19/10/2019
کیا ہم واقعی عورت کی عزت نہیں کرتے ؟؟؟
ایم او او کالج کے شعبہ انگریزی کے لیکچرر محمد افضل پر ایک طالبہ نے صرف اس لیے جنسی ہراسگی کا الزام لگا دیا کیونکہ اس کے نمبرز کم لگائے تھے .
انکوائری میں طالبہ جھوٹی قرار پائی اور محمد افضل کو بے گناہ قرار دیا گیا . محمد افضل نے کالج انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اسکی بریت کا ایک خط جاری کیا جائے اور کم ازکم جھوٹا الزام لگانے والی لڑکی کو کالج سے نکالا جائے تا کہ اسکی عزت نفس بحال ہو سکے .
مگر الٹا اسے دھمکایا جانے لگا کہ تم پر کاروائی ہو سکتی ہے , بس چپ کر کے اپنی نوکری کرو. محمد افضل نے بدنامی اور ندامت کی زندگی پر موت کو ترجیح دی اور خودکشی کر لی .
اپنے آخری خط میں افضل نے لکھا کہ
"میں یہ معاملہ اللہ کی عدالت میں چھوڑتا ہوں " _
افضل کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ اپنی ماں کے نام ایک خط چاہتا تھا تاکہ اسے یقین دلا سکے کہ وہ کسی بدکار کی ماں نہیں بلکہ جس بیٹے کو اس نے لوگوں کے کپڑے سی کر تعلیم دلوائی وہ بیٹا ایک شریف النفس اور عزت دار انسان ہے. وہ اتنا شریف انسان تھا کہ خودکشی کرتے ہوئے آخری خط میں بھی الزام لگانے والی لڑکی کا نام تک نا لکھا .
افسوس کے یہاں کسی کے ساتھ زیادتی کرنیوالے کو تو جانور سے بھی بدتر قرار دیا جاتا ہے مگر کسی پر جھوٹا الزام لگانے والی عورت سے کوئی سوال نہیں ہوتا .
اور اللہ ہی بہتر انصاف کرنے والا ہے ...