05/10/2025
🚨ٹیچرز ڈے کے موقع پر اگر کسی استادِ کامل کا ذکر ہو تو سب سے بلند مقام
*حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم* *کا ہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے "معلمِ انسانیت" بنا کر بھیجا۔*
*آپ ﷺ نے نہ صرف علم دیا بلکہ کردار، اخلاق، عدل، رحم اور سچائی کی عملی تعلیم دی۔*
*آپ ﷺ نے جہالت کے اندھیروں میں علم کا چراغ جلایا، غلاموں کو عزت دی، عورتوں کو مقام دیا، اور انسانیت کو مقصدِ حیات سکھایا۔ آپ ﷺ کی تعلیمات آج بھی دنیا بھر کے اساتذہ کے لیے مشعلِ راہ ہیں، کیونکہ آپ ﷺ نے دلوں کو علم سے روشن کیا اور انسان کو انسانیت کا شعور بخشا۔*
*اساتذہ کے لیے آپ ﷺ کی زندگی ایک مکمل نصاب ہے۔*
14/08/2025
14th August Independence Day Celebration at GPS kalo
14/08/2025
"Happy 78th Independence Day, Pakistan!"
Today, we celebrate not just freedom, but the dreams, sacrifices, and resilience that shaped our beloved homeland. Let’s honor the past, cherish the present, and build a brighter tomorrow together.
"سوہنی دھرتی اللہ رکھے، قدم قدم آباد تجھے
تو ہے میرا پیارا وطن، تو ہے میری پہچان وطن" 🇵🇰✨
پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے!
Regards: GPS Kalo
09/08/2025
...داخلہ لے لو… داخلہ لے لو.....داخلہ لے لو
"داخلہ لے لو… آدھی فیس پر، قسطوں پر، وظیفے پر…
شاندار عمارت، کشادہ کیمپس، پی ایچ ڈی اساتذہ… سب حاضر ہیں۔"
یہ آوازیں جو آج کل فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر روز سنائی دیتی ہیں، دراصل کوئی اشتہاری نعرے نہیں—بلکہ ایک شکستہ دل مرثیہ ہے۔ نوحہ ہے اس استاد کا، جسے کبھی "سروں کا تاج"، "معمارِ قوم"، اور "منصبِ پیغمبری کا وارث" کہا جاتا تھا۔
یہ صدائیں دکانداروں، ریڑھی بانوں یا کباڑیوں کی نہیں، ان لوگوں کی ہیں جنہیں ہم نے ہمیشہ عزت و تکریم سے نوازنے کی تلقین کی:
اساتذہ کی۔
یہ اعلان شوق کا نہیں، مجبوری کا ہے۔ یہ صدائیں کسی تعلیمی خدمت کے جذبے سے نہیں اٹھتیں، بلکہ روزی روٹی اور بقا کی آخری دہلیز پر کھڑے افراد کی پکار ہیں۔
یہ پیشہ اب کسی خواب کا عکس نہیں—اکثر اوقات یہ ناکامی کے بعد اپنایا جانے والا آخری راستہ بن چکا ہے۔ وہ اساتذہ، جن کے گھروں میں چولہا صرف تنخواہ سے جلتا ہے، آج اپنی ہی عزت کا بوجھ اٹھائے در بدر ہیں۔
ذرا پیچھے جائیے۔
ایک وقت تھا جب اعلیٰ تعلیم کی تنظیموں کو "خود مختاری" کا سہانا خواب دکھایا گیا۔ سرکاری کالجوں کو جلدبازی میں یونیورسٹی کا درجہ دے کر گرانٹ کا جال پھینکا گیا۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کی صنعت چل نکلی۔ پیسوں کی فراوانی نے ماحول میں وقتی چمک پیدا کی، مگر پھر اچانک بجٹ کا بہاؤ روک دیا گیا۔ گزشتہ برس اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص فنڈز میں خوفناک کمی کر دی گئی۔
اب جامعات صرف فیسوں پر چلتی ہیں، اور فیسیں عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔
کالجوں میں سستا بی ایس پروگرام—جو میرٹ پر منتخب اساتذہ پڑھا رہے ہیں—جامعات کی آنکھوں میں کھٹکنے لگا۔ ایک خاموش کشمکش جاری ہے:
جامعات چاہتی ہیں کہ بی ایس صرف ان کے پاس رہے، کالجوں کا کردار محدود کر دیا جائے۔
اور کالج، اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
ادھر، نوجوان نسل تعلیم سے زیادہ یوٹیوب، فری لانسنگ، ٹک ٹاک، یا غیر رسمی ذریعۂ آمدن کی جانب راغب ہو چکی ہے۔ جب مجا ملنگ یا کوئی یوٹیوبر ایک پروفیسر سے بیس گنا زیادہ کما رہا ہو تو نوجوانوں کے لیے رول ماڈل بدل جاتے ہیں۔
اس تعلیمی زوال میں اگر کوئی خاموش مسکراہٹ لیے کھڑا ہے، تو وہ ریاست ہے۔
ایک ایسی ریاست، جس کے ایجنڈے میں تعلیم کبھی اوّلین ترجیح نہیں رہی۔ وہ تعلیم جو قوموں کو بلندی عطا کرتی ہے، یہاں بوجھ بن چکی ہے۔ فلاحی ریاست کا خواب اشرافیہ کے اخراجات میں گم ہو چکا ہے۔
اور یوں، جب روم جل رہا ہوتا ہے،
نیرون بانسری بجا رہا ہوتا ہے…
تو اساتذہ—منصبِ پیغمبری کے وارث—
صدا لگا رہے ہوتے ہیں:
"داخلہ لے لو، داخلہ لے لو… داخلہ لے لو۔۔ بغیر حاضری لیکچر شارٹیج داخلہ لے لو ڈگری لے لو"
کاپی۔۔۔۔۔
09/08/2025
🌿 استاد کی تھکن – وہ دکھ جو سلیبس میں نہیں ہوتا
کبھی کلاس روم میں بیٹھ کر غور سے دیکھا ہے؟ سامنے کھڑا استاد کچھ بول رہا ہوتا ہے، آواز میں سمجھانے کی لگن، چہرے پر سنجیدگی، اور آنکھوں میں تھکن چھپی ہوتی ہے — ایسی تھکن جو کسی کو دکھائی نہیں دیتی۔
یہ تھکن صرف اس بات کی نہیں کہ صبح جلدی اٹھ کر اسکول آنا ہے، یا مسلسل لیکچرز دینے ہیں… یہ تھکن اس وقت پیدا ہوتی ہے جب:
• استاد سارا دن بچوں کو پڑھاتا ہے اور پھر بھی کوئی شکایت آ جائے۔
• جب وہ اپنے ذاتی مسئلے چھوڑ کر دوسروں کے بچوں کے خوابوں کو پورا کرنے نکلے۔
• جب کوئی بچہ آگے بڑھ جائے تو سب واہ واہ کریں، لیکن استاد کو کوئی یاد نہ کرے۔
کئی بار استاد خود کسی تکلیف میں ہوتا ہے، طبیعت ٹھیک نہیں ہوتی، گھر میں پریشانی ہوتی ہے، بچے کی فیس دینی ہوتی ہے، والدین کی دوا لانی ہوتی ہے — لیکن وہ یہ سب پیچھے رکھ کر اسکول آتا ہے، مسکراتا ہے، اور بورڈ پر لکھنا شروع کر دیتا ہے… جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔
کیا یہ سب صرف تنخواہ کے لیے ہوتا ہے؟
نہیں… یقین مانیں، استاد صرف تنخواہ کے لیے نہیں پڑھاتا۔ وہ دل سے چاہتا ہے کہ اس کی کلاس کا ہر بچہ کامیاب ہو، کچھ بنے، آگے جائے، اور جو وہ خود نہ بن سکا، وہ اس کے شاگرد بنیں۔
کبھی آپ نے کسی استاد کو دیکھا ہے جو بہت چپ چاپ ہے؟
ہو سکتا ہے وہ اندر سے تھکا ہوا ہو۔
ہو سکتا ہے اس نے پوری محنت کی ہو لیکن طلبہ نے دھیان ہی نہ دیا ہو۔
ہو سکتا ہے وہ نیا کچھ سکھانا چاہے لیکن اسکول کے نظام نے اجازت نہ دی ہو۔
یہ وہ تھکن ہے جو جسم میں نہیں، دل میں اترتی ہے۔
لیکن استاد پھر بھی ہمت نہیں ہارتا۔
وہ روز نئے جذبے سے کلاس میں آتا ہے، صرف اس امید پر کہ شاید آج کا دن کسی بچے کی زندگی بدل دے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے روشن مستقبل پائیں، تو ہمیں پہلے اُن ہاتھوں کا خیال رکھنا ہوگا جو انہیں روشنی تک پہنچاتے ہیں۔
استاد کو صرف کام والا انسان نہ سمجھیں — وہ بھی انسان ہے، اس کے جذبات ہیں، احساسات ہیں، کمزوریاں ہیں، اور سب سے بڑھ کر… دل ہے، جو چاہتا ہے کہ کوئی اس کی بات سنے، اس کی تھکن سمجھے، اور بس کبھی کبھی شاباش دے دے۔
کیونکہ…
اگر استاد کا جذبہ بجھ گیا، تو چراغ کسی اور کا بھی روشن نہیں رہے گا۔
یہ تحریر کسی کتاب، کسی مضمون یا کسی مشین کی نہیں یہ اُن سب اساتذہ کے لیے ہے جنہیں ہم نے سنا نہیں، محسوس نہیں کیا، لیکن جنہوں نے ہمیں زندگی میں کھڑا ہونا سکھایا۔
دل سے لکھی گئی بات… اگر دل تک پہنچے تو خاموشی سے شکریہ ضرور کہنا۔ 🌸
07/08/2025
سرکاری اسکول معیاری اسکول
07/08/2025
*اگر پاکستان صرف زمین کا ٹکڑا ہوتا جو کسی "روشن خیال" نے اپنی "جدوجہد" سے آزاد کروایا ہوتا۔*
پھر تو اس موقع پر قومی ترانوں پر شاید گانا بجانا، مردوں عورتوں کا اکٹھے سیلیبریٹ کرنا، پرفارمنس اور ڈانس *قومی ترانوں پر یہ سب بنتا تھا*۔
لیکن اسکو اللہ کے نام پر، دین اسلام سے محبت کرنے والوں نے آزاد کروایا ہے۔
اس سے مخلص اب بھی وہی ہیں جو اسلام سے اسلام کے قانون اور نظام سے مخلص ہیں۔
*یہی ناچ گانا کرنا تھا تو ہندووں سے الگ ہونے کی ضرورت ہی کیا تھی۔*❓
*خدارا شکرانے کے دن کو بے حیائی سے آلودہ کرنے والوں کے خلاف آواز بلند کرین۔*
05/08/2025
یوم استحصال کشمیر
اگست کو ہمیشہ یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا5
یوم استحصال کشمیر پر بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوا۔
75 سال سے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم اقوام عالم کی خاموشی معنی خیز ہے۔
بھارتی مظالم کے خلاف کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ ہیں۔
ہم گورنمنٹ پرائمری اسکول کالو کے اساتذہ اور طلباء کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور جدوجہد آزادی کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
28/05/2025
GPS Kalo celebrating 28th May as a یوم تکبیر