*کسی کا حق نہ ماریں مختصر سی زندگی ہے سب کچھ یہیں چھوڑ کر چلے جانا ہے کوشش کریں اللّٰہ کی راہ میں زیادہ خرچ کریں تاکہ کچھ بخشش کا ذریعہ بن جائے*🌺💚
* ✍️💛💫
Maaz Lodhi
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Maaz Lodhi, College & University, Mardan Cantonment.
الوداع ماہ رمضان
پاکستان میں شوال کا چاند نظر آگیا، عید الفطر کل ہوگی،
انشاء اللہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
فتویٰ: کیا پاکستان میں سعودی عرب کے ساتھ روزہ اور عید کرنا جائز ہے؟
سوال:
بعض لوگ پاکستان میں سعودی عرب کے ساتھ روزہ رکھتے ہیں اور عید مناتے ہیں، جبکہ پاکستان کی رویتِ ہلال کمیٹی چاند نظر نہ آنے کا اعلان کرتی ہے۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
جواب:
اسلامی شریعت کے مطابق روزہ اور عید کا تعلق چاند دیکھنے سے ہے، اور چاند دیکھنے کا حکم مقامی (Local) رویت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاَثِينَ
(صحیح البخاری: 1909، صحیح مسلم: 1081)
ترجمہ: چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو، اگر مطلع ابر آلود ہو تو 30 دن پورے کرو۔
فقہاء کرام کا اجماعی موقف:
1. امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمدؒ سب کے نزدیک:
> ہر ملک اور ہر علاقے کی اپنی مقامی رویت معتبر ہے، اور ایک ملک کی رویت دوسرے ملک کے لیے لازم نہیں۔
2. مفتی محمد شفیعؒ (سابق مفتی اعظم پاکستان) فرماتے ہیں:
> سعودی عرب کی رویت کو پاکستان میں ماننا شرعاً درست نہیں، کیونکہ چاند کی رویت مقامی ہے اور پاکستان میں چاند دیکھنے کی کوشش اور گواہی لازم ہے۔
3. مفتی تقی عثمانی دامت برکاتہم فرماتے ہیں:
> پاکستان میں سعودی عرب کی رویت پر عید کرنا یا روزہ رکھنا شرعی اصول کے خلاف اور ناجائز ہے۔
عالمی سطح کے علماء: شیخ ابن بازؒ اور شیخ ابن عثیمینؒ نے بھی فرمایا کہ:
> ہر ملک اپنی مقامی رویت کے مطابق عمل کرے، اور دوسرے ملک کی رویت کو ماننے کا شرعی حکم نہیں۔
---
شرعی اصول
فقہاء نے اس مسئلے کو "اختلافِ مطالع" کہا ہے۔
یعنی چاند ہر جگہ ایک ہی وقت میں نظر نہیں آتا، اس لیے ہر جگہ کی رویت الگ ہے۔
اگر آپ پاکستان میں ہیں، تو آپ پر پاکستانی رویت کی پیروی واجب ہے۔
---
اگر کوئی سعودی عرب کے ساتھ روزہ رکھے یا عید کرے:
بلا شرعی گواہی کے ایسا کرنا مکروہ اور شرعی اصول کے خلاف ہے۔
البتہ اگر وہ شخص لاعلمی میں کرے تو وہ گناہگار نہیں، لیکن اگر جان بوجھ کر علماءِ کرام اور رویت کمیٹی کے فیصلہ کو چھوڑ کر ایسا کرے تو یہ بدعت اور گناہ میں شمار ہوگا۔
---
خلاصہِ فتویٰ
پاکستان میں سعودی عرب کے ساتھ روزہ رکھنا یا عید کرنا شرعی اصول کے خلاف اور ناجائز ہے۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے ملک کی شرعی گواہی پر عمل کریں اور غیر ضروری فتنہ و فساد سے بچیں۔
---
صحیح بخاری
حدیث نمبر: 2020
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے اور فرماتے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں شب قدر کو تلاش کرو۔
صحیح بخاری
حدیث نمبر: 2015
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے چند اصحاب کو شب قدر خواب میں (رمضان کی) سات آخری تاریخوں میں دکھائی گئی تھی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے سب کے خواب سات آخری تاریخوں پر متفق ہوگئے ہیں۔ اس لیے جسے اس کی تلاش ہو وہ اسی ہفتہ کی آخری (طاق) راتوں میں تلاش کرے۔
صحیح بخاری
حدیث نمبر: 1969
حضرت عائشہ ؓ فرماتے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نفل روزہ رکھنے لگتے تو ہم (آپس میں) کہتے کہ اب آپ ﷺ روزہ رکھنا چھوڑیں گے ہی نہیں۔ اور جب روزہ چھوڑ دیتے تو ہم کہتے کہ اب آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ میں نے رمضان کو چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ کو کبھی پورے مہینے کا نفلی روزہ رکھتے نہیں دیکھتا اور جتنے روزے آپ شعبان میں رکھتے میں نے کسی مہینہ میں اس سے زیادہ روزے رکھتے آپ کو نہیں دیکھا۔
صحیح بخاری
حدیث نمبر: 1969
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نفل روزہ رکھنے لگتے تو ہم (آپس میں) کہتے کہ اب آپ ﷺ روزہ رکھنا چھوڑیں گے ہی نہیں۔ اور جب روزہ چھوڑ دیتے تو ہم کہتے کہ اب آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ میں نے رمضان کو چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ کو کبھی پورے مہینے کا نفلی روزہ رکھتے نہیں دیکھتا اور جتنے روزے آپ شعبان میں رکھتے میں نے کسی مہینہ میں اس سے زیادہ روزے رکھتے آپ کو نہیں دیکھا۔
صحیح بخاری
حدیث نمبر: 1963
حضرت ابو سعید خدری ؓ نے، رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا مسلسل (بلاسحری و افطاری) روزے نہ رکھو، ہاں اگر کوئی ایسا کرنا ہی چاہے تو وہ سحری کے وقت تک ایسا کرسکتا ہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کی یا رسول اللہ! آپ تو ایسا کرتے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ میں تو رات اس طرح گزارتا ہوں کہ ایک کھلانے والا مجھے کھلاتا ہے اور ایک پلانے والا مجھے پلاتا ہے۔
صحیح بخاری
حدیث نمبر: 1956
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں جا رہے تھے، آپ ﷺ روزے سے تھے، جب سورج غروب ہوا تو آپ نے ایک شخص سے فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول، انہوں نے کہا یا رسول اللہ! تھوڑی دیر اور ٹھہرئیے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول انہوں نے پھر یہی کہا کہ یا رسول اللہ! ابھی تو دن باقی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اتر کر ستو ہمارے لیے گھول، چناچہ انہوں نے اتر کر ستو گھولا۔ نبی کریم ﷺ نے پھر فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات کی تاریکی ادھر سے آگئی تو روزہ دار کو روزہ افطار کرلینا چاہیے۔ آپ ﷺ نے اپنی انگلی سے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔
صحیح بخاری
حدیث نمبر: 1948
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے (غزوہ فتح میں) مدینہ سے مکہ کے لیے سفر شروع کیا تو آپ ﷺ روزہ سے تھے، جب آپ عسفان پہنچے تو پانی منگوایا اور اسے اپنے ہاتھ سے (منہ تک) اٹھایا تاکہ لوگ دیکھ لیں پھر آپ ﷺ نے روزہ چھوڑ دیا یہاں تک کہ مکہ پہنچے۔ ابن عباس ؓ کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے (سفر میں) روزہ رکھا بھی اور نہیں بھی رکھا اس لیے جس کا جی چاہے روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔
صحیح مسلم
حدیث نمبر: 2784
سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو وفات دے دی پھر آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ اعتکاف فرمایا کرتی تھیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.