یہ بچہ صبح سکول گیا تھا واپسی پر ڈرون سے مار کر شہید کیا گیا۔
ڈرون اٹیک میں کبھی بھی کسی جرنیل، جج ، گورنر اور وزیر اعلی کا بچہ نہیں مارا گیا۔لیکن ہمیشہ غریب اور لاچار لوگوں کے بچے مارے جارہے ہیں۔
کیا اس ملک میں غریبوں کا کوئی حق نہیں؟
یاد رکھیں، ہمارا رب تھمارے مظالم دیکھ رہے ہیں۔
اللہ تعالٰی ظالم کو معاف نہیں کرتا۔
Ijaz Ahmad Research
Global Information and science technology
Daily insights on world news, politics & scientific discoveries. Clear, honest and research-based content.
Follow for knowledge that matters.
12/05/2026
اس لئے ہمارے عدالت دنیا میں انصاف کے لحاظ سے 130 سے اوپر ہے
پاکستان کی طاقتور خاتون. دبنگ لیڈی ویلن
پاکستان کی سب سے بڑی کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کی کراچی عدالت میں انمول پیشی، ہتھکڑی نہ لگائی گئی، پولیس اہلکار مودبانہ انداز میں پیچھے چلتا رہا، راستے کے بارے میں گائیڈ بھی کرتا رہا!👍
جب کے علی وزیر پر فضول ایف آئی آر درج ہو رہی ہے ، جمہوریت کے دعویدار پی پی پی🙏
کراچی سے کینجھر جھیل جانے والی ایک کوسٹر
تیز رفتاری کے وجہ سے خوفناک حادثے کا شکار
Karachi Today
07/05/2026
کولمبیا یونیورسٹی کا ایک طالبعلم ریاضی کی کلاس میں سو گیا۔ جب آنکھ کھلی تو طلباء کی آوازیں آ رہی تھیں کہ لیکچر ختم ہو چکا تھا۔( یہاں کچھ لوگ جارج کا کلاس میں لیٹ پہنچنے کا کہتے ہیں )
اس نے دیکھا کہ پروفیسر نے تختہِ سیاہ پر دو سوال لکھے ہوئے ہیں۔ اس نے سوچا کہ یہ یقیناً ہوم ورک کے سوالات ہوں گے۔ اس نے جلدی سے دونوں سوال اپنی کاپی میں نقل کر لیے تاکہ گھر جا کر حل کرے۔
جب اس نے ان پر کام شروع کیا تو پایا کہ یہ سوالات انتہائی مشکل ہیں مگر وہ ہمت نہ ہارا۔ لائبریری گیا، کتابیں کھنگالیں، حوالہ جات دیکھے، اور مسلسل کوشش کرتا رہا، یہاں تک کہ بڑی مشکل سے ان میں سے ایک سوال حل کر لیا۔
اگلی کلاس میں، اس نے حیرت سے دیکھا کہ پروفیسر نے پچھلے لیکچر کے ہوم ورک کے بارے میں کوئی بات ہی نہیں کی!
اس نے پوچھا: "سر! آپ نے پچھلی کلاس کا ہوم ورک چیک ہی نہیں کیا جو آپ نے آخر میں بورڈ پر لکھا تھا؟"
پروفیسر نے حیرت سے کہا: "ہوم ورک؟ وہ ہوم ورک نہیں تھا۔ میں نے تو صرف چند ایسی مثالیں دی تھیں جنہیں ابھی تک دنیا کے بڑے بڑے ریاضی دان بھی حل نہیں کر سکے!"
طالبعلم حیرت سے بولا:
"لیکن میں نے ان میں سے ایک سوال چار صفحات میں حل کر لیا ہے!"
بعد میں اس سوال کا حل کولمبیا یونیورسٹی میں باقاعدہ رجسٹر کیا گیا اور آج تک وہ حل اس طالبعلم کے نام سے جانا جاتا ہے۔
وہ چار صفحات آج بھی یونیورسٹی میں محفوظ ہیں۔
یہ طالبعلم بعد میں ریاضی کے عظیم ماہر بنے: "جارج دانتزِگ (George Dantzig)"
انہوں نے صرف اس لیے یہ مسئلہ حل کر لیا، کیونکہ انہوں نے یہ نہیں سُنا تھا کہ:
"یہ سوالات آج تک کوئی حل نہیں کر سکا!"
انہوں نے خود کو یہ یقین دلا دیا کہ ان کا حل ممکن ہے۔
اور جب مایوسی کے بغیر کوشش کی…
تو وہ انہیں حل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
کبھی کسی کی یہ بات نہ سنو کہ "تم نہیں کر سکتے!"
تم سب کچھ کر سکتے ہو، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں ان شاء اللہ۔
شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئیؒ شہید کون تھے؟
شیخ الحديث مولانا محمد ادريس سال 1961ء میں ضلع چارسدہ کے علاقے ترنگزئی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم کا نام مولوی حکیم عبدالحق ہے اور عوام میں مناظراسلام کے نام سے مشہور تھے۔ مولانا محمد ادریس کے دادا کا نام شيخ الحديث مفتی شہزادہ فاضل دارالعلوم ديوبند تھے وہ بھی ایک علمی شخصیت تھے اور اپنے دور کے بڑے مفتی اور شیخ الحدیث تھے۔ آپ كے پردادا كا نام شيخ مولانا محمد اسماعيل ہے۔ جو كه مشهور عالم علامه شمس الحق افغاني كے استاذ تھے اور اپنے علاقے ميں شيخ كے نام سے مشهور تھے۔ آپ عالمی شہرت یافتہ عالم دین حضرت مولانا محمد حسن جان مدنی کے داماد تھے۔ آپ کے دو بیٹے ہیں۔ مولانا انیس احمد جو جامعہ دار العلوم حقانیہ کے فاضل اورجامعہ دار العلوم نعمانیہ میں دینی علوم کے درس وتدریس میں مصروف ہیں اور ایک جید مدرس ہے۔ اور ڈاکٹر محمدسلمان جو طب(میڈیکل) ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔
جامعہ نعمانیہ اتمانزئی چارسدہ 1983 میں مدرس کے طور پر اپنے فرائض ادا کرنا شروع کر دیٔے اور تقریبا 1997 تک یہاں دینی علوم و فنون کے درس دیتے رہے۔ پھر دار العلوم اسلامیہ تنگی میں بطور شیخ الحدیث فائز ہوئے اور 9 سال تک دورہ حدیث کے تمام کتب پڑھاتے رہے۔ پھر وہاں سے اپنے گاؤں میں 6 سال تک صحیح البخاری اور جامع الترمذی اور مؤطائین پڑھاتے رہے۔ او 2013ء سے تاحال دار العلوم نعمانیہ میں شیخ الحدیث اور صدر المدرسین کے مسند پر فائزر ہے اور صحیح البخاری کامل اور جامع الترمذی کامل صحیح مسلم جلد اول پڑھاتے رہے ۔ بخاری اور ترمذی کے مسلسل تدریس کے آپ کے 30 سال مکمل ہو گئے۔ جامعہ دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں ڈاکٹر شیخ شیر علی شاہ صاحب کے وفات کے بعد مہتمم جامعہ مولانا سمیع الحق صاحب کے شدید اصرار اور خواہش پر وہاں بھی درس شروع کیا،اور وہاں دار العلوم حقانیہ میں سنن ترمذی جلد اول اور بخاری جلد ثانی پڑھا رہے تھے۔
کچھ دن قبل آپ کے ایران و امریکہ کشیدگی کم کرنے پر پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراجِ تحسین کرنے کے بیان پر بعض حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی تھی۔جبکہ آج 5 مئی 2026 کو چارسدہ کے علاقے آتمانزئی میں فائرنگ کے نتیجے میں شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس شہید ہوگئے،۔
وس بہ پہ ممبر د پختونخوا وطن د امن خبرہ وکڑی کنہ؟ 🥺
جس مقتول کا قاتل نامعلوم ہو اسکا قاتل حکمران وقت ہوتا ہے
سوال یہ ہے کہ انڈیا میں علماء محفوظ ہے تو اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں علماء کیوں محفوظ نہیں ؟؟
شیخ حسن جان سے لے کر مولانہ سمیع الحق پھر مولانہ خانزیب اور مفتی منیر شاکر اور آج شیخ ادریس
یہ نامعلوم کون ہے جو علماء کرام کو تسلسل سے شہید کررہے ہیں اور ریاست ابھی تک اس کو پکڑنے میں ناکام ہیں لیکن جب ان کی ذاتی دلچسپی ہو تو قاتلوں کو باہر ملکوں میں پکڑ کر لاتے ہیں
چلوں مان لیا شیخ ادریس نے کوئی بیان دیا تھا تو مولانہ خانزیب کو کس نے شہید کیا تھا ؟
مفتی منیر شاکر کو کس نے شہید کیا تھا؟
مولانہ حسن جان کو کس نے شہید کیا تھا ؟
مولانہ سمیع الحق کو کس نے شہید کیا تھا ؟
مولانہ حامد الحق کو کس نے شہید کیا تھا؟
مولانہ عادل کو کس نے شہید کیا تھا ؟
ان کے قاتل کہاں ہے؟
اب تک کیوں نہیں پکڑے گئے ؟
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Mardan
23164