Online Quran Academy

Online Quran Academy

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Online Quran Academy, Education, kpk mardan, Mardan.

11/11/2024
03/01/2024

سٹرنگ تھیوری کے تحت یہ کائنات 12 ڈائمنشن میں تقسیم ھے۔ ہم 3 ڈی میں رہ رھے ہیں۔ 1D آگے پیچھے حرکت، 2D آگے پیثھے اور دائیں بائیں حرکت اور 3D آگے پیثھے دائیں بائیں اور اوپر نیچےحرکت۔ اسی طرح 4D میں داخل ھوں تو عالم برزخ میں پہنچ جاتے ہیں اور 5D عالم ارواح جبکہ 6D میں آپ کسی کو نظر نہیں آئیں گے جیسے جنات اور 7D میں آپ ایک وقت میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ھو سکتے ہیں۔ اس سے آگے کی ڈئیمنشنز بھی ہیں جن میں وقت کی رفتا صفر ھوجاتی ھے۔ جس طرح قرآن میں ھے کہ روز حساب لوگوں سے پوچھا جائے گا کہ دنیا میں کتنا وقت رھے کوئی کہے گا نصف دن یا اس سے بھی کم اور کوئی کہے کا چند گھڑیاں۔ یوم حساب کا ایک روز 50 ہزار سال کے برابر ھوگا۔ اسی طرح سائنس کے مطابق ہماری زمین کو زندگی کے مطابق ھونے میں کروڑوں سال لگے جبکہ اللہ فرماتے ہیں سات دن میں یہ نظام تشکیل پایا۔ یعنی اللہ پاک جس ڈائمنشن میں ہیں وہاں وقت کی کوئی قید ھے ھی نہیں۔ 12 ڈائمنشن یہ ھے کہ آپ جس چیز کی خواھش کریں وہ آپ کے سامنے ھوگی ایسا صرف جنت میں ممکن ھے۔
بات موت کی ھو رھی ھے تو یہ کسی کو نہیں معلوم اس کی موت کب اور کہاں لکھی ھے۔ بہت سے سائنسدان خلاء میں حادثوں کا شکار ھوئے ان کے بارے میں کیا کہیں گے۔ موت کچھ بھی نہیں صرف ایک زمانے سے دوسرے میں منتقل ھونے کی کیفیت کا نام ھے۔

13/08/2022

*جنت*

💫جنت میں سب رشتہ داروں سے ملاقات ہوگی
💫جنت میں ہم ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
💫ہمیں کبھی تھکاوٹ یا بوریت نہیں ہوگی۔
💫کبھی اداسی نہیں چھائے گی۔
💫کبھی نیند کی طلب نا ہوگی۔
💫ہم کبھی بیمار نا ہوں گے۔
💫وہاں افلاس اور بھوک نا ہوگی۔
💫وہاں گرمی و سردی اعتدال میں ہوگی۔
💫ہمیں کبھی تھوکنا نہیں پڑے گا۔
💫قے نہیں آئے گی۔ پیشاب اور پاخانہ نہ ہوگا۔
💫ہمارے پسینے سے مشک کی خوشبو آئے گی۔
💫ہمارے لئے ریشمی لباس ہوں گے۔
💫موتیوں کے ہار ہوں گے۔
💫ہیرے سونے چاندی کے زیورات ہوں گے۔
💫وہاں پانی ،دودھ ، شہد ، اور شراب طہور کی نہریں ہوں گی۔
💫ہمارا چہرہ وہاں حسین ہوگا۔
💫جنتیوں کو حضرت یوسف علیہ السلام جیسا حسن عطا کردیا جائے گا۔
💫وہاں اخلاق حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جیسے ہونگے
💫ہر جمعہ ،بازار حسن، لگا کرے گا،جہاں ہم اپنی مرضی سے اپنی شکلیں تبدیل کرلیا کریں گے۔
💫وہاں کوئی تنہا نا ہوگا۔ سب کے جوڑے ہوں گے۔
💫سب کے پاس حور و غلمان ہوں گے۔
💫جو پھل کھانا چاہیں ، بس اٹھائیں اور کھاتے جائیں۔
💫ہمارے لیئے سونے چاندی کے برتن ہوں گے۔ جن میں موتی جڑے ہوں گے ۔
💫ہم وہاں ہمیشہ جوان رہیں گے۔
💫ہم رسول پاک صلی اللّٰہُ علیہ وسلم کے ارشاداتِ عالیہ سنا کریں گے۔
💫جنت میں ہم اللّٰہ کے تمام انبیاء (علیہم السلام)کو دیکھ سکیں گے۔
💫وہاں اصحاب رسول رضی اللہ عنہم سے ملاقات کرسکیں گے
💫کوئی درد نا ہوگا، کوئی تکلیف نا ہوگی۔
💫نا دل ٹوٹے گا۔ نا روح بکھرے گی۔
💫نا حادثے ہوں گے، نا اذیتیں ہوں گی۔
💫وہاں تو بس راحت ہی راحت ہوگی۔
اورسب سے بڑھ کریہ بات کہ جنت میں جو دل چاہے گا وہی شے مل جاٸے گی اور اس سے بھی بڑھ کر نعمت جنت میں اللّٰہ کادیدار ہوگا۔

💫پس پھر شوق رکھنے والوں کو جنت ہی کا شوق رکھنا چاہئیے۔

اے صاحبو دوستو ساتھیو ایسی شاندار زندگی کو اس مختصر سی دنیا کی زندگی پر قربان مت کیجئے اس دنیا کی زندگی کا کیا مزہ کیا لطف مزہ تو بس آخرت کا مزہ ہے کہ ایسی شاندار زندگی ہمارا مقدر کر دی جائے۔

لا عیش الا عیش الآخرۃ

اللھم الرزقنا جنت الفردوس آمین ثم آمین یا کریم رب العالمین copy

13/08/2022

ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں ریڈیو اناؤنسر نے اپنے مہمان سے جو ایک عرب پتی شخص تھا ، پوچھا :" زندگی میں سب سے زیادہ خوشی آپ کو کس چیز میں محسوس ہوئی؟"
وہ کروڑ پتی شخص بولا:
میں زندگی میں خوشیوں کے چار مراحل سے گزرا ہوں اور آخر میں مجھے حقیقی خوشی کا مطلب سمجھ میں آیا.

سب سے پہلا مرحلہ تھا مال اور اسباب جمع کرنے کا. لیکن اس مرحلے میں مجھے وہ خوشی نہیں ملی جو مجھے مطلوب تھی.پھر دوسرا مرحلہ آیا قیمتی سامان اور اشیاء جمع کرنے کا. لیکن مجھے محسوس ہوا کہ اس چیز کا اثر بھی وقتی ہے اور قیمتی چیزوں کی چمک بھی زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہتی.

پھر تیسرا مرحلہ آیا بڑے بڑے پروجیکٹ حاصل کرنے کا. جیسے فٹ بال ٹیم خریدنا، کسی ٹورسٹ ریزارٹ وغیرہ کو خریدنا . لیکن یہاں بھی مجھے وہ خوشی نہیں ملی جس کا میں تصور کرتا تھا.

چوتھی مرتبہ ایسا ہوا کہ میرے ایک دوست نے مجھ سے کہا کہ میں کچھ معذور بچوں کے لیے وہیل چیرس خریدنے میں حصہ لوں.
دوست کی بات پر میں نے فوراً وہیل چیرس خرید کر دے دیں. لیکن دوست کا اصرار تھا کہ میں اس کے ساتھ جا کر اپنے ہاتھ سے وہ وہیل چیرس ان بچوں کے حوالے کروں. میں تیار ہو گیا اور اس کے ساتھ گیا. وہاں میں نے ان بچوں کو اپنے ہاتھوں سے وہ کرسیاں دیں. میں نے ان بچوں کے چہروں پر خوشی کی عجیب چمک دیکھی. میں نے دیکھا کہ وہ سب کرسیوں پر بیٹھ ادھر ادھر گھوم رہے ہیں اور جی بھر کے مزہ کر رہے ہیں. ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ کسی پکنک اسپاٹ پر آئے ہوئے ہیں.

لیکن مجھے حقیقی خوشی کا احساس تب ہوا جب میں وہاں سے جانے لگا اور ان بچوں میں سے ایک نے میرے پیر پکڑ لیے. میں نے نرمی کے ساتھ اپنے پیر چھڑانے کی کوشش کی لیکن وہ بچہ میرے چہرے کی طرف بغور دیکھتا ہوا میرے پیروں کو مضبوطی سے پکڑے رہا.

میں نے جھک کر اس بچے سے پوچھا : کیا آپ کو کچھ اور چاہیے؟
اس بچے نے جو جواب مجھے دیا اس نے نہ صرف مجھے حقیقی خوشی سے روشناس کرایا بلکہ میری زندگی کو پوری طرح بدل کر رکھ دیا.اس بچے نے کہا: میں آپ کے چہرے کے نقوش اپنے ذہن میں بٹھانا چاہتا ہوں تاکہ جب جنت میں آپ سے ملوں تو آپ کو پہچان سکوں اور ایک بار اپنے رب کے سامنے بھی آپ کا شکریہ ادا کر سکوں.."😓

( ایک عربی پوسٹ کا اردو ترجمہ )
Hijab writes copy

12/08/2022

Surat No 89 : سورة الفجر - Ayat No 15 -18

مگر انسان ( ایسا ہے ) کہ جب اس کا رب اسے ( راحت و آسائش دے کر ) آزماتا ہے اور اسے عزت سے نوازتا ہے اور اسے نعمتیں بخشتا ہے تو وہ کہتا ہے: میرے رب نے مجھ پر کرم فرمایا

لیکن جب وہ اسے ( تکلیف و مصیبت دے کر ) آزماتا ہے اور اس پر اس کا رزق تنگ کرتا ہے تو وہ کہتا ہے: میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا

یہ بات نہیں بلکہ ( حقیقت یہ ہے کہ عزت اور مال و دولت کے ملنے پر ) تم یتیموں کی قدر و اِکرام نہیں کرتے

اور نہ ہی تم مسکینوں ( یعنی غریبوں اور محتاجوں ) کو کھانا کھلانے کی ( معاشرے میں ) ایک دوسرے کو ترغیب دیتے ہو..
Copy

09/08/2022

اُﺱ ﮐﺎ ﺑﺪﻥ ﻣﺮ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ
ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻻﺭﻧﺲ ﺑﺮﺍﺅﻥ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﮐﯿﺘﮭﻮﻟﮏ ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮬﻮﺍ ﺗﮭﺎﻣﮕﺮ ﺑﻘﻮﻝ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﮦ ﮬﻮﺵ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﺩﻥﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﻣﻠﺤﺪ ﮬﻮ
ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ، ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﻗﺎﺋﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﮐﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﮬﺎﺭﭦ ﺍﺳﭙﯿﺸﻠﺴﭧ ﺗﮭﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﭘﻮﺭﮮ ﺑﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﺱ ﮐﮯﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ، ﻭﮦ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟﻟﯿﮑﭽﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﭘﮭﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﮈﯾﻮﭨﯽ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺍﺳﭙﺘﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﺭﻭﻧﺎﻟﮉ ﺭﯾﮕﻦ ﮐﻮ ﮔﻮﻟﯽ ﻟﮕﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﻮﺭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﮧ ﺷﻔﭧ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺍﺳﭙﺘﺎﻝ ﮐﯽ ﺍﮬﻤﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﺳﮩﻮﻟﯿﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮬﮯ ۔ﻣﮕﺮ ﯾﮩﯽ
ﺍﮬﻢ ﺗﺮﯾﻦ ﺍﺳﭙﺘﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﮩﻮﻟﯿﺎﺕ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﮯ ﺑﺲ ﻭ ﻻﭼﺎﺭ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎﺋﮯ ﮐﮭﮍﯼ ﺗﮭﯿﮟ
ﯾﮧ ﺳﺎﻝ ﺗﮭﺎ 1990 ﺟﺐ ﺍﺱﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﺣﻨﺎ Henna ﭘﯿﺪﺍ
ﮬﻮﺋﯽ ،،ﺑﭽﯽ ﮐﻮ ﻟﯿﺒﺮ ﺭﻭﻡ ﺳﮯ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﺗﮭﯿﭩﺮ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺍﺑﻨﺎﺭﻣﻞ ﭘﯿﺪﺍ ﮬﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺁﺭﭨﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻧﻘﺺ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻥ ﮐﻮ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﻣﻼ ﺧﻮﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻞ ﭘﺎ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺳﺮ ﺳﮯ ﭘﺎﺅﮞ
ﮐﮯ ﺍﻧﮕﻮﭨﮭﮯ ﺗﮏ ” Gun Metal Blue ” ﭘﯿﺪﺍ ﮬﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺑﻘﻮﻝ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﭽﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮬﮯ ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﺪﻥ ﻣﺮ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﺳﮯﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﻣﻼ ﺧﻮﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻞ ﭘﺎ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ
ﻋﻼﺝ ﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭼﯿﺮ ﭘﮭﺎﮌ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺁﺭﭨﺮﯼ ﮐﯽ ﮔﺮﺍﻓﭩﻨﮓ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺳﮯ ﺭﯼ ﭘﻠﯿﺲ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﻣﮕﺮ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﮐﯽ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﺎﺭﻧﭩﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ، ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﮔﺮﺍﻓﭩﻨﮓ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺑﮭﯽ ﮬﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ
ﺳﺎﻝ ﺩﻭ ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﭘﮭﺮ ﮔﺮﺍﻓﭩﻨﮓ ﮐﺮﻧﯽ ﮬﻮ ﮔﯽ ﯾﻮﮞ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﻭ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﻮﺣﺎﻟﺖ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺑﻄﻮﺭ ﺑﺎﭖ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭼﯿﺮ ﭘﮭﺎﮌ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﮩﺎﯾﺖ
ﻻﺋﻖ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﯽ ﺳﺮﺑﺮﺍﮬﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭨﯿﻢ ﺑﻨﺎ ﺩﯼ ﮔﺊ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺎﺯ ﻭ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺍﮐﭩﮭﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﮓ ﮔﺊ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﺗﮭﯿﭩﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻠﺤﻖ ” ﮐﻤﺮﮦ ﺍﺳﺘﻐﺎﺛﮧ ” ﯾﺎ Prayer Hall ” ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ
ﮐﻤﺮﮦ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻣﺬﮬﺐ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﯾﺎ ﻣﻮﻧﻮ ﮔﺮﺍﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﻧﮧ ﮐﻌﺒﮧ ، ﻧﮧ ﮐﻠﯿﺴﺎ ،ﻧﮧ ﻣﺮﯾﻢ ﻭ ﻋﯿﺴﯽ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮﻧﮧ ﯾﮩﻮﺩ ﮐﺎ ﮈﯾﻮﮈ ﺍﺳﭩﺎﺭ ﻧﮧ ﮬﻨﺪﻭ ﮐﺎ ﺗﺮﺷﻮﻝ ﺍﻟﻐﺮﺽ ﻭﮦ ﮬﺮ ﻣﺬﮬﺐ ﮐﮯ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﻤﺮﮦ ﺗﮭﺎ ۔ ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻘﯿﺪﮮ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ
ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﺗﮭﮯ ،ﺟﺐ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﺮﯾﺾ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﺗﮭﯿﺌﭩﺮ ﺳﮯ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﮈﺍﮐﭩﺮﻻﺭﻧﺲ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﯾﮧ ﮐﻤﺮﮦ ﺍﯾﮏ “ Psychological Dose ” ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﭘﺮ ﺑﻦ ﮔﺊ ﺗﮭﯽ ﺑﻘﻮﻝ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻻﺭﻧﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﺟﻮ ﭼﺎﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺳﮯ ﮬﺮ ﻗﯿﻤﺖ ﭘﺮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﭼﺎﮬﮯ ﻭﮦ ﭘﯿﺴﮯﺳﮯ ﻣﻠﮯ ﯾﺎ ﺍﺛﺮ ﻭ ﺭﺳﻮﺥ ﺳﮯ ” ﻧﮧ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ” ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﺮﯼ ﮈﮐﺸﻨﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﮬﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﻣﯿﮟ ﺑﮯﺑﺲ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻧﮧ ﺗﻮ ﺳﺎﺋﻨﺴﯽ ﺁﻻﺕ ﻭ ﻭﺳﺎﺋﻞ ﮐﭽﮫ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭﻧﮧ ﮬﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﭘﯿﺴﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﭽﯽ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﺑﭽﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮬﺎﺗﮫ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﺎﺩﯾﺪﮦ ﮬﺴﺘﯽ ﮐﻮ ﭘﮑﺎﺭﺍ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﺎ ﻣﯿﮟ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻣﻨﮑﺮ ﺗﮭﺎ ۔ﺍﮮ ﺧﺎﻟﻖ ،ﺍﮔﺮ ﺗُﻮ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮬﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺗُﻮﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮬﻮ ﮔﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﺝ ﺗﮏ ﺗﯿﺮﮮ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﺎ ﻣﻨﮑﺮ ﺭﮬﺎ ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﺭ ﭘﮧ ﻟﮯ
ﺁﺋﯽ ﮬﮯ ، ﺍﮔﺮ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺗﯿﺮﺍ ﻭﺟﻮﺩ ﮬﮯ ﺗﻮ ﭘﻠﯿﺰ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺪﺩ ﻓﺮﻣﺎ ، ﺍﺳﺒﺎﺏ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﮬﮯ ﺍﺏ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﭽﯽ ﮐﻮ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﭽﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮬﯽ ﺑﭽﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮬﮯ ، ﻭﮬﯽ ﺍﺱ ﻓﺎﻟﭧ ﮐﻮ ﺩﺭﺳﺖ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮬﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺑﭽﯽ
ﺗﺨﻠﯿﻖ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮬﮯ
ﺍﮮ ﺧﺎﻟﻖ ﻣﯿﮟ ﺻﺪﻕِ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﭽﯽ ﮐﺎ ﻓﺎﻟﭧ ﺩﺭﺳﺖ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﺬﺍﮬﺐ ﮐﻮ ﺍﺳﭩﮉﯼ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﻣﺬﮬﺐ ﮐﻮ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﻮﮞ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﮮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﯿﺮﺍﻏﻼﻡ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺭﮬﻮﮞ ﮔﺎ ﯾﮧﻣﯿﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍ ﻋﮩﺪ ﮬﮯ ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺻﺪﻕ ﻧﯿﺖ ﺳﮯ ﯾﮧ ﭘﯿﻤﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﺗﮭﯿﺌﯿﭩﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ، ﻣﺠﮭﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ 15 ﻣﻨﭧ ﻟﮕﮯ ﮬﻮﻧﮕﮯ ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﻭﮬﺎﮞ
ﮐﯽ ﺑﺪﻟﯽ ﮬﻮﺋﯽ ﻓﻀﺎ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﻭﮬﺎﮞ ﺍﻓﺮﺍﺗﻔﺮﯼ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﻭ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﺗﮭﺎ ، ﭨﯿﻢ ﮐﮯ ﺳﺮﺑﺮﺍﮦ ﻧﮯ ﺳﺮ ﮔﮭﻤﺎ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ ﺑﭽﯽ ﮐﮯ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﮐﯽ ﺍﺏ ﮐﻮﺋﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﻮﻥ ﮐﺎ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺩﺭﺳﺖ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ
ﺩﻭﺭﺍﻥِ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﺳﺖ ﮬﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﻮ ﺳﺎﺋﻨﭩﯿﻔﮏ ﻭﺟﻮﮬﺎﺕ ﻭﮦ ﺑﺘﺎ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﺮﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﭨﯿﻢ ﻣﻤﺒﺮﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﻤﯿﺖ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﯾﺎ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﻥ
ﻭﺟﻮﮬﺎﺕ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻓﯿﺼﺪ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﮬﻤﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺻﺮﻑ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮬﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟﺣﻘﯿﻘﺖ ﻧﺎﻡ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﯾﮕﺮﯾﻤﻨﭧ ﺧﺎﻟﻖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ Endorse ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺭﭨﺮﯼ ﮐﯽ ﺧﺮﺍﺑﯽ ﺍﺳﯽ ﺧﺎﻟﻖ
ﻧﮯ ﺟﮭﭧ ﺳﮯ ﺩﺭﺳﺖ ﮐﺮ ﺩﯼ ﮬﮯ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺳﮕﻨﻞ ﻣﺠﮭﮯﺧﺎﻟﻖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻣﻼ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﻣﺜﺒﺖ ﺗﮭﺎ ﺍﺳﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽﺳﻤﺠﮭﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﺮﺳﭩﯿﻨﺎ ﻧﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮬﻮﻧﮯﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﻣﯿﺮﺍ ﮬﺎﺗﮫ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ
ﭨﺎﻧﮕﻮﮞ ﭘﮧ ﮐﮭﮍﺍ ﮬﻮ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﮬﻮﻧﺎ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﮬﮯ ، ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻧﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻟﻖ ﮐﻮ ﻧﮧ ﭘﮩﭽﺎﻧﺎ ﺗﻮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﮯ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﺧﺎﻟﻖ ﮐﮯ ﺩﺭ ﭘﮧ ﻻ ﮈﺍﻻ
2014 ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﻧﮯ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻠﮧ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﮬﮯ
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻌﺎﮨﺪﮦ ﺑﮍﯼ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﯾﺎﺩ ﺗﮭﺎ ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺬﺍﮬﺐ ﮐﯽ ﮐﺘﺐ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎﺑﺪﮪ ﺍﺯﻡ ، ﮬﻨﺪﻭ ﺍﺯﻡ ،ﻋﯿﺴﺎﺋﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﻮﺩﯾﺖ ﺳﻤﯿﺖ ﺗﻤﺎﻡ ﮐﺘﺐ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺳﮯ ﻣﺰﺍﮐﺮﮮ ﺑﮭﯽ ﮬﻮﺋﮯ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﻮﺍﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ
،،ﺍﺳﻼﻡ ﻣﯿﺮﺍ ﺁﺧﺮﯼ ﺁﭘﺸﻦ ﺗﮭﺎ ،،
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﻭ ﺩﻣﺎﻍ ﮐﮯ ﺩﺭﯾﭽﮯ ﮐﮭُﻠﺘﮯ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ،، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﯿﺴﺎﺋﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﯾﺤﯽ ﻋﻠﯿﮧ
ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺴﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﮦ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﮐﻮﻥ ﮬﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﮔﻮﺍﮬﯽ ﺗﻮﺭﺍﺕ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺠﯿﻞ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ، ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺁﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺷﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ،ﻗﺮﺁﻥ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﮬﺴﺘﯽ ﻣﺤﻤﺪ ﺭﺳﻮﻝ
ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﮐﯽ ﮬﮯ ۔۔۔۔💗💖

04/08/2022

ضرور پڑھئے گا.
سارے رشتے پیدا ھونے کے بعد بنتے ہیں ،، اس زمین پر ایک واحد ایسا رشتہ ھے. 👩‍👦جو ھمارے پیدا ھونے سے نو ماہ پہلے بن جاتا ھے ،،
👩‍👦وہ بس وھی کھاتی ھے جس سے ہمیں نقصان نہ ھو ،،👩‍👦 وہ بڑے سے بڑے درد میں بھی عذاب بھگت لیتی ھے مگر درد مارنے کی دوا نہیں کھاتی کہ کہیں👩‍👦 وہ دوا ھم کو نہ مار دے ،، ھم اس کی پسند کے کھانے چھڑا دیتے ھیں ،،ھم اس پر نیند حرام کر دیتے ھیں ،، 👩‍👦وہ کسی ایک طرف ھو کر چین سے سو نہیں سکتی ،👩‍👦 وہ سوتے میں بھی جاگتی رھتی ھے ، 9 مہینے ایک عذاب سے گزرتی ھے ،گرتی ھے تو پیٹ کے بل نہیں گرتی پہلو کے بل گر کر ھڈی تڑوا لیتی ھے تجھے بچا لیتی ھے ،
🤰اس نے ابھی تیری شکل نہیں دیکھی ،، لوگ شکل دیکھ کر پیار کرتے ھیں 👵وہ غائبانہ پیار کرتی ھے ،، لوگ تصویر مانگ کر سلیکٹ کرتے ھیں ،،، دنیا کا کوئی رشتہ اس خلوص کی مثال پیش نہیں کر سکتا ،، خدا کو اس پر اتنا اعتبار ھے کہ اس کو اپنی محبت کا پیمانہ بنا لیا ،، اور جنتی ھے تو قیامت سے گزر کر جنتی ھے اور ھوش آتا ھے تو پہلا سوال تیری خیریت کا ہی ھوتا ھے ،،،
خدا کے بعد وہ واحد ہستی ھے جو عیب چھپا چھپا کر رکھتی ھے ، تیری حمایت میں وہ عذر تراشتی ھے کہ تیرے باپ کو مطمئن اور تجھے حیران کر دیتی ھے ،، باپ کھانا بند کرے تو وہ اپنے حصے کا کھلا دیتی ھے ، باپ گھر سے نکال دے تو وہ دروازہ چوری سے کھول دیتی ھے،،
خدا کے سوا کوئی تیرا اتنا خیال نہیں رکھتا جتنا ماں رکھتی ھے ،،، خدا نے بھی جنت اٹھا کر اس ماں کے قدموں میں رکھ دی ،،
اللہ پاک سب کے ماؤں کو لمبی زندگی دے اور جن کے مائیں فوت ہو گئیں ہیں انہیں اللہ پاک جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔
آمین ثم آمین

25/07/2022

عثمان رضی اللہ عنہ سفر تجارت سے واپس آئے۔مدینہ پہنچے۔
کیا دیکھتے ہیں کہ مدینہ میں ہر جگہ اداسی چھائی ہے۔مدینہ کی رونق بجھی بجھی سی ہے۔
ایک شخص کو روک کے پوچھا کہ کیا بات ہے۔اہل شہر کیوں اداس اداس ہیں ۔سب کے چہرے کیوں مرجھائے ہوے ہیں۔
اس شخص نے جواب دیا کہ اہل مدینہ پہ پانی بند کر دیا گیا ہے۔اس یہودی نے مسلمانوں پہ پانی بند کر دیا ہے جس کے کنویں سے پانی کی ضرورت پوری ہوتی تھی۔
عثمان ؓ کے ذہن میں فوراً اپنے آقا کا خیال آیا۔فوراً پوچھا وہ کس حال میں ہے۔بتانے والے نے بتایا کہ آقاصل اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی پیاس کی شدت سے نڈھال ہیں۔پچھلے کافی دنوں سے ایک گھونٹ پانی کی نصیب نہ ہوئی۔
یہ سنتے ہی عثمان ؓ نے دھوڑ لگا دی۔دیکھنے والے دیکھ رہے ہیں کہ عثمان جیسا عاجز بندہ جس کے قدم قدم سے عاجزی ٹپکتی تھی آج تیز قدموں سے کہاں جا رہا ہے۔بتانے والا بھی سوچ میں پڑ گیا کہ آقا تو مسجد نبوی میں تشریف فرما ہیں لیکن عثمان کس سمت چل پڑا ہے۔
لیکن عثمان ؓ جانتا تھا کہ مال تجارت کا اصل نفع کہاں ملے گا۔
حضرت عثمان ؓ اس یہودی کے پاس پہنچے۔ہاں کنواں بیچے گا؟
کہنے لگا نہیں
عثمان ؓ نے کہا منہ مانگی قیمت دوں گا مجھے دے دے۔
کہنے لگا آدھا بیچوں گا۔ایک دن تمھارا ایک میرا۔
عثمان ؓ تو ایک پیالہ پانی کے لیے اپنی ساری دولت لٹا دیتے کہنے لگے مجھے منظور ہے۔تم قیمت بتاو۔
چنانچہ اس کی مطلوبہ رقم اس کے سامنے پھینکی اور اسے کہا کہ تو یہ گن مجھے ایک پیالہ پانی بھرنے دے۔
عثمان رضی اللہ عنہ نے پیالے میں پانی بھرا اور مسجد نبوی کی طرف چل پڑے۔
جیسے مسجد میں داخل ہوے دیکھا آقا ﷺ سر جھکائے کسی سوچ میں بیٹھے ہیں۔ایسے لگتا تھا کہ آقا بھی اپنے اسی غلام کی واپسی کا انتظار کر رہے ہو۔جیسے ہی عثمان رضی اللہ عنہ پہ نظر پڑی۔آقا صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چہرے پہ مسکراہٹ پھیل گئی۔عثمان ابن عفان آقا علیہ السلام کے پاس دو زانو ہو کے بیٹھ گئے۔آقا پانی لایا ہوں۔
لیکن عثمان ؓ کہاں سے لائے پانی تو بند ہے۔میں پانی پی لوں باقی مسلمان پیاسے رہیں ۔یہ کیسے ہو سکتا ہے۔آقا میں سب کے لیے پانی کا بندوبست کر چکا ہوں ۔بس آپ یہ پانی پی لیجیے۔
عالم تصور میں سوچیے کہ آقا نے ہاتھ آگے بڑھایا ہو گا پیالہ پکڑنے کے لیے لیکن عثمان ؓ نے پیالہ پیچھے کر لیا ہو گا کہ نہیں آقا پانی میں اپنے ہاتھوں سے پلاؤں گا۔
ہائے۔ایسا ہی ایک منظر میدان محشر میں ہو گا۔آقا

25/07/2022

آج مجھے جیل میں آئے دو سال مکمل ہو چکے تھے۔ دسمبر 1951 کی ایک شام تھی جب میں منشیات اسمگل کرتے پکڑا گیا تھا۔ دس سال کی قید سن کر بھی میں گھبرایا نہیں۔ مجھے امید تھی کہ میرا گروہ مجھے یہاں سے چھڑوا لے گا، لیکن آج دو سال ہو چکے ہیں مجھے چھڑوانے کوئی نہیں آیا۔ اب میں اکثر تنہائی میں روتا ہوں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں۔ نہ جانے کیوں اب اس کال کوٹھری سے میرا دل گھبرانے سا لگا ہے۔ اب تو جیل سپریڈنٹ کو بھی مجھ پر ترس آنے لگا ہے۔ وہ بھی اکثر مجھ سے حال احوال پوچھنے آجاتا ہے ...

1953 کا ہی ایک روشن دن تھا جب جیل میں ایک نیا قیدی آیا۔ وہ باقی سب سے بہت مختلف تھا۔ اس کا دراز قد، روشن چہرہ اور سر پر عمامہ اس کی شخصیت کو متاثر کن بنانے کیلئے کافی تھا۔ اس کے چہرہ کا اطمینان دیکھ کر مجھے بہت حیرت ہوا کرتی تھی۔جیلر نے بتایا کہ :


لیکن میرا دل قطعی ماننے کو تیار نہ تھا کہ ایسا شخص باغی بھی ہو سکتا ہے۔ اسے میرے ساتھ والی بند کوٹھری میں رکھا گیا تھا۔ اس کے اور میرے کمرے کے درمیان ایک چھوٹا سا روشن دان تھا جس سے میرے لئے اس پر نظر رکھنا مشکل نہ تھا۔ میں اکثر اس کے معمولات دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتا۔ پانچ وقت نماز پڑھنے کے علاوہ ہر وقت وہ درود شریف کا ورد کر رہا ہوتا۔ دو دن ایسے ہی گزر گئے، تیسرے دن شور کی آواز سن کر میری آنکھ کھل گئی اور سامنے کا منظر دیکھ کر میری چیخ نکل گئی۔ پانچ چھ افراد جو شکل سے کسی محکمے کے افسران لگتے تھے وہ اس شخص پر لاٹھیوں کی برسات کر رہے تھے اور وہ ہر لاٹھی پر الحمدللہ کہ اٹھتا۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ ایک افسر کے اشارے پر وہاں سانپ لائے گئے اور اس کے برہنہ جسم پر سانپوں کو چھوڑ دیا گیا۔ وہ سانپ اس قدر زہریلے تو نہ تھے کہ اس کی جان لیتے تاہم وہ اس کا جسم نوچ رہے تھے۔ افسر نے چلا کر کہا :
...

قیدی نے غضبناک آنکھوں سے افسر کو دیکھا اور چلا کر کہا :
...

میرے ذہن میں کئی سوالات اٹھ رہے تھے کہ یہ شخص کون ہے، یہ افسر اسے کس جرم میں مار رہے ہیں اور یہ اب تک ڈٹ کر کیوں اور کیسے کھڑا ہے ...؟

ان کے جانے کے بعد مجھ سے رہا نہ گیا میں نے صدا لگائی
" اے اللہ کے نیک بندے! تو کون ہے اور یہاں کیوں آیا ہے اور یہ لوگ تجھے کیوں مار رہے ہیں ...؟ "

اس شخص کے چہرے پر ایک مسکراہٹ پھیل گئی اور وہ بولا :
" قادیانی رسول اللہ کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتے۔ تمام مسلمان یہ مطالبہ کر رہے کہ ان کو کافر قرار دیا جائے۔ ملک میں تحریک ختم نبوت کی ابتداء ہو چکی ہے اور ان شاءاللہ تعالٰی ہم تب تک امن سے نہ بیٹھیں گے، جب تک قادیانی آئینی طور پر کافر قرار نہیں دیئے جاتے ... "

میرے تن بدن میں آگ سی لگ چکی تھی۔ میں گناہگار ضرور تھا، لیکن سرور کائنات حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم سے انتہا کی عقیدت رکھتا تھا۔ اب مجھے رہ رہ کر خود پر غصہ آنے لگا کہ میں منشیات کے برے کام میں کیوں پڑا ورنہ آج میں بھی ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا۔ میں نے اس شخص سے اس کا نام دریافت کیا
تو اس شخص نے مختصر سا جواب دیا :
" "

یہ نام سن کر میرے جسم پر سکتہ طاری ہو گیا، میں کچھ اور کہنے کی جسارت نہ کر سکا، میری آنکھیں نم ہو چکی تھیں، میں زور سے چیخنا چاہتا تھا لیکن آواز میرے حلق میں ہی اٹک گئی تھی۔ میں اس شخص کو جانتا تھا، میں نے اپنے بچپن میں ہر ایک کی زبان پر اس کا نام دیکھا تھا۔ یہ وہی تھا جس نے قائداعظم کو پنجاب کے کئی اضلاع سونپے تھے۔ یہ وہی تھا جسے قائد اعظم بھی کہا کرتے تھے کہ :
...

یہ وہی تھا، جس کا شمار مسلم لیگ کے قائدین میں ہوتا تھا اور آج یہ میرے سامنے ایک تاریک کوٹھری میں موجود تھا۔ اللہ رسول کی محبت اسے کہاں لے آئی تھی اور پھر بےاختیار میری زبان سے اس کیلئے دعائیں نکلنے لگیں۔ اگلے دن وہ ایمان فراموش افسر پھر آٹپکے اور اب کی بار میں چلا اٹھا :
"او ظالمووو! تمہیں شرم نہیں آتی تم کسے مار رہے ہو، کیا تمہیں نارِ جہنم نہیں ڈراتی ...؟ "

لیکن ان سنگدلوں پر اثر نہ ہوا اور مولانا کو آج گھنٹوں برف کے بلاکوں پر لٹایا گیا اور جب مولانا بےہوش ہو گئے تو انہیں چھوڑ کر چلے گئے۔ میں رو رو کر مولانا کو آواز لگا رہا تھا۔ جب تشدد بڑھنے لگا تو مولانا پر کھانا پانی بھی بند کر دیا گیا لیکن مولانا کو نہ پیچھے ہٹنا تھا نہ وہ ہٹے۔ وقت تیزی سے گزر گیا۔ چند سال بعد مولانا رہا ہو چکے تھے لیکن یہ بات میں ہی جانتا تھا کہ کونسا ایسا ظلم ہے جو ان کے جسم پر نہ ڈھایا گیا۔ مجھے اب مولانا کی یاد بےقرار رکھتی تھی۔ میں بھی ختم نبوت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ کی عظیم المرتبت تحریک میں شامل ہونا چاہتا تھا۔ آج 5 جنوری 1961 ہے، کل صبح مجھے رہا کر دیا جائے گا اور میں ابھی سے تصورات کی دنیا میں خود کو مولانا کے شانہ بشانہ تاجدار ختم نبوت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کی صدا بلند کرتے دیکھ رہا ہوں۔ اللہ کی ان پہ کروڑوں رحمتیں ہوں اور انکے صدقے ہماری مغفرت ہو آمین ثمہ آمیـــــــــــــــــن یارب العالمین ... ( ِ_مُکرر )

( عزیز قارئین کرام! اگر ممکن ہو تو ہر پیج پر اور ہر ہر گروپ میں شئیر کریں زیادہ سے زیادہ، ایک نیک و خاص مقصد کی نیت سے!)

30/05/2022

وہ شخص جس نے مسجدالحرام اور مسجد نبوی شریف کا ڈیزائن کیا

وہ ایک مصری انجینئر اور آرکیٹیکٹ تھا جس نے ظاہری دنیاوی بودوباش سے دور اور نامعلوم رہنے کو ترجیح دی
ڈاکٹر محمد کمال اسماعیل 1908-2008
وہ مصر کی تاریخ کا سب سے کم عمر شخص تھا جس نے ہائی سکول سرٹیفکیٹ حاصل کیا پھر رائل سکول آف انجینئرنگ کا سب سے کم عمر طالب علم جس نے وہاں سے گریجویٹ ڈگری لی پھر سب سے کم عمر جس کو یورپ سے اسلامک آرکیٹیکچر میں ڈاکٹریٹ کی تین ڈگریاں لینے کے لئے بھیجا گیا-اس کے علاوہ وہ سب سے کم عمر نوجوان تھا جس نے بادشاہ سے ،، نائل،، سکارف اور،، آئرن،، کا خطاب حاصل کیا
وہ پہلا انجینئر تھا جس نے حرمین شریفین کے توسیعی منصوبے کی تعمیر اور عمل درآمد کے لئے اختیارات سنبھالے
اس نے شاہ فہد اور بن لادن کمپنی کے باربار اصرار کے باوجود انجینیرنگ ڈیزائن اور آرکیٹچرل نگرانی کیلئے کسی قسم کا معاوضہ لینے سے انکار کردیا اور کہا کہ میں دو مقدس مساجد کے کاموں کیلئے کیوں معاوضہ لوں اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا کیسے سامنا کروں گا۔
اس نے 44 سال کی عمر میں شادی کی اور اس کی بیوی نے بیٹا جنم دیا اور زچگی کے بعد فوت ہو گئی اس کے بعد وہ مرتے دم تک عبادت الٰہی میں مصروف رہا اس کی عمر 100 سال سے زیادہ تھی اور دنیا اور میڈیا کی چکا چوند سے ہٹ کر گمنام رہ کر حرمین شریفین کی خدمت کی۔
اس عظیم آدمی کی حرمین شریفین میں نصب کئے گئے سفید پتھر کے حصول کی بھی بڑی دلچسپ کہانی ہے یہ وہ پتھر ہے جو حرم مکی میں مطاف چھت اور باہر صحن میں لگا ہے اس کی خصوصیت یہ ہے کہ گرمی کو جذب کرکے فرش کی سطح کو ٹھنڈا رکھتا ہے یہ پتھر ایک ملک گریس میں ایک چھوٹے سے پہاڑ میں دستیاب تھا. وہ سفر کرکے گریس گئے اور حرم کیلئے کافی مقدار میں تقریباً آدھا پہاڑ خریدنے کا معائدہ کیا
معائدہ پر دستخط کرکے وہ واپس مکہ لوٹے اور سفید پتھر سٹاک میں آگیا اور مکہ حرم میں پتھر کی تنصیب مکمل کرائی۔
پندرہ 15 سال بعد سعودی حکومت نے ایسا ہی پتھر مسجد نبوی میں بھی نصب کرنے کو کہا۔
انجینئر محمد کمال کو جب بادشاہ نے مسجد نبوی میں ویسا ہی ماربل لگانے کو کہا تو وہ بہت پریشان ہوا کیونکہ کرہ ارض پر واحد جگہ گریس ہی تھی جہاں یہ پتھر دستیاب تھا جو کہ آدھا پہاڑ تو وہ پہلے ہی خرید چکے تھے
انجینئر محمد کمال بتاتے ہیں کہ وہ گریس میں اسی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے پاس گئے اسے ملے اور ماربل کی بقایا مقدار جو بچ گئی تھی اس کے بارے میں پوچھا تو چیف ایگزیکٹو نے بتایا وہ ماربل تو ہم نے آپ کے جانے کے بعد بیچ دیا تھا اب تو 15 سال ہو گئے ہیں کمال بہت افسردہ ہوا اور میٹنگ جھوڑ کر جانے لگا تو آفس سیکرٹری سے ملا اور گزارش کی کہ مجھے اس شخص کا اتہ پتہ بتاؤ جس نے بقیہ تمام ماربل کی مقدار خریدی تو اس نے کہا پرانا ریکارڈ تلاش کرنا بہت مشکل ہے لیکن آپ مجھے اپنا فون نمبر دے جائیں میں تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہوں اس نے اپنا نمبر اور ہوٹل کا پتہ دیا اور اگلے دن آنے کا وعدہ کرکے چلے گئے۔
دفتر چھوڑنے سے پہلے کمال نے سوچا کہ مجھے کیا ضرورت ہے کہ کس نے خریدا اللہ خود ہی کوئی بندوبست کردے گا اگلے دن ایرپورٹ جانے سے چند گھنٹے قبل اسے فون کال آئی کہ مجھے ماربل کے خریدار کا ایڈریس مل گیا ہے اب میں (کمال) بہت آہستہ رفتار سے دفتر گیا کہ اب کیا کروں گا خریدار کے ایڈریس کو کیونکہ اتنا لمبا عرصہ گزر گیا ہے
کمال دفتر پہنچا تو سیکرٹری نے کمپنی کا پتہ دیا جس نے ماربل خریدا تھا جب کمال نے پتہ دیکھا تو کچھ دیر کیلئے اس کا دل دھڑکنا بھول گیا پھر زور کا سانس لیا کیونکہ وہ کمپنی جس نے ماربل خریدا تھا وہ سعودی تھی۔
کمال نے سعودیہ کی فلائیٹ پکڑی اور اسی دن وہ سعودی عرب پہنچا اور سیدھا اس کمپنی کے رفتر پہنچا اور ڈائریکٹر ایڈمن کو ملا اور پوچھا کہ آپ نے اس ماربل کا کیا کیا جو گریس سے خریدا تھا تو اس نے کہا مجھے یاد نہیں پھر اس نے سٹاک روم سے رابطہ کیا اور ان سے پوچھا کہ وہ سفید ماربل جو گریس سے منگوایا تھا کدھر ہےتو انہوں نے کہا وہ ساری مقدار موجود ہے اور اس کو کبھی استعمال نہیں کیا گیا تو کمال ایک بچے کی طرح رونے لگا اور کمپنی کے مالک کو پوری کہانی سنائی. اس نے کمپنی کے مالک کو بلینک چیک دیا اور کہا اس میں جتنی رقم بھرنی ہے بھر لو اور ماربل کی تمام مقدار میرے حوالے کردو جب کمپنی کے مالک کو پتہ چلا کہ یہ تمام ماربل مسجد نبوی میں استعمال ہونا ہے تو اس نے کہا میں ایک ریال بھی نہیں لوں گا اللہ نے یہ ماربل مجھ سے خرید کرایا اور پھر میں بھول گیا اس کا مطلب یہی تھا کہ یہ ماربل مسجد نبوی الشريف میں استعمال ہونا ہے۔
اللہ تعالیٰ انجینئر محمد کمال کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین...
منقول

29/05/2022

👈 *مدینے کی گلیوں سے محبت ؟؟*

* #ایک بار ضرور پڑھیں*

مولانا ظفر احمد عثمانی ایسے دور میں ہندوستان سے حج کرنے کے لئے حجاز مقدس گئے تھے، جب لوگ بحری جہازوں میں سفر کر کے حج کا فریضہ ادا کرنے جاتے تھے۔
واپسی پر انہوں نے یہ واقعہ قلمبند کیا ہے ۔

فرماتے ہیں کہ میں ساری عمر کسی محفل میں (ایسا) لاجواب نہیں ہوا، سوائے ایک موقع پر جب ہم حج کرنے (کے دوران) مدینہ طیبہ گئے تو اس وقت مسجد نبویۖ سے ملحقہ اپنا خیمہ لگایا اور وہاں رہائش رکھی اور ادھر سے ہی مسجد نبویۖ میں آ جاتے، چونکہ شدید گرمیوں کا موسم تھا۔ جب ہم تمام حاجی اکٹھے ہو کر شام کا کھانا کھاتے تو اس وقت وہاں سے گرم موسم کی وجہ سے تربوز خرید لیتے اور کھانے کے بعد اسے کھاتے اور اس کے چھلکے باہر پھینک دیتے۔اس دوران ہم نے کیا دیکھا کہ ایک سات آٹھ سالہ بچہ آتا اور چھلکوں کے ڈھیر میں سے چھلکے اٹھاتا، جو ہلکی سرخی مائل گری رہ جاتی، اسے کرید کرید کر کھا لیتا۔

جب یہ معمول دو روز تک دیکھا تو میں نے پیار سے اس بچے سے پوچھ لیا کہ بیٹے تم ایسا کیوں کرتے ہو ؟ تو بچے نے کہا میں ایک یتیم بچہ ہوں، میرے والد فوت ہو چکے ہیں۔ میری والدہ نے عقدثانی کر لیا ہے۔ گھر میں غربت اور فاقے ہیں، میں مدینے کا بچہ ہوں اور میزبان ہونے کی حیثیت سے مہمانوں سے مانگتے شرم آتی ہے۔ لہذا میں اس بچی کھچی گری سے پیٹ بھر لیتا ہوں ۔ مولانا لکھتے ہیں کہ مدینے کے بچے کی اس فہم و فراست نے ہمارے رونگٹے کھڑے کر دئیے۔ آنکھیں آنسووں سے بھیگ گئیں۔ بچے سے کہا کہ بیٹا اگر آپ مناسب سمجھو تو آپ ہمارے ساتھ آ کر کھانا کھا لیا کرو ۔ بچہ انکاری تھا، مگر ہمارے پیار بھرے بھر پور اصرار پر ہاں کر دی۔ مدینے کا یہ بچہ روز آ جاتا، ہمارے ساتھ کھانا کھاتا۔ آہستہ آہستہ شناسائی بڑھتی گئی۔ بچے سے انس ومحبت پروان چڑھا تو میں نے بچے کو پیشکش کر دی کہ بیٹا آپ میرے ساتھ ہندوستان آ جاؤ ۔ میں وہاں آپ کو درس میں رکھ کر پڑھاؤں گا ۔کالج اور یونیورسٹی کی سطح تک آپ کی تعلیم کا بندوبست کروں گا، تو بچے نے کہا کہ میں اپنی والدہ سے بات کر کے آپ کو آگاہ کروں گا۔ جب ہماری واپسی کا وقت آ گیا تو وہ بچہ اپنی والد ہ سے اجازت لے کر سامان سفر باندھ کر آ گیا۔ ہمیں بڑی خوشی ہوئی۔ بچے کو ساتھ لیا، بچہ قافلے کے ہمراہ چل رہا تھا تو دوران سفر میرے ساتھ محو گفتگو تھا۔

سوال کر رہا تھا کہ چاچاجی وہاں ہندوستان میں سکول اچھے ہیں؟ میں نے کہا کہ بیٹا بہت اچھے ہیں۔ وہاں مجھے اچھے کپڑے پہننے کو ملیں گے؟ میں نے کہا کہ ہاں بیٹا۔ اس نے پوچھا کہ مجھے وہاں فٹ بال کھیلنے کے گراؤنڈ میسر آئیں گے؟ جی ہاں بیٹا ہندوستان میں فٹ بال کھیلا جاتا ہے۔بچے نے کہا کہ مجھے وہاں طرح طرح کے معیاری کھانے اور اچھی رہائش ملے گی؟ میں نے کہا کہ کیوں نہیں بیٹا یہ سب سہولتیں آپ کو ملیں گی ۔اس دوران چلتے چلتے سامنے گنبد خضریٰ نظر آ گیا بچے کی نظر پڑی تو سوال کر دیا کہ چاچا جی یہ سامنے والا گنبد بھی وہاں ملے گا؟ میرے پاؤں سے زمین نکل گئی۔ بچے کے اس سوال نے مجھے لاجواب کر دیا اور میں نے تڑپ کر کہا کہ بیٹا اگر یہ گنبد وہاں مل جاتا تو مجھے یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی؟

بچے نے میرا جواب سنا تو اپنا ہاتھ چھڑایا اور کہا:
"چاچا جی مفلسی، بےبسی اور یتیمی قبول ہے۔ مگر سرکارِ مدینہ کا دامن چھوڑ نا کسی صورت گوارا نہیں۔ میں مدینے کو نہیں چھوڑ سکتا۔"
علامہ صاحب لکھتے ہیں کہ بچہ ہمیں روتے ہوئے دم بخود چھوڑ کر بھاگا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ علامہ صاحب باقی مانندہ زندگی، یہ واقعہ لوگوں کو سنا سنا کر روتے رہے۔ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم💞💕💞

اللہ ہمیں دین مصطفٰی کو تخت پر لانے والوں کے ساتھ کهڑا ہونے کی توفیق عطا فرمائے

19/05/2022

Mashaallah

Want your school to be the top-listed School/college in Mardan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Kpk Mardan
Mardan
23200