22/12/2024
حال ہی میں نیٹ فلیکس پر ریلیز کیا گیا حضرت مریم علیہا السلام کے زندگی پر مبنی یہ فلم Mary شاید آپ لوگوں نے دیکھا ہوگا ۔
اس فلم کی کہانی ہمارے مذھب اسلام کے علاؤہ دیگر مذاھب میں بھی ملتا ہے جس میں ایک بہت ہی نا آشنا معجزہ ہوتا ہے یعنی حضرت مریم علیہا السلام کو بغیر خاوند کے بچہ ہوتا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوتا ہے ۔ اب یہ سب تو آپ سب جانتے ہونگے لیکن ہم اس کو سائنسی لحاظ سے سمجھنے کی کوشش کرے گی ؛ کیا واقعی بغیر خاوند کے بچہ ممکن ہے ؟
یہ تحریر ڈاکٹر احید حسن صاحب کی وال سے لیا گیا ہے
چلو آغاز کرتے ہیں
بہت سے پودے اور جانور جیسا کہ
نیماٹوڈز، مچھلیاں، شارک، پرندے ،بھڑیں اور کچھ بڑی چھپکلیاں جیسا کہ کموڈو ڈریگن بغیر کسی جنسی ملاپ کے بچے پیدا کرتے ہیں ہیں جس کو کنواری پیدائش یا Virgin births
یا Parthenogenesis
کہا جاتا ہے۔1,2,3
یہ لفظ یونانی لفظ پارتھینو جس کا مطلب کنواری اور
Genesis
جس کا مطلب پیدائش ہے، سے اخذ کیا گیا ہے یعنی کہ کنواری ماں کے پاس بچے کی بغیر جنسی عمل کے پیدائش۔4
پارتھینوجینسیس کا پہلا ذکر سوئس نیچرلسٹ چارلس بونٹ
Charles Bonnet)
نے کیا، جس نے مشاہدہ کیا کہ کملہ سبز یا Aphids انڈے بغیر کسی مردانہ سپرم کے بچے پیدا کرتے ہیں۔5
تحریری تاریخ یا Written history میں کئی ایسے نامور مردوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو کنواری ماں سے پیدا ہوئے تھے۔ تقریباً ہر براعظم، ثقافت اور مذہب میں کنواری ماں سے پیدا ہونے والا نجات دہندہ موجود ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، بدھا، ہورس، جان دی بپٹسٹ، ڈریوڈ گاڈ ہو Druid God) Hu)، صوفی ہوا ( Suffi Huwa), کوئٹزالکوٹ ( Quetzalcoatl)، زرتشت، مرلن، سکندر، بطلیموس، جولیس اور آگسٹس سیزر جیسے لوگوں کے بارے میں مؤرخین نے کہا کہ وہ "کنواری ماں سے پیدا ہوئے ہیں"۔ اگرچہ ہم یہ نہیں کہتے کہ ان سب افراد کی کنواری ماں سے بغیر جنسی ملاپ کے پیدائش ثابت ہے لیکن اس پہ ملحدین نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اسلام اور عیسائیت کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے کنواری مریم سے پیدائش کا تصور ان دیگر مذاھب اور ثقافتوں سے اخذ کیا گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سب افراد حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہٰذا یہ کہا جائے گا کہ ان حضرات کی بغیر باپ کے کنواری ماں سے پیدا ہونے کا تصور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بغیر والد کے کنواری ماں سے پیدا ہونے کے تصور سے نقل کیا گیا ہے نہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بغیر والد کے کنواری ماں سے پیدا ہونے کا تصور ان حضرات سے۔ یہ سوا بہتان کے کچھ بھی نہیں ہے۔
لیکن اس وقت تک قدرتی طور پر ممالیہ میں پارتھینوجینسیس کے کوئی معروف واقعات ثابت نہیں ہیں، لیکن سائنسدانوں نے اسے مصنوعی طور پہ خرگوش، چوہوں اور بندروں میں کامیابی کے ساتھ حاصل کیا ہے۔ لہذا یہ کہنا کہ یہ عمل ممالیہ یعنی بچوں کو دودھ پلانے والے جانوروں میں ناممکن ہے، غلط ہے۔ تاہم ممالیہ (اور کچھ پھولوں والے پودوں) میں اس عمل سے حاصل ہونے والے جنین یا ایمبریو ایک حیاتیاتی رجحان یعنی کہ Genomic imprinting کی وجہ سے مسائل کا شکار ہوئے جس میں مرد سپرم اور زنانہ انڈوں میں پائے جانے والے مردانہ اور زنانہ جین دونوں جنین یا ایمبریو کی نشوونما کے لئے ضروری ہوتے ہیں، اور بغیر والد کے صرف پارتھینوجینیسس Parthenogenesis سے بننے والا جنین یا ایمبریو صحیح نشونما نہیں پا پاتا۔ 6,7
اگرچہ پارتھینوجینیسس ان جانوروں کے لئے بقا کی حکمت عملی ثابت ہوتی ہے جو ماحولیاتی دباؤ کا شکار یا اکیلے ہوں، یہ ممالیہ جانوروں میں "جینومک امپرینٹنگ"
Genomic imprinting
نامی ایک عمل کی طرف سے محدود ہے، جہاں ماں یا والد سے جین کا ایک سیٹ دوسرے پر غالب ہوتا ہے۔ لہٰذا بغیر والد کے ممالیہ میں پارتھینوجینیسس کے عمل سے کلون شدہ سیل میں یا دونوں جین سرگرم ہوں گے جس سے جنین یا ایمبریو کی اضافی اور ناقص نشوونما ہوگی اور ٹیومرز کا خطرہ بڑھ جائے گا یا دوںوں غیر سرگرم ہوں گے جس سے جنین یا ایمبریو کی نشوونما ٹھیک سے ہوگی ہی نہیں۔ جینین یا ایمبریو سے اگلے مرحلے میں بچے کی پیدائش کے لئے والد کے جین بھی درکار ہوتے ہیں، لہٰذا اکیلی ماں سے بچے کی پیدائش ناممکن ہے۔ ہاں اگر کسی خاتون کے دو ایکس کروموسوم میں سے ایک میں ایسی میوٹیشن یا قدرتی جینیاتی تبدیلی واقع ہو جائے جو اس کروموسوم سے ایمبریو سے اگلی نشوونما کو Genomic imprinting سےروکنے والے جین ہٹا دے تو مردانہ سپرم کے بغیر بھی مفروضاتی طور پہ یہ نشوونما آگے چل کر بچے کی پیدائش کا سبب بن سکتی ہے۔ سائنسدانوں نے 2022ء میں Genomic imprinting کے اس عمل پہ قابو پا کر چوہوں میں بغیر باپ کے اور بغیر جنسی ملاپ کے بچے پیدا کئے۔9
اگرچہ جنوبی کوریا کے سائنسدان ہوانگ وو سک
(Hwang Woo-suk) نے دنیا کو یہ دھوکا دیا کہ وہ مصنوعی طور پر کلون زدہ انسانی جنین یا ایمبریو پیدا کرنے والا پہلا انسان ہے، لیکن اس نے بغیر باپ کے بچوں کی پیدائش یا پارتھینوجینسیس کا استعمال کرتے ہوئے انسانی جنین پیدا کرکے اسٹیم سیل کی تحقیق میں اہم پیشرفت کی۔ اگست 2007 ء میں ہوانگ وو سک نے بغیر جنسی ملاپ کے انسانی ساقی خلیے یا سٹیم سیل پارتھینو جینیسس کے عمل سے پیدا کیے اور ان سے بغیر باپ کے انسانی ایمبریو یا جنین تخلیق کیا گیا۔ 15,16
دراصل انسانوں میں بغیر کسی جنسی ملاپ کے بچہ پیدا ہونے کے جدید واقعات موجود ہیں، جو غیرجنسی تولید یا Asexual reproduction کی ایک شکل ہے جس میں جنین یا ایمبریو کی افزائش اور نشوونما بغیر جنسی ملاپ اور بغیر مردانہ جنسی سیل یا سپرم کے ہوتی ہے۔
انسانوں میں، کنواری پیدائش یا غیر جنسی تولید صرف اس صورت میں ہوسکتی ہے جب عورت کے انڈے کسی ساتھی سے جنسی تعلقات یا نطفہ کے بغیر کامیابی کے ساتھ جنین یا ایمبریو میں تبدیل ہوں۔ انسانوں میں خواتین میں ایکس ایکس کروموسوم ( XX chromosomes ) ہوتے ہیں جبکہ مرد ایکس وائے ( XY chromosome )ہوتے ہیں، اس لیے کہا جاتا ہے کہ عورت بغیر جنسی ملاپ کے کبھی بیٹا پیدا کرنے کے قابل نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کے پاس مرد پیدا کرنے کے لیے ضروری Y کروموسوم نہیں ہیں۔ یہ کروموسوم صرف باپ ہی سے آ سکتے ہیں۔ لیکن ایسی بات نہیں ہے۔
ملحدین کہتے ہیں کہ پارتھینو جینیسس کے عمل سے پیدا ہونے والے بچے اپنی ماں کے کلون ہوتے ہیں اور اپنی ماں کی طرح مادہ ہوتے ہیں لہٰذا پارتھینو جینیسس کا عمل کنواری مریم علیہا السلام سے ایک مرد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی وضاحت نہیں کرتا لیکن ایسا نہیں ہے۔ پارتھینو جینیسس کے عمل سے بغیر والد یا بغیر جنسی ملاپ کے ماں سے نر بچے بھی پیدا ہو سکتے ہیں جیسا کہ کملہ سبز یا aphids جن میں ماں سے نر بچے بھی پارتھینو جینیسس کے عمل سے پیدا ہوتے ہیں۔8
2009 میں، تولیدی صحت یا Reproductive health کے طویل مدتی مطالعے اور برطانوی طبی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ دو سو امریکی خواتین میں سے ایک نے کہا کہ انہوں نے کبھی جنسی عمل کیے بغیر بچے کو جنم دیا ہے۔ یہ مطالعہ 1995 سے 2009 تک 15 سے 28 سال کی عمر کی 7,870 خواتین اور لڑکیوں پہ تحقیق پر مبنی تھا۔ 45 (0.5 ٪) نے بتایا کہ ان کو بغیر جنسی ملاپ کے "کنوارا حمل" یا Virgin pregnancy ہوئی۔10
یونیورسٹی آف ایڈنبرگ کے شعبہ ہیومن جینیٹکس کی 1995 کی ایک رپورٹ برطانیہ کے نیچر جینٹکس کے جرنل میں جاری کی گئی تھی۔ میگزین سلیٹ نے 2007 ء میں اس کی رپورٹ کے حوالے سے لکھا:
" پارتھینوجینیسس ( Parthenogenesis ) یا کنواری پیدائش کا عمل درحقیقت انسانی بچوں کی پیدائش کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ "
ڈاکٹر اریتھی پرشاد نے دی گارڈین میں مریم علیھا السلام کے کنوارے حمل اور ان سے بغیر والد کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا سوال کیا۔ وہ کہتی ہیں: کہ یسوع یا عیسیٰ علیہ السلام ایکس اور وائے کروموسوم رکھنے والے ایک مرد تھے لیکن چونکہ انسانی عورتوں میں صرف ایکس کروموسوم ہوتے ہیں، لہذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے مریم سے اپنے لئے بغیر والد کے Y کروموسوم حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہوگا لیکن کچھ وراثتی ماہرین یا geneticists کے ساتھ بات کرنے کے بعد، پرساد ایک امکان پیش کرتی ہے:
… مریم میں Testicular feminization نامی جینیاتی مسئلہ ہو سکتا ہے ۔ یہ حالت رکھنے والی خواتین میں مردوں کی طرح ایک ایکس اور Y کروموسوم ہوتا ہے، لیکن ان کا ایکس کروموسوم ایک ایسا جینیاتی تغیر یا میوٹیشن رکھتا ہے جو ان کے جسم کو مرد جنسی ہارمون ٹیسٹوسٹیرون ( Testosterone) سے بے حس بنا دیتا ہے۔ اس سے ان کی جسمانی نشوونما ایک خاتون کی حیثیت سے ہوتی ہے جس میں وہ جینیاتی طور پر مرد، اور ظاہری طور پہ عورت ہوتی ہیں لیکن اس صورت میں حضرت مریم علیہا السلام بانجھ ہوتیں لیکن اگر وہ بغیر شوہر کے حاملہ ہو جائیں تو ان کا بچہ ان سے مردانہ وائے کروموسوم لے سکتا ہے (اگرچہ ہمیں یہ وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے)۔ 11 جہاں تک بات ہے
testicular feminization
کی تو یہ مسئلہ رکھنے والے لوگ ظاہری طور پہ کسی طرح بھی ایک درمیانی جنس نہیں لگتے بلکہ ان کی مکمل خصوصیات عورت والی ہوتی ہیں۔خوشی سے ان کی شادی بھی کی جاتی ہے لیکن یہ خواتین بچہ جننے سے قاصر ہوتی ہیں لیکن ایک رب کے لیے کیا ممکن ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے بھی اولاد پیدا کرکے دکھائے۔
اریتھی پرساد نے اس کی ایک اور سائنسی وضاحت بھی پیش کی ہے۔ اپنی 2012ء کی کتاب Like a virgin میں سائنسی لکھاری اراتھی پرساد نے اس کی ایک ممکنہ سائنسی توجیہ پیش کی۔ اس کے مطابق حضرت مریم علیہا السلام جینیاتی طور پہ مخلوط یا Genetic chimera تھیں جو
مردانہ اور زنانہ ایمبریو سے وجود میں آئی تھیں اور ان میں مردانہ ایمبریو کا وائے کروموسوم بعد ازاں ان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بغیر والد کے پیدائش کا سبب بنا۔ یا وہ نعوذ باللہ مخلوط جنس پہ مشتمل یا Intersex تھیں جن میں بیضہ دانی اور خصیے دونوں یعنی Ovotestis تھیں جن میں والد کے ایکس کروموسوم کے ساتھ وائے کروموسوم کا بھی تھوڑا حصہ موجود تھا۔ اس طرح انہوں نے خود ہی اپنے جسم میں مردانہ سپرم سیل اور زنانہ انڈے پیدا کئے جس سے انہیں بغیر کسی شوہر کے حمل ہوا اور اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے کیونکہ ایسے لوگوں میں بچہ دانی یا Uterus بالکل نارمل ہوتی ہے (اگرچہ ہمیں یہ شرمناک وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے) یا کافی ممکنہ طور پر ان کے جسم میں داخل ہونے والے ایک نر کیڑے یا Male worm
نے ان کے جسم میں وائے کروموسوم داخل کیا جس سے ان کے ہاں بغیر شوہر کے کنوارے حمل اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ممکن ہوئی۔11
2005ء میں انگلینڈ میں یونیورسٹی آف ایڈنبرگ کے سائنسدانوں نے FD دریافت کیا یعنی ایک ساڑھے تین سالہ صحتمند بچہ جس کی ابتدائی نشوونما پارتھینوجینیسس Parthenogenesis سے ہوئی لیکن بعد ازاں اس کے ساتھ نر جنسی سیل یا سپرم کا ملاپ یا فرٹیلائزیشن ہوئی۔ اس لئے اس کے بنیادی اعضاء جیسا کہ مہرے، جلد اور جسمانی اعضاء میں ماں کا ایکس اور والد کا وائے کروموسوم دوںوں موجود تھے، لیکن اس کے خون کے خلئے یا سیلز مکمل طور پر پارتھینوجینیسس Parthenogenesis کے عمل سے صرف ماں کے ایکس کروموسوم خلیوں یا سیلز پہ مشتمل تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ اسی طرح حضرت مریم علیہا السلام میں اللہ تعالیٰ نے پارتھینوجینیسس Parthenogenesis کا عمل شروع کیا اور بعد ازاں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے ان میں سے بغیر کسی والد کے اپنے حکم سے وائے کروموسوم منتقل کیا یا براہ راست بغیر پارتھینوجینیسس Parthenogenesis کے ان میں وائے کروموسوم منتقل کر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا فرمایا.12,13
دوسروں نے اس کا موازنہ مصنوعی تخم ریزی یا Artificial insemination کے عمل سے کیا ہے، جس کے ذریعے منی کو مصنوعی طور پر اصل جنسی ملاپ کے بغیر انڈے میں متعارف کرایا جاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے معاملے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بغیر جنسی ملاپ کے مردانہ سپرم کو حضرت مریم علیہا السلام کے بطن میں منتقل کیا جیسا کہ قرآن کریم میں ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ںے ان کے پیٹ میں روح پھونکی یا جیسا کہ قرآن کریم میں مذکور ہے۔
بی بی سی نے رپورٹ کیا کہ فطرت میں فقاریہ جانوروں یا Vertebrates میں کلوننگ کا پہلا عملی مشاہدہ قید میں موجود ایک اژدھے میں دیکھنے میں آیا جس نے بغیر جنسی تولید کے اور غیر ملاپ شدہ انڈوں سے دو طرح کے بچے پیدا کئے جن میں سے ہر ایک میں میوٹیشن کی وجہ سے رنگ بھی ماں سے مختلف تھا۔ جب محققین نے ان پیدا ہونے والے بچوں کے ڈی این اے پہ تحقیق کی تو پتہ چلا کہ وہ نہ صرف قدرتی طور پہ کلوننگ کے عمل سے پیدا ہوئے تھے بلکہ اس دوران نئی جنس بھی پیدا ہوئی یعنی مادہ سے نر بچے بغیر کسی جنسی ملاپ کے جیسا کہ کنواری مریم سے بغیر والد کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش۔
جبکہ انسانوں کے کروموسوم خواتین میں ایکس ایکس اور مردوں میں ایکس وائے ہوتے ہیں، سانپوں 'اور دوسرے بہت سے رینگنے والے جانوروں کے کروموسوم مختلف ہیں: نر سانپ زیڈ زیڈ
( ZZ )
ہوتے ہیں، اور مادہ سانپ زیڈ ڈبلیو
( ZW)
ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود، ان پیدا ہونے والے بچوں میں موجود تمام سانپ ڈبلیو ڈبلیو کروموسوم
(WW chromosomes )
پہ مشتمل تھے، جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اپنی ماں کے صرف دو کروموسوم سے نکلے تھے۔ یہ
WW
کروموسوم رکھنے والے فقاریہ یا Vertebrates کبھی پہلے مشاہدہ نہیں کئے گئے تھے۔ ایسا نیچر میں کبھی مشاہدہ نہیں کیا گیا تھا۔ شاید یہی وہ عمل تھا جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت حوا علیہا السلام کو حضرت آدم علیہ السلام سے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر والد کے کنواری مریم سے پیدا کیا.14
ملحدین کے مطابق پارتھینو جینیسس کے عمل کے مطابق ایک مادہ سے صرف مادہ جیسا جانور پیدا ہونا چاہئے جب کہ اوپر پیش کی گئی وضاحت سے جدید سائنسی تحقیق کے مطابق ایسا نہیں ہے اور مادہ سے نر بچے بھی پیدا ہوئے ہیں۔اور یہ بات ثابت کرتی ہے کہ ایک ایکس ایکس کروموسوم عورت مریم علیہ السلام سے ایک ایکس وائے کروموسوم مرد حضرت عیسی علیہ السلام کا پیدا ہونا خود سائنس کے مطابق عین ممکن ہے اور مذہب کی اس بات کو سائنس کے کلاف کہنا محض الحادی تعصب ہے اور کچھ نہیں۔
اللہ تعالیٰ کے لئے یہ بالکل ممکن تھا کہ وہ خدا کسی شے سے، یا کنواری مریم کے پیٹ میں موجود ایٹموں سے وائے کروموسوم پیدا کر کے اس کے انڈے کا ملاپ کرا کے مکمل طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسا انسان پیدا کر سکتا تھا، اگر یہ نہیں ہوسکتا تو حضرت آدم علیہ السلام میں پہلی بار Y کروموسوم کیسے تیار کیا گیا تھا جبکہ اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ یسوع یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام تخلیق کے معاملے میں حضرت آدم علیہ السلام کی طرح ہیں۔
جو اللہ مٹی میں
XYکروموسوم اولاً تخلیق کرسکتا ھے وہ ایک ایکس ایکس کروموسوم مریم علیہا السلام سے ایکس وائے کروموسوم حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا کیوں نہیں کر سکتا جب کہ وہ خود اپنے کلام میں فرما چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایسے ہی پیدا فرمایا جیسے پہلی بار حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔
ایک
xx
کروموسوم والی عورت مریم علیہ السلام سے ایک
xy
مرد حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کے بارے میں ملحدین کہتے ہیں کہ یہ سائنسی طور پہ جھوٹ اور نامکمل ہے جب کہ جدید سائنسی تحقیق پہ غور کیا جائے تو یہ بات سائنس کے مطابق عین ممکن ہے۔ایک مرد یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کی باپ کے بغیر پیدائش کے لیے مادہ مواد یعنی ایکس کروموسوم حضرت مریم میں موجود تھا۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ کہیں سے انہیں وہ
y
کروموسوم مہیا کر دیا جائے تو جو ایک ایکس وائے کروموسوم مرد کی بغیر باپ پیدائش کے لیے لازمی تھا۔ یہ وائے کروموسوم اللہ تعالی نے حضرت جبریل علیہ السلام کے ذریعے مریم علیہ السلام کے پیٹ میں پھونک مار کر مہیا کر دیا۔ایک وہ رب جو مٹی سے ایکس وائے کروموسوم آدم علیہ السلام پیدا کر سکتا ہے وہ رب مریم کے جسم میں موجود ایکس ایکس کروموسوم میں سے ایک کو وائے کروموسوم میں تبدیل کرکے ان سے بغیر باپ کے حضرت عیسی علیہ السلام کو پیدا کیوں نہیں کر سکتا یا حضرت جبریل علیہ السلام کی پھونک کے ذریعے ان کے پیٹ میں بغیر باپ کے وائے کروموسوم والا سپرم منتقل کیوں نہیں کر سکتا۔اگر وہ ایسا نہ کرتا تو خدا کیوں کہا جاتا جب کہ خدا ہے وہی جو وہ کرے جو عقل کی حد سے آگے ہو۔
جو رب آدم علیہ السلام کے پتلے میں ایک پھونک سے ایکس وائے دونوں کروموسوم پیدا کرسکتا ہے وہ جبریل علیہ السلام کی پھونک سے مریم علیہ السلام کے جسم میں وائے کروموسوم پیدا کیوں نہیں کرسکتا۔
اگر ان سب عوامل کو الگ الگ سمجھنے کی کوشش کی جائے بجائے اس کے کہ سب کو ایک ہی وقت میں حضرت مریم علیہ السلام کے جسم میں سمجھا جائے جیسا کہ یہ ملحد اپنی سائنسی کم فہمی ظاہر کرتے ہوئے کر رہا ہے تو کسی طرح بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش ایکس ایکس کروموسوم عورت مریم علیہ السلام سے ناممکن نہیں۔
اس ساری وضاحت کے باوجود ملحدین کہتے ہیں کہ کوئی سائنسی اصول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کنواری مریم علیہا السلام سے بغیر والد کے پیدائش کی سائنسی وضاحت نہیں کرتا۔ اس کا سادہ سا جواب ہے ۔ کسی سائنسی اصول کے تحت نہیں ۔ ﷲ تعالیٰ کو اس کام کے لئے کسی سائنسی اصول کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس کے سارے کام کن فیکون سے ہو جاتے ہیں ۔ اگر ارتقائی ملحدین کے دعوے کے مطابق ایک یک خلوی جاندار بغیر کسی کی مداخلت کے ارتقائی عمل سے خودبخود پیدا ہو سکتا ہے تو کنواری مریم سے اللہ تعالیٰ کی مداخلت سے بغیر والد کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیوں نہیں۔ جو سائنس آج تک یہ بتانے سے قاصر ہو کہ بے جان چیزوں سے زندہ جرثومہ کیسے وجود میں آگیا وہ سائنس کنواری مریم سے بغیر والد کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش پہ اعتراض اور سوال کیونکر اٹھا سکتی ہے۔
اگرارتقا کی تھیوری کے مطابق ایک کروموسوم کا وجود ہے ہی نہیں
اور اس سے 46 کروسوم بن سکتے ہیں تو کیا کنواری مریم علیہا السلام کے دو ایکس ایکس کروموسوم میں سے ایک ایکس وائے کروموسوم میں تبدیل ہو کر ان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کیوں نہیں کر سکتا تھا؟ اگر سائنس میں جینٹیک انجنیرنگ کے ذریعے ایک جین ڈالا جا سکتا ہے تو اس کائنات کا مالک کروموسوم انجنیرنگ کے ذریعے ایکس ایکس کروموسوم مریم علیہا السلام سے ایکس وائے کروموسوم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیونکر پیدا نہیں کر سکتا تھا۔
وہ کوںسا سائنسی اصول ہے جس کے تحت ارتقا میں پہلے بیکٹیریا نے توانائی یا انرجی کے حصول کے لئے آکسیجن استعمال کرنی شروع کی یعنی Aerobic respiration کو اپنایا اور آکسیجن ان بیکٹیریا کے لئے مضر کی جگہ مفید ثابت ہونا شروع ہوئی۔ وہ کونسا سائنسی اصول تھا جس کے تحت ان بیکٹریا نے خوراک ڈھونڈنی اور ان کی طرف حرکت شروع کی۔ وہ کوںسا سائنسی اصول تھا جس کے تحت اس حرکت کے لئے ان بیکٹیریا میں فلیجیلا ( Flagella) خود بخود وجود میں آئے۔ وہ کوںسا سائنسی اصول تھا جس کے تحت وجود میں آنے والے پہلے خلئے یا سیل میں خلوی عضویہ یا Organelle نے خودبخود حرکت اور کام شروع کیا۔ وہ کوںسا سائنسی اصول تھا جس کے تحت پہلے ایکس اور وائے کروموسوم پیدا ہوئے۔ جس سائنسی اصول کے تحت پہلے ایکس کروموسوم پیدا ہوئے اسی سائنسی اصول کے تحت کنواری ایکس ایکس کروموسوم ( XX) مریم علیہا السلام میں وائے کروموسوم پیدا ہوئے۔اگر سائنس آج اس بات پہ حیران ہے کہ xx کروموسوم سے xy کروموسوم کیسے بنا تو سائنس اس بات پہ حیران کیوں نہیں ہوتی کہ
پہلی دفعہ ایک بیکٹیریاسے جس کے اندر کروموسوم ہوتے ہی نہیں اس سے کاہنات کا پہلا کروموسوم کیسے بنا؟
اگر پہلے ایکس اور وائے کروموسوم کے پہلے جاندار میں خود بخود پیدا ہونے پہ کوئی اعتراض نہیں، اس کا کوئی سائنسی اصول نہیں تو پھر کنواری ایکس ایکس کروموسوم مریم ( XX Chromosome) مریم علیہا السلام سے ایکس وائے کروموسوم ( XY chromosome) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش پہ اعتراض کیونکر؟ کیا یہ دوغلا پن اور تضاد نہیں؟
غیر جنسی تولید اور پارتھینوجینیسس کو ماننے والے کس منہ سے حضرت عیسیؑ کے بن باپ کے پیدائش پہ اعتراض کر سکتے ہیں ؟
پہلی بار ایک زندہ خلیے یا سیل کے ایک بے جان ان آرگینک میٹر یا غیر نامیاتی مادے سے وجود میں آنے پہ یقین رکھنے والے کس منہ سے اس بات کا انکار کر سکتے ہیں کہ ایک جاندار سے دوسری جنس کا جاںدار یعنی حضرت مریم علیہا السلام سے حصرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا نہیں ہو سکتے؟
اگر آپ ایک طرف کسی چیز کا انکار صرف اس وجہ سے کرتے ہیں کہ یہ مذہب کہ رہا ہے اور دوسری طرف اسی طرح کے نامعقول اور عقل کو ہضم نہ والے سائنسی واقعات کو صرف اس وجہ سے تسلیم کر رہے ہیں کہ یہ سائنس کہ رہی ہے تو آپ غیر جانبدار نہیں بلکہ آپ متعصب ہیں ۔
یہاں پہ اگر مذہب کی باتیں آپ کو نامعقول لگ رہی ہیں تو وہ تمام نامعقولیت سائنس کے ان بیان کردہ اشیاء میں بھی موجود ہیں اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر چیز کو آپ کے عقل اور سوچ کے مطابق ہونا ضروری نہیں اور نہ کسی چیز کی نامعقولیت اس چیز کے عدم وجود پہ دلیل ہیں ہم الحمد للہ یہاں پہ ساینس اور مذہب دونوں کو تسلیم کرتے ہیں جو خدا بغیر قوانین کے کائنات ، مٹی یا بےجان مادے سے جاندار اور صفر حجم میں لاتعداد کمیت سما سکتا ہے اس کے لیے یہ کیسے مشکل ہو سکتا ہیں کہ وہ کنواری ایکس ایکس کروموسوم مریم علیہا السلام سے بغیر والد کے ایکس وائے کروموسوم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کر دے۔
نوٹ: یہ مضمون مکمل طور پہ میری یعنی ڈاکٹر احید حسن کی تصںیف نہیں ہے، اس میں کئی دیگر مضامین اور ذرائع سے لیا گیا مواد بھی شامل کیا گیا ہے۔