06/12/2024
The Kids University Baffa Mansehra
Educational institution
06/12/2024
06/12/2024
Friday activities
Class Nursery.
O for 🍊
Friday activities...
Class Nursery.
O- for 🍊
14/08/2024
ﺍﯾﮏ ﺳﯿﮑﻨﮉﺭﯼ ﺳﮑﻮﻝ ﮐﮯ ﮨﯿﮉ ﻣﺎﺳﭩﺮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ کہ میں نے اسکول کے باھر لکھوا دیا کہ "اسکول کی عمارت پر لکھائی کرنا منع ھے" ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺳﮑﻮﻝ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺳﮑﻮﻝ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﯿﺮﻭﻧﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺑﮯ ﺩﺭﺩﯼ ﺳﮯ ﺳﭙﺮﮮ ﭘﯿﻨﭧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺧﺮﺍﻓﺎﺕ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺪﮮ ﻧﻘﺶ ﻭ ﻧﮕﺎﺭ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺧﺮﺍﺏ ﮐﺮ ﮈﺍﻻ ھے۔
ﻣﯿﺮﮮ ﺳﮑﻮﻝ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﯾﮧ ﭘﮩﻼ ﺍﻭﺭ ﺍﻓﺴﻮﺳﻨﺎﮎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﮑﻮﻝ ﺟﺎکر ﮐﭽﮫ ﺳﭩﺎﻑ ﮐﮯ ﺫﻣﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﭼﻼﺋﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﻭ ﻏﺎﺋﺐ ﮐﺎ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﻨﺪ ﺑﭽﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﮔﭽﮫ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﺘﮧ ﭼﻞ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ
ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﻮ ﻓﻮﻥ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﺎ ﭼﺎﮨﻮں گا ، ﮐﻞ ﺁﭖ ﺳﮑﻮﻝ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﯿﮟ۔
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﺎ ﺑﺎﭖ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺳﺎﺭﺍ ﻗﺼﮧ ﮐﮩﮧ ﮈﺍﻻ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﻠﻮﺍﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮍﮮ ﺩھیمے ﺳﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﯽ۔ لڑﮐﮯ ﻧﮯ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﻭﮨﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﻧﮕﺴﺎﺯ ﮐﻮ ﻓﻮﻥ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﻼﯾﺎ ، ﺩﯾﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﯿﺴﺎ ﺭﻧﮓ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ، ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺭﻭﯾﮯ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﯽ ، ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻟﯿﮑﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺷﻔﻘﺖ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭﺩﮬﯿﻤﯽ ﺳﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﮐﮩﺎ۔
"ﺑﯿﭩﮯ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺮ ﺍﻭﻧﭽﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺎﻡ ﺗﻮ ﻧﺎ ﮐﺮﻭ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺮ ﻧﯿﭽﺎ ﮨﻮ" ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻨﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﻭﺍﺿﺢ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺭﻭ ﺭﮨﺎ ھﮯ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﺧﻮﺏ ﻧﻔﺴﯿﺎﺗﯽ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺍﭘﻨﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮯ ﺟﻮ ﮐﺎﻡ ﮐﺮ ﺩﮐﮭﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﯾﺴﺎ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﺗﻮ ﻣﺎﺭ ﭘﯿﭧ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﺎ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮ ﭘﺎﺗﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﮯ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺑﭽﮯ، ﺗﯿﺮﺍ ﺑﺎﭖ ﺑﮩﺖ ﺷﻔﯿﻖ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺘﺮﻡ ﺍﻧﺴﺎﻥ ھے ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺎﺹ ﺳﺮﺯﻧﺶ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ، ﭘﮭﺮ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﺲ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺭﻭﻧﺎ ﺁﺭﮨﺎ ھے؟
ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﺳﺮ، ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﮧ ﺗﻮ ﺭﻭﻧﺎ ﺁ ﺭﮨﺎ ھﮯ ﮐﮧ ﮐﺎﺵ ﻣﯿﺮﺍ ﻭﺍﻟﺪ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺎﺭﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﺎ ﮐﮩﺘﺎ ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﻌﺬﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻟﯿﮑﺮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﭽﮯ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﻋﻠﯽٰ ﮐﺎﺭﮐﺮﺩﮔﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﭨﺎﭖ ﮐﯿﺎ۔
ﺳﭻ ﮐﮩﺎ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﮧ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﭘﯿﺎﺭ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﻧﺎ ﭼﺎھیئے ﻧﺎ ﮐﮧ ﮈﻧﮉﮮ ﺳﮯ ﯾﺎ ﮔﺎﻟﻢ ﮔﻠﻮﭺ ﺳﮯ۔
اسلیئے میں اپنی تحریروں میں بار بار اس بات پر زور دیتا ھوں کہ اپنی اولاد کو اچھا دوست بنا کر رکھو ورنہ بُرے لوگ ان سے دوستی کر کے انہیں بُرا بنا دینگے۔۔۔
میں اس بیٹی کو نہیں جانتا! مگر ایسی ہزاروں ہیں یہ جانتا ہوں
“خانہ بدوش”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🌹ریاست مدینہ کے داعی سے ایک پرائیویٹ اسکول ٹیچر کی اپیل🌹
۔۔۔جناب وزیراعظم پاکستان
مسندِ اقتدار پر بیٹھے آپ کیا جانیں ، تین ماہ لاک ڈاؤن کی اذیت کیا ہے، لیکن اگر فرصت ملے تو قوم کی بیٹی کی اس فریاد 🙏 اور داستانِ کرب کو پڑھ لیں،
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اُتر جائے ترے دل میں مری بات
ہم دو بہنیں ایک پرائیویٹ اسکول میں پڑھاتی ہیں. دونوں بہنوں کی ماہانہ تنخواہ ملاکر 30 ھزار تھی. جس سے دس ہزار گھر کا کرایہ دیتے تھے ، دو ہزار دادی اماں کی دوائی کے لیے رکھتے تھے، تین چھوٹے بہن بھائیوں کی اسکول فیس، جیب خرچی کے تین ہزار رکھتے تھے، باقی کے 15000 سے پورا مہینہ گذارا کرتے تھے، سبزی اور بجلی بل کے لیے گھر پر پانچ ھزار کی ٹیوشن پڑھایا کرتی تھیں.
میرے والد کی بھی کوئی ریگولر جاب نہیں ہے، کبھی مزدوری لگ جاتی تھی کبھی نہیں تھی، لیکن پچھلے تین ماہ سے گھر پر بیٹھے ہیں.
آپ کے دور اندیشانہ فیصلے، کورونا کو پھیلنے سے تو نہیں روک سکے لیکن ہماری چھوٹی سے خوشیوں کو یقیناً برباد کر گئے ہیں.
کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ریاستِ مدینہ میں ایسا وقت بھی آئے گا، رعایا بھوک سے خودکشی کرنے پر مجبور ہوگی، بیٹیوں کی عزت کی بولیاں لگیں گی اور #راعی اپنی زوجہ کے ساتھ نتھیا گلی کی سیر کر رہا ہوگا.
ہم سندہ کے لوگ تو ویسے ہی حکومتِ یزیدیہ میں رہ رہے ہیں، جہاں غریب کو روٹی کپڑا مکان کا نعرہ تو دیا جاتا ہے لیکن اصل میں ان سے جینا چھینا جاتا ہے.
لیکن جو ہم پر قیامت گذر رہی ہے اس کے بعد سمجھتی ہوں اس سے تو برطانیہ کی غلامی بہتر تھی.
تین ماہ سے تنخواہ بند، ٹیوشن بند، بابا کی مزدوری بند،
بس گھر کے اثاثے بیچ کر گھر کا کرایہ دے رہے ہیں اثاثے بھی کیا اماں کو جہیز میں ملنے والا آدھا تولہ سونا 😥
غربت دیکھ کر دادی اماں نے دوائی لینے سے انکار کر دیا اور یوں پندرہ روز کے اندر ایک فیملی میمبر کا آٹا اور دو ہزار کی دوائی کے پیسے بچ گئے.
رمضان المبارک میں پانی ہی سب سے بڑی نعمت تھی، اماں چھوٹے بہن بھائیوں کو باہر جانیں نہیں دیتیں تھیں کہ کہیں پڑوس کے گھروں کے سامنے فروٹ کے چھلکے دیکھ کر مایوس نہ ہوں.
چھوٹے بہن بھائیوں کے عید کپڑوں نے کافی پریشان رکھا، اماں کو بھیجا کہ پڑوس سے اگر سلائی کے کپڑے مل جائیں تو سلائی کرکے چھوٹوں کو عید سوٹ دلوائیں، لیکن وہاں سے بھی مایوسی ہوئی.
مایوس ہوکر اسکول مالک سے رابطہ کیا، انہوں نے تین ماہ کا فیس ریکارڈ دکھایا تو ریکوری صفر تھی، میں چپ چاپ اٹھنے لگی تھی تو انہوں نے پانچ ہزار روپے دیتے کہا بیٹا حالات یہ ہیں کہ قرضہ کے اوپر قرضہ لیکر کرایہ دے رہے ہیں. پاکستان کے لاکھوں پرائیویٹ اسکولز کا یہی حال ہے، سترہ لاکھ اساتذہ نہیں سترہ لاکھ خاندان فاقہ کشی میں مبتلا ہیں.
اے ریاستِ مدینہ کے داعی،،،
اب تو عزت کے علاوہ کچھ بیچنے کو بچا ہی نہیں ہے. 😥
مالکِ مکان کو جب گھر کے باہر للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتی ہوں تو دل کرتا ہے زمین جگہ دے دے اور زمین کے اندر دھنس جاؤں، لیکن سوچتی ہوں کہ یہاں تو خواتین کے لاش بھی محفوظ نہیں ہیں.
اے ظلّ الہی !!!!
اگر دل رکھتے ہو تو قوم کی بیٹی کی اس فریاد پر خدارا ذرا غور کرنا.
ملک میں سترہ لاکھ پرائیویٹ اسکول ٹیچرز بے روزگار ہوئے ہیں، شاید ہر گھر کی یہی کہانی ہو، ہم ایسے پیشے سے وابستہ ہیں کہ نہ تو ہاتھ پھیلا سکتے ہیں اور نہ ہی امداد کے لئے لائن میں کھڑے ہوسکتے ہیں، ہماری سفید پوشی کا بھرم رکھنا....
چیف جسٹس بار کی حمایت حاصل کرنے کے لیے فی وکیل کو 12000 روپے دلواتے ہیں لیکن قوم کے ان معماروں کا کسی نے نہیں سوچا😥
نہ تو ہمارے ایم پی ایز، ایم این اوز کو کبھی خیال آیا اور نہ تو کسی وزیر کبیر نے کبھی بیان دیا. کیونکہ ہم الیکشن میں کام آنے والے مہرے نہیں ہیں اور نہ ہی کالی وردی والوں کی طرح ججز کے حق میں نعرے لگانے والے ہیں.
میں قوم کی بیٹی آپ کی خدمت میں ان سترہ لاکھ خاندانوں کی فریاد رکھتی ہوں، تمام پرائیویٹ اسکول ملازمین کو لاک ڈاؤن کے دوراں قرض حسنہ کے طور پر ماہانہ الاؤنس دیا جائے، تا کہ کوئی بیٹی بھیڑیوں کے نذر ہونے سے بچ جائے.
اے داعی ریاست مدینہ،،،
اگر یہ نہیں کر سکتے ہو تو ایک کام کریں، ہمیں چھ فوٹ زمین کا ٹکڑا دیا جائے جہاں سکون سے سو سکیں، اور مرنے کے بعد کسی کی درندگی کا شکار نہ ہو سکیں.
🙏🙏🙏
آپ کی.............
(باشعور قومیں تو ہمیں معمارِ قوم کہتی ہیں،
آپ کیا سمجھتے ہیں یہ آپ پر چھوڑتی ہوں)
01/05/2020
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Mansehra
Opening Hours
| Monday | 08:00 - 17:00 |
| Tuesday | 08:00 - 17:00 |
| Wednesday | 08:00 - 17:00 |
| Thursday | 08:00 - 17:00 |
| Friday | 08:00 - 12:00 |
| Saturday | 08:00 - 17:00 |