Faizul Islam Institute of Technology

Faizul Islam Institute of Technology

Share

Technical education for matric(science) students It is registered with the Punjab Board of Technical Education, Lahore.

Faizul Islam Institute of Technology is one of the technical educational institutes of Anjuman; Faizul Islam, a Non Governmental Organisation working for the betterment of orphans and the poor deserving people in Rawalpindi. The institute is working since 2005 for awarding diploma of Associate Engineer in Civil, Mechanical, Telecommunication, Electronics and Electrical technologies.

24/07/2022

Alslam o Alaikum

It may please be noted that

Dr. Danish Javed, Dentist

has managed 10% special discount, for the help of patients, on all tests at

CITI Lab, Sialkot.

Patients are advised to get this benefit from the Lab by telling the name of
Dr. Danish Javed, Dentist.

(M. Amjad Perwaiz)

Photos from Faizul Islam Institute of Technology's post 15/06/2022

Beautiful Kaghan Valley, Pakistan

16/05/2022

*موجودہ قومی بحران*
سلیم منصور خالد

قومی زندگی کے صبح شام پر نظر ڈالیں تو یہ صاف دکھائی دیتا ہے کہ قوم و ملک آتش فشاں کے دھانے پر کھڑے ہیں اور یہ آتش فشاں کسی بھی وقت پھٹ سکتا ھے ۔ حساس دل و دماغ تو زیر زمین زلزلے کی لہریں محسوس کر رہے ہیں مگر افسوس کہ قومی قیادت اور خود قوم قریب آتے ہوے تباہ کن مستقبل سے بالکل بے خبر ہے ۔ سطحیت ہر سطح پر حاوی ہے اور جذباتیت کا دور دورہ ہے ۔ اجتماعی زندگی ہیجان اور انتشار کا شکار ہے کہ صاحبان اقتدار اور اپوزیشن کے بیانات سے کم علمی اور کم فہمی جھلکتی ہے۔ جاہلیت اسلامی تہذیب کے خرمن کو جلا رہی ہے۔

تاریخ کا یہ سبق یاد رہنا چاہئے کہ ایسے طوفانوں کے نتیجے میں محض حکومتیں ہی تبدیل نہیں ہوا کرتیں بلکہ ماضی کی تہذیبی قدریں اور تعلقات و معاملات کا پورا نظام اپنی جگہ سے ہل کر رہ جاتا ہے ۔ جس کے اثرات دیر تک قومی وجو د کو چاٹتے رہتے ہیں ۔ گویا کہ چند افراد کی نادانی کے نتیجے میں معاشرے کو بہت قربانی دے کر پھر کہیں بہت مشکل سے راستی اور درستی کا سرا ہاتھ آتا ہے ۔

یہ منظر ایک بد قسمتی ہے۔ تا ہم اس گئی گزری صورتحال کے باوجود ملک و ملت کو سنبھالنے والے دماغ موجود تو ہیں مگر بڑا المیہ یہ پےکہ وہ حالات کو دیکھ کر رہنمائی دینے کے لئے آگے بڑھنے میں تزبزب کا شکار پیں ۔

پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے فی الحقیقت سب سے بڑا ادارہ سیاسی جماعتوں کا وجود ہے ۔ لیکن افسوس کہ یہی ادارہ سب سے زیادہ بگاڑ اور نا عاقبت اندیشی کا شکار رہا ہے ۔

پاکستان کے مخصوص علاقائی مسائل کے باعث " پارلیمانی جمہوریت " کی صورت میں، ملک کے لئے ایک مفید راست تجویز کیا گیا تھا اور اس پر کم و بیش ہر زمانے میں اتفاق رائے پایا گیا ۔
تا ہم حکومتوں، انتظامیہ اور مقتدر طبقوں کی جانب سے دانستہ طور پر اچھی تعلیم و تربیت سے پہلوتہی اور شرح خواندگی کی حد درجہ کمی نے ملک کی جمہوری اور پارلیمانی زندگی کو
جاگیرداروں
سرمایہ داروں
نوابوں
برادریوں
اور
لسانی اور علاقائی نفرتوں
کی دلدل میں اس بری طرح جکڑ لیا ہے کہ انتخابات میں 70 فیصد یہی لوگ کامیاب ہو کر مسند اقتدار پر براجمان ہو جاتے ہیں۔
یوں جمہوریت بےاثر ہو کر رہ گئی ہے ۔ لولی لنگڑی جمہوریت۔

منتخب ہونے ک قابل لوگوں یعنی ELECTABLES نے جمہور کی رائے کو بے وزن بنا کر ، پارلیمنٹ کی قوت کار کو گھن لگا دی ہے ۔
یہ لوگ پارٹیوں کو تبدیل کر کے یا اپنے اثر و رسوخ کے بل بوتے پر منتخب ہو کر پارلیمنٹ میں پہنچ جاتے ہیں ۔
مگر نہ انہیں قانون سازی سے کچھ دلچسپی ہوتی ہے اور نہ ملک کی پالیسی سازی میں کوئی کشش نظر آتی ہے اور نہ ان کے اندر کاروبار ریاست کا فہم حاصل کرنے کی کوئی امنگ ہوتی ہے ۔

اس طرح پارلیمان کچھ خاندانوں ، چند لوگوں اور طاقتور افسروں کی یرغمال بلکہ غلام نظر آتی ہے ۔
ایسی پارلیمان کہ جسے جب کوئی چاہے منڈی لگا کر اپنے قبضے میں لے لے ، یا کوئی میڈیا ہاوس چاہے تو سچی جھوٹی خبروں پر پروپیگنڈہ کر کے پارلیمان کو رام کر لے یا کوئی این جی او بھی سازشوں سے اس کو اپنے زیر دام لے آئے۔

سیاسی پارٹیوں کی موروثی قیادتیں ، جمہوری عوام کے نمائندوں کو ، اپنے تابع کارندوں ، سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں ہیں ۔

اجتماعی اور تمدنی زندگی کے لئے دستوری معاہدے یعنی آئین پاکستان کو دل سے تسلیم کرنے اور اس کے مطابق حکومت چلانے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے۔ یہ سب فساد اسی انکار کے نتیجے میں قومی وجود کو ڈس رہا ہے۔

جب کسی طبقے ، گروہ یا فرد کو اپنے مفاد کے لئے دستور پاکستان کو محض ایک عارضی وسیلے کے طور پر برتنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو وہ چند دنوں کے لئے دستور کی حرمت اور احترام (ووٹ کو عزت دو) کا واویلا کرتا ہے اور اپنا مقصد حاصل کرنے کے بعد اسے ناقابل برداشت بوجھ سمجھ کر دور پرے پھینک دیتا ہے یا اپنے مفاد کی شقوں کا اضافہ کر دیتا ہے ۔

سلیم منصور خالد صاحب کا یہ تجزیہ ہماری 70 سالہ سیاسی زندگی پر روشنی ڈال رہا ہے ۔
ہمیں اس لولے لنگڑے جمہوری نظام کی جگہ دستور پاکستان میں انقلابی تبدیلیاں لا نی ہوں گی۔
70 سال میں کئی بار آزمائے ہوے electables کی جگہ ، اسلامی تعلیمات اور سسٹم کے جاننے والے اصلی عوامی نمائندوں کو پارلیمنٹ اور حکومت میں لانا ہو گا تا کہ اسلامی نظام کو پاکستان میں نافذ کیا جا سکے اور جھوٹے مکار ظالم سیاستدانوں کی حاکمیت سے چھٹکارا حاصل کر کے اللہ تعالٰی کی حاکمیت کے ذریعے انصاف اور احتساب سے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے ۔

امجد پرویز

26/04/2022

السلام وعلیکم

آجکل عوام میں "رومن اردو" میں لکھنے، پڑھنے اور میسیج کرنے کا رحجان عام ہو گیا ہے ۔ افسوس کا مقام ہے کہ پڑھے لکھے تعلیم یافتہ لوگ اور کالج یونیورسٹی کے طلباء بھی "رومن اردو" ہی استعمال کر رہے ہیں ۔ اگر اس کو کنٹرول نا کیا گیا تو "رومن اردو" سے ہماری اگلی نسلیں اپنی اردو زبان بھول جائے گی ۔ وہ علمی اور ادبی علوم کے اردو کے عظیم ذخیرے سے مستفید نہیں ہو سکے گی ۔

اردو زبان میں ہماری اسلامی اور مقامی تاریخ ، جغرافیائی علوم ، قرآن و احادیث کے تراجم و تفاسیر ، اسلامی تعلیمات ، اردو ادبیات ، مقامی طریقہ علاج ، یونانی حکمت ، وغیرہ کے عظیم علمی ذخیرے کی جگہ انگریزی زبان اور ماڈرن ٹیکنالوجی کا استعمال بھی بڑھ جائے گا ۔

ہم اپنی ثقافت اور معاشرتی اقدار پہلے ہی کھو رہے ہیں اور یہ "رومن اردو" ہمیں جہالت کے گڑھے میں گرا کر سماجی ، معاشرتی اور معاشی بحران میں مبتلا کر دے گی ۔

اس لئے ہمیں "رومن اردو" کے استعمال کو بند کرنا ضروری ہے ۔ اور ہمیں اپنی اردو زبان میں لکھنے پڑھنے کی مہم چلا کر ماڈرن علوم کے ساتھ اپنے سکالرز اور دانشوروں کی کتب سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کرنی چاہئے ۔

انجنیئر امجد پرویز

13/04/2022

Help Intelligent Students and Needy Peoples

24/04/2021

السلام وعلیکم

NAFA VOLUNTEERS are working in Education and Kafalat areas.

Now we are financing 48 brilliant deserving students from primary classes to university level. About 30 students have completed their education till today.

In Kafalat, we are helping poor and white collared / contended (سفید پوش) people for family support in grocery, medical treatment, summer /winter clothing, marriages, etc.

اپنی دعاؤں میں یاد رکھئے ۔
شکریہ .

(M. Amjad Perwaiz)

20/03/2021

*ایک مکمل فہرست کویڈ انیس ویکسین پر اپ کے سوالات اور ہمارے جوابات*
کوویڈ 19 کی تیسری لہر بہت تیزی سے سر اٹھا رہی ہے۔ اس لیے حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ ہمیں ویکسین لگوانا بہت ضروری ہے۔ مگر جو لوگ اس کے بارے میں کچھ سوالات یا تحفظات رکھتے ہیں وہ اس مضمون کو مکمل طور پر پڑہیں۔

پروفیسر ملازم حسین بخاری
ڈاکٹر ناصر رانا
ڈاکٹر وجیہ رضوان
ڈاکٹر احمد عذیر قریشی

کورونا کی تیسری لہر بہت تیزی سے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے اور اس سے بچاو صرف اور صرف ویکسین کی فراہمی سے ہی ہو سکتا ہے۔
اس وقت مار کیٹ میں بہت ساری ویکسین بن چکی ہیں اور تمام ویکسین شدید کوڈ اور کویڈ سے ہونیوالی اموات کو روکتی ہیں۔
اس لیے یہ سب کورونا کی حفاظتی ویکسین کہلاتی ہیں۔ مثلا آر این اے ویکسین (فائزر ، موڈرنہ)، یا وائرل ویکٹر ویکسین ایکسڑا زینیکا(کوویشیلڈ)، سپوٹنک
یا مرا ہوا وائرس attenuated virus سائینوفارم
یا کوواکسن سمیت تمام منظور شدہ ویکسینز کافی محفوظ تصور کی جا رہی ہیں اور یہ سب کوویڈ 19 کی وجہ سے ہونے والی اموات کی روک تھام میں میں سو فیصد افادیت رکھتی ہیں اور شدید کوویڈ Sever COVID19 کے خلاف بہت زیادہ افادیت رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ معمولی اور علامتی کوویڈ کے مقابلے میں اعتدال پسند افادیت (60٪ -95٪) تک ہیں۔
تمام ویکسین کا طریقہ کار ایک ہی ہے۔ اس لیے کسی قسم کی پریشانی نہیں کرنی چاہیے۔
1.سوال
کیا حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماوں کو کویڈ کی حفاظتی ویکسین لگوائی جا سکتی ہے ؟
جواب
دودھ پلانے والی مائیں ویکسین لگوا سکتی ہیں اور بچوں کو دودھ پلانا بھی بند نہ کریں۔ حاملہ خواتین کو کونسی حفاظتی ویکسین لگائی جاسکتی ہے۔ بہتر ہے پہلے ٹرائمیسٹر کے بعد ویکسین لگوانا چاہیے۔

2.سوال
جن لوگوں کو فوڈ پوائزنگ، یا ڈرگ الرجی ، یا منشیات کے عادی، یا کوئی اور ویکسین لے رہے ہیں تو کیا وہ کوویڈ کی ویکسین لگوا سکتے ہیں؟
جواب
جی ہاں ایسے افراد کوویڈ ویکسین کو محفوظ طریقے سے لگوا سکتے ہیں۔

3.سوال
کون سے لوگ کویڈ کی حفاظتی ویکسین نہ لگوائیں؟
جواب
مگر جن لوگوں کو کسی بھی ویکسین کی وجہ سے ماضی میں کوئی شدید رد عمل ہوا anaphylactic reaction صرف ایسے افراد کو کوڈ ویکسین سے اجتناب کرنا چاہئے۔

4.سوال
جن لوگوں کو کویڈ ہو چکا ہے وہ کیسے کویڈ کی حفاظتی ویکسین لگوائیں؟
جواب
اعداد و شمار سامنے آرہے ہیں کہ جن لوگوں کو کویڈ ہو چکا ہے انہیں ویکسین کے صرف ایک شاٹ کی ضرورت پڑسکتی ہے کیونکہ ویکسینیشن کے ایک شاٹ کے بعد بھی ان میں مضبوط نیوٹرالائزنگ اینٹی باڈیز اور مضبوط ٹی سیل رد عمل پیدا ہو سکتے ہیں۔

5.سوال
جن لوگوں کو کویڈ کے دوران convalescent Plasma therapy یعنی پلازما تھراپی ملی ہے کیا وہ کویڈ کی حفاظتی ویکسین لگوا سکتے ہیں؟
جواب
پلازما تھراپی چونکہ کورونا کی پروٹین کے خلاف اینٹی باڈیز بناتی ہیں اور خطرہ ہوتا ہے کہ اگر یہ انٹی باڈیز انسان میں موجود رہیں تو کورونا کی ویکسین کو بے کار کر سکتی ہیں۔ اس لیے ایسے لوگ موجودہ ویکسین تو لگوا سکتے ہیں مگر ویکسین لگوانے سے پہلے کم از کم چار ہفتوں کا انتظار کریں۔ کیونکہ ان چار ہفتوں کے دوران بیرونی پلازما میں منتقلی شدہ پہلے سے تیار شدہ اینٹی باڈیز کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور اس سے کوڈ ویکسین سے تیار کردہ وائرس (پروٹین) کے خلاف عمل ختم ہو جاتا ہے اور ویکسین صیح طریقے سے کار آمد ثابت ہو سکتی ہے۔

6.سوال
جو لوگ کویڈ کی شدید بیماری یا وینٹی لیٹر ز پر رہے ہوں کیا وہ بھی کویڈ کی حفاظتی ویکسین لگوا سکتے ہیں؟
جواب
ایسے افراد ویکسین لینے سے پہلے صحت یابی کے کم از کم 4 سے 10 ہفتوں تک انتظار کریں۔

7.سوال
جو لوگ شوگر یا ذیابیطس کا شکار ہیں وہ کس وقت کویڈ کی حفاظتی ویکسین لگوائیں؟
جواب
ایسے افراد نہ تو ادویات بند کریں اور نہ پریشان ہوں ایسے افراد کو کھانا / ناشتہ لینے کے بعد ویکسینیشن لینے جانا چاہئے۔

8.سوال
کویڈ کی حفاظتی ویکسین لگوانے کے بعد کون کون سے مضر اثرات سامنے ا سکتے ہیں؟
جواب
ٹرائیل کے دوران دیکھا گیا ہے کہ ویکسین لگوانے کے بعد ، کچھ عارضی اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں ، جو معمول کی علامت کے ہوتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ آپ کا جسم اپنا حفاظت کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
مندرجہ ذیل اثرات رونما ہو سکتے ہیں
1. ٹیکہ لگوانے والی جگہ میں درد ، سرخی ، اور بازو میں سوجن ہو سکتی ہے
2. اسی طرح تھکاوٹ ، سر درد ، پٹھوں میں درد ، سردی لگ محسوس ہو سکتی ہے ،
3. بخار بھی ہو سکتا ہے ،
4. جسم کے باقی حصوں میں درد رونما ہوسکتا ہے
5. متلی سی محسوس ہو سکتی ہے۔
6. یہ سارےضمنی اثرات آپ کی روزانہ کی سرگرمیاں کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرسکتے ہیں ، لیکن انھیں کچھ ہی دن میں درست ہو جاتی ہیں۔

9.سوال
ایسے لوگ جو کسی بیماری میں مبتلا ہیں یا وہ کسی قسم کی ادویات لے رہے ہیں کیا وہ کویڈ کی حفاظتی ویکسین لگوا سکتے ہیں؟
can you get vaccine if you are suffering from any disease or you are on any treatment ؟؟؟؟

10۔ سوال
کویڈ کی حفاظتی ویکسین لگوانے کے کتنے دن بعد ایمیونٹی پیدا ہو جاتی ہے؟ کیا پہلی ڈوز لگوانے کے بعد اینٹی باڈیز چیک کروانی چاہیے؟ کیا پہلی ڈوز کے بعد کورونا ہو سکتا؟
جواب
زیادہ تر ویکسین دو ڈوزز پر مشتمل ہیں۔ اس لیے پہلی خوارک کے بعد ایمیونٹی پیدا نہیں ہوتی جب دوسری خوراک لگ جائے تو اس کے پندرہ دن بعد انسان کا مدافعاتی نظام مکمل طور پر کورونا کے خلاف قابل عمل ہو چکا ہوتا ہے۔ اس لیے اس سے پہلے کسی قسم کا نہ تو ٹیسٹ کروائیں اور نہ ہی احتیاطی تدابیر چھوڑیں۔
ویکسین کا کورس مکمل ہونے کے دو ہفتوں بعد اپنا اینٹی باڈیز کا ٹیسٹ کروانا چاہئے۔
کرونا ویکسین کی پہلی ڈوز کے بعد انسان مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوتا اور اسی طرح اگر کسی انسان کو کورونا ہو جائے ویکسین کے بعد تو وہ زیادہ خطرناک نہیں ہوتا۔

11.سوال
اگر کوئی شوگر یعنی ذیابیطس کی ادویات لے رہا ہے تو اسے کس وقت کویڈ کی حفاظتی ویکسین لگوانی چاہیے؟
جواب
شوگر والے مریض ویکسین ضرور لگوائیں اور ادویات بھی بند نہیں کرنا چاہئے مگر ایسے افراد کو کھانا / ناشتہ لینے کے بعد ویکسینیشن لگوانی چاہیے۔

12.سوال
جو لوگ سٹیرائیڈز لے رہے ہیں انکے لیے کیا ہدایات ہیں؟
جواب
لوگ جو کورٹیکوسٹیرائڈز corticosteroid لے رہے ہیں۔ انکو کچھ عرصہ کے لیے دوائی کی مقدار کم کر دینی چاہیے ورنہ قوت مدافعت کا نظام کمزور ہونیکی وجہ سے صیح معنوں میں اینٹی باڈیز نہیں بنا سکے گا۔ اس لیے انہیں تقریباً 6 ہفتوں تک اگر ممکن ہو تو روزانہ خوراک 7.5 ملی گرام سے کم کردی جانی چاہئے تاکہ ویکسین سے بہتر طور پر ایمیونٹی پیدا ہو سکے کیونکہ یہ سٹیرائیڈز زیادہ مقدار میں امیونوسوسیپریشن کے طور پر کام کرتے ہیں اور انٹی باڈیز صیح طور پر نہیں بن سکتی۔

13.سوال
کیا کوویڈ ویکسین لیتے وقت steroids in inhalers یعنی سانس لینے والے اسٹیرائڈز کو کم کرنا چاہیے؟
جواب
نہیں۔ ان کی مقدار کو یا taper نہیں کرنا چاہیے کیونکہ سانس کے ذریعے لیے جانے والے کورٹیکوسٹیرائڈز جسم کے دوسرے نظام پر کم اثر انداز ہوتے ہیں یعنی انکا systemic effect کم ہوتا کیونہ یہ local effect کے لیے ہوتے ہیں۔

14.سوال
کیا الرجی والے افراد ، دمہ یا جلد کی الرجی یا کو محفوظ طریقے سے ویکسین لگائی جاسکتی ہے؟
جواب
جی باکلُ ایسے افراد کویڈ کی حفاظتی ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

15.سوال
کیا کینسر میں استعمال ہونی والی ادویات یا فوت مدافعت میں استعمال ہونیوالی اودیات مثلاً میتھو ٹریکسٹیٹ جیسی ادیات لینے والوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟
جواب
یہ ساری ادویات انسان کی قوت مدافعت کے نظام کو کمزور کرتی ہیں ایسی حالت میں اگر انہیں ویکسین لگائی جائیگی تو فائدہ نہیں ہوگا اس لیے ایسے افراد کو دو ہفتے قبل اور دو ہفتے ویکسین کے بعد دوائی روکنا چاہئے۔

16.سوال
خون کے کینسر یا لمفوما اور جوڑوں کے درد rheumatoid arthritis میں استعمال ہونیوالی ادویات کے بارے میں کیا خیال ہے؟
جواب
ان بیماریوں میں استعمال ہونیوالی دو Rituximab (ریوٹکسیماب) ویکسین لگوانے کی بعد ایک ماہ تک روکنا چاہیے ورنہ اینٹی باڈیز نہیں بن سکیں گی اور ہر وہ دوا جو بی سیلز کے عمل کو روکتی ہے ایک ماہ تک روکنی چاہیے۔ اور جو لوگ بلڈ کینسر کا علاج کر رہے ہیں اور جن کو بون میرو ٹرانسپلانٹ دیا گیا ہے وہ لوگ کم از کم 3 ماہ بعد ویکسین لگوائیں۔
بون میرو ٹرانسپلانٹ / سیل تھراپی stem cell treatment والے افراد کو اس وقت تک کویڈ کی حفاظتی ویکسین کا انتظار کرنا چاہئے جب تک ان کے absolute neutrophil count نیوٹرو فلز کی تعداد معمول پر نہ آجائے۔

17.سوال
گردوں اور جگر کی تبدیلی والے لوگوں کے بارے میں کویڈ کی حفاظتی ویکسین لگوانے کی کیا ہدایات ہیں؟
جواب
اسی طرح جو لوگ گردے اور جگر کا ٹرانسپلانٹ کروا چکے ہیں انہیں بھی تین ماہ کے وقفے کے بعد ویکسین لگوانی چاہیے۔

18.سوال
جن کو مونوکلونل اینٹی باڈیز دی جارہی ہیں انہیں حفاظتی طور پر کیا انہیں کویڈ کی حفاظتی ویکسین دی جاسکتی ہے؟
جواب
جی باکلُ ایسے لوگ ویکسین لگوا سکتے ہیں کیوں کہ یہ نقصان پہنچانے والی ویکسین نہیں ہے۔

19.سوال
جو لوگ سرجری کروانے کا ارادہ کررہے ہیں وہ کویڈ کی حفاظتی ویکسین کب لگوائیں؟
جواب
جو لوگ کسی میجر یا سرجری کا ارادہ رکھتے ہیں انہیں ویکسین کم از کم 2 ہفتے پہلے لگوا لینی چاہیے۔

20.سوال
جو لوگ کسی آٹو ایمیون بیماری میں مبتلا ہیں ان کے بارے میں کیا خیال ہے وہ کویڈ کی حفاظتی ویکسین لگالیں؟
‏SLE Sjogrens Syndrome
جیسے Autoimmune بیماریوں کے مریضوں کے لئے ، بیماری سے متعلق کوئی خاص اعداد و شمار موجود نہیں ہیں لیکن خیال ہے انہیں ویکسینیشن سے ان کی بیماری کے بڑہنے کا امکان نہیں ہے اس لیے انہیں ویکسین لگاو لینی چاہیے.

21.سوال
سائینوفارم کویڈ کی حفاظتی ویکسین کہاں کی بنی ہوئی ہے؟
جواب
چائینا کی ایک کمپنی نے تیار کی ہے اس کمپنی سے بننے والی ویکسین کا نام BBIBP-CorV ہے۔
یہ ویکسین (Attenuated/Killed virus vaccine) یعنی وائرس کو لیبارٹری میں مارنے کے بعد اس کی باقیات سے تیار کی گئی ہے جو کہ جسم میں داخل ہو کر اصل وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتی ہے۔

22.سوال
کیا حاملہ خواتین یا دودھ پلانے والی مائیں کویڈ کی حفاظتی ویکسین لگوا سکتی ہیں
جواب
باکلُ لگوا سکتی ہیں مگر حمل کے تین ماہ بعد یعنی پہلے ٹرائمیسٹر کے بعد۔ دودھ پلانے والی مائیں بلا جھجھک کویڈ کی حفاظتی ویکسین لگوا لیں۔

23.سوال
کیا بوڑھے اور ساٹھ سال سے اوپر عمر کے لوگ کویڈ کی حفاظتی ویکسین لگوا لیں؟
جواب
ساٹھ سال سے اوپر عمر کے بوڑھے افراد کو کویڈ کی حفاظتی ویکسین لینے کی ترغیب دی جانی چاہئے کیونکہ ان میں کوویڈ اموات کا خطرہ زیادہ ہے۔

24.سوال
کیا دماغی امراض، ڈیمنشیا ، فالج وغیرہ سے متاثرہ افراد کو کویڈ کی حفاظتی ویکسین لگانی چاہیے؟
جواب
جی باکلُ کیونکہ یہ لوگ کورونا سے بچاو کے حفاظتی انتظامات کرنے سے والے ہوتے ہیں۔

25.سوال
کیا دل کے مریض ، یا جگر کے مریض یا گردے اور جگر یا بون میرو کی پیوندکاری کے بعد یا جو لوگ ڈائیکیسز پر ہوں وہ کویڈ کی حفاظتی ویکسین لے سکتے ہے
جواب
جی ہاں۔ مگر ان لوگوں مدافعتی ردعمل دوسرا ان کے مقابلے میں کم ہوسکتا ہے اور انہیں حفاظتی اقدامات جاری رکھنے چاہئیں۔

26.سوال
جن لوگوں کی قوت مدافعت immunocompromised لوگوں کو کونسی کویڈ کی حفاظتی ویکسین لگانی چاہیے؟
جواب
سائینوفارم یا نوواویکس یا آر ایک اے ویکسین یا ایسی ویکسین جن میں زندہ وائرس نہ ہوں مثلاً وائرل ویکٹر ویکسین۔

27.سوال
وہ لوگ جو بلڈ پریشر، شوگر، دل کی بیماری کی ادویات لے رہیں ہوں یا دوسری ادویات مثلاً خون پتلا کرنے والے ایسپرین اور کلوپیڈوگریل تو Clopidogrel وہ کویڈ کی حفاظتی ویکسین لگوا سکتے؟
جواب
جی باکلُل۔ اور کویڈ کی حفاظتی ویکسین سے پہلے ان دوائیوں کو روکنے کی ضرورت نہیں ہے اور اینٹی اوگولنٹ والے لوگوں کو حفاظتی ٹیکہ دیا جاسکتا ہے۔

28.سوال
کیا وہ لوگ کویڈ کی حفاظتی ویکسین لگوا سکتے ہیں جنہوں نے دل کا بائی پاس کروایا ہو یا سٹینٹ لگوایا ہو اور کتنے عرصہ بعد ویکسین لگوائیں
جواب
جب انسان کے دل کی اینزائمز نارمل ہوں تو کویڈ کی حفاظتی ویکسین لگوائی جا سکتی ہے۔

29.سوال
کیا جلدی امراض میں مبتلا افراد یا ناک کی الرجک بیماری میں مبتلا افراد کویڈ کی حفاظتی ویکسین لگوا سکتے ہیں؟
جواب
جی ہاں باکلُ لگوا سکتے ہیں اور ادویات کو بند نہیں کرنا چاہئے۔

30.سوال
جو لوگ کرونا میں مبتلا ہیں انہیں ویکسین لگوا لینی چاہیے
جواب
نہیں انہیں کوویڈ سے صحت حاصل کرنے کے بعد کویڈ کی حفاظتی ویکسین لگوا لیں۔اور صرف ایک خوراک ہی کافی رہے گی۔

والسلام
پروفیسر ملازم حسین بخاری
پروفیسر ناصر رانا
ڈاکٹر وجیہہ رضوان
ڈاکٹر احمد عذیر قریشی

10/03/2021

امریکی ایکٹوسٹ اور مصنف بل وائٹ کے مطابق انارکی حکومت کی معاشرے کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت ختم ہو جانا یا ناقابل تلافی حد تک حکومت کا کمزور ہو جانا ہے-
ان نے اپنے ایک مضمون میں مندرجہ ذیل کچھ علامات کا ذکر کیا ہے جن سے اکثر معاشرے تیزی سے انارکی کی جانب بڑھتے ہیں -

1- ضروریات زندگی کی عدم دستیابی/ قلت
2- جرائم کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح
3- بیروزگاری اور غربت کی شرح میں تیزی سے اضافہ
4- حکومت کا عوام کی خواہشات کو نظرانداز کرنا
5- معاشی عدم استحکام اور مذہبی/نسلی یا/اور طبقاتی تقسیم
6- قانون نافذ کرنے والے اداروں کا سفاکانہ رویہ
7- منتخب نمائندوں پر عدم اعتماد
8- غلط یا کمزور معاشی پالیسیاں
9- قوانین بے معنی ہو جائیں
10- بہت بڑی آفت کا آنا

انارکی ایک طویل عرصے پر محیط عمل ہوتا ہے جس میں ریاست رفتہ رفتہ اپنا کنٹرول کھو رہی ہوتی ہے ۔ یہاں تک کہ ایک وقت آتا ہے جب معاشرے کے بیش تر طبقات حکومت کی پروا کئے بغیر آپس میں دست و گریباں دکھائی دیتے ہیں۔

ان علامات کو دیکھیں اور اپنے معاشرے کو دیکھیں۔

03/01/2020

*علم کی اہمیت*

"علم حاصل کرو خواہ چین جانا پڑے "۔ یہ ایک حدیث ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں۔

اسی طرح غزوہ بدر میں کافر قیدی مسلمان بچوں کو تعلیم دینے کے بعد رہا کئے گئے ۔

دین کا علم تو مدینہ شریف میں تھا ۔ یہ کون سا علم تھا جو چینی اور عربی کفار سے سیکھنے کا حکم ملا ۔

جب تک مسلمان سکالر دنیاوی علوم کے ماہر تھے ہم دنیا پر حکومت کرتے رہے۔

آج بھی بہت سارے عوامل کے علاوہ امریکہ ، یورپ ، چین ، وغیرہ کی برتری کی وجہ سائنس اور ٹیکنالوجی پر عبور اور اس کا استعمال ہے۔

مسلمان ممالک ان ترقی یافتہ ممالک سے سوئی سے لے کر جہاز تک خریدتے ہیں ۔ بلکہ اب تو روزمرہ کی ہر چیز باہر کے ان ممالک سے آتی ہے۔

ہم ہر طرح سے آراستہ بڑے بڑے محل نما گھروں ، بڑی بڑی گاڑیوں ، قیمتی ملبوسات ، وغیرہ وغیرہ کے لئے ہر جائز ، ناجائز ذریعے سے دولت کمانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ تمام مسلمان ممالک کے حکمرانوں ، اشرافیہ اور عوام پر ایک نظر ڈال کر دیکھ لیجئے ۔

اس لئے دین کے ساتھ ، دنیاوی علوم اور موجودہ دور کے سائنس اور ٹیکنیکل علم کی اہمیت کو سمجھنے اور مسلم امہ میں عام کرنے کی ضرورت ہے۔

21/11/2019

*پاکستان کا موجودہ معاشرہ اور قومی ذرائع آمدن*

آئیے آج سے پچاس ساٹھ سال پیچھے اپنی معاشرتی زندگی پر نظر دوڑائیں :-
* تب ہم کنویں یا ہینڈ پمپ کا پانی اپنی گھریلو زندگی میں استعمال کرتے تھے ۔
* کھیتی باڑی کا انحصار بارش اور کنووں کے پانی پر تھا ۔
* ڈرینیج اور سیوریج سسٹم کا نام و نشان تک نہیں تھا ۔
* گھوڑے ، گدھے ، ٹانگے اور بیل گاڑیاں عام تھیں جو کچے راستوں پر بھی بھاگ دوڑ لیتے تھے ۔
* آمد و رفت کم تھی ۔ گاڑیاں کم ہونے کے باعٹ سڑکوں اور پلوں کی اتنی ضرورت نہیں تھی ۔
* ایندھن علاقائی وسائل سے مل جاتا تھا ۔
* الیکٹریکل آلات بہت ہی کم تھے اور سادگی کے باعث ایندھن اور بجلی کی اتنی ضرورت بھی نہ تھی ۔
* کام کاج سورج کی روشنی میں کر لئے جاتے تھے ۔ عشاء پڑھتے ہی بستروں میں گھس جاتے تھے ۔ اس لئے رات کو روشنی کے وسائل بھی کم چاہئے تھے ۔
* گھریلو خالص غذا کی وجہ سے بیماری ٹوٹکوں سے ٹھیک ہو جاتی تھی ۔ ہسپتالوں کا جال نہیں تھا ۔
* تعلیم بھی بہت آسان اور سستی تھی ۔

اس لئے پرانے دور میں حکومت وقت پر کسی قسم کی سہولیات فراہم کرنے کا کوئی بوجھ نہ تھا ۔ حکومتی اور انتظامی امور اور امن و امان کے چند ادارے ہوتے تھے ۔ جن کے لئے قومی آمدن کے مختصر ذرائع سے حاصل معمولی رقم سے گزارا ہو جاتا تھا ۔

اب معاشرتی ضروریات پانی ، بجلی ، گیس ، پٹرول ، تیل ، کوئلے ، سڑکوں ، پلوں ، کپڑے لتے ، خوراک ، ڈرینیج و سیوریج ، ہسپتالوں ، سکول ، کالج ، یونیورسٹی ، وغیرہ کے علاوہ معاشی ذرائع اور انتظامی و سیاسی امور کے لا تعداد ادارے آج کی حکومتوں کی ذمہ داری بن چکے ہیں ۔
اس کے لئے موجودہ حکومتوں کو پرانے زمانے کے مقابلے میں بہت زیادہ رقم کی ضرورت ہے ۔ اور یہ رقم عوامی ٹیکسوں سے یا بین الاقوامی قرضوں سے حاصل کی جاتی ہے ۔

اب ذرا ترقی یافتہ ممالک کے سماجی اور معاشی نظام کے ساتھ ٹیکس کے نظام کو دیکھیں تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی :-
* وہاں ہر کاروباری اور معاشی کام ، کارخانہ ، بڑا سٹور ، چھوٹی دکان ، ہنر مند حضرات وغیرہ کا رجسٹر ہونا ضروری ہے ۔ رجسٹریشن کی ایک مخصوص فیس اور معیاد ہوتی ہے ۔ اس معیاد کے بعد رجسٹریشن دہرائی جاتی ہے ۔ اس کے بغیر ایک قدم بھی نہیں اٹھایا جا سکتا ۔
* قوم کا ہر فرد پراپرٹی ٹیکس ، سیل ٹیکس ، ایکسائز ٹیکس اور دیگر ٹیکسوں کے ساتھ انکم ٹیکس بھی ادا کرتا ہے ۔
* اسی طرح ہر معاشی اور کاروباری ادارہ بھی تمام ٹیکس ادا کرتا ہے ۔
* ایسا نظام نافذ کیا گیا ہے کہ ٹیکس کی عدم ادائیگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ خطا کار کڑی سزا بھگتا ہے ۔
* حکومت کو ورلڈ بنک ، ایشیا بنک ، آئی ایم ایف وغیرہ سے قرضہ نہیں لینا پڑتا ۔

ہم پاکسان میں ماڈرن دور میں داخل تو ہو گئے لیکن اپنے معیشت اور ٹیکس کے سسٹم کو تبدیل نہیں کر پائے ۔ اس ٹیکس کے پرانے نظام میں امیر طبقہ امیر تر ہوتا گیا ۔ ایک دکان کا مالک کئی دکانوں کا مالک بن بیٹھا ۔ ایک کارخانے کا مالک کئی کارخانوں کا مالک بن گیا ۔ معمولی پراپرٹی ڈیلر صاحب جائیداد ہو گیا ۔ عام آدمی بھی کئی بنگلوں کا مالک بن گیا ۔ چھوٹے کاروبار سے بڑا بیوپاری ہو گیا ۔

مگر پاکستان غریب سے غریب تر ہو گیا ۔ اس کی بڑی وجوہات ٹیکس نظام کی کمزوری اور خامیاں ، سیاسی قوتوں کے ذاتی مفاد کے حربے ، ہر کارباری طبقے کے اپنے مفاد کے اقدامات ، بد دیانت سرکاری کارندے ، وغیرہ سب کے علم میں ہیں ۔

ہماری نابالغ سیاسی قوتیں اور نا سمجھ کمزور کرپٹ حکومتیں موجودہ دور کی ضروریات اور تقاضے پورے کرنے کے لئے قومی ذرائع سے رقم حاصل نہ کر سکے تو بین الاقوامی اداروں سے قرضے لیکر ڈیم بنانے ، دریائوں کے بند باندھنے ، نہریں کھودنے ، ریل گاڑی چلانے ، موٹر وے اور پل بنانے ، بجلی گھر لگانے ، کارخانے لگانے ، وغیرہ وغیرہ ، شروع کر دئیے ۔ ان قرضوں کے استعمال میں حکمران اور متعلقہ اہلکاروں پر کرپشن ، منی لانڈرنگ ، اندرون ملک اور بیرون ملک پراپرٹی بنانے اور ککھ سے لکھ بننے کے الزامات بھی لگتے رہے جو کمزور قوانین کی نظر ہوتے گئے ۔

ہم پرانے ٹیکس سسٹم کے تحت قرضوں کی قسطیں اور سود نہیں دے سکے تو مزید قرض لیتے رہے ۔ ڈالر ریٹ کے مسلسل اوپر جانے سے قرضے کا بوجھ بھی بڑھتا رہا ۔ اس طرح ہم ایک جال میں پورے جکڑے ہوے ہیں ۔

ہمیں اس جال سے نکلنے اور ایک ترقی یافتہ ملک میں داخل ہونے کے لئے قومی ذرائع آمدن بڑھانے ہونگے ۔ اور ہر طرح کے قرض سے جان چھڑانے کے لئے مشکل فیصلوں کو برداشت کرنا ہو گا ۔

اس مقصد کے لئے ٹیکس اور معیشت کا ایسا نظام نافذ کرنا ہو گا ، جو حکومت کو باہر سے قرضہ لئے بغیر قومی ذرائع آمدن سے موجودہ دور کی تمام ضروریات اور سہولیات عام آدمی تک پہنچا سکے ۔ اس سلسلے میں چند تجاویز درج ذیل ہیں :-
* ہر معاشی کاروبار کو رجسٹر کرنا ہو گا ۔ رجسٹریشن کے بعد سیلز ٹیکس اور ایکسائز ٹیکس وغیرہ کے علاوہ انکم ٹیکس بھی باقاعدگی سے حکومت کو جمع کرانے ہونگے ۔
* جو کاروباری ادارے رجسٹر نہیں ہوں گے وہ عوام کو کسی بالواسطہ ٹیکس کی چیزوں کی تجارت یا کاروبار نہیں کر سکیں گے ۔
* کوئی بھی پیشہ ور ہنر مند شخص لائسنس کے بغیر کام نہ کر سکے ۔
* ہر سرکادی اور پرائویٹ نوکری پیشہ شخص اپنی معاشی حیثیت کے مطابق انکم ٹیکس دے ۔ چھوٹا غریب طبقہ کم اور بڑا امیر طبقہ زیادہ انکم ٹیکس دے ۔
* ٹیکس میں کسی قسم کے غیر قانونی حرکت کی اتنی سخت سزا ہو کہ حکومتی سرکار اور عوامی کارندے کی اگلی نسل بھی کبھی کرپشن کا نہ سوچے ۔
* اس ٹیکس کا ایک پیسہ بھی کرپشن کا شکار نہ ہو ۔ خطا کار کڑی سزا کا شکار ہو تاکہ باقی لوگوں کو بھی ایمانداری سے کام کرنے کا سبق ملے ۔
* انتظامی بجٹ کم کرنے کے لئے وزیروں کو کم کیا جائے ۔ اور بےمقصد سیاسی کمیٹیوں اور غیر ضروری محکموں اور اداروں کو بند کیا جائے اور اضافی عملہ کارآمد مطلوبہ دفتروں میں ٹرانسفر کیا جائے ۔
* ٹیکس کی رقم پراجیکٹوں پر اس طرح خرچ ہو کہ عوام کو بند آنکھوں سے بھی نظر آئے ۔
* بیرونی سرمایہ داروں کو " ایک کھڑکی سے تمام پروسیجر One window operation " سے تمام لوازمات پورے کئے جائیں اور انفراسٹرکچر کی مکمل سہولیات مہیا کی جائیں ۔
* مالی سہولتیں دے کر مطلوبہ صنعتی ترقی کو بحال کرنا چاہئے ۔
* ترقی یافتہ ممالک سے ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے ذریعے ترقی یافتہ قوم بننے کی راہ پر چلنے کے اقدامات اٹھانا چاہئے ۔
* ہم یہاں ماڈرن ٹیکنالوجی کے ماہرین پیدا کر کے بیرون ملک بھجوا کر فنی فائدے کے ساتھ زرمبادلہ وغیرہ بھی حاصل کرسکتے ہیں ۔
* ترقی یافتہ ممالک سے اعلی تعلیم یافتہ ہنر مند پیشہ ور سکالر حضرات کی مہارت سے مستفید ہو سکتے ہیں ۔
* زرعی ملک ہونے کے ناطے پیداوار بڑہانے کے لئے جدید زرعی علوم و آلات پر توجہ دینا چاہئے ۔
* ہمیں سیاسی کشمکش سے نکل کر اپنے معاشرتی اور معاشی مسائل پر زور دینا چاہئے ۔
* ٹی وی چینلز کو سیاسی پروگراموں کی بجائے روزانہ معاشرتی ، معاشی اور تعلیمی پروگراموں کو ترجیح دے کر ترقی کرنے کے لئے مثبت ماحول پیدا کرنا ہو گا ۔ اس کے لئے موجودہ صحافتی اینکر پرسن کی جگہ پروفیشنل ٹیکنیکل اینکر تلاش کر کے بٹھانے ہوں گے جو عوام کو اصلی صورتحال سے آگہی دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور مخالف لوگوں سے بھی مدلل گفتگو کر سکیں ۔

حکومت کو معیشت اور ٹیکس ماہرین سے ایک قابل عمل پلان اور کمپیوٹرائز پروسیجر بنوا کر پوری قوت سے تمام ذرائع استعمال کر کے نافذ کرنے کے اقدامات اٹھانے کا آغاز کردینا چاہئے ۔

(انجنیئر محمد امجد پرویز)

20/11/2019

مہاتیر محمد کو 1989 میں ہارٹ اٹیک ہوا۔ اس وقت ملائیشیا میں صحت کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ ملک کی اشرافیہ ہارٹ سرجری کےلیے انگلینڈ، سنگاپور، آسٹریلیا اور دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک میں جایا کرتے تھے، یہی حال، وزرا ارکان اسمبلی اور بیوروکریٹس کا بھی تھا۔

ڈاکٹروں نے اسی پریکٹس کو دہراتے ہوئے مہاتیر محمد کو بھی سنگاپور، جاپان یا برطانیہ لے جانے کا مشورہ دیا، لیکن انہوں نے باہر علاج کرانے سے صاف صاف انکار کردیا۔ مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ یہ سراسر ظلم اور زیادتی ہوگی کہ ملائیشیا کے لوگ کم تر سہولتوں کے ساتھ علاج کرائیں اور وزیراعظم کا دنیا کے مہنگے ترین اسپتالوں میں علاج ہو۔ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر میرا دنیا سے دانا پانی اٹھ چکا ہے تو بڑے سے بڑا ڈاکٹر بھی مجھے نہیں بچا سکتا اور اگر میری زندگی باقی ہے تو کوئی مجھے مار نہیں سکتا۔ مہاتیر محمد کی اس سوچ کے آگے ملائیشیا کے ڈاکٹرز بے بس ہوگئے۔ وزیراعظم کا ملائیشیا میں ہی آپریشن ہوا اور کامیاب بھی رہا اور وہ 94 سال کی طویل عمر میں چاق و چوبند ہیں اور وزیراعظم کی حیثیت سے ملائیشیا کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار بھی ادا کررہے ہیں۔ مہاتیر محمد کے اس فیصلے نے ملائیشیا کے ”ہیلتھ سیکٹر“ میں جان ڈال دی۔ ڈاکٹروں اور عوام میں اعتماد پیدا ہوا۔ امرا بھی مقامی اسپتالوں میں علاج کرانے لگے۔ آج ملائیشیا دنیا بھر کے مریضوں سے اربوں روپے کما رہا ہے۔

حیران کن طور پر پاکستان سے بھی ہزاروں مریض ملائیشیا جاتے ہیں اور کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ یہ طبی اور معاشی انقلاب مہاتیر محمد کے ایک فیصلے کا نتیجہ تھا۔ مہاتیر محمد بھی اگر 1989 میں اپنی اوپن ہارٹ سرجری کےلیے بیرون ملک چلے جاتے تو ملائیشیا کے عام لوگ آج بھی اسپتالوں میں ایڑیاں رگڑ رہے ہوتے اور اشرافیہ مہنگے داموں پر بیرون ممالک سے علاج کروانے پر مجبور ہوتی۔

کتنے دکھ اور افسوس مقام ہے کہ پاکستان میں نواز شریف اور ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف 35 سال تک کسی نہ کسی صورت میں اقتدار میں رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی بھی چار بار حکومت کے مزے لوٹتی رہی۔ قدرت نے جماعت اسلامی، مسلم لیگ ق، جمعیت علمائے اسلام، اے این پی، ایم کیو ایم سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کو اقتدار میں آنے کے مواقع فراہم کیے لیکن اس کو ملک کی بدقسمتی کہیں یا کچھ اور۔ کوئی بھی ملکی سیاسی جماعت پاکستان میں ایک بھی ایسا اسپتال نہیں بنا سکی جس میں میاں نواز شریف سمیت اشرافیہ کا علاج ہوسکے۔ آج مسلم لیگ ن کے رہنما کیوں بیانات دے رہے ہیں کہ بیرون ملک علاج نہ ہونے کی صورت میں نواز شریف کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔ میاں شہباز شریف علاج کےلیے بار بار کیوں لندن جاتے ہیں۔ چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الہٰی جرمنی اور ناروے کے کلینکس میں کیوں جاتے رہے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کی کمر کی تکلیف دور کرنے کےلیے بھی کوئی کلینک، کوئی اسپتال ملک میں موجود کیوں نہیں تھا۔ ماضی میں آصف علی زرداری کیوں علاج کےلیے لندن، نیویارک اور دبئی میں مارے مارے پھرتے رہے۔

میاں نواز شریف فارغ وقت میں خود سے یہ سوال ضرور کریں کہ میں علاج کےلیے بیرون ملک ہی کیوں جانا چاہتا ہوں؟ کیا یہ میری 35 سال تک اقتدار میں رہنے کی ناکامی نہیں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Mandra?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Faizul Islam Institute Of Technology, G. T Road, Mandra (adjacent To Mandra Toll Plaza)
Mandra