ممکن ہے کہ دوسری دنیا کی تقویم میں بس اک ساعت ہو
اس ماہ ربیع الاول کی ، اس عالم ساز مہینے کی
تشکیک زدہ ان لوگوں میں ہم یقیں پروردہ ہیں
ہم آخری منزل جانتے ہیں اس نیلے گول سفینے کی
(سعود عثمانی)
صلی اللہ علیہ وسلم
Molana Muhammad Asim Shoaib
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Molana Muhammad Asim Shoaib, Tutor/Teacher, Lassan Nawab Mansehra, Mansehra.
You can visit this page:
Teaching Quran,
Hadith lesson،
Biography of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم
Important information
manners of society
And besides religious and moral lessons ۔
آہ ہا
انا للہ وانا الیہ راجعون
پیارے دادا ابو مولانا وصی الرحمان صاحب دنیا فانی سے رحلت فرماگئے
جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا
قدیم تہذیبوں اور فلسفوں کی لڑائی میں اور اب کی اس جدید دور کی لڑائی میں بڑے فروق (بہت سارے فرق ) ہیں لیکن ان میں سے جو اہم عنصر ہے وہ یہ کہ جس قوم میں خوداعتمادی ، ایمان اور یقین ہوگا وہی قوم اپنی تہذیب اور ثقافت برقرار رکھ سکے گی ۔
لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ اگر ہم اپنے اعمال کی نحوست کی بنا پر قیادت ، سیاست ، معیشت ،طاقت سے محروم ہوچکے ہیں لیکن حوصلہ رکھیں مضبوط ہو جائیں کم ازکم ہمارا نظریہ تو محفوظ ہے ہماری ساخت برقرار ہے ، پہچان موجود ہے ، بنیاد مستحکم ہے ۔
ہمیں خود اعتمادی کا مظاہرہ کرنا ہوگا کسی سے مرعوب مت ہوں ، ہمارا مقابلہ فقط مغربی توپوں اور مسلح فوجوں سے نہیں بلکہ ان کی تہذیب سے ہے جو ٹیکنالوجی کی صورت میں آج ہماری گھر کی دہلیز سے اندر گھس گئی ہے
ارشاد خداوندی ہے :
اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہیں تنہا چھوڑ دے تو کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے ؟ اور مومنوں کو چاہیے کہ وہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں۔ (آل عمران 160)
ایمان اور یقین کی دولت کو ہاتھ سے نہ نکلنے دیں یہی وہ ذریعہ جس کی بدولت ہمارے حوصلے بلند ہوتے ہیں ،ہمتوں کو سہارا ملتا ہے اور بہادری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔
ارشاد خداوندی ہے :
(مسلمانو) تم نہ تو کمزور پڑو، اور نہ غمگین رہو، اگر تم واقعی مومن رہو تو تم ہی سربلند ہوگے۔ ( آل عمران 139)
قرآن کریم کے اکثر مقامات پر اصلاح معاشرہ کے لیے ایک نسخہ اکسیر ذکر کیا ہے کہ وہ اللہ پر ، اللہ کی ملاقات پر اور آخرت پر یقین رکھیں ۔ اس لیے کہ یہ یقین انسان کے باطن کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ دنیا میں ہم جو بھی غمل کررہے ہیں اس کا ہمیں آخرت میں ضرور بدلہ ملے گا نیک کو اجر ملے گا اور نافرمان کو سزا ملے گی اہم بات یہ کہ عقیدہ توحید اور عقیدہ آخرت انسانی دل کی اصلاح کرتے ہیں کہ ہر وقت ہر عمل کے دوران آخرت کی نیت ہونی چاہیے ۔
آپ دیکھیں کہ جہاں کہیں فساد اور گناہوں پر جرات نظر آئے تو سمجھ لیں کہ عقائد کی خرابی پیدا ہوگئی ہے ۔
معیشت میں نبوی معاشی نظام ، معاشرے میں اسلامی معاشرہ اور خاندان میں اسلامی خاندانی نظام ہی ہمارے مسائل کا واحد حل ہےاور پراطمینان زندگی کا راز ہے ۔ ہر کام دوسرے پر ڈالنے کے بجائے اپنے ذمہ کا کام کیجئے ۔
دارالعلوم اصحاب صفہ کا اپنا وٹس ایپ گروپ ہے جس میں یومیہ درس قرآن بھیجا جاتا ہے اور تدریسی امور پر رہنمائی کے ساتھ ساتھ اصلاحی بیان بھی بھیجیں جاتے ہیں ۔جڑنے کے لیے لنک استعمال کیجئے
نمبر محفوظ رہے گا ۔
صدقہ کیا ہے ؟
مال قربان کرنا ، یا جانور ذبح کرنا صدقہ ہے ، نہیں صدقہ کا مفہوم بہت وسیع ہے احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر نیکی صدقہ ہے ۔
جیسا کہ
عن سعيد بن ابي بردة ، عن ابيه ، عن جده ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: "
على كل مسلم صدقة "، قيل: ارايت إن لم يجد؟، قال: يعتمل بيديه، فينفع نفسه ويتصدق، قال: قيل: ارايت إن لم يستطع؟، قال: يعين ذا الحاجة الملهوف "، قال: قيل له: ارايت إن لم يستطع؟، قال: يامر بالمعروف او الخير، قال: ارايت إن لم يفعل؟، قال: يمسك عن الشر فإنها صدقة "،
ترجمہ :-
آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہر مسلمان پر صدقہ لازم ہے"کہا گیا: آپ کا کیا خیال ہے اگراسے (صدقہ کرنے کے لئے کوئی چیز) نہ ملے؟فرمایا: "اپنے ہاتھوں سے کام کرکے ا پنے آپ کو فائدہ پہنچائے اور صدقہ (بھی) کرے۔"اس نے کہا: عرض کی گئی، آپ کیا فرماتے ہیں اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھے؟فرمایا: " بے بس ضرورت مند کی مدد کرے۔"کہا، آپ سے کہا گیا: دیکھئے!اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہ رکھے؟فرمایا: "نیکی یا بھلائی کاحکم دے۔"کہا: دیکھئے اگر وہ ایسا بھی نہ کرسکے؟فرمایا: "وہ (اپنے آپ کو) شر سے روک لے، یہ بھی صدقہ ہے۔"
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اعمال کا مدار خاتمہ پر ہے ۔ انسان کو ہر وقت اپنے اعمال کی فکر کرنی چاہیے ۔ اعمال پر مغرور رہنا اسے ضائع کردیتا ہے ۔
✍️
راستے سے بھٹکے ہوئے لوگوں کی دو قسمیں ہوتی ہیں
ایک تو وہ ہیں کہ جو کسی عارض کی وجہ سے یا کسی خاص وجہ سے صراط مستقیم سے الگ ہو جاتے ہیں اور سرکشی میں سرگرداں ہوجاتے ہیں اپنی اس گمراہی کو بھی ہدایت سمجھتے ہیں اور اس پر مطمئن ہوتے ہیں نہ وہ خود اس سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ کسی برہان ودلیل کو حق مانتے ہیں ۔ ان کا نتیجہ یہ ہیکہ وہ کبھی ہدایت پر نہیں آسکتے کیونکہ انہوں نے خود اس راہ کو حق جان کر اصل راستے سے علیحدگی اختیار کی ہے ۔
دوسرا وہ طبقہ ہے جو وقتی طور پر آباءاجداد ، جاہل رہبر ، خاص مشنری یا کسی نیم حکیم کی وجہ سے راہ راست سے بھٹک جاتا ہے مگراس طبقہ کی خاص بات یہ ہے کہ ان کا دل محفوظ ہوتا ہے یعنی قابل اصلاح ہوتا ہے وہ اکثر اس کوشش میں رہتے ہیں کہ ہمیں کوئی برہان میسر آجائے اور کوئی ایسی راہ نکل آئے کہ ہم صراط مستقیم پر آجائیں ۔
ارشاد گرامی ہے :
اور جن لوگوں نے ہماری خاطر کوشش کی ہے، ہم انہیں ضرور بالضرور اپنے راستوں پر پہنچائیں گے، اور یقینا اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (العنکبوت 69)
یہ باری تعالی کی طرف سے عظیم نعمت وخوشخبری ہے کہ ہم انہیں ضرور اپنے راستے پر چلائیں گے مگر اس کے لیے دو بنیادی باتیں یاد رکھنے کی ہیں ۔
1:کوشش ،یعنی ہم جہاں کھڑے ہیں اس کا تعین کریں اور درست سمت کی پہچان کرکے اس طرف قدم اٹھائیں
2: صادقین (نیک ) کی معیت و صحبت کو لازم پکڑیں ، مشورہ لیتے رہیں اور جو ہدایات سامنے آئیں ان پر سختی سے عمل کرنے کی کوشش کی جائے ۔
3 :مستقل مزاجی سے دعا کو اپنی عادت بنا لی جائے ۔ تاکہ دعا میں کبھی ناغہ نہ ہو ۔
اللہ کریم ہمیں حق پر استقامت عطا فرمائے اور ہمیشہ نیکوں کی معیت ، صحبت اور ان سایہ نصیب فرمائے ۔ آمین
✍️ابن شعیب
اقبال کے شاہین پہلے تو ڈگریاں لیے گھومتے پھرتے خوار ہوتے ہوئے شرمندہ تھے مگر آج اس قوم کی حالت دیکھئے ،اپنی مرضی کے موافق رزلٹ نہ ملنے پر خودکشی کی خبریں مل رہی ہیں ۔ فیا للعجب
بھائیو !امتحان دنیا کا ہو یا آخرت کا ، آپ یوم نتیجہ پر یقین رکھیں اور اس کے لیے محنت کریں کل قیامت کو بھی پاس اورفیل ہوں گے اور فیل ہونے والوں کا پہلا لفظ یہی ہوگا ۔۔۔۔۔۔یلیتنی ،
ہر فیل شدہ آدمی اپنی ہلاکت کو پکارے گا ۔
کوفیوں کی یہ عادت پرانی ہے ۔ قیامت تک ذلت مقدر رہے گی۔ اپنے سینوں کو پیٹتے ہو اور دوسروں کی پشت پر وار کرتے ہو ۔آل ابن سبا
اسماعیل ہنیہ کی جدائی پر انتہائی غم ہے لیکن یاد رکھیں ! اللہ تعالی نے اس امر سے لوگوں کے دلوں میں جو شبہ تھا کہ یہ غدار ان کا حمایتی ہے اسے دورکردیا ہے اور واضح ہوگیا کہ ابتداء اس مسئلہ میں یہ ملک اچھل کود کر شرکت کررہا تھا 200 میزائل کا ناٹک کررہا تھا اصل میں صرف اور صرف پیٹھ میں چھرا مارنا تھا وہ چھرا آج سامنے آگیا ہے ۔
اسماعیل ہنیہ شہید رح تاریخ کا حصہ ہے آپ کی شہادت قوت کو جلا بخشے گی ان شاء اللہ
اللہ کریم جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔ آمین
✍️ابن شعیب
ماننے کی صلاحیت نہ ہو تو غلطیاں پیدا ہوتی ہیں ۔ دینی میدان میں یہ بار بار کی غلطیاں انسان کو سیدھے راستے سے دور کرنے کے لیے سبب بنتی ہیں ۔
گزشتہ ہفتہ کی بات ہے کہ ہماری ایک کلاس کے بچوں سے گھر میں کسی بھی وجہ سے شش کلمے سنے گئے یا شاید کوئی مہمان آئے ہوئے تھے وہ بچے مل کر دہرا رہے تھے ۔باہر والے بچوں نے کہا کہ آپ کا پانچواں کلمہ صحیح نہیں ہے ہماری کلاس کے بچے نہ مانے ، کہا ! ایسا نہیں ہوسکتا ہمارے قاری صاحب ہر بات دلیل سے کرتے ہیں اور ہمیں کتاب دکھاتے ہیں پھر ہمیں پڑھاتے ہیں ۔
ایسے بات نہ بنی۔۔۔اب بات گھر والوں تک پہنچ گئی ۔انہوں نے دونوں طرف داروں سے پانچواں کلمہ سنا ۔
ہمارے طلبہ نے پڑھا "استغفر اللہ ربی من کل ذنب اذنبتہ عمدا (عمدا میں میم ساکن)جبکہ باقی بچوں نے پڑھا "استغفراللہ ربی من کل اذنبتہ عمدا (میم پر زبر) ۔
گھر میں جمع افراد نے فیصلہ کیا کہ ہمارے بچے غلط پڑھ رہے ہیں اور ان کے قاری صاحب بھی غلطی پر ہیں ۔ چنانچہ بات ہم تک پہنچ گئی ہم نے بچوں کو مطمئن کیا کہ یہ کلمے ہوں یا کوئی بھی عربی عبارت ہو ان پر اعراب (زبر ،زیر وغیرہ) یہ لغت سے لگائے جاتے ہیں ۔ گرائمر کے قوانین ہوتے ہیں ۔ عربی ڈکشنریاں موجود ہیں ان سے پتہ چلتا ہے ۔ ہم نے موبائل سے المنجد بچوں کو دکھائی کہ عمدا (زبرکے ساتھ ) پڑھیں تو ستون اور سہارا کا معنی بنتا ہے (چھت میں ستون لگایا ) ۔ اور اگر عمدا (ساکن) پڑھیں تو جان بوجھ کر کرنا ، ارادے کے ساتھ کام کرنا ، کے معنی ہیں ۔ یہاں پانچویں کلمہ میں دوسرے والا (ساکن ) عمدا ہے ۔
بچوں نے گھر میں جاکر بتایا کہ قاری صاحب نے موبائل سے ہمیں عربی لغت دکھائی ہے اس میں بھی عمدا (ساکن) ہے ۔ چاہیے تو یہ تھا کہ مان جاتے اور قبول کرتے کہ یہ صحیح ہے ۔ لیکن انہوں نے الٹا اپنے ہی بچوں کو صحیح بات سے ہٹانے کی کوشش کی کہ آپ قاری صاحب سے بولیں موبائل میں بات سچ نہیں ہوتی کتاب کا حوالہ دیں ، ہم نے بھی اسے بھی قبول کیا کہ ہمارے پاس ساٹھ کی دھائی میں خریدی گئی المنجد موجود ہے ہم اس سے دکھادیں گے مگر بچو! آپ صحیح بات سے کبھی انحراف نہ کرنا۔
پیارے بچو آپ کے لیے ہمیشہ دعائیں رہیں گی ۔
اس واقعہ میں دو باتیں ہیں۔
پہلی بات
سوال یہ ہیکہ یہ جملہ آپ کے ہاں کہاں تک صحیح ہے 'موبائل کی بات سچ نہیں ہوتی ' ؟
اگر ہر وقت بات سچ نہیں ہوتی ہے تو ہم مان لیں گے چلو آپ کے علاقے میں ٹیکنالوجی کا ابھی تک صحیح استعمال آیا ہی نہیں ہے ۔ لیکن کل موسم کی بات آئے گی تو آپ کہیں گے ۔ موبائل میں دیکھا موسم خراب ہوگا ۔ فلاں بندے نے کہا کہ بھینس کی قربانی صحیح نہیں ہے وغیرہ وغیرہ ۔ بعد ازاں بوجوہ ہم آپ کی بات نہیں مان سکیں گے ۔
دوسری بات
ہمارا ذہن بن گیا ہے کہ جو بات ہمیں معلوم ہے وہی سچ ہے اس کے علاوہ ہر بات جھوٹی ہے ۔ جبکہ دنیا بہت وسیع ہے ہر علم والے پر ذی علم ہے جو اس کی اصلاح کرسکتا ہے ۔ اگر آپ کی معلومات کی بنیاد قرآن وحدیث اور دلیل نہیں ہے تو آپ کی معلومات کی حیثیت نہیں ۔ ا اصلاح کی کوشش کی جانی چاہیے ۔
اللہ کریم ہم سب کو صحیح راستے کی سمجھ عطا فرمائے ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Mansehra