Inamullah Ibn-E-Adam

Inamullah Ibn-E-Adam

Share

Whether you’re a student or an enthusiast {Inamullah Ibn-E-Adam} is your source for knowledge! Follow

25/03/2026

ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کا عرب اور مسلم عوام کے نام نیا پیغام (اردو ترجمہ):

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

میرے عرب دنیا کے مسلم بھائیوں،

اسلامی دنیا نے اس سال ایک اور عید دیکھی ہے جو گزشتہ برسوں سے مختلف ہے۔ ہم ایران کے خلاف صہیونیوں اور امریکیوں کے جرائم کی ایک نئی لہر دیکھ رہے ہیں—ایران جو اسلامی دنیا کا ایک اہم ستون ہے—ایک ایسا ملک جو ہمیشہ اسلامی امت کے دفاع کرنے والوں کے ساتھ کھڑا رہا ہے، خاص طور پر مظلوم فلسطینی عوام کے معاملے میں۔

یہ بات بارہا ثابت ہو چکی ہے، ان قربانیوں اور براہ راست جنگوں کے ذریعے جن کا سامنا کیا گیا۔

تاہم، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی جڑوں کی طرف لوٹیں۔ ہم مسلمانوں کو اللہ کے کلام، قرآن کی طرف رجوع کرنا ہوگا:

"انہیں اپنا دوست نہ بناؤ جب تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں۔ لیکن اگر وہ منہ موڑ لیں تو انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو، اور ان میں سے کسی کو دوست یا مددگار نہ بناؤ۔"

اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر مسلمانوں کو کفار کے حوالے اپنے معاملات کرنے سے منع کیا ہے اور حکم دیا ہے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں پر امیدیں نہ رکھیں۔

ہم ایک ایسی اسلامی امت ہیں جس کی تہذیبی بنیادیں گہری ہیں۔ ایک متحد دنیا، جو اسلامی اصولوں اور قرآن کو تھامے ہوئے ہو، اپنے مستقبل اور آنے والی نسلوں کی خوشحالی کو یقینی بنا سکتی ہے۔

اے مسلم بھائیو،

ہمیں اپنے خطے کی سلامتی کے لیے کسی دور دراز ملک کی ضرورت نہیں۔ ہمیں ایسے ملک کی ضرورت نہیں جو ہمیں اپنے الفاظ میں "دودھ دینے والی گائے" سمجھتا ہو۔ ہمیں ایسے ملک کی ضرورت نہیں جو "اسرائیل" کے مفادات کو اپنی اولین ترجیح بناتا ہو اور باقی ممالک کو قربان کر دیتا ہو۔

ہمیں ایسے ملک کی ضرورت نہیں جو مسلمانوں کو حقیر سمجھتا ہو اور ان میں صرف ان کی زمینوں کے تیل، گیس اور وسائل کو دیکھتا ہو۔

امریکہ نے آپ کو کیا دیا؟

اگر آپ صہیونی ریاست کی جارحیت کا سامنا کر رہے ہوں، تو کیا امریکہ کبھی آپ کے دفاع میں ایک گولی چلائے گا؟

ہم سب مسلمان اچھی طرح جانتے ہیں کہ 1967 اور 1973 کی جنگوں میں عربوں کی شکست کی وجوہات کیا تھیں—کمزور اور عارضی اتحاد، اور ایک مضبوط، خودمختار دفاعی قوت کا فقدان۔

آج، ایران نے اپنے وعدے کو پورا کرتے ہوئے، امریکہ اور صہیونی ریاست کی ناقابل شکست ہونے کی جھوٹی تصویر کو توڑ دیا ہے، اور وہ خواب حاصل کیا ہے جو طویل عرصے سے مسلمانوں کو ستاتا رہا۔

لہٰذا عقل اور سیاست کا تقاضا ہے کہ ہم خطے میں ابھرنے والے نظام کے تناظر میں ایک جامع سیکیورٹی اتحاد قائم کریں۔

ہمیں مل کر اپنی سلامتی کو یقینی بنانا ہوگا اور ایک اجتماعی دفاعی معاہدے کی طرف بڑھنا ہوگا جو اسلام اور قرآن کو بنیاد، محور اور مضبوط اساس بنائے۔

تو آخر ایسا کیوں ہے کہ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد سے زیادہ آسان ایک تکبر کرنے والی، غیر مسلم ریاست کے ساتھ اتحاد ہو گیا؟

قرآن اور اس کی تعلیمات سے دوری ہی آج اسلامی دنیا کی مشکلات کی اصل وجہ ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں ایک سیکیورٹی اور فوجی اتحاد قائم کرنے کے لیے اپنی آمادگی کا اعلان کرتا ہے، جو امریکہ اور غاصب صہیونی ریاست کی موجودگی کے بغیر ہو۔

اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو نہ بھولیں:

"پس نہ کمزور پڑو اور نہ غمگین ہو، اور تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔"

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

21/03/2026

Khamenei

02/03/2026

إِذَا جَآءَ نَصۡرُ ٱللَّهِ وَٱلۡفَتۡحُ
وَرَأَيۡتَ ٱلنَّاسَ يَدۡخُلُونَ فِي دِينِ ٱللَّهِ أَفۡوَاجٗا
فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَٱسۡتَغۡفِرۡهُۚ إِنَّهُۥ كَانَ تَوَّابَۢا

26/11/2025

The Rise Of Iran After 1979 Revolution: Chapter1

Abraham Accords: New Middle East Or Old Colonial Plan | ابراہیم ایکارڈ -حقیقت اور پس منظر 15/08/2025

In this video, we explore the Abraham Accords — agreements between Israel, UAE, Bahrain, Morocco, and Sudan — and their deep geopolitical roots. We connect these accords to the fall of the Ottoman Empire, the Arab Revolt, the Balfour Declaration, and the long-term imperial strategies of the West in the Muslim world. This scholarly analysis also examines the challenges facing Palestine, the Muslim world’s political unity, and the hidden role of Arab states in shaping today’s Middle East politics.

Abraham Accords: New Middle East Or Old Colonial Plan | ابراہیم ایکارڈ -حقیقت اور پس منظر In this video, we explore the Abraham Accords — agreements between Israel, UAE, Bahrain, Morocco, and Sudan — and their deep geopolitical roots. We connect t...

23/06/2025

" ہٹ اینڈ رن (Hit & Run) کا دور ختم ہوا"
ایران: استقامت کی علامت، سامراج کے خلاف کھڑا ایک عزم

گزشتہ دس دنوں سے ایران جس جرات، ہوش مندی اور استقامت کے ساتھ سامراجی قوتوں کے سامنے سینہ سپر ہے، وہ اس دور میں بے مثال ہے۔
کل امریکہ کے جارحانہ حملے کے جواب میں، ایران نے قطر اور عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر واضح پیغام دیا کہ "ہم کمزور نہیں، ہم زندہ قوم ہیں!"

یہ کوئی وقتی ردعمل نہیں، بلکہ ایک منظم اور نظریاتی ریاست کا بھرپور دفاعی بیانیہ تھا۔ ایران کی یہ جرأت اس کے مضبوط اسلامی نظام، قیادت کی حکمت اور عوامی بیداری کا نتیجہ ہے، جو ہر آزمائش میں اسے متحد رکھتا ہے۔

🔻 رجیم چینج کی ناکامی
امریکہ اور اسرائیل نے کئی بار ایران میں رجیم چینج (نظام کی تبدیلی) کی کوشش کی، مگر ہمیشہ ناکامی ہوئی۔ چاہے اقتصادی پابندیاں ہوں، داخلی فتنہ ہو یا میڈیا پروپیگنڈہ—ایران کے اسلامی نظام حکومت نے ہر حملے کا نہ صرف دفاع کیا بلکہ نظریاتی بنیادوں پر شکست دی۔

🔻 اصل دشمنی کیا ہے؟
یہ دشمنی ایران کی جغرافیائی حیثیت سے زیادہ اس کے نظریاتی وجود سے ہے۔ امریکہ اور اسرائیل استعماریت اور سرمایہ داری کے عالمی نظام کے محافظ ہیں، جبکہ ایران اسلامی نظام عدل، مساوات، اور خودمختاری کا علمبردار۔ یہی نظریاتی تصادم آج مشرق وسطیٰ میں کشمکش کی اصل جڑ ہے۔

🔻 خطہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے
ایران کی مزاحمت صرف ایک ملک کی جنگ نہیں رہی، یہ اب پورے مشرق وسطیٰ میں آزادی اور بیداری کی علامت بنتی جا رہی ہے۔ فلسطین، لبنان، یمن اور دیگر مظلوم اقوام ایران کو ایک مزاحمتی ستون کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔

🔻 آنے والے دنوں میں کیا ہوگا؟
🌍 خطے میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ سامراجی قوتیں اپنی گرفت کھو رہی ہیں اور نظریاتی بیداری بڑھ رہی ہے۔
📌 ایران کا یہ راستہ باقی مسلم دنیا کے لیے بھی ایک مثال بن رہا ہے کہ ظلم کے سامنے سر جھکانے کی بجائے ڈٹ جانا ہی اصل کامیابی ہے۔

یہ وقت فیصلہ کن ہے... یا تو حق کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ، یا تاریخ کے مردہ صفحات میں دفن ہو جاؤ۔

تحریر: انعام اللہ ابن آدم











14/06/2025

Iran hits Haifa Oil Refinery isr@,eel

13/06/2025

13 جون کا حملہ: اسرائیل، ایران اور نظاموں کی عالمی جنگ

تحریر: انعام اللہ ابنِ آدم

13 جون 2025 کو اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیا گیا حملہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ تہذیبی، فکری اور نظامی تصادم کا ایک نیا باب ہے۔ یہ واقعہ عالمی طاقتوں کی اُس پرانی پالیسی کا تسلسل ہے جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں آزاد، خودمختار اور اسلامی مزاحمتی قوتوں کو ختم کرنا ہے۔ اس پوسٹ میں ہم اس حملے کے پس منظر، مقاصد، ریاستی نظاموں کی جنگ، اور ایران کے جوہری حق پر روشنی ڈالیں گے۔

تاریخی پس منظر: ایران اور اسرائیل کی دشمنی

ایران کا 1979 کا اسلامی انقلاب مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک انقلابی موڑ تھا۔ یہ انقلاب صرف حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات کی تبدیلی تھا۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی تابعداری کو رد کرتے ہوئے ایک خودمختار اسلامی نظام اختیار کیا جو مغرب کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔

اس کے مقابلے میں اسرائیل ایک صیہونی، استعمار نواز ریاست ہے جس کا وجود ہی ظلم، قبضے اور نسل پرستی پر قائم ہے۔
13 جون 2025: حملے کے مقاصد

اس حملے کے پیچھے کئی گہرے اور مربوط مقاصد ہیں:

1. ریجیم چینج (نظام کی تبدیلی):
اسرائیل اور امریکہ کی دیرینہ خواہش ہے کہ ایران کی انقلابی حکومت کو گرا کر ایک مغرب نواز، لبرل اور سرمایہ دارانہ نظام نافذ کیا جائے۔

2. اسلامی انقلابی نظریے کا خاتمہ:
ایران کا ماڈل مغرب کے نظام کے برعکس ہے — جو امت، عدل اور مزاحمت پر مبنی ہے۔ اسرائیل اور اس کے اتحادی اس نظریے کو ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ خطے میں صرف مغربی بالادستی باقی رہے۔

3. مزاحمتی نیٹ ورک کو توڑنا:
ایران خطے میں ایک نظریاتی اور عسکری محور ہے جس کی قیادت میں لبنان، شام، عراق اور یمن میں مزاحمتی قوتیں متحد ہیں۔ اسرائیل ان تمام قوتوں کو غیر فعال کرنا چاہتا ہے۔

4. ایران کی جوہری صلاحیت کا خاتمہ:
یہ حملہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کی کوشش بھی ہے۔ ایران کا پرامن جوہری پروگرام اس کا سائنسی، تکنیکی اور دفاعی حق ہے، مگر اسرائیل، جو خود ایٹمی ہتھیار رکھتا ہے، ایران کو یہ حق دینے کے لیے تیار نہیں

یہ منافقت مغرب کے اس دوہرے معیار کو ظاہر کرتی ہے جہاں اسلامی ممالک کو خود مختار اور طاقتور بننے کی اجازت نہیں ۔

عرب ممالک کا کردار: خاموش حمایت یا عملی اتحاد؟

سعودی عرب، بحرین، مصر اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک اگرچہ براہ راست شامل نہیں، مگر ان کی خاموشی، اسرائیل سے تعلقات کی بحالی، اور ایران دشمن بیانیہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ پس پردہ اسی بلاک کا حصہ ہیں۔ ان کا مقصد اپنے بادشاہتوں اور مغربی تعلقات کو محفوظ رکھنا ہے، چاہے اس کے لیے امت کا نقصان ہی کیوں نہ ہو۔

امریکہ: اصل منصوبہ ساز

امریکہ اگرچہ میدان میں موجود نہیں، مگر ہر پہلو سے یہ حملہ اسی کے منصوبے کا حصہ ہے:

اسرائیل کو ہتھیار، سیٹلائٹ ڈیٹا اور انٹیلیجنس فراہم کی گئی۔

عالمی میڈیا کو حملے کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا گیا۔

ایران کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی مہم بھی امریکہ کے اشارے پر جاری ہے۔
ایران کا جواب اور پوزیشن

ایران کی قیادت کا پیغام واضح ہے:
"ہم جھکیں گے نہیں، مزاحمت کریں گے۔"
ایران نہ صرف مضبوط عسکری قوت رکھتا ہے بلکہ نظریاتی وحدت، عوامی حمایت اور خطے میں اتحادی موجود ہیں۔ اگر اسرائیل نے حملے جاری رکھے، تو پورا خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جو عالمی معیشت، تیل کی سپلائی، اور سیاسی استحکام کو ہلا کر رکھ دے گی۔

نظاموں کی جنگ: تہذیبی اور فکری تصادم

یہ حملہ دراصل دو بڑے عالمی نظاموں کے درمیان جاری ایک گہری جنگ کا مظہر ہے۔ ایک طرف مغربی سرمایہ دارانہ اور صیہونی نظام ہے، اور دوسری طرف اسلامی انقلابی نظریہ۔

1. مغربی نظام مغربی بالادستی، لبرل سیکولرازم، مفاد پرستی اور اسرائیل کو مرکز ماننے پر قائم ہے۔ یہ نظام دنیا پر اپنی سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی اجارہ داری برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

2. اسلامی انقلابی نظام خودمختاری، امتِ مسلمہ کی وحدت، عدل و قربانی اور فلسطین کو مرکزِ مزاحمت ماننے پر قائم ہے۔ یہ نظام ظلم کے خلاف مزاحمت اور مظلوموں کی حمایت کو اپنی بنیاد سمجھتا ہے۔

یہ جنگ صرف ہتھیاروں اور میزائلوں کی نہیں، بلکہ نظریات، تہذیبوں اور مقاصد کی جنگ ہے۔ ایک نظام دنیا کو غلام بنانے کی خواہش رکھتا ہے، جبکہ دوسرا دنیا کو عدل اور حریت کا پیغام دینا چاہتا ہے۔

پاکستان کے لیے سبق

پاکستان کے لیے یہ واقعہ ایک تنبیہ ہے۔
ہمیں طے کرنا ہوگا کہ آیا ہم حق کے ساتھ کھڑے ہوں گے یا مصلحت کا شکار ہوں گے۔ ہمیں ایران کی خودمختاری کی حمایت، فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی، اور اپنی داخلی و خارجی پالیسی کو نظریاتی بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔

اختتامیہ: خاموشی جرم ہے

یہ وقت دعاؤں سے آگے بڑھ کر عملی حمایت کا ہے۔
یہ وقت یہ سمجھنے کا ہے کہ یہ صرف ایران کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہر اُس مسلم ملک کا مسئلہ ہے جو اپنی خودمختاری چاہتا ہے۔

اللہ ایران اور مظلومینِ عالم کی مدد فرمائے۔ آمین۔



















09/06/2025

🌍 دولت کی غیر منصفانہ تقسیم پر امام شاہ ولی اللہؒ کی فکر 📜

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ (1703-1762) نہ صرف ایک محدث اور مفسر تھے بلکہ ایک عظیم معاشرتی مفکر بھی۔ ان کی فکر کا ایک بنیادی پہلو معاشی عدل اور دولت کی منصفانہ تقسیم پر زور دینا ہے۔

🔍 مسئلہ کی جڑ کیا ہے؟
شاہ ولی اللہؒ کے نزدیک دولت کی غیر مساوی تقسیم معاشرے میں استحصال، بدامنی اور اخلاقی پستی کو جنم دیتی ہے۔ جب چند ہاتھوں میں دولت جمع ہو جائے اور اکثریت فقر و فاقہ کا شکار ہو، تو یہ ظلم ہے — اور ظلم دیرپا نہیں ہوتا۔

📚 ان کی تصنیف "حجۃ اللہ البالغہ" میں وہ فرماتے ہیں:

> "جب دولت صرف امیروں میں گردش کرتی ہے اور محتاج طبقہ محرومی میں زندگی گزارتا ہے، تو ریاست میں بغاوت، بدعنوانی اور انتشار جنم لیتے ہیں۔ یہ صورت حال خلافِ فطرت اور خلافِ شریعت ہے۔"

29/05/2025
29/05/2025

Want your school to be the top-listed School/college in Mansehra?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address

Mansehra
21130