13/07/2026
🌻 *اپنے اہل وعیال پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے!*
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: آدمی کا اپنے اہل وعیال پر خرچ کرنا صدقہ ہے۔
1965- عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «نَفَقَةُ الرَّجُلِ عَلَى أَهْلِهِ صَدَقَةٌ».
(سنن الترمذي: أبواب البر والصلة، باب ما جاء في النفقة على الأهل، رقم الحديث: 1965)
حدیث کا حکم: قال الإمام الترمذي: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
⬅️ *فائدہ:* آدمی کا اپنے اہل وعیال اور گھر والوں پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے، تاہم دیگر احادیث میں یہ قید بھی ہے کہ وہ آدمی اس میں ثواب کی نیت بھی ہے جیسے کہ صحیح البخاری کی حدیث میں بھی ہے۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے اہل وعیال پر حلال مال خرچ کرتے ہوئے ثواب اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی نیت بھی کرلیا کرے تاکہ عظیم الشان اجر وثواب حاصل ہوسکے۔
☀️ السراج المنير شرح الجامع الصغير في حديث البشير النذير:
(نفقة الرجل على أهله) من زوجة وخادم وولد يريد بها وجه الله (صدقة) أي يؤجر عليها كما يؤجر على الصدقة بشرط الاحتساب كما تقدم (خ ت) عن أبي مسعود عقبة بن عمر البدري