Quran wa Sunnah Online Academy
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Quran wa Sunnah Online Academy, Education, bakhashali, Mardan.
We are providing Online Quran o Sunnah Tutoring Service that enables you/your Kids to learn The Holy Quran and Sunnah
Masnoon duayain+Namaz wo Razo kai ahkam bhi sekaye jayengai
سورۃ العادیات (100)
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا
قسم ہے ان دوڑنے والے گھوڑوں کی جو ہانپتے ہیں۔
🕊️ تشریح:
یہ وہ گھوڑے ہیں جو ایمان والوں کے ساتھ جہاد میں دوڑتے ہیں، خطرے میں بھی پیچھے نہیں ہٹتے۔
ان کی وفاداری مثال ہے، مگر انسان اپنے رب کے لیے وفادار نہیں بنتا۔
إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ
بے شک انسان اپنے رب کا بہت ناشکرا ہے۔
💭 تشریح:
اللہ نے بے شمار نعمتیں دیں — جان، مال، عزت، رزق — مگر انسان شکر ادا کرنے کے بجائے بھول جاتا ہے۔
یہی ناشکری اس کی تباہی کی جڑ ہے۔
وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ
اور وہ مال کی محبت میں حد سے بڑھا ہوا ہے۔
💰 تشریح:
انسان کی محبت مال، دنیا، شہرت اور لذتوں کے گرد گھومتی ہے۔
وہ بھول جاتا ہے کہ یہ سب عارضی ہے۔
اصل دولت آخرت میں ہے۔
أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ
کیا وہ نہیں جانتا کہ جب قبروں سے لوگ نکالے جائیں گے؟
⚖️ تشریح:
اس دن کوئی راز چھپے گا نہیں۔
جو دلوں میں تھا، وہ سب ظاہر ہو جائے گا۔
اللہ سب کچھ جانتا ہے۔
🌺 سبق:
شکرگزار بنو، کیونکہ ناشکری ایمان کی دشمن ہے۔
مال سے محبت کم کرو، نیکیوں سے محبت بڑھاؤ۔
وفادار بنو جیسے گھوڑے اپنے مالک کے وفادار ہیں۔
قیامت کو یاد رکھو، کیونکہ انجام ہمیشہ وہاں طے ہوتا ہے۔
👈 سات مرتبہ درودشریف ابراھیمی ۔
👈 اکتالیس مرتبہ سورہ الفاتحہ ۔
👈 ایک مرتبہ ۔چاروں قل
👈 ایک مرتبہ ،Surat No 23 : سورة المؤمنون - Ayat No 115 -118
اَفَحَسِبۡتُمۡ اَنَّمَا خَلَقۡنٰکُمۡ عَبَثًا وَّ اَنَّکُمۡ اِلَیۡنَا لَا تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۱۱۵﴾
فَتَعٰلَی اللّٰہُ الۡمَلِکُ الۡحَقُّ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡکَرِیۡمِ ﴿۱۱۶﴾
وَ مَنۡ یَّدۡعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ ۙ لَا بُرۡہَانَ لَہٗ بِہٖ ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۱۱۷﴾
وَ قُلۡ رَّبِّ اغۡفِرۡ وَ ارۡحَمۡ وَ اَنۡتَ خَیۡرُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿٪۱۱۸﴾
توپھر کیاتم نے یہ گمان کیاکہ بلاشبہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیاہے اور بلاشبہ تمہیں ہماری طرف واپس نہیں لوٹایاجائے گا؟
تو اللہ تعالیٰ بے حدبلندہے جوبادشاہِ حقیقی ہے،اس کے سوا کوئی معبود نہیں،عزت والے عرش کا رب ہے۔
اورجو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبودکوپکارتاہے جس کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں توبلاشبہ اس کاحساب اس کے رب ہی کے پاس ہے،یقیناکافر کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔
اورآپ دُعا کریں کہ اے میرے رب ! بخش دے اوررحم فرما اورتُو رحم کرنے والوں میں سب سے اچھارحم فرمانے والا ہے۔
👈 سات مرتبہ درودشریف ابراھیمی
👈 پھر مندرجہ ذیل دعا پڑھیں
اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ تَسْمَعُ کَلاَمِیْ وَتَرٰی مَکَانِیْ وَتَعْلَمُ سِرِّیْ وَعَلاَنِیَِتِیْ وَلاَیَخْفٰی عَلَیْکَ شَیْئٌ مِنْ اَمْرِیْ وَاَنَا الْبَائِسُ الْفَقِیْرُ الْمُسْتَغِیْثُ الْمُسْتَجِیْرُ الْوَجِلُ الْمُشْفِقُ الْمُقِرُّ الْمُعْتَرِفُ بِذَنْبِیْ اَسَأَلُکَ مَسْئَلَۃَ الْمِسْکِیْنِ وَابْتَھِلُ اِلَیْکَ اِبْتِھَالَ الْمُذْنِبِ الذَّلِیْلِ وَاَدْعُوْکَ دُعَائَ الْخَائِفِ الضَّرِیْر وَدُعَائَ مَنْ خَضَعَتْ لَکَ رَقْبَتُہٗ وَفَاضَتْ لَکَ عَبْرَتُہٗ وَذَلَّ لَکَ جِسْمُہٗ وَرَغِمَ لَکَ اَنْفُہٗ اَللّٰھُمَّ لاَ تَجْعَلَنِیْ بِدُعَائِکَ شَقِیًّا وَّکُنْ لِّیْ رَئُوْفَا رَّحِیْمًا یَا خَیْرَ الْمَسْئُوْلِیْنَ وَیَا خَیْرَ الْمُعْطِیْنَ
اے میرے اللہ! تو میری بات سنتا ہے اور میں جس جگہ اور جس حال میں ہوں وہ تیری نظر میں ہے اور میرا ظاہر وباطن سب تیرے علم میں ہے اور میری کوئی چیز بھی تجھ سے پوشیدہ نہیں ہے اور میں سختیوں اور دکھوں کا مارا ہوا ہوں تیرے درکا فقیر ہوں ‘ تیرے ہی پاس فریاد لے کر آیا ہوں اور تجھ ہی سے پناہ کا طالب ہوں‘ تیرا ڈر اور خوف مجھ پر چھایا ہوا ہے‘ میں اپنے گناہوں کا اقراری ہوں میں تجھ سے بے کس اور بے وسیلہ مسکین کی طرح سوال کرتا ہوں اور ایک ذلیل گنہگار بندہ کی طرح تیرے حضور میں گڑگڑاتا ہوں‘ اور خوف زدہ اور دکھ درد میں مبتلا کسی بندہ کی طرح تجھ سے دعا کرتا ہوں۔ اس بندہ کی دعا کی طرح جس کی گردن تیرے سامنے خم ہو اور جس کے آنسو تیرے حضور میں بہہ رہے ہوں اور جس کا جسم جھکا ہو اور جو تیرے سامنے اپنی ناک رگڑ رہا ہو‘ اور زمین پر سررکھے پڑا ہو‘ اے میرے اللہ! میری دعا کو رد کر کے مجھے شقی نہ بنا اور مجھ پر مہربانی اور رحم فرما اے سب سے اچھے سب سے بڑے داتا‘ اے خیر المسئولین۔
👈یہ سب پڑھ کر پھر جو مانگو گے ۔وہ رب العزت عطاء فرمائے گا
باذن اللہ تعالیٰ
30/06/2022
Quran wa Sunnah Online Academy will provide Online Quran Classes from basics education of Deen Islam (Aqida Tawheed)
🌷Noorani Qaida
🌷Kalma,Dua
🌷Namaz,
🌷Nazira Quran with Tajweed/Translation
🌷Hadith/story of Messenger(Aambiya AS)
for Female, Kids and adults
Certified and highly experienced trained teachers
(Male and Female) (Hafiz/Qaria)
30 Minutes class (one by one) Zoom/Skype WhatsApp/IMO
5 Days class in week (Weekly and special classes available)
🌷Zakat Fitar Hajj Sunnat/Sharyat etc frequently Ask Question
🌷 Estakhara Wazaif and Dua (M***i, Aalim e Deen)
+(Online Branche)
**Will Provide after completing course**
27/06/2022
جن چیزوں سے رسول اللّٰه ﷺ نے اللہ کی پناہ مانگی، وہ مندرجہ ذیل ہیں :
1). قرض سے۔ (بخاری: 6368)
2). برے دوست سے۔ (طبرانی کبیر: 810)
3.) بے بسی سے۔ (مسلم: 2722)
4.)جہنم کے عذاب سے۔ (بخاری: 6368)
5.)قبر کے عذاب سے۔ (ترمذی: 3503)
6.) برے خاتمے سے۔ (بخاری: 6616)
7.) بزدلی سے۔ (مسلم: 2722)
8.) کنجوسی سے۔ (مسلم: 2722)
9. )غم سے۔ ( ترمذی: 3503)
10.) مالداری کے شر سے۔( مسلم: 2697)
11.) #فقر کے شر سے۔ (مسلم: 2697)
12. ) #ذیادہ بڑھاپے سے۔ بخاری: 6368]
13. ) #جہنم کی آزمائش سے۔ بخاری: 6368]
14.) # قبر کی آزمائش سے۔ بخاری: 6368]
15.)$ شیطان مردود سے۔ بخاری: 6115]
16. محتاجی کی آزمائش سے۔ بخاری: 6368]
17. دجال کے فتنے سے۔ بخاری: 6368]
18. زندگی اور موت کے فتنے سے۔ بخاری: 6367]
19. نعمت کے زائل ہونے سے۔ مسلم: 2739]
20. الله کی ناراضگی کے تمام کاموں سے۔ [مسلم: 2739]
21. عافیت کے پلٹ جانے سے۔ مسلم: 2739]
22. ظلم کرنے اور ظلم ہونے پر۔ نسائی: 5460]
23. ذلت سے۔ نسائی: 5460]
24. اس علم سے جو فائدہ نہ دے۔ ابن ماجہ: 3837]
25. اس دعا سے جو سنی نہ جائے۔ ابن ماجہ: 3837]
26. اس دل سے جو ڈرے نہیں۔ (ابن ماجہ: 3837]
27. اس نفس سے جو سیر نہ ہو۔ (ابن ماجہ: 3837]
28. برے اخلاق سے۔ [ حاکم: 1949]
29. برے اعمال سے۔ [حاکم: 1949]
30. بری خواہشات سے۔ [حاکم: 1949]
31. بری بیماریوں سے۔ [حاکم: 1949]
32. آزمائش کی مشقت سے۔ [بخاری: 6616]
33. سماعت کے شر سے۔ [ابو داﺅد: 1551]
34. بصارت کے شر سے۔ [ابو داﺅد: 1551]
35. زبان کے شر سے۔ [ابو داﺅد: 1551]
36. دل کے شر سے۔ [ابو داﺅد: 1551]
37. بری خواہش کے شر سے۔ [ابو داﺅد: 1551]
38. بد بختی لاحق ہونے سے۔ [بخاری: 6616]
39. دشمن کی خوشی سے۔ [بخاری: 6616]
40. اونچی جگہ سے گرنے سے۔[نسائی: 5533]
41. کسی چیز کے نیچے آنے سے۔ [نسائی: 5533]
42. جلنے سے۔ [نسائی: 5533]
43. ڈوبنے سے۔ [نسائی: 5533]
44. موت کے وقت شیطان کے بہکاوے سے۔ [نسائی: 5533]
45. برے دن سے۔ [طبرانی کبیر: 810]
46. بری رات سے۔ [طبرانی کبیر: 810]
47. برے لمحات سے۔ [طبرانی کبیر: 810]
48. دشمن کے غلبہ سے۔ [نسائی: 5477]
49. ہر اس قول و عمل سے جو جہنم سے قریب کرے۔[ابو یعلی: 4473]
50. کفر سے۔ [ابو یعلی: 1330]
51. نفاق سے۔ [حاکم: 1944]
52. شہرت سے۔ [حاکم: 1944]
53. ریاکاری سے۔ [حاکم: 1944]
" محمد ﷺ اللّٰه کے نبی اور رسول ہیں. "محمد ﷺ کو اللّٰه نے معصوم پیدا فرمایا.
نہ رسول اللّٰه ﷺ کو شیطان بہکا سکتا تھا اور نہ ہی دنیا کی کسی چیز کا خوف. رسول اللّٰه ﷺ نے امت کی تعلیم کے لیے یہ دعائیں مانگ کر امت کو سکھایا کہ ان چیزوں سے پناہ مانگیں.
اے اللّٰه ! ہم ہر اس چیز سے تیری پناہ مانگتے ہیں جس سے رسول اللّٰه ﷺ نے مانگی
آمین ثم آمین
24/06/2022
✒📙♧☆ـ﷽ـ☆♧📙✒
•••((( )))•••
حصه نمبر (2)
حدیث میں آتا ہے ”سباب المسلم فسوق“ مسلمان کو گالی دینا فسق او رگناہ ہے ۔ حضور صلی الله علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے: ”لم یکن النبی صلی الله علیہ وسلم فاحشا ولا متفحشا“۔ حضور صلی الله علیہ وسلم نہ فطری طور بد گو تھے نہ بہ تکلف بد گو تھے۔ بلکہ آپ صلی الله علیہ وسلم سب سے زیادہ خوش گو اور خوش کلام تھے۔
(((بحث نمبر ایک)))
گالی گلوچ معاشرہ کے لیے ایک بڑی خطرناک برائی ہے ، بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ معمولی معمولی ، ناگوار کاموں کی وجہ سے گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں ۔ گالی دینا ان کی بری عادت ہوتی ہے اوراسی عادت میں اتنی دور تک چلے جاتے ہیں کہ بعض اوقات انتہائی فحش گالیاں ان کی زبان سے اور منھ سے نکلتی ہیں، لیکن ان کو احساس تک نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عادت والا کام بڑی آسانی اور سہولت کے ساتھ ایسے لوگوں سے صادر ہوتا ہے ، اس کے لیے کسی تکلف کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ یہ گالیاں ایسے لوگ اس لیے دیتے ہیں کہ اپنی انا کی تسکین کے ساتھ اپنے خیال میں دوسرے لوگوں کی مذمت اور علاج بھی اس گالی میں سمجھتے ہیں ۔
اگر گالی دینے والے کو جواب نہ ملے تو گالی دینے والا اس کو اپنی برتری سمجھتا ہے اور اس کے نفس کو سکون حاصل ہو جاتا ہے ۔
ایسے لوگ دوسروں کو گالیاں ان کو تکلیف اور ایذا پہنچانے کے لیے دیتے ہیں ۔
بعض لوگ دوسروں کوایذا کی خاطرگالیاں تو نہیں دیتے، لیکن ان کی عادت کچھ ایسی بن گئی ہوتی ہے کہ گو یا گالی ان کی غذا ہے، بات بات میں اور عام گپ شپ میں ہر ایک کو گالی دے کر پکارتے ہیں ،
یہ بھی بری عادت ہے۔ کیوں کہ اسلامی تعلیمات کا تعلق تو خوش اخلاقی کے ساتھ ہے ۔ خوش اخلاقی کے کام تو بہت ہیں، جن سے پتہ چلتا ہے کہ انسان با اخلاق اور خوش اخلاق ہے، لیکن خوش اخلاقی کا سب سے بڑا تعلق منھ ، زبان او رگفت گو کے ساتھ ہے ۔ انسان اپنی زبان کھولتا ہے تو فوراً دوسروں کوپتہ چل جاتا ہے کہ خوش اخلاق ہے یا نہیں ؟
بعض لوگوں کے بارے میں پتہ نہیں چلتا کہ منھ پھٹ ہے یا نہیں؟ جب کبھی کوئی موقع بن جائے تو اس وقت پتہ چلتا ہے،مثلاً کسی بات پر غصہ آیا تو پھر گفت گو سے پتہ چلتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ منھ اور زبان کو کنٹرول میں رکھے۔
حضور صلی الله علیہ وسلم کی زبان سے ہر حالت میں حق اور سچ بات نکلتی تھی ،
حضور صلی الله علیہ وسلم کے ورثاء علماء کرام اور خواص کو بھی اپنی زبان کنٹرول میں کرنی چاہیے ،کبھی انسان مغلوب الحال ہوجاتا ہے،
لیکن عقل اور ہوش باقی ہوتا ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ جب کبھی کوئی اپنے سے کم تر پر غصہ کی حالت میں اس کو برا بھلا کہتا ہے اگر اسی حالت میں غصہ کرنے والے کے سامنے اس سے کوئی بڑا علم وفضل والا یا عہدے والا آجائے تو فوراً اس کا غصہ کا ختم ہوجاتا ہے ،
معلوم ہوا کہ عقل ہوشیار ہے ۔ تمام آفات کا تعلق زبان کے ساتھ ہے ۔ بڑے بڑے جرائم کی ابتدا زبانی تکرار او رمعمولی گالی گلوچ سے ہوتی ہے ۔
(((بحث نمبر دوم)))
گالی کی حقیقت اور تعریف
گالی کیا ہے ؟ غصہ کی حالت میں یا بغیر غصہ کے کسی کو کوئی ایسی نامناسب بات کہہ دینا ، جس کو تقریباً سب لوگ پسند نہیں کرتے۔ مثلاً کسی کو براہ راست برے قول یا فعل کی طرف منسوب کرنا یا کسی کے متعلقین میں سے کسی کے بارے میں غلط بات کہہ دینا۔
مثلاً کسی کے ماں باپ یا بیوی کو برا بھلا کہنا۔ عام طور پر حیوانات کے نام کے ساتھ گالیاں ایجاد ہوئی ہیں، مثلاً کتا، گدھا ،بیل اور گیدڑ وغیرہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض انسانوں کی اندر کی صفات مسخ ہو جاتی ہیں ،
صحیح انسانی صفات اور اخلاق کی بجائے ان میں حیوانی صفات پرورش پالیتی ہیں۔ یعنی اس کے اندر درندگی اور زہریلا پن پیدا ہو جاتا ہے،
پھر معاشرے میں جو کردار ادا کرتا ہے ، اس میں درندگی اور زہریلا پن ہوتا ہے ، بہ ظاہر انسان ہوتا ہے، اندر سے سانپ بچھو یا کوئی درندہ ہوتا ہے۔
اگر اندر سے اس بگڑے ہوئے انسان کو برا بھلا کہاجائے تو یہ بھی برداشت نہیں کرتا۔ حیوانات میں ہر نوع کی فطری اور نوعی اوصاف اور صفات ہوتی ہیں ، کسی حیوان کی نوعی صفات میں سے کسی انسان کے لیے کوئی صفت ثابت کرنا یا اس کے ساتھ پکارنا گالی بن جاتا ہے۔
((((بحث نمبر سوم))))
گالی دینے والے کی حیثیت مجروح ہونا
گالی دینے والا تو اپنے اپ برتری ثابت کرتا ہے ، اپنی انا کو تسکین دیتا ہے ، بہت سے لوگ اس زعم میں مبتلا ہوتے ہیں کہ میں بڑا زور آور ہوں، کسی کو گالی دے دوں تو اس کی کیا مجال کہ جواب دے ،
لوگ اس سے دب یا ڈر جاتے ہیں ، پھر اس کے سامنے کوئی بولتا نہیں۔ گالی دینے والے کو سوچنا چاہیے کہ گالی کے اثرات کیا ہیں؟ کبھی تو جس کو گالی دی جاتی ہے وہ غصہ میں آکر کسی قسم کی جوابی کارروائی کرسکتا ہے یا پھر کسی موقع کی تلاش میں رہتا ہے ، گالی دینے والا اپنے دشمن زیادہ کر دیتا ہے ،خو دکو معاشرہ میں بد اخلاقی کے نام سے متعارف کروا دیتا ہے ۔ لوگوں کی نظر میں اس کی حیثیت گر جاتی ہے ۔ خاص کر بڑے بڑے عہدے والوں اور صاحب حیثیت لوگوں کو بہت محتاط رہنا چاہیے۔ مثلاً استاذ ، والدین ، مرشد اور علمائے کرام وغیرہ ہر گز کسی کو گالی نہ دیں ، نہ سامنے اور نہ پیٹھ پیچھے۔ بعض لوگ کسی کو سامنے گالی نہیں دے سکتے ، جن کو گالی دینا ہو وہ چلا جائے یا خود دور چلا جائے تو گالیاں بکنا شروع کر دیتا ہے ، یہ بھی گناہ ہے۔ ضروری نہیں کہ جس کو گالی دے رہا ہے وہ سن بھی رہا ہو او رلوگ تو سن رہے ہیں کہ فلاں کو گالیاں دے رہا ہے ۔ بعض اوقات سننے والے اس بندے کو اطلاع کر دیتے ہیں جس کو گالیاں دی تھیں۔ اس کو جب پتہ چلتا ہے تو انتقامی کارروائی پر اتر آتا ہے۔
الحاصل گالی کسی بھی حالت میں نہیں دینی چاہیے، کیوں کہ اس کے اثرات کسی بھی وقت ظاہر ہو سکتے ہیں۔ اگر کسی وجہ سے اثرات ظاہر نہ ہونے پائیں تو گناہ والی حیثیت تو کبھی بھی ختم نہیں ہوتی، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ مسلمان کو گالی دینا فسق یعنی گناہ ہے۔
بڑے لوگوں کی حیثیت تو بہت جلد مجروح ہوجاتی ہے۔ بڑے لوگوں کا معاشرہ میں ایک نام ہوتا ہے ، لوگوں کے دلوں میں قدر ومنزلت ہوتی ہے لیکن گالی دینے کے ساتھ اس کی حیثیت بلندی سے نیچے آگر تی ہے۔ لوگوں کی نظروں میں گر جاتا ہے ۔ اگر گالی دینے والا صرف یہ سوچے کہ میری گالیوں سے خود میری حیثیت مجروح ہوتی ہے، لوگوں کی نظروں میں گر رہا ہوں تو شاید اس کے علاج کے لیے یہی کافی ہے۔ الله کا ارشاد ہے: ﴿فاصبر ان وعدالله حق ولا یستخفنک الذین لا یوقنون﴾․
ترجمہ: سو آپ صبر کیجیے، بے شک الله تعالیٰ کاو عدہ سچا ہے اور بد یقین لوگ آپ کو خفیف نہ کرنے پاویں۔
یستخفنک خفت سے ہے ، خفت کا معنی ہیں: ہلکا او رسبک ہونا۔ جو آدمی غصہ میں آجائے اس کو بھی خفیف کہتے ہیں او رجس میں وقار ہو اس کو ثقیل کہتے ہیں۔
علامہ زمخشری رحمہ الله علیہ فرماتے ہیں : ”ولا یحملنک علی الخفة والقلق جزعا بما یقولون ویفعلون“ یعنی یہ بد یقین لوگ اپنے قول اور فعل کے ساتھ آپ کو خفت اور قلق کی طرف نہ لے جائیں۔
میں اس آیت کے بارے میں سوچتا ہوں تو ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ کفار او راغیار یعنی بدیقین لوگ اپنے قولی اور فعلی ایذا کے ساتھ حضور صلی الله علیہ وسلم کو غصہ میں لانے کی کوشش کرتے تھے۔ تاکہ غصہ میں آکر آپ ان کوزبان سے کچھ نہ کچھ نامناسب جملہ کہیں، جس سے آپ کی عالی شان مجروح ہو جائے ، کفار کی کوشش یہی تھی کہ آپ کی بلند وبالا شان کسی نہ کسی طرح مجروح ہو جائے ۔ الله تعالیٰ نے پہلے سے آپ کی عالی شان کے دفاع کے لیے آپ کو مطلع کر دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو آپ غصہ میں آکر بے برداشت ہو جائیں او رکوئی نامناسب بات یا جملہ آپ کی زبان پر آجائے تو اس کی وجہ سے آپ کی شان گو یا باوجود ثقیل اور باوقار ہونے کے خفیف اور سبک ہو جائے گی۔ حالاں کہ آپ رفیع الشان ہیں۔ خفیف اور ہلکی باتوں سے ثقیل اور باوقاری آدمی خفیف او رسبک ہو جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہواکہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی طرح مبلغین اور مصلحین کو بھی اس بات کا بہت اہتمام کرناچاہیے کہ کہیں زبان پر نامناسب جملے یا گالی وغیرہ نہ آئے ، ورنہ شان گھٹ جائے گی۔ خاص کر علماء کرام کو بہت احتیاط کرنی چاہیے کیوں کہ اب انبیائے کرام اوررسول نہیں آتے ، یہی علماء ان کے نائب اور قائم مقام اور لوگوں کے راہ نما ہیں، اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھیں، کفار او راغیار ان کو غصہ میں لانے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کو اپنی زبان اور قلم شائستہ رکھنا ہو گا، کسی کو گالی نہ دیں، برا بھلا نہ کہیں ، نہ زبان سے اور نہ قلم سے ۔ کیوں کہ بڑے او رباوقار لوگوں کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح ان کا وقار گھٹ جاتا ہے، حالاں کہ ان کو وقار میں رہنا چاہیے۔
بعض لوگ بعض مخصوص افراد کو چھیڑنے او رچڑانے کے لیے کوئی لفظ استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ آدمی فوراً غلیظ غلیظ گالیاں بکنا شروع کر دیتا ہے۔ ہم نے کئی ایسے افراد کو دیکھا ہے۔ اس کا گناہ ایک طرف، اگر گالیاں بکنے والے کو گناہ ملتا ہے تو دوسری طرف ان کو بھی بڑا گناہ ملتا ہے جو اس گناہ پرا بھارتے ہیں ۔ جب کسی کو چڑا کر اس کو گالیاں بکنے کا موقع دیتے ہیں تو سننے والے اس کی غلیظ گالیوں سے محظوظ ہوتے ہیں، یہ کوئی اچھا کام نہیں۔
اکوڑہ خٹک بازار میں ایک لنگڑا تھا،اس کو ایک مخصوص لفظ کے ساتھ لوگ چھیڑتے ، پھر وہ جو غلیظ اور فحش گالیاں دیتا، ایسی گالیاں میں نے زندگی بھر نہیں سنیں۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں ، یوں لگتا تھا کہ اس کا ذہنی توازن مکمل درست نہ تھا، لیکن مکمل پاگل بھی نہیں تھا۔
(((بحث چھارم))))
گالی کا علاج
غصہ کے وقت”اعوذ بالله من الشیطان الرجیم“ پڑھے، غصہ ختم ہو جائے گا۔ جن کی عادت گالیاں دینے کی ہو ان کو چاہیے کہ استغفار زیادہ کرے، حصن حصین میں ہے:”شکوت الی رسول الله ذرب لسانی، فقال این انت من الاستغفار؟انی لاستغفر فی کل یوم مائة مرة“․
ایک صاحب نے آپ صلی الله علیہ وسلم سے اپنی بد کلامی کی شکایت کی، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا آپ سے استغفار کہاں کھو گیا؟ میں روزانہ سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔
معلوم ہوا کہ بد گوئی، فحش گوئی اور بد کلامی کا علاج روزانہ سو مرتبہ استغفار کرنا ہے۔
24/06/2022
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
⛲ *بسم الله الرحمن الرحيم* ⛲
🇵🇰 *آج کا کیلینڈر* 🌤
🔖 *24 ذوالقعدۃ 1443ھ* 💎
🔖 *24 جون 2022ء* 💎
🔖 *10 ہاڑ 2079ب* 💎
🌄 *بروز جمعہ Friday* 🌅
🌺 *جمعہ کے دن قیمتی گھڑی!*
🔹 *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کا دن بارہ ساعت (گھڑی) کا ہے، اس میں ایک ساعت (گھڑی) ایسی ہے کہ کوئی مسلمان اس ساعت کو پا کر اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے تو اللہ اسے ضرور دیتا ہے، لہٰذا تم اسے عصر کے بعد آخری ساعت (گھڑی) میں تلاش کرو۔*🔹
📗«سنــن ابــو داٶد-1048»
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
❁ ﷽ ❁
▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬
*Asalam o Alaikum*
I am Online Teacher of The Holy Quran from Pakistan.
I Teach The Holy Quran Online.
If you , Your Children or Anyone want to Learn The Holy Quran online, connect to me on Whatsapp :
+923119641061
There are 3 Days Free Trial Classes For The Interested one's To Check The Method Of Teaching.✅
We Teach :
Quran Reading With Tajweed.
Tajweed Course
️ Quran With Tajweed
Memorization of The Holy Quran
Male Female Teacher Available
30-50 minute Class Per Student ⏰
▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬
21/06/2022
✒📙♧☆ـ﷽ـ☆♧📙✒
•••((( )))•••
حصه نمبر (۱)
معزز ناظرین اللہ تعالیٰ رب العالمین نے ہم سب کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے اور اسکے لئے کچھ ایسے مواسیم طاعات کا انتخاب فرمایا ہے جن میں عبادت بقیہ ایام کی بہ نسبت کہیں زیادہ افضل ہوتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کچھ مہینوں کو کچھ مہینوں پر ،کچھ دنوں کو کچھ دنوں پر ،کچھ راتوں کو کچھ راتوں پر اور کچھ وقتوں کو کچھ وقتوں پر فضیلت عطافرمائی ہے ،چنانچہ رمضان المبارک کو تمام مہینوں سے افضل واشرف قراردیا ،
دنوں میں عرفہ کے دن کو فضیلت بخشی ،راتوں میں شب قدرکوسب سے زیادہ خیروبرکت والی رات بنایا،اسی طرح عشروں میں رمضان المبارک کا آخری عشرہ اور ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کو خاص فضیلت عطافرمائی ہے۔
اللہ رب العزت کی جانب سے یہ نیکیوں کے موسم اور سیزن اس لئے ہیں تاکہ اسکے بندے نیکیوں کے اس مواسم کو غنیمت جانیں اور کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرکے اجرعظیم حاصل کریں،ان مبارک عشروں میں سے ایک عشرہ ،عشرۂ ذی الحجہ ہے جو بڑاہی بابرکت وبا عظمت عشرہ ہے۔
عشرۂذی الحجہ کی فضیلت قرآن پاک کی روشنی میں
(۱) یہ وہ عشرہ ہے جسکی قسم اللہ تعالیٰ نے خود قرآن پاک میں کھائی ہے ،فر مان باری تعالی ٰ ہے:(والفجر ولیال عشر)’’قسم ہے فجر کی اوردس راتوں کی ‘‘(الفجر۱۔۲)اکثر مفسرین کے نزدیک ان دس راتوں سے مراد ذی الحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں ،مشہور مفسر امام بغوی ؒ نے اپنی تفسیر ’’معالم التنزیل ‘‘میں بحوالہ حضرت ابن عباسؓ نقل فرماتے ہیں کہ ’’ولیال عشر‘‘سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں(تفسیر البغوی۴/۴۸۱)،امام ابن کثیر ؒ نے بھی اپنی تفسیر میں اسی کو راجح قرار دیا ہے ۔(تفسیر ابن کثیر ۴/۴۴۳)۔
(۲) قرآن مجید میں جن ایام معلومات میں ذکر اللہ کا بیان خصوصیت سے کیا گیا ہے جمہور اہل علم کے نزدیک ان ایام معلومات سے مراد عشرۂ ذی الحجہ ہی کے ابتدائی دس دن ہیں ،ارشاد باری تعالیٰ ہے : (ویذکروااسم ﷲ فی ایام معلومات) (الحج:۲۸)[یعنی عشرہ ذی الحجہ فی قول اکثر المفسرین] (معالم التنزیل للبغوی۳/۲۸۴)۔
امام بخاری ؒ نے ذکر کیا ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے بیان فرمایا کہ ان معلوم دنوں سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں (صحیح البخاری ۲/۳۵۷ کتاب العیدین ،ابن کثیر ۳/۴۴۲)۔
مفسرین کی ان تصریحات سے معلوم ہوا کہ ذی الحجہ کے دس دنوں کی فضیلت قرآن سے صریحاً ثابت ہے ۔
عشرۂ ذی الحجہ کی فضیلت احادیث کی روشنی میں
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف احادیث میں عشرۂ ذ ی الحجہ کی فضیلت واہمیت بیان فرمائی ہے اور ان میں عمل صالح کرنے پر ابھارا ہے اوران دنوں کو افضل ایام الدنیا کہا ہے درج ذیل میں چند احادیث پیش کی جارہی ہے ۔
۱)حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:[مامن أیام العمل الصالح فیھن احب الیٰ اللہ من ھذہ الایام العشر ،فقالو ا :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ولا الجھاد فی سبیل اللہ ؟فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ’’ولا الجھاد فی سبیل اللہ الارجل خرج بنفسہ ومالہ فلم یرجع من ذلک بشئ]’’عشرہ ذی الحجہ میں کئے گئے عمل صالح سے زیادہ کوئی عمل اللہ کے نزدیک محبوب نہیں ،صحابہ کرامؓ نے عرض کیا :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دوسرے دنو ں میں کیا ہوا جھاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ؟آپ ؐ نے فرمایا :دوسرے دنو ں میں کیا ہو اجھاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ،ہاں مگر وہ شخص جو اپنی جان ومال کے ساتھ (راہِ جھاد)میں نکلے اور کچھ واپس لیکر نہ آئے یعنی شھید ہو جائے‘‘ (ابو داؤد ح ۲۴۳۸کتاب العیدین )۔
۲)حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:[مامن عمل ازکیٰ عند اللہ عزوجل من خیر یعملہ فی عشرالاضحی ،قیل :ولا الجھاد فی سبیل اللہ ،قال :ولا الجھاد فی سبیل اللہ عزوجل الارجل خرج بنفسہ ومالہ فلم یرجع من ذلک بشئی ]’’یعنی اللہ عزوجل کے نزدیک عشرۂ ذی الحجہ میں نیک عمل کرنے سے زیادہ پا کیزہ اور زیادہ ثواب کا حامل کوئی عمل نہیں ہے ،کہا گیا جھاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ؟آپ ؐ نے فرمایا :جھاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ۔ہاں البتہ اس شخص کا جہاد جس نے اپنی جان ومال کے ساتھ (راہِ جہاد)میں نکلے اور کچھ واپس لیکر نہ لوٹے یعنی اپنی جان ومال اسی راہ میں قربان کردے ‘‘ (سنن الدارمی ۱/۳۵۷)۔
۳)حضر ت جا برؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :[افضل ایام الدنیا العشر (یعنی عشر ذی الحجہ )ولا مثلھن فی سبیل اللہ ؟قال:ولا مثلھن فی سبیل اللہ الا رجل عفروجھہ باالتراب ]’’دنیا کے افضل ترین دن ایام العشر (یعنی ذی الحجہ کے دس دن )ہیں دریافت کیا گیا کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی ان ایام کے مثل نہیں ؟آپ ؐ نے فرمایا :جہاد فی سبیل اللہ بھی انکی مثل نہیں سوائے اس شخص کے جس کا چہرہ مٹی میں لتھڑ جائے (یعنی وہ شھید ہوجائے‘‘(رواہ البزاز وابن حبان عن جابر) ۔
مندرجہ بالا احادیث سے معلوم ہوا کہ ذی الحجہ کے پہلے دس دن ،باقی سال کے سب ایام سے بہتر اور افضل ہیں اور ان دس دنوں میں کہاگیا نیک عمل دیگر دنوں میں کئے گئے نیک اعمال سے اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے اور اسمیں کسی بھی قسم کا کوئی استثنا نہیں حتی ٰ کہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ بھی نہیں ،لیکن رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی راتیں ان ایام سے بہتر اور افضل ہیں کیونکہ ان میں لیلۃ القدر ہے ،جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمہ ؒ سے جب پوچھا گیا کہ کیا رمضان المبارک کا آخری عشرہ زیادہ مبارک ہے یا ذی الحجہ کا پہلا عشرہ ؟آپ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا :’’رمضان المبارک کی آخری عشرہ کی راتیں ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کی راتوں سے زیادہ افضل ہیں اس لئے کہ اسمیں لیلۃ القدرہے جو تما م راتو ں کی سردار ہے، اور ذی الحجہ کے پہلے دس دن رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے دس دنو ں سے زیادہ مبارک ہیں اسلئے کہ ان دنوں میںیومِ عرفہ واقع ہے ،جوکہ تمام دنوں میں سب سے زیادہ افضل واشرف ہے ‘‘
(مجموع الفتاویٰ)۔
عشرۂ ذی الحجہ کا دیگر عشروں سے ممتاز ہونے کی وجہ
حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ فرماتے ہیں کہ :عشرہ ذی الحجہ کا دیگر عشروں سے ممتاز ہونے کا جو سبب ظاہر ہے وہ یہ کہ اس عشرہ میں اتنی عبادتیں جیسے نماز ،روزہ ،صدقہ خیرات ،حج وعمرہ اور قربانی وغیر ہ جمع ہوگئیں کہ دوسرے عشروں میں ان عبادتوں کا بیک وقت جمع ہونا ناممکن ہے
(فتح الباری ۲/۴۶۰)۔
(((((تحریر جاری)))))
20/06/2022
زندگی بھر کے گناہ معاف
رسول رحمت ﷺ نے فرمایا:
جس بیت اللہ کا حج اس طر ح کیا کہ نہ کوئی بے ہودہ اور نہ ہی نافرمانی کی بات کی تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک لوٹتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا ہو ۔
صحیح بخاری :1820
20/06/2022
السلام علیکم تکمیل ختم القرآن کے سلسلے میں
میں ایک پروقار اور بابرکت محفل کا انعقاد کیا گیاہے آپ اپنی شرکت یقینی بنائے اور اگے شیئر کرکےثواب دارین حاصل کریں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Mardan