Aim Higher

Aim Higher

Share

Training & Consultancy

19/07/2024

03 Days “Strategic Time Management” Worskshop, Swabi.

18/05/2024

کیا آپ کو میری آنے والی ورکشاپ
"حکمت عملی پرمبنی وژن" میں شرکت کرنی چاہئے؟

درج ذیل کوئزحل کرنے کے بعد اگر آپ کا سکور:
(کل سکور 10 ہے)
7-10 کے درمیان ہے تو ماشاء اللہ آپ کو ورکشاپ کی ضرورت نہیں ہے۔

4-6 کے درمیان ہے تو آپ کی شرکت ضروری ہے۔

0-3 کے درمیان ہے توآپ کو اپنی تمام مصروفیات ترک کرکے اس ورکشاپ میں شریک ہوجانا چاہئے۔

کوئز: حکمت عملی پر مبنی وژن سے متعلق اپنے علم کا جائزہ لیجئے:
1۔ میں نے پہلے وژن سے متعلق ورکشاپ/لیکچر/ٹریننگ میں شرکت کی ہے۔ (ہاں/نہیں)

2۔ میں نے وژن سے متعلق کم ازکم ایک کتاب پڑھی ہے۔ (ہاں/نہیں)

3۔میں نے اپنے لیے ایک واضح اور لانگ ٹرم وژن بنایا ہے اور یہ کہ مجھے اندازہ ہے کہ اگلے سالوں میں مجھے کہا ہونا ہے۔(ہاں/نہیں)

4۔میں نے اپنا وژن باقاعدہ لکھا ہے (ہاں/نہیں)

5۔ وژن کے حصول کے لئے میرے پاس واضح حکمت عملی موجود ہے۔ (ہاں/نہیں)

6۔ مجھے پتہ ہے کہ عظیم لوگوں کا ایک واضح وژن ہوتا ہے اورمیں چند عظیم لوگوں کے حالات پڑھ چکا ہوں (ہاں/نہیں)

7۔ میں نے اپنے بیوی بچوں کا وژن لکھا ہے اور میں اس کا مسلسل جائزہ لیتا رہتا ہوں (ہاں/نہیں)

8۔ میرے لئے وژن ضروری نہیں ہے۔ اورمجھے پختہ یقین ہے کہ میں بغیر وژن اور منصوبہ بندی کے کامیاب ہوسکتا ہوں (ہاں/نہیں)

9۔ مجھے اپنا مقصد حیات معلوم ہے (ہاں/نہیں)

10۔ مجھے کا میابی کی تعریف معلوم ہے ۔(ہاں/نہیں)

آپ یہاں اپنی کارکردگی کا جائزہ لیجئے:

7-10 ماشاء اللہ آپ کا میابی کی طرف گامزن ہے اور آپ کو ورکشاپ کی ضرورت نہیں ہے۔

4-6 آپ کو وژن کی ورکشاپ کی ضرورت ہے ورنہ آپ کے کوئی بڑا کام کرنے میں کامیابی کے امکانات کم ہیں۔

3-0 آپ بحران میں ہیں یا پھر آپ کوآنیوالے سالوں میں بحرانوں کا سامنا ہوسکتا ہے اس لئے آپ کو میری تجویز ہے کہ اپنی تمام مصروفیات ترک کرکے اس ورکشاپ میں شریک ہوں۔

حل: 1 (ہاں) 2۔ (ہاں) 3۔ (ہاں) 4۔ (ہاں) 5۔ (ہاں) 6۔ (ہاں) 7۔ (ہاں) 8۔ (ہاں) 9۔ (ہاں) 10۔ (نہیں)

اتوار 19 مئی 2024 تک رجسٹریشن پر 10 فیصد رعایت ہے۔
رجسٹریشن کی آخری تاریخ : منگل مئی 21 ،2024
برائے رجسٹریشن:
ورکشاپ کوآرڈینیٹر:
محمد حارث:
0311-0912112

14/05/2024
10/05/2024

ورکشاپ:
حکمت عملی پرمبنی وژن
تاریخ:
مئی 25اور 26 ، ہفتہ اور اتوار
اوقات:صبح 9 بجے تا پانچ بجے
ٹرینر: ولی اکبر

مقام:
مردان

حکمت عملی پر مبنی وژن اس ورکشاپ میں شرکت کے بعد شرکاء اس قابل ہو سکتے ہیں کہ وہ اپنی انفرادی زندگی اور اجتماعی زندگی کے لئے قلیل المدتی Short term
(1 سال سے پانچ سال تک) اور طویل المدتی Long term ( پانچ سال سے پچاس سال تک ) اہداف کا تعین کرسکیں اور اس کے حصول کے لئے مو ثر اور مربوط حکمت عملی ( سٹریٹیجی) بنا سکیں۔

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آنے والے سالوں میں آپ کامیابیاں سمیٹیں اور اس کے لئے سنجیدگی سے سوچنا اور منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہیں ؟

کیا آپ کا خواب ہے کہ آپ کا ادارہ ، کاروبار یا تنظیم پچاس سال ، سو سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک قائم ودائم رہے اور اس کے اثرات کا دائرہ پھیلتا جائے؟

اگر آپ کے احساسات ،جذبات اور خواہشات اس طرح کے سوالات سے ملتے جلتے ہیں تو پھر یہ ورکشاپ آپ کے لئے بہت ضروری ہے۔

دلچسپ عملی سرگرمیوں اور کیس سٹڈیز کے ذریعے آپ حکمت عملی پر مبنی سوچ ، اہداف کا تعین اور اس کے حصول کے طریقہ کار کو گہرائی سے سمجھ سکیں گے جوکہ انفرادی اور ادارتی زندگی میں کا میابی کے لئے انتہائی ضروری ہیں۔ ( ان شاء اللہ)

رجسٹریشن کی آخری تاریخ:
منگل، 21 مئی 2024
رجسٹریشن فیس: 9709روپے فی کس
(فیس میں ریفرشمنٹ، سر ٹیفیکیٹ، مینولز اور پریزینٹیشن شامل ہیں)

نوٹ : اکیس مئی تک رجسٹریشن پر دس فیصد رعایت ہے۔

برائے رابطہ:
انصار زیاد ، ورکشاپ کوآرڈینیٹر:
0315-4441442

20/04/2024

*Workshop Title: Strategic Vision*

*Date:* April 27 & 28, Saturday, and Sunday

*Time*: 09:00 am to 05:00 pm

*Trainer:* Wali Akbar

*Venue:* To be decided later.

The "*Strategic Vision*" workshop is designed to equip participants with the tools and insights necessary to develop and implement effective long-term and short-term plans.

Can you imagine yourself being successful in the years to come and wanting to plan seriously?

Can you dream that your organization/institution will last for decades and envision its impact?

If your thoughts and wishes align with these aspirations, then this workshop is essential for you.

Through interactive sessions and case studies, you will gain a deeper understanding of strategic thinking, goal setting, and decision-making processes essential for organizational and individual success, In Sha Allah.

*Registration Details:*
• Registration Opens: Saturday , April 20, 2024
• Registration Closes: Thursday, April 25, 2024
• Registration Fee: Rs. 8500
• How to Register: To register for the workshop, please call Mr. Ansar Ziyad 0315-4441442 or email [email protected]

*Note:* The venue for the workshop will be announced soon. Stay tuned for updates!

10/04/2024

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
تقبل اللہ منا ومنکم صالح الاعمال
عید مبارک!

05/03/2024

توکل کی حقیقت

قرآن کی سوره الطلاق میں توکل کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں : یعنی جو شخص اللہ پر بهروسہ کرے گا، اللہ اس کے لیے کافی ہے-(65:3)

توکل علی اللہ اسلام کی ایک نہایت اہم تعلیم ہے- مگر توکل علی اللہ کیا ہے، یہ بظاہر ایک مبہم بات نظر آتی ہے- اس سلسلے میں ایک حدیث کے مطالعے سے اس معاملے کی پوری وضاحت ہو جاتی ہے- حدیث کی کتابوں میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے : یعنی عمر بن الخطاب کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تم اللہ پر توکل کرو جیسا کہ توکل کرنے کا حق ہے، تو اللہ تم کو اسی طرح رزق دے گا جس طرح وه چڑیا کو رزق دیتا ہے- چڑیا خالی پیٹ نکلتی ہے اور بهرے پیٹ کے ساتھ واپس آتی ہے-

حدیث میں توکل کے ساتھ " حق توکلہ " کا اضافہ ہے- حق توکل سے مراد شرائط توکل ہے- اس کی وضاحت چڑیا کی مثال سے ہوتی ہے- چڑیا ایسا نہیں کرتی کہ وه بهروسہ کرتے ہوئے اپنے گهونسلے میں بیٹهی رہے، بلکہ چڑیا ایسا کرتی ہے کہ وه سوچتی ہے- وه منصوبہ بناتی ہے- وه اپنی آنکھ سے دیکهتی ہے اور اپنے پروں سے اڑتی ہے- اس طرح وه اس مقام پر پہنچتی ہے جہاں فطری طور پر اس کا رزق موجود ہو-

اس کا مطلب یہ ہے کہ چڑیا جب اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح استعمال کرتی ہے، اپنی عقل اور سمجھ سے بهر پور طور پر کام لیتے ہوئے مبنی بر فطرت منصوبہ بناتی ہے اور اس کے لیے اپنی حاصل شده توانائی خرچ کرتی ہے، تو اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ دنیا سے اس کو وه رزق ملے جو خالق نے اس کے لیے مقدر کیا ہے-

الرسالہ، ستمبر 2014
مولانا وحیدالدین خان

Photos from Aim Higher's post 18/11/2023

پشاور ایئر پورٹ۔۔۔
کچھ ہی دیر میں کراچی کے لئے روانگی۔۔۔ عظیم مقصد کے لئے سفر ۔۔۔ پر سکون سفر۔۔۔
استاد محترم اور مخلص دوست مولانا مفتی ڈاکٹر شاہ ولی اللہ صاحب کے ساتھ۔۔۔
دوست احباب سے دُعاؤں کی درخواست

04/10/2023

اللہ کی خفیہ سزائیں!!!
غیر محسوس کن مگر تباہ کن سزائیں!!!

کسی شاگرد نے اپنے استاد سے کہا :
کہ ہم دن رات اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ ہمیں سزا نہیں دیتا؟

استاد محترم نے جواب دیا:

ایسی کوئی بات نہیں اللہ تعالیٰ ہمیں کتنی سزائیں دیتا ہے لیکن ہمیں ان کا احساس نہیں ہوتا۔

اللہ تعالیٰ کی سزائیں کیا ہوتی ہیں۔ سنو:

۱۔ مناجات کی لذت سے محرومی:
کیارب سے مناجات کی لذت تم سے چین نہیں لی گئی؟

۲۔ قساوت قلبی( دل کی سختی):
اس سے بڑی سزا اور کیا ہوسکتی کہ انسان کا دل سخت ہو جائے؟

۳۔ نیکیوں کی توفیق نہ ملنا:
ایک بڑی سزا یہ بھی ہے کہ تمہیں نیکیوں کی توفیق بہت کم ملے۔

۴۔تلاوت قرآن سے غفلت:
کیا ایسا نہیں ہوتا کہ دن کےدن گزر جاتے ہیں مگر تلاوت قرآن کا موقع نہیں ملتا بلکہ بسا اوقات قرآن کی آیت سنتے ہیں کہ
“اگر یہ قرآن اللہ نے ایک پہاڑ پر نازل کیا ہوتا تو وہ پہاڑ خوف کے مارے ریزہ ریزہ ہوجاتا۔”
ہم یہ آیت تو سنتے ہیں مگر ہمارے دلوں پر اثر تک نہیں ہوتا؟

۵۔تہجد سے محرومی :
لمبی لمبی راتیں گزر جاتی ہیں مگر تہجد کی توفیق نہیں ملتی ؟

۶۔نیکیوں کے موسم بہار کی ناقدری:
نیکیوں کے موسم بہار آتے اور گزر جاتے ہیں جیسے رمضان کے روزے،شوال کے روزےاور ذوالحجہ کے مبارک ایام وغیرہ۔۔۔
مگران موسموں میں کما حقہ عبادت کرنے کی توفیق نہیں ملتی اس سے بڑی سزا اور کیا ہوسکتی ہے؟

۷۔عبادت کو بوجھ محسوس کرنا:
کیا تم عبادت کو بوجھ محسوس نہیی کرتے؟

۸۔ذکر الٰہی سے لاپرواہی:
کیا اللہ کےذکر سے تمھاری زبان خاموش نہیں رہتی؟

۹۔نفسانی خواہشات کے سامنے شکست:
کیا نفسانی خواہشات کے سامنے خود کو کمزور محسوس نہیں کرتے؟

۱۰۔دنیا کی محبت:
کیا تم مال و دولت،منصب وشہرت کے بے جا حرص میں مبتلا نہیں ہو؟اس سے بڑی سزا اور کیا ہوسکتی ہے؟

۱۱۔کبیرہ گناہوں کو معمولی سمجھنا:
کیا ایسا نہیں ہے کہ تم بڑے بڑے گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھتے ہوجیسے جھوٹ،غیبت،چغلی وغیرہ؟

۱۲۔فضول کاموں میں مشغولیت:
کیا بیشتراوقات تم فضول اور لایعنی چیزوں میں مشغول نہیں رہتے؟

۱۳۔آخرت سے غفلت:
کیا تم نے آخرت کو بھلاکر دنیاکو اپنا سب سے بڑا مقصد نہیں بنالیاہے؟

یہ ساری محرومیاں اور بے توفیقی بھی اللہ تعالٰی کی طرف سے عذاب اور سزائیں ہیں مگر تمہیں اس کا احساس نہیں ہوتا۔

یاد رکھو!!! اللہ تعالیٰ کا یہ بہت معمولی عذاب ہےجسے ہم اپنے مال واولاد اور صحت میں محسوس کرتے ہیں اورحقیقی عذاب اور سب سے بڑی سزا وہ ہے جو دل کو ملتی ہے۔
اس لئے اللہ تعالیٰ سے عافیت کی دعا مانگواور اپنے گناہوں کی معافی طلب کروکیونکہ گناہ کے سبب بندہ عبادت کی توفیق سے محروم کیا جاتاہے۔

اللھم اعنی علی ذکرک و شکرک وحسن عبادتک۔

ترجمہ ۔ اے اللہ!آپ مجھے اپنا ذکر کرنےاور بہتریں طریقہ پرعبادت کرنےکی توفیق عطا فرمائیں۔
آمین، ثم آمین یا رب العٰلمین۔

01/08/2023

استاد محترم Yameenuddin Ahmed کی ایک شاندار تحریر۔

کیا آپ مالی اعتبار سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں؟
یمین الدین احمد

(تو یہ مضمون ضرور پڑھیں)

میں پچھلے بیس پچیس برسوں سے اپنے کام کی نوعیت کی وجہ سے دنیا کے مختلف خطوں اور ممالک کا سفر کرتا رہتا ہوں۔ صرف کووڈ کے دو سال ایسے گزرے تھے کہ جن میں، میں ملک سے باہر نہیں گیا۔

پچھلے ایک سال میں بھی میرے بہت زیادہ اسفار رہے ہیں اور مختلف قومیتوں کے لوگوں سے ملنے اور ان کی سوچ کو جاننے کا موقع ملا۔

ایک بات جس کا مجھے بہت زیادہ ادراک ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اکثر ممالک کے معاشی حالات بہت اچھے نہیں ہیں اور خصوصا" پچھلا ایک سال اس حوالے سے بہت مشکل ثابت ہوا ہے۔

متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، بحرین کے علاوہ نارتھ امریکہ اور یورپ میں عام لوگ مہنگائی، ٹیکسز، اور بیروزگاری کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان اور فکرمند نظر آتے ہیں۔

البتہ ہر جگہ وہ لوگ جو اداروں میں اچھے عہدوں پر ہیں یا اچھی کوالیفیکیشن کے ساتھ ہیں تو ان کے لیے مواقع زیادہ ہیں اور وہ نسبتا" بہتر طور پر سروائیو کر رہے ہیں۔

ہم پاکستانیوں اور دیگر قوموں کے لوگوں میں، مجھے ایک بہت واضح فرق نظر آتا ہے۔ یہ فرق پہلے اتنا واضح نہیں تھا یا اس کا اظہار اس طرح سے نہیں تھا جیسے کہ اب ہے۔

ایک تو پچھلے دو سالوں میں پاکستان سے بیرون ملک جانے والے بہت سے لوگوں نے پتا نہیں یہ کیوں سمجھ لیا کہ پاکستان سے باہر ہر چیز بہت آسانی سے مل جائے گی اور وہ بہت جلد مالی طور پر خوشحال ہوجائیں گے۔

جبکہ آپ کہیں بھی جائیں گے، آپ کو سخت مسابقت کا سامنا کرنا پڑے گا اور آپ صرف اسی صورت میں کامیاب ہوسکیں گے جبکہ آپ نے اپنی علمی اور عملی استعداد کو بڑھانے کے لیے خاطر خواہ محنت کی ہو۔ ورنہ کوئی اور اس مسابقتی دنیا میں آپ کو پچھاڑ کر آگے بڑھ جائے گا۔

اب بہت سے لوگوں کو ان کی غلط توقعات کے مطابق مالی طور پر کامیابی نہیں ملی تو انہوں نے غلط طریقوں سے شارٹ کٹ کی کوشش کرنی شروع کردی۔

کچھ لوگوں کو اس طرح کی دو نمبریوں سے کچھ وقتی کامیابی بھی مل گئی، جس کو دیکھ کر بہت سے اور نوجوانوں نے اس طرح کے غلط طریقوں کا راستہ لینا شروع کر دیا۔

نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ اکثر لوگ پکڑے جانے لگے اور اس وقت صرف متحدہ عرب امارات میں ہزاروں پاکستانی دھوکہ دہی، بے ایمانی اور لوگوں کو مالی نقصان پہنچانے کے جرم میں جیلوں میں ہیں۔

دوسرا نقصان اس کا یہ ہوا ہے کہ اس وقت پاکستان کے تقریبا" 25 کے قریب شہر ایسے ہیں کہ اگر آپ کا شناختی کارڈ یا پاسپورٹ کا ان شہروں سے اجراء ہوا ہے تو اب متحدہ عرب امارات کا وزٹ ویزہ ملنا تقریبًا نا ممکنات میں سے ہے۔

مجھے اس بارے میں ہمارے ایک اماراتی دوست نے پچھلے دورے میں تفصیل سے بتایا اور سخت تاسف اور افسوس کا اظہار کیا۔

وہ بار بار مجھ سے ایک ہی سوال پوچھ رہے تھے کہ "آخر آپ پاکستانیوں کو ہو کیا گیا ہے؟ آپ لوگوں کے ہاں تربیت اور ذہن سازی اس قدر کمزور کیونکر ہوگئی ہے؟ آج آپ لوگ ایک اوسط ہندوستانی کے مقابلے میں بھی زیادہ گرے ہوئے معلوم ہوتے ہیں! آخر پچھلے تین چار سالوں میں ایسا کیا ہوگیا ہے کہ آپ کے نوجوانوں کی اخلاقی حالت اس قدر خراب ہوگئی ہے۔ لالچ، جلدی پیسے کمانے کی خواہش، اور نفس پرستی اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے!"

یقین کیجیے، یہ ساری باتیں وہ مجھے بالمشافہ ملاقات میں کہہ رہے تھے۔ ان سے پرانا تعلق ہے اور وہ اپنے کاروباری اور ذاتی معاملات میں مجھ سے مشورے کرتے رہتے ہیں۔

دوسری چیز جس کا انہوں نے بھی ذکر کیا اور میں نے بھی ہمیشہ اس بات کو نوٹس کیا ہے اور اب یہ بہت زیادہ واضح نظر آتا ہے کہ کوئی بھی اور قوم اپنے ملک کی اتنی برائیاں اور غیبتیں نہیں کرتی جتنی مجھے ہمارے اپنے لوگ پاکستان کے بارے میں کرتے نظر آتے ہیں۔

یہ انتہائی افسوسناک رویہ ہے اور اللہ تعالٰی کی نعمتوں کا کفر کرنے کے مترادف ہے۔ کم از کم میں اسے کفران نعمت ہی سمجھتا ہوں۔

میرے بہت سے کلائنٹس ہیں جن کا تعلق مختلف افریقی ممالک مثلا" صومالیہ، ایتھوپیا، مشرقی افریقہ، زیمبیا، کانگو، سوڈان، سیرالیون وغیرہ سے ہے۔ وہ اپنے ملکوں کی غربت کی داستانیں جب سناتے ہیں تو رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

میرے کئی بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے کلائنٹس جب بنگلہ دیش کی غربت اور استحصال کا نقشہ کھینچتے ہیں تو مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ان کی پریشانیاں زیادہ ہیں یا ہماری؟ لیکن ان میں سے کوئی بھی شخص مجھے ایسا نہیں ملا جو اپنے ملک کو برا بھلا کہہ رہا ہو۔ اس کو حسینہ واجد سے نفرت ہوگی لیکن وہ کبھی بھی ملک سے باہر اس کا اظہار نہیں کرے گا۔

اور ان میں سے کچھ ممالک کا میں سفر کر چکا ہوں اور زمینی حقائق دیکھ چکا ہوں۔ جس کے بعد میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ۔۔۔

ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ۔۔۔۔

دیکھیے میرے بھائیو اور بہنو!

ہماری معیشت اور مالی حالات کا حل رونے دھونے اور شکوے شکایتیں کرنے میں نہیں ہے بلکہ عزم مصمم کے ساتھ عملی طور پہ کچھ کرنے میں ہے۔

1. 👈 علم و تعلیم:

اگر آپ کی تعلیم مکمل ہو چکی ہے تو ابھی بھی آپ کو نئی چیزیں سیکھنے کا موقع نکالنا پڑے گا۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ آپ نے بیچلرز کی ڈگری کر لی ہے بلکہ ماسٹرز بھی کرلیا ہے اور اب آپ کو بہت اچھے پیسوں والی نوکری مل جائے گی تو یقین کیجیے کہ یہ آپ کی بہت ہی بڑی غلط فہمی ہے۔

دنیا بدل نہیں رہی بلکہ بالکل بدل چکی ہے۔ اور ہمارے ہاں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جو کچھ پڑھایا جارہا ہے، اس میں سے اکثر باتوں کا آج کی عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ ہمارے نوجوان ٹرک کی کن کن بتیوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں!

اپنے آپ کو بہت تیزی سے اپ گریڈ اور اپ اسکل کریں ورنہ یقین کیجیے، آپ باصلاحیت لوگوں کے سامنے کھڑے ہی نہیں ہوسکیں گے۔

آپ اپنی زندگی میں کیا کرنا چاہتے ہیں؟
کہاں جانا چاہتے ہیں؟
اپنے آپ کو مالی استحکام لحاظ سے کہاں دیکھنا چاہتے ہیں؟
کچھ تو سوچیں؟

رونے دھونے کو چھوڑ کر کوئی منصوبہ بندی تو کریں!

انٹرنیٹ پر بیشمار مفت ریسورسز موجود ہیں جو آپ کو نئی مہارتیں سیکھا سکتی ہیں۔

یہ مہارتیں ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویب ڈیویلپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ، فری لانسنگ، ڈیٹا سائنس، اے آئی اور بہت کچھ ہیں۔

آپ ہفتے میں کتنا وقت نئی صلاحیتیں سیکھنے پر لگاتے ہیں؟

آپ نے پچھلے 6 ماہ میں کتنے نئے کورسز کیے ہیں؟

کتنی کتابیں پڑھی ہیں؟

مجھ سے کتنے ہی لوگ مدد کے لیے رابطہ کرتے ہیں لیکن میں کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔

میں کسی کو جاب نہیں دلوا سکتا۔

میں آپ کو پیسے نہیں دے سکتا۔

ہاں میں آپ کو یہ مشورہ دے سکتا ہوں کہ اٹھیے، اپنے آپ پر خود رحم کیجیے۔ ہم دنیا میں سب سے کم کتابیں پڑھنے والی قوموں میں سے ہیں۔

تو کیا آپ کے خیال میں اس حالت کے ساتھ اللہ تعالٰی آسمان سے ہمارے لیے فرشتے اتاریں گے؟ کبھی نہیں!

2. 👈 صلاحیتوں کا استعمال:

آپ کو اپنی صلاحیتوں کا معلوم ہونا چاہیے اور ان کا استعمال کرنا چاہیے۔

اگر آپ کو لکھنے، پڑھنے، تدریس، خرید و فروخت، گرافک ڈیزائننگ یا کچھ بھی کرنے کا شوق ہے تو آپ اس کو استعمال کر کے اپنی آمدنی کا ذریعہ کیوں نہیں بنا سکتے ہیں؟

دوستوں کے ساتھ ہوٹلوں اور تھڑوں پر بیٹھنا بند کردیجیے۔ خواتین ٹی وی پر ڈرامے دیکھنا اور سوشل میڈیا کی فضول اسکرولنگ بند کردیں۔

فوکس! میرے دوستو! فوکس کریں!

3. 👈 پیسہ بچانے کی عادات:

مالی پریشانی ایک بڑا سبب ہماری خرچ کرنے کی عادات ہوتی ہیں۔

آپ کو اپنی ضروریات اور خواہشات کی تشخیص کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک آمدنی میں اضافہ نہیں ہوتا، صرف ضروریات پر خرچ کریں۔

اور سیکھنا آپ کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

4. 👈 سائیڈ بزنس:

اگر آپ کا موجودہ کام آپ کو ضرورت کے مطابق آمدنی نہیں دے رہا ہے تو آپ کو کوئی سائیڈ میں کام کرنے کا سوچنا چاہیے۔ لیکن اس سے پہلے یہ ضرور دیکھ لیجیے کہ آپ کے کور کام کے اندر اپنی صلاحیتوں کو نکھار کر آپ زیادہ ترقی کرسکتے ہیں۔

ورنہ ایک ایسا سائیڈ بزنس جو کچھ بچے ہوئے وقت میں کیا جاسکے۔ جیسے کہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق آن لائن فری لانسنگ یا کوئی چھوٹا سا کاروبار جیسے شام کو اپنے گھر کے قریب ہی فرائیز کا ایک اسٹال لگا لینا۔

مشہور امریکی ادیب کرس گیلیبو کی مثال ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کسی بھی عمر میں، کسی بھی حالات میں، آپ کی زندگی کو بہتر بنانے کا کچھ نہ کچھ راستہ ہوتا ہے۔

اس نے اپنی مشہور کتاب "$100 Startup" میں بتایا ہے کہ کیسے اس نے صرف $100 میں ایک نیا کاروبار شروع کیا اور اپنی زندگی کو بہتر بنایا۔ یہ کتاب تو آپ پڑھ ہی سکتے ہیں!

یا یہ بھی نہیں کر سکتے؟

اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ بڑے کاروبار یا بڑی کامیابی کے لئے بہت سارے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن کریس گیلیبو نے اپنی کتاب میں یہ بتایا ہے کہ کم پیسے میں بھی کاروبار کیسے شروع کیا جا سکتا ہے۔

ویسے میں آپ کو ایک بتا رہا ہوں کہ اپنے کام کے لیے پیسوں سے زیادہ شاندار آئیڈیاز اور استقامت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور وہ آپ کو سیکھے بغیر نہیں آسکتے۔

ایک اور مثال ایلون مسک کی ہے، جو اپنی زندگی کی ایک نقطے پر کروڑوں ڈالر کا مقروض ہو گیا تھا۔ لیکن اس نے نہ تو ہمت ہاری اور نہ ہی ہار مانی۔

لوگوں نے مذاق اڑایا، ناکام کہا لیکن وہ اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے مستقل مزاجی سے لگا رہا، اور آج وہ دنیا کے سب سے امیر ترین لوگوں میں سے ایک ہے۔

ممکن ہے کہ ہم اس کی بہت سے خیالات سے اتفاق نہ کرتے ہوں لیکن مثال یہ بتانے کے لیے ہے کہ مالی طور پر مستحکم ہونے کے لیے مستقل مزاجی اور استقامت بہت اہم صفات ہیں۔

مجھے پچھلے ماہ دبئی ہی میں ایک 21 سالہ پاکستانی نوجوان سے ملاقات کا موقع ملا۔ ایک عام پاکستانی فیملی سے تعلق رکھنے والا نوخیز نوجوان۔

یہ نوجوان جب 11 سال کا تھا تو اس نے میری ورکشاپس اٹینڈ کر لی تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ اس کے والد اسے اپنے ساتھ لے آیا کرتے تھے۔ وہ کبھی کمرے میں بیٹھتا تھا اور کبھی باہر چلا جاتا تھا۔ ایک چھوٹا سا 11 سال کا بچہ!

اس کے والد اور وہ خود کہتا ہے کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ جو باتیں اس وقت کررہے ہیں وہ میرے subconscious میں اس طرح سے پیوست ہوجائیں گی۔

پھر والد صاحب بھی سمجھاتے تھے کہ ورکشاپ میں کیا بات ہوئی۔ آج دس سال بعد ان باتوں کے سننے کا رزلٹ یہ آیا کہ میں نے اس وقت سے سوچنا شروع کردیا تھا کہ مجھے 20 سال کی عمر میں پاؤں پر کھڑا ہونا ہے۔ مجھے 23 یا 24 سال کی عمر میں اپنا خود کا گھر بنا لینا ہے اور والدین کو اپنے پیسوں سے گاڑی خرید کر دینی ہے اور ان کو اس گھر میں رکھنا ہے۔

وہ میرے پاس ہوٹل میں اپنے کچھ معاملات میں مشوروں کے لیے آیا تھا۔

اس نے کہا کہ 11 سال کی عمر میں جو وژن میں نے دیکھا تھا، اس کی روشنی میں 17 سال کی عمر سے پڑھائی کے ساتھ ساتھ چھوٹے موٹے کام شروع کردیئے تھے کہ کم از کم اپنے خرچے خود نکال سکے۔ اس کے والد دبئی میں ایک کمپنی میں ملازم ہیں اور کووڈ کے دنوں میں ان کی فیملی مشکل حالات سے گزری تھی۔

اس نے رئیل اسٹیٹ کا شعبہ چنا اور اپنی انڈسٹری میں اس کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو انتہائی اصول پسندی اور ایمانداری کے ساتھ اپنا کام کرتے ہیں۔ اس کے کمپنی کے مالکان اس 21 سالہ لڑکے سے مشورے کے بغیر کوئی بڑا پروجیکٹ نہیں کرتے۔

اگلے دو سالوں میں اس کا ارادہ ہے کہ وہ اپنی کمپنی بنا لے گا اور یہ بات وہ اپنے مالکان کو بتا چکا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ پارٹنرز بن جائیں گے لیکن تمہیں چھوڑیں گے نہیں۔

اب بتائیے! یہ بھی ہمارے ہی ملک کا نوجوان ہے۔ اس سے اتنے عرصے بعد مل کر دل خوش ہوگیا۔ اپنے والد کو وہ پچھلے سال ایک شاندار گاڑی دلا چکا ہے۔ اگلے سال اس نے دبئی میں اپنا گھر خریدنا ہے اور وہ گھر پسند کرچکا ہے۔

سبحان اللہ!

یہ کوئی شرمندگی کی بات نہیں ہے کہ آپ نے جن ستاروں پہ کمند ڈالنے کا سوچا تھا، آپ ان پر کمند نہیں ڈال سکے۔ لیکن یہ انتہائی شرمناک ہوگا کہ آپ نے کوئی ستارے ہی نہیں چنے جن پر آپ کو کمند ڈالنی تھی!

مجھے امید ہے کہ یہ پوسٹ آپ کو محنت کرنے، نئی چیزیں سیکھنے، اور اپنے خوابوں کو پورا کرنے کی ترغیب دے گی۔

یاد رکھیں، امکانات کی ایک وسیع دنیا ہر وقت موجود ہے۔ ہمیشہ پر امید رہیں، مشکلات کو اپنے لیے آگے سیکھنے کا سبق بنائیں، اور ہر وقت سیکھنے کی کوشش میں لگے رہیں۔

ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ "ہر اندھیرے کے ساتھ اللہ ایک راہ روشنی کی بھی رکھتا ہے".

ہمیں صرف اس راہ کو پہچان کر اس پر چلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

محنت، ہمت، اور استقامت ہمیں ہمیشہ کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں۔

آپ کا مستقبل آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہے، اور آپ کو اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے اپنی کوششوں کو جاری رکھنا چاہیے۔ اگر آپ محنت کریں گے، تو آپ کو کامیابی ضرور ملے گی۔

کم از کم میری زندگی کا سبق تو یہی ہے اور آج بھی میں اسی پر عمل پیرا ہوں۔

آپ کی شاندار کامیابی کے لیے دعا گو،

یمین الدین احمد
30 جولائی 2023ء
کراچی، پاکستان۔

اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئر کریں تاکہ لوگوں کو ہمت ملے اور لوگ کوشش کریں۔ جزاک اللہ خیرا۔

27/07/2023

*توجہ طلب بات*
فرمان رسول ﷺ
*''امید ہے کہ یوم عاشورہ *( یعنی 10 محرم الحرام )* کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے۔''* (مسلم 1162)

ماہِ محرم کی دسویں تاریخ یعنی عاشوراء کے روزہ کا سنت ہونا حضورﷺ کے عمل اور قول سے ثابت ہے اور تشبہ سے بچنے کے لیے نویں تاریخ کے روزے کا قصد بھی ثابت ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان بھی ثابت ہے کہ نویں اور دسویں کو روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو۔
*"وروي عن ابن عباس أنه قال: «صوموا التاسع والعاشر وخالفوا اليهود»". (سنن الترمذي، (3/ 120)*

کل بروز جمعۃ المبارک *9 محرم الحرام* ہے یاں تو 9 اور 10 کا روزہ رکھیں یا پھر 10 کے ساتھ 11 ویں محرم کا روزہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ رکھنے کا اہتمام فرمائیں ۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا

Want your school to be the top-listed School/college in Mardan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Sector M Toru Road SMT
Mardan
23200

Opening Hours

Monday 09:00 - 18:00
Tuesday 09:00 - 18:00
Wednesday 09:00 - 18:00
Thursday 09:00 - 18:00
Friday 09:00 - 18:00