل جو ساختی استحکام فراہم کرتی ہے۔ مختلف ثقافتوں نے ایک دوسرے سے متاثر بھی کیا۔
---
11. قدیم مصری فن میں خلائی جہازوں جیسی تصاویر کیوں ہیں؟
یہ تصاویر محض تشریحات پر مبنی ہیں اور زیادہ تر علامتی ہیں۔ کچھ لوگ انہیں فرضی نظریات سے جوڑتے ہیں، لیکن سائنس ان کی تصدیق نہیں کرتی۔
---
12. بڑے انسانی ڈھانچے اور دیو ہیکل لوگوں کا ذکر کیوں ہے؟
قدیم متون میں دیو ہیکل انسانوں کا ذکر اساطیر اور کہانیوں کا حصہ ہو سکتا ہے۔ بڑے ڈھانچے انسانوں کے تخلیقی اور تعمیراتی کمال کا ثبوت ہیں۔
---
13. قدیم مسیحی فن میں فنگس کی تصاویر کیوں ملتی ہیں؟
امانتیا مسکاریا فنگس کو بعض ثقافتوں میں مقدس یا روحانی سمجھا جاتا تھا۔ اس کی مشابہت محض علامتی ہو سکتی ہے۔
---
14. مصری فن میں پائن کے درخت کیوں ملتے ہیں؟
یہ پائنل گلینڈ کی علامتی نمائندگی ہو سکتی ہے جو روحانی بیداری سے جڑی ہے۔ اس کی تشریح فلسفیانہ ہے۔
---
15. دنیا بھر میں ڈریگن کی تصاویر کیوں ملتی ہیں؟
ڈریگن مختلف ثقافتوں میں طاقت، خوف، اور جادوئی قوتوں کی علامت ہیں۔ ان کی کہانیاں انسانی تخیل کا حصہ ہیں۔
---
16. میوزک انڈسٹری میں شیطانی علامتیں کیوں ہیں؟
شیطانی علامتیں اکثر توجہ حاصل کرنے، تنازعات پیدا کرنے، یا فنکارانہ اظہار کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ یہ علامات حقیقتاً شیطانی نہ بھی ہوں۔
---
17. ویڈیو گیمز قتل کے گرد کیوں گھومتی ہیں؟
ویڈیو گیمز میں قتل یا لڑائی کی تھیم انسانی نفسیات میں تنازعات اور مقابلے کی کشش کو نمایاں کرتی ہے۔ یہ تھیمز دلچسپی اور ایڈرینالین پیدا کرتی ہیں۔
اختر اسلام