Iqra Quran Academy

Iqra Quran Academy

Share

Learn the Holy Quran online with Qari Zaka Ullah, an experienced teacher offering Basic Islamic Education, Hifz-o-Nazira, Prayer Lessons, and Norani Qaida.

Join from anywhere—contact now via WhatsApp: +92 300 2954839.

27/04/2026
01/04/2026

سچ کی برکت اور جھوٹ کی نحوست
12احادیث کی روشنی میں

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۱۱۹﴾ سورہ التوبہ
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو () اور سچوں کے ساتھ ہو ()
ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں آپ پر ایمان لانا چاہتا ہوں مگر میں شراب نوشی، زنا کرنے، چوری کرنے اور جھوٹ بولنے سے محبت رکھتا ہوں اور لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ ان چیزوں کو حرام کہتے ہیں اور مجھ میں ان تمام چیزوں کے ترک کرنے کی طاقت نہیں ہے، اگر آپ اس قناعت کرلیں کہ میں ان میں سے کسی ایک چیز کو ترک کر دوں تو میں آپ پر ایمان لے آتا ہوں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم جھوٹ بولنا چھوڑ دو ، اس نے اس کو قبول کرلیا اور مسلمان ہوگیا۔ جب وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گیا تو اس کو شراب پیش کی گئی، اس نے سوچا اگر میں نے شراب پی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے شراب پینے کے متعلق سوال کیا اور میں نے جھوٹ بولا تو عہد شکنی ہوگی اور اگر میں نے سچ بولا تو آپ مجھ پر حد قائم کردیں گے پھر اس نے شراب کو ترک کردیا پھر اس کو زنا کرنے کی پیشکش ہوئی اس کے دل میں پھر یہی خیال آیا، اس نے پھر اس کو بھی ترک کردیا اسی طرح چوری کا معاملہ ہوا پھر وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا آپ نے بہت اچھا کیا کہ مجھے جھوٹ بولنے سے روک دیا اور اس نے مجھ پر تمام گناہوں کے دروازے بند کردیئے اور پھر وہ تمام گناہوں سے تائب ہوگیا۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ١٦٨، اللباب ج ١٠ ص ٢٣٥) -
تفسیر تبیان القرآن علامہ غلام رسول سعیدی رحمہ اللہ

حدیث 1
جھوٹ چھوڑنے سے جنت ملتی ہے

عَنْ اَبِي اُمَامَةَ الْبَاهِليِّ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم:
اَنَا زَعِيمٌ بِبَـيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ،وَاِنْ كَانَ مُحِقًّا،
وَبِبَيْتٍ في وَسَطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ،وَاِنْ كَانَ مَازِحًا،
وَبِبَيْتٍ في اَعْلَى الْجَنَّةِ لِمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ.
ابوداؤد 4800
حضرت سَیِّدُناابو اُمامہ باہِلی رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہےکہ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا:
”جو حق پر ہونے کے باوجود لڑائی جھگڑا نہ کرے میں اسے جنت کے ایک گوشہ میں مکان کی ضمانت دیتا ہوں
اور جو مذاق میں بھی جھوٹ نہ بولے اسےوسط جنت میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں اور حُسنِ اخلاق والے کو جنت کے اعلیٰ درجے میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں۔“
. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:5 , حدیث نمبر:630
روایت ہے حضرت انس (رضی اللہ عنہ) سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے کہ جو جھوٹ چھوڑ دے جو کہ باطل چیز ہے تو اس کے لیے جنت کے کنارہ میں گھر بنایا جائے گا۲؎ اور جو لڑائی جھگڑے چھوڑ دے حالانکہ حق پر ہو اس کیلئے بیچ جنت میں گھر بنایا جاوے گا۳؎ اور جس کے اخلاق اچھے ہوں تو اس کے لیے جنت کے اوپری حصہ میں گھر بنایا جاوے گا ۴؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن ہے

کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4831

حدیث 2
چھ چیزوں کی ضمانت پر جنت کا وعدہ

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"اِضْمَنُوا لِي سِتًّا مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَضْمَنُ لَكُمُ الْجَنَّةَ: اُصْدُقُوا إِذَا حَدَّثْتُمْ وَأَوْفُوا إِذَا وَعَدْتُّمْ وَأَدُّوْا إِذا ائْتُمِنْتُمْ وَاحْفَظُوْا فُرُوْجَكُمْ وَغَضُّوْا أَبْصَارَكُمْ وَكُفُّوْا أَيْدِيكُمْ "

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ
روایت ہے حضرت عبادہ بن صامت سے نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے نفس کی طرف سے میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن بن جاؤ میں تمہارے لیے جنت کا ضامن ہوں ۱؎ جب بات کرو سچ کہو،جب وعدہ کرو تو پورا کرو۲؎ جب امین بنائے جاؤ تو اداکرو۳؎ اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو اپنی نگاہیں نیچے رکھو اپنے ہاتھ روکو
شرح
اپنے ہاتھ سے کسی پر ظلم نہ کرو اس سے ناجائز چیز نہ چھوؤ۔
کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4870

حدیث 3
سچائی کا راستہ جنت کا راستہ ہے

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى البِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الجَنَّةِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتّٰى يُكْتَبَ عِنْدَ اللّٰهِ صِدِّيقًا. وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الكَذِبَ حَتّٰى يُكْتَبَ عِنْدَ اللّٰهِ كَذَّابًا . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) .

روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ سچ کو لازم کرلو کیونکہ سچ نیکی کی طرف ہدایت دیتا ہے ۱؎ اور نیکی جنت کی طرف ہادی ہے اور انسان سچ بولتا رہتا ہے اور سچ کی تلاش کرتا رہتا ہےحتی کہ الله کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہےاور جھوٹ سے بچو کہ جھوٹ بدکاری کی طرف رہبری کرتا ہے اور یہ بدکاری آگ کی طرف ہادی ہے۳؎ اور انسان جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کی تلاش کرتا رہتا ہے حتی کہ الله کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتاہے۴؎(مسلم،بخاری)

کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4824

حدیث 4
سچے تاجر کو انبیاء و اولیاء کی رفاقت نصیب ہوگی
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ والصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارَقُطْنِيّ.
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے
سچا اور امانت دار بیوپاری ۱؎ پیغمبروں صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۲؎(ترمذی دارمی،دارقطنی)
کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 , حدیث نمبر:2796

حدیث 5

سچ باعث اطمینان ہے
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلٰى مَا لَا يَرِيبُكَ فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ

روایت ہے حضرت حسن ابن علی سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے ایک یہ بات یاد کی ہے ۱؎ کہ اسے چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے ادھر رجوع کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے ۲؎ کیونکہ سچ اطمینان ہے اور جھوٹ تردد ہے ۳؎(احمد، ترمذی،نسائی)
شرح
یعنی مؤمن کامل کا دل سچے کام و سچے کلام سے مطمئن ہوتا ہے اور مشکوک اشیاء سے قدرتی طور پر متردد ہوتا ہے۔ یہاں لمعات میں فرمایا گیا کہ جب آیتوں میں تعارض معلوم ہوتا ہو تو حدیث کی طرف رجوع کرو اور حدیثیں بھی متعارض نظر آئیں تو اقوال علماء کو تلاش کرو اور اگر ان میں بھی تعارض نظر آئے تو اپنے دل سے فتویٰ لو اور احتیاط پر عمل کرو،یہ سارے احکام صاف دل اور پاکیزہ نفوس کے لیے ہیں۔(لمعات مختصرًا)
کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 , حدیث نمبر:2773

حدیث 6
جھوٹے کے لیے خرابی ہے
وَعَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَيْلٌ لِمَنْ يُّحَدِّثُ فَيَكْذِبُ لِيُضْحِكَ بِهٖ الْقَوْمَ وَيْلٌ لَهٗ وَيْلٌ لَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالدَّارَمِيُّ

روایت ہے بہز بن حکیم سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے خرابی ہے اس کے لئے جو بات کرے تو جھوٹ بولے تاکہ اس سے قوم کو ہنسائے ۲؎ اس کے لئے خرابی ہے اس کے لئے خرابی ہے ۳؎(احمد،ترمذی، ابو داؤد،دارمی)

شرح
ویل کے معنی ہیں خرابی،افسوس،دوزخ کے ایک طبقہ کا نام بھی ویل ہے۔یہاں بمعنی خرابی۔تین بار ویل فرمانے میں اس جانب اشارہ ہے کہ ایسے شخص کیلئے دنیا میں بھی خرابی ہے،برزخ میں بھی ،آخرت میں بھی۔
کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4834

حدیث 7
جھوٹ بولنا بہت بڑی خیانت ہے

وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَسَدٍ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:
كَبُرَتْ خِيَانَةً أَنْ تُحَدِّثَ أَخَاكَ حَدِيثًا هُوَ لَكَ بِهٖ مُصَدِّقٌ وَأَنْتَ بِهٖ كاذبٌ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
روایت ہے حضرت سفیان ابن اسد حضرمی سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ بری خیانت یہ ہے کہ تو اپنے بھائی سے کوئی بات کرے جس میں وہ تجھے سچا سمجھتا ہو اور تو اس میں جھوٹا ہو ۱؎(ابوداؤ د)
کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4845

حدیث 8
جھوٹ کی نحوست

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَذَبَ الْعَبْدُ تَبَاعَدَ عَنْهُ الْمَلَكُ مِيلًا مِنْ نَتْنِ مَا جَاءَ بِهٖ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس سے ایک میل دور ہوجاتا ہے ۱؎ اس بدبو کی وجہ سے جوآتی ہے ۲؎(ترمذی)
کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4844

حدیث 9
جھوٹا شخص کامل ایمان والا نہیں ہوسکتا
وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّهٗ قِيلَ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ جَبَانًا؟قَالَ: نَعَمْ . فَقِيْلَ لَہٗ: أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ بَخِيلًا؟ قَالَ: نَعَمْ . فَقِيلَ لَہٗ: أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ كَذَّابًا؟ قَالَ: لَا .رَوَاهُ مَالِكٌ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ مُرْسَلًا
روایت ہے حضرت صفوان ابن سلیم سے ۱؎ کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ کیا مؤمن بزدل ہو سکتا ہے فرمایا ہاں پھر عرض کیا گیا کیامؤمن کنجوس ہوسکتا ہے فرما ہاں ۲؎ پھر عرض کیا گیا کیا مؤمن جھوٹا ہوسکتا ہے فرمایا نہیں ۳؎(مالک، بیہقی شعب الایمان ارسالًا)

شرح
یعنی مسلمان میں بزدلی یا کنجوسی فطری طور پر ہوسکتی ہے کہ یہ عیوب ایمان کے خلاف نہیں لہذا مؤمن میں ہوسکتی ہیں۔
۳؎کذاب فرماکر اس طرف اشارہ ہے کہ مؤمن گاہے بہ گاہے جھوٹ بول لے تو ہوسکتا ہے مگر بڑا جھوٹا ہمیشہ کا جھوٹا ہونا جھوٹ کا عادی ہونا مؤمن ہونے کی شان کے خلاف ہے،یہاں بھی وہ ہی مراد جو ابھی پہلی حدیث میں عرض کیا گیا یا مؤمن سے مراد کامل الایمان لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بہت مسلمان جھوٹے ہوتے ہیں۔

کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4862

حدیث 10
جھوٹ بولنا نفاق کی نشانی ہے

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
«آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ» . «إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اُؤْتُمِنَ خَانَ »
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتےہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی تین علامتیں ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے،وعدہ کرے تو خلاف کرے،امانت دی جائے تو خیانت کرے
شرح
یعنی یہ منافقوں کے کام ہیں۔مسلمان کوا س سے بچنا چاہئیے یہ نہیں کہ یہ جرم خود نفاق ہیں۔یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے یہ تینوں جرم کئے تھے مگر وہ نہ منافق ہوئے نہ کافر لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔
کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:55

حدیث 11

تین مقامات میں جھوٹ بولنا جائز ہے
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيْدَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "
لَا يَحِلُّ الْكَذِبُ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: كَذِبُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهٗ لِيُرْضِيَهَا وَالْكَذِبُ فِي الْحَرْبِ وَالْكَذِبُ لِيُصْلِحَ بَيْنَ النَّاسِ ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ
روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تین مقامات کے سواء کہیں جھوٹ جائز نہیں خاوند کا اپنی بیوی سے جھوٹ بولنا تاکہ اسے راضی کرے اور جھوٹ بولنا جنگ میں ۱ ؎ اور جھوٹ بولنا تاکہ لوگوں کے درمیان صلح کرائے ۲ ؎ (احمد،ترمذی)

۱؎ یعنی کفار سے جنگ کرتے ہوئے،مسلمان سے تو جنگ کرنا ہی حرام ہے چہ جائیکہ اس سے جھوٹ بولنا۔دوسری حدیث میں ہےالحرب خدعۃجنگ تدبیر اور چال کا نام ہے۔
۲؎ اس طرح کہ مسلمانوں میں مالی جائیدادی وغیرہ جھگڑے دور کردے اگرچہ جھوٹ کے ذریعہ سے کرے یہ جھوٹ درحقیقت جھوٹ نہیں بلکہ اصلاح ہے۔معلوم ہوا کہ مسلمانوں میں صلح کرانا ایسا ضروری ہے کہ اس کے لیے جھوٹ کی اجازت دی گئی۔
کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:5033

حدیث 12
عام آدمی کی ہر بات کو بغیر تحقیق آگے پہنچانے والا بھی جھوٹا ہے

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :
"كَفٰی بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
روایت ہے ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ
انسان کے جھوٹا ہونے کو یہ ہی کافی ہے کہ ہرسنی بات بیان کردے (مسلم)

۱؎ یعنی ہر ایرے غیرے کی ہر بات بغیر تحقیق کیے بیان کردے۔خصوصًا احادیث شریفہ ورنہ محدثین،فقہاء،علماء ان کی ہر بات پر عوام کو اعتماد کرنا پڑے گا۔رب تعالٰی فرماتا ہے:"لِیُنۡذِرُوۡا قَوْمَہُمْ اِذَا رَجَعُوۡۤا" لہذا یہ حدیث فقہاء کے اس قول کے خلا ف نہیں کہ دینی باتوں میں ایک کی خبرمعتبر ہے،محدثین خبرواحد کا اعتبارکرتے ہیں۔

کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:156
محمد نصراللہ مدنی
12شوال 1447ھ
یکم اپریل 2026ء بروز بدھ

14/05/2025

Learn the Holy Quran online with Qari Zaka Ullah, an experienced teacher offering Basic Islamic Education, Hifz-o-Nazira, Prayer Lessons, and Norani Qaida. Join from anywhere—contact now via WhatsApp: +92 300 2954839.

Want your school to be the top-listed School/college in Mansehra?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Tattoli
Mansehra
21400