Mufti Muhammad yasir

Mufti Muhammad yasir � Islamic Personality
� Educational Consultant

مولوی سے سوال یا دین سے فرار؟کمال ہے سوشل میڈیا کی اس دانشوری کا!ایک فرد کی غلطی سامنے آئی نہیں کہ فوراً پورے طبقۂ علماء...
08/08/2026

مولوی سے سوال یا دین سے فرار؟
کمال ہے سوشل میڈیا کی اس دانشوری کا!
ایک فرد کی غلطی سامنے آئی نہیں کہ فوراً پورے طبقۂ علماء کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ اگر کسی ڈاکٹر سے جرم ہوجائے تو میڈیکل سائنس مجرم نہیں بنتی، کسی وکیل سے خیانت ہوجائے تو قانون ختم نہیں ہوجاتا، کسی سیاست دان کی کرپشن سے جمہوریت باطل نہیں ہوجاتی؛ پھر ایک شخص کے جرم سے پورا دین اور پورا طبقۂ علماء کیسے مجرم ہوگیا؟
اگر کسی مدرس، استاد یا مولوی نے بچے کے ساتھ بدفعلی کی ہے تو وہ یقیناً سنگین جرم، ظلم اور خیانت ہے۔ اسے چھپانا یا اس کا دفاع کرنا درست نہیں۔ مجرم خواہ مولوی ہو، استاد ہو، ڈاکٹر ہو یا سیاست دان—اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔
لیکن یہاں اصل سوال یہ ہے:
مجرم کو مجرم کیوں نہیں رہنے دیا جاتا؟ اسے "مولوی" بنا کر پورے دین کو ملزم کیوں بنایا جاتا ہے؟
قرآن کہتا ہے:
فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
"اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھو۔"
(النحل: 43)
یعنی قرآن نے اہلِ علم سے رجوع کرنے کی تعلیم دی ہے۔ علماء معصوم نہیں، ان سے غلطی بھی ہوسکتی ہے اور ان سے اختلاف بھی ہوسکتا ہے، لیکن علماء کی ضرورت سے انکار کرنا قرآن کے اس اصول سے انحراف ہے۔
اور عجیب بات یہ ہے کہ جو لوگ ہر معاملے میں "سوال کرو، سوال کرو" کا نعرہ لگاتے ہیں، ان سے کوئی پوچھے:
سوال ضرور کرو، مگر جواب بھی علم سے تلاش کرو گے یا صرف گوگل اور فیس بک کی پوسٹ سے؟
دو منٹ کی ویڈیو دیکھی، تین جملے پڑھے، چار ایموجی لگائے اور پانچ سو سالہ علمی روایت کا فیصلہ سنا دیا!
واہ! کیا خوب تحقیق ہے!
تنقید کیجیے، ضرور کیجیے۔
علماء سے سوال کیجیے، ضرور کیجیے۔
غلط عالم کو بے نقاب کیجیے، ضرور کیجیے۔
مگر ایک شخص کی غلطی کو پورے دین کا مسئلہ بنا دینا علمی دیانت نہیں، تعصب ہے۔
ہم کسی مولوی کو معصوم نہیں سمجھتے؛ معصوم صرف انبیاء علیہم السلام ہیں۔
لیکن یہ بھی نہیں مانتے کہ کسی ایک شخص کی بدکرداری کی وجہ سے قرآن، حدیث، مسجد، مدرسہ اور علماء سب کٹہرے میں کھڑے کردیئے جائیں۔
اصل اصول بہت سادہ ہے:
مجرم کو سزا دو، دین کو نہیں۔
غلط عالم کی اصلاح کرو، علماء کو نہیں مٹاؤ۔
دلیل سے اختلاف کرو، طنز سے نہیں۔
اور لبرل دانشوری کے ان خود ساختہ منصفوں سے بس اتنا:
چراغِ علم بجھانے سے اندھیرا کم نہیں ہوتا
سوال کرنے سے دین کبھی کمزور نہیں ہوتا
مگر علم کے بغیر فتویٰ دینے والو!
تمہارا شور کبھی دلیل نہیں ہوتا۔
مولوی دین نہیں، مگر دین سمجھنے کے لیے علماء کی ضرورت ضرور ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ علم والا سوال کرتا ہے، متعصب شخص سوال کے بہانے اپنا فیصلہ سناتا ہے۔

30/07/2026

بارشیں، گرتی چھتیں اور بڑھتا جانی نقصان — ذمہ دار کون؟
گزشتہ چند برسوں سے پنجاب کے مختلف اضلاع سے آئے روز یہ افسوسناک خبریں سامنے آتی ہیں کہ کہیں مکان کی چھت گر گئی، کہیں کچی دیوار منہدم ہو گئی، کہیں پورا گھر زمین بوس ہو گیا، جس کے نتیجے میں معصوم بچے، خواتین اور بزرگ جان کی بازی ہار گئے یا شدید زخمی ہو گئے۔ ہر بار چند روز افسوس کیا جاتا ہے، امدادی اعلانات ہوتے ہیں، مگر پھر یہی سانحہ کسی دوسرے شہر یا گاؤں میں دہرایا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر یہ سلسلہ کب رکے گا؟
چھتیں کیوں گرتی ہیں؟
ماہرین کے مطابق چھت یا عمارت گرنے کی چند بڑی وجوہات یہ ہیں:
بوسیدہ اور پرانے مکانات، جن کی برسوں سے مرمت نہیں کی گئی۔
ناقص تعمیراتی سامان کا استعمال۔
تعمیر کے وقت انجینئرنگ اصولوں کو نظر انداز کرنا۔
بارش کا پانی چھت میں جذب ہونا، جس سے سریا زنگ آلود اور کنکریٹ کمزور ہو جاتا ہے۔
چھت پر پانی کھڑا رہنا اور مناسب نکاسی کا انتظام نہ ہونا۔
بغیر ماہر کی رائے کے پرانی عمارت پر نئی منزل تعمیر کر دینا۔
عوام کی ذمہ داری
حکومت سے پہلے ہر شہری کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ:
بارشوں کے موسم سے پہلے اپنے گھر کی چھت، دیواروں اور شہتیروں کا معائنہ کروائے۔
اگر چھت میں دراڑیں، جھکاؤ یا مسلسل رساؤ ہو تو فوری مرمت کروائے۔
انتہائی خستہ حال مکان میں رہنے سے حتیٰ الامکان گریز کرے۔
موسلادھار بارش کے دوران ایسی کمزور چھتوں کے نیچے سونے سے بچے۔
گھر کے افراد خصوصاً بچوں کو خطرناک جگہوں سے دور رکھے۔
حکومت کی ذمہ داری
یہ مسئلہ صرف انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی بھی ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ:
ہر ضلع میں خستہ حال عمارتوں کا باقاعدہ سروے کرایا جائے۔
خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کے مالکان کو بروقت نوٹس دیے جائیں۔
غریب خاندانوں کے لیے محفوظ رہائش یا مرمت کے خصوصی فنڈز قائم کیے جائیں۔
تعمیرات کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔
عوام میں بارشوں سے پہلے حفاظتی آگاہی مہم چلائی جائے۔
ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ہر وقت تیار رکھا جائے۔
یہ صرف حادثہ نہیں، سبق بھی ہے
ہر گرنے والی چھت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ اگر بروقت معائنہ، مرمت اور ذمہ دارانہ اقدامات کیے جائیں تو بے شمار قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
اسلام بھی ہمیں اپنی جان اور دوسروں کی جان کی حفاظت کا حکم دیتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾
"اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو۔"
(سورۃ البقرہ: 195)
لہٰذا ضروری ہے کہ عوام، حکومت، متعلقہ ادارے اور تعمیراتی شعبہ سب اپنی اپنی ذمہ داری پوری کریں تاکہ ہر بارش کسی نئے ماتم کا سبب نہ بنے بلکہ رحمت ثابت ہو۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو ہر قسم کے حادثات سے محفوظ فرمائے اور ہمیں اسباب اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

22/07/2026

صوبہ پنجاب ضلع گجرات تحصیل کنجا کے گاؤں کوٹ متہ کے گردونواح میں شدید بارش کے بعد کے مناظر ملاحظہ فرمائیں ۔

12/07/2026

عوامی اطلاع

تمام معزز احباب کو مطلع کیا جاتا ہے کہ میرا قومی شناختی کارڈ گم ہو چکا ہے۔ کافی تلاش کے باوجود تاحال نہیں مل سکا۔

لہٰذا اس عوامی اطلاع کے ذریعے واضح کیا جاتا ہے کہ اگر میرے گمشدہ شناختی کارڈ کا کسی بھی قسم کے غیر قانونی، مالی، انتظامی یا کسی اور غلط مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو اس کی تمام تر قانونی و اخلاقی ذمہ داری استعمال کرنے والے شخص پر ہوگی۔ میں ایسے کسی بھی عمل سے مکمل طور پر لاتعلق ہوں۔

اگر کسی صاحب کو میرا شناختی کارڈ ملے تو براہِ کرم درج ذیل نمبر پر فوری رابطہ فرمائیں یا قریبی پولیس اسٹیشن میں جمع کرا دیں۔

رابطہ نمبر: 0322-5301052

آپ کے تعاون کا تہہ دل سے شکریہ۔

11/07/2026

کڑمنگ پائیں میں بننے والا پکنک پوائنٹ

10/07/2026

Address

مانسہرہ
Mansehra
21300

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mufti Muhammad yasir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share