08/08/2026
مولوی سے سوال یا دین سے فرار؟
کمال ہے سوشل میڈیا کی اس دانشوری کا!
ایک فرد کی غلطی سامنے آئی نہیں کہ فوراً پورے طبقۂ علماء کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ اگر کسی ڈاکٹر سے جرم ہوجائے تو میڈیکل سائنس مجرم نہیں بنتی، کسی وکیل سے خیانت ہوجائے تو قانون ختم نہیں ہوجاتا، کسی سیاست دان کی کرپشن سے جمہوریت باطل نہیں ہوجاتی؛ پھر ایک شخص کے جرم سے پورا دین اور پورا طبقۂ علماء کیسے مجرم ہوگیا؟
اگر کسی مدرس، استاد یا مولوی نے بچے کے ساتھ بدفعلی کی ہے تو وہ یقیناً سنگین جرم، ظلم اور خیانت ہے۔ اسے چھپانا یا اس کا دفاع کرنا درست نہیں۔ مجرم خواہ مولوی ہو، استاد ہو، ڈاکٹر ہو یا سیاست دان—اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔
لیکن یہاں اصل سوال یہ ہے:
مجرم کو مجرم کیوں نہیں رہنے دیا جاتا؟ اسے "مولوی" بنا کر پورے دین کو ملزم کیوں بنایا جاتا ہے؟
قرآن کہتا ہے:
فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
"اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھو۔"
(النحل: 43)
یعنی قرآن نے اہلِ علم سے رجوع کرنے کی تعلیم دی ہے۔ علماء معصوم نہیں، ان سے غلطی بھی ہوسکتی ہے اور ان سے اختلاف بھی ہوسکتا ہے، لیکن علماء کی ضرورت سے انکار کرنا قرآن کے اس اصول سے انحراف ہے۔
اور عجیب بات یہ ہے کہ جو لوگ ہر معاملے میں "سوال کرو، سوال کرو" کا نعرہ لگاتے ہیں، ان سے کوئی پوچھے:
سوال ضرور کرو، مگر جواب بھی علم سے تلاش کرو گے یا صرف گوگل اور فیس بک کی پوسٹ سے؟
دو منٹ کی ویڈیو دیکھی، تین جملے پڑھے، چار ایموجی لگائے اور پانچ سو سالہ علمی روایت کا فیصلہ سنا دیا!
واہ! کیا خوب تحقیق ہے!
تنقید کیجیے، ضرور کیجیے۔
علماء سے سوال کیجیے، ضرور کیجیے۔
غلط عالم کو بے نقاب کیجیے، ضرور کیجیے۔
مگر ایک شخص کی غلطی کو پورے دین کا مسئلہ بنا دینا علمی دیانت نہیں، تعصب ہے۔
ہم کسی مولوی کو معصوم نہیں سمجھتے؛ معصوم صرف انبیاء علیہم السلام ہیں۔
لیکن یہ بھی نہیں مانتے کہ کسی ایک شخص کی بدکرداری کی وجہ سے قرآن، حدیث، مسجد، مدرسہ اور علماء سب کٹہرے میں کھڑے کردیئے جائیں۔
اصل اصول بہت سادہ ہے:
مجرم کو سزا دو، دین کو نہیں۔
غلط عالم کی اصلاح کرو، علماء کو نہیں مٹاؤ۔
دلیل سے اختلاف کرو، طنز سے نہیں۔
اور لبرل دانشوری کے ان خود ساختہ منصفوں سے بس اتنا:
چراغِ علم بجھانے سے اندھیرا کم نہیں ہوتا
سوال کرنے سے دین کبھی کمزور نہیں ہوتا
مگر علم کے بغیر فتویٰ دینے والو!
تمہارا شور کبھی دلیل نہیں ہوتا۔
مولوی دین نہیں، مگر دین سمجھنے کے لیے علماء کی ضرورت ضرور ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ علم والا سوال کرتا ہے، متعصب شخص سوال کے بہانے اپنا فیصلہ سناتا ہے۔