06/10/2024
آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے "ہضم" کرنا سیکھیں، اس لۓ کہ۔ ۔ ۔
* کھانا ہضم نہ ہونے پر" بیماریاں" پیدا ہوتی ہیں۔
* مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں" ریاکاری" بڑھتی ہے۔
* بات ہضم نہ ہونے پر "چغلی" اور "غیبت" بڑھتی ہے۔
* تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں "غرور" میں اضافہ ہوتا ہے۔
* غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں "مایوسی" بڑھتی ہے۔
اس لئے ہضم کرنا سیکھیں۔
اپنی زندگی کو آسان بنائیں اور ایک" با مقصد" اور "با اخلاق" زندگی گزاریں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں
30/09/2024
Wellcome to Pakistan 🇵🇰
Dr Zakir Naik
17/09/2024
اور (اے پیغمبرﷺ!) ہم نے تمہیں سارے جہانوں کے لئے رحمت ہی رحمت بناکر بھیجا ہے۔
﴿سورۃ الانبیاء، ۱۰۷﴾
16/09/2024
زندگی میں کچھ قیمتی ترین کھونے کا ہنر بھی آنا چاہیے.
کچھ قیمتی لوگ
کچھ قیمتی چیزیں
کچھ قیمتی یادیں
کچھ قیمتی خوشیاں
16/09/2024
اور کچھ بھی ہمیشہ کیلئے نہیں رہتا
نہ بچپن ۔ نہ حسن ۔ نہ طاقت ۔اور نہ ہی جوانی
20/04/2023
انسائیکلوپیڈیا آف ملاکنڈ
ملاکنڈ پہلی ایجنسی 1895 میں بنی.
ملاکنڈ ایجنسی میں ملاکنڈ, سوات, دیر, باجوڑ اور چترال کے علاقے شامل کئیے گئیے.
ملاکنڈ ایجنسی واحد ایجنسی جس میں تین ریاستیں دیر, سوات اور چترال شامل تھیں.
ملاکنڈ ایجنسی میں پہلی لیویز فورس سوات لیویز فورس کے نام سے قائم کی گئی 1895 میں.
ملاکنڈ کی زمین پر دو جنگیں 1895اور 1897 میں برٹش سامراج کے ساتھ پشتون و گُجر اقوام نے لڑی.
ملاکنڈ ایجنسی کا پہلا پولٹیکل ایجنٹ میجر آرتھر ہیرالڈ ڈین تھا. جو 1895 سے 1899 تک ملاکنڈ ایجنسی کا پولٹیکل ایجنٹ رہا.
میجر آرتھر ہیرالڈ ڈین پھر صوبہ سرحد کے پہلے چیف کمشنر 1901 تا 1909 تک رہے.
ملاکنڈ ایجنسی کو 1916 میں ملاکنڈ پروٹیکٹڈ ایریا بھی اس وجہ سے کہا جانے لگا کہ یہاں تین گریژن درگئی, ملاکنڈ اور چکدرہ کے مُقام پر قائم تھے اور ان گریژن کے اطراف کے علاقے ملاکنڈ پروِٹیکٹڈ ایریا میں شامل رہیں.
سوات لیویز میں دیر لیویز, ملاکنڈ لیویز, چترال بارڈر پولیس اور باجوڑ لیویز اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دیتے رہیں. ملاکنڈ ایجنسی سے سوات,چترال, دیر 1969 میں الگ ہوئے. اور 1970 میں ملاکنڈ ڈویژن کے قیام کے ساتھ یہ ڈویژن کا حِصہ بنے.
جبکہ باجوڑ 1973 میں الگ ہوا.
اور موجودہ علاقہ ملاکنڈ خاص ملاکنڈ ایجنسی کے نام سے باقی رہا. جسکا رقبہ 952 مربع کلومیٹر ہے .آجکل ملاکنڈ ایجنسی یا ملاکنڈ ڈسٹرکٹ کی آبادی سات لاکھ بیس ہزار دو سو پچانوے ہیں. .