GHS Mangat Learning Hub

GHS Mangat Learning Hub ہمارا مقصد معیاری تعلیم اور ہنرمندی کی ترقی کے ذریعے طلباء کو بہتر مستقبل کے لیے تیار کرنا ہے

گورنمنٹ ہائی سکول مانگٹ کے سیشن 2024-2026 کے چمکتے دمکتے ستارے جو اب مختلف کالجوں میں اپنی چمک دمک دکھا رہے ہیں
09/09/2026

گورنمنٹ ہائی سکول مانگٹ کے سیشن 2024-2026 کے چمکتے دمکتے ستارے جو اب مختلف کالجوں میں اپنی چمک دمک دکھا رہے ہیں

سابقہ سٹوڈنٹس محمد اکرام اور عثمان اعجاز بیسٹ ویشزجو سیکھا ہے، اس پر یقین رکھیں اور پورے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں۔ہمیں ی...
08/09/2026

سابقہ سٹوڈنٹس محمد اکرام اور عثمان اعجاز
بیسٹ ویشز
جو سیکھا ہے، اس پر یقین رکھیں اور پورے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں۔
ہمیں یقین ہے کہ آپ اپنی محنت سے
اپنے والدین، اساتذہ اور سکول کا نام روشن کریں گے۔

07/09/2026

تاجدارِ ختمِ نبوّت ﷺ زندہ باد زندہ باد
حافظ محمد شہباز صاحب نے بڑے ہی پیارے انداز میں بچوں کو نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ خاتم النبیینﷺ کی ختمِ نبوّت ﷺ کے بارے میں منفرد اور دلکش انداز میں سمجھایا

7 ستمبر — یومِ تحفظِ ختمِ نبوت ﷺ گورنمنٹ ہائی سکول مانگٹآج گورنمنٹ ہائی سکول مانگٹ میں طلباء کو 7 ستمبر، یومِ تحفظِ ختمِ...
07/09/2026

7 ستمبر — یومِ تحفظِ ختمِ نبوت ﷺ

گورنمنٹ ہائی سکول مانگٹ
آج گورنمنٹ ہائی سکول مانگٹ میں طلباء کو 7 ستمبر، یومِ تحفظِ ختمِ نبوت ﷺ کے حوالے سے خصوصی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر طلباء کو اس دن کی تاریخی اہمیت اور عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔
7 ستمبر پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم دن ہے۔ 7 ستمبر 1974ء کو پاکستان کی پارلیمنٹ نے آئینی طور پر قادیانیوں کے تمام گروہوں کو غیر مسلم قرار دینے کے حوالے سے آئینی ترمیم منظور کی۔ اس تاریخی فیصلے کی منظوری ایک طویل آئینی و پارلیمانی عمل کے بعد ہوئی۔
طلباء کو بتایا گیا کہ ختمِ نبوت ﷺ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے اور مسلمان کا ایمان ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ۗ
(سورۃ الاحزاب: 40)
اس موقع پر طلباء کو یہ پیغام بھی دیا گیا کہ اپنے عقائد سے محبت کے ساتھ ساتھ علم، تحقیق، آئین و قانون کا احترام، برداشت، حسنِ اخلاق اور پُرامن طرزِ عمل کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
ہماری نئی نسل ہمارا مستقبل ہے؛ اسے اپنے دین، تاریخ، آئینی ذمہ داریوں اور قومی اقدار سے آگاہ کرنا بھی تعلیم کا اہم حصہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے طلباء کو صحیح علم، بہترین کردار اور دین و وطن کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
گورنمنٹ ہائی سکول مانگٹ
تعلیم کے ساتھ شعور، کردار اور ذمہ داری

07/09/2026

آج 7 ستمبر یومِ تحفظِ تاجدارِ ختمِ نبوّت ﷺ کے حوالے سے سر ضیاء المصطفیٰ صاحب پرنسپل گورنمنٹ ہائی سکول مانگٹ نے بہت خوبصورت انداز میں طلباء کو بریفننگ دی
تاجدارِ ختم نبوّت ﷺ
زندہ باد زندہ باد

کلاس ششم پارٹ 7ختمِ نبوّت ﷺ ہماری نجات کا رستہ ہےپاکستان میں موجود سیکولر انتہا پسند، لبرل فاشسٹ اور نام نہاد دانش وربھی...
07/09/2026

کلاس ششم پارٹ 7
ختمِ نبوّت ﷺ ہماری نجات کا رستہ ہے

پاکستان میں موجود سیکولر انتہا پسند، لبرل فاشسٹ اور نام نہاد دانش وربھی امریکہ و برطانیہ کے یہود و نصاریٰ کی زبان بول رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ مرزائیت کا مسئلہ حل ہو چکا ہے۔ اب ان کے خلاف کام کرنا ’’مولویوں کے پیٹ کا دھندہ‘‘ ہے۔ دوسری طرف وہ قادیانیوں کو مسلمان قرار دلوانے کے استعماری مطالبے کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ یہ محض پروپیگنڈہ نہیں بلکہ عالمِ کفر کا ایجنڈا۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ، قادیانیوں کو مسلمان قرار دلوانے کی محنت کر رہے ہیں۔ قادیانیت کو سمجھنے کے لیے یہی بات کافی ہے۔ مرزائی آج بھی ارتداد کی تبلیغ اور ملک کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ تل ابیب، لندن اور چناب نگر (ربوہ) ان سازشوں کے مراکز ہیں۔ عقیدۂ ختمِ نبوّت کے خلاف مرزائی لٹریچر مسلسل شائع ہو رہا ہے اور حکومت خاموش تماشائی ہے۔ بلکہ موجودہ حکومت میں ختمِ نبوّت کے لٹریچر کو بھی نعوذ باللہ فرقہ وارانہ تناظر میں لیا جا رہا ہے۔ توہین رسالت آرڈینینس کی مخالفت، شناختی کارڈ پر مذہب کے اندراج کی مخالفت میں مرزائی پیش پیش رہے ہیں اور آج فرقہ وارانہ دہشت گردی کے پس منظر میں بھی قادیانی سازشیں ہی کار فرما ہیں۔
ان حقائق کی روشنی میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ 7 ستمبر مسلمانوں کے لیے تجدیدِ عہد کا دن ہے۔مسلمان عقیدۂ ختمِ نبوّت کے تحفظ کی جدوجہد کو پوری قوت سے جاری رکھیں گے اور پرچمِ ختمِ نبوّت ہمیشہ لہراتا رہے گا۔ آج ملک بھر میں منعقد ہونے والے اجتماعاتِ ختمِ نبوّت میں مطالبہ کیا جائے گا کہ قادیانیوں کی دین و ملک دشمن سرگرمیوں کی بنیاد پر قادیانی جماعت پر پابندی عائد کرکے اسے خلافِ قانون قرار دیا جائے۔

کلاس ہفتم پارٹ 6ختمِ نبوّت ﷺ ہمارے دلوں کی دھڑکن ہے 22 مئی 1974ء میں مرزائیوں نے پھر سر اٹھایا۔ ربوہ ریلوے سٹیشن پر نشتر...
07/09/2026

کلاس ہفتم پارٹ 6
ختمِ نبوّت ﷺ ہمارے دلوں کی دھڑکن ہے

22 مئی 1974ء میں مرزائیوں نے پھر سر اٹھایا۔ ربوہ ریلوے سٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے مسافر طلباء پر حملہ کر کے انہیں زدو کوب کیا۔ یہ حادثہ شعلۂ جوالہ بن گیا۔ اور پورا ملک تحریک تحفظ ختمِ نبوّت کا میدان بن گیا۔ تحریک اتنی شدید اور طاقت ور تھی کہ اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اس مسئلہ کو قومی اسمبلی میں حل کرنے کا فیصلہ کیا۔
اسمبلی سے باہر کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختمِ نبوّت، محدث العصر مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کی قیادت میں سرگرم عمل تھی۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ، قائد احرار جانشین امیر شریعت مولانا سید ابوذر بخاریؒ، نواب زادہ نصر اللہ خانؒ، آغا شورش کاشمیریؒ، حافظ عبدالقادر روپڑیؒ، میاں طفیل محمدؒ، غلام احسان الٰہی ظہرؒ، مولانا سید عطاء المحسن بخاریؒ، مولانا سید عطاء المؤمن بخاری، مولانا سید عطاء المہیمن بخاری اور تحریک کے دیگر مرکزی رہنمائوں نے قدم بہ قدم شب و روز ایک کر کے تحریک کو بامِ عروج پر پہنچایا۔ ادھر اسمبلی کے اندر مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا مفتی محمودؒ، مولانا عبدالحق، مولانا شاہ احمد نورانیؒ پروفیسر عبدالغفور احمد اور ان کے رفقاء نے آئینی جنگ کر کے تحریک کا مقدمہ جیت لیا۔ آخر۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی کے تاریخی فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیّت قرار دے دیا اور یہ فیصلہ ایک ترمیم کے ذریعے پاکستان کے بنا۔
آج اس آئینی فیصلے کو 39 برس بیت گئے ہیں مگر مرزائیوں نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ وہ آئے روز مسلمانوں کے خلاف اپنی سازشوں کا جال پھینکتے رہتے ہیں۔ علما کے خلاف نفرت پیدا کرنا۔ فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینا اور سیاسی طور پر پاکستان کو بدنام اور غیر مستحکم کرنا اور ملکی سلامتی کے خلاف سازشیں کرنا مرزائیوں کا نصب العین ہے۔
تحریک ختمِ نبوّت 1974ء میں جنرل محمد ضیاء الحق شہید نے حضرت مولانا خواجہ خان محمد رحمہ اللہ کی قیادت میں قائم کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوّت کے مطالبات منظور کرتے ہوئے قانون امتناع قادیانیت جاری کر کے مرزائیوں کو شعائر اسلامی اور اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے سے روک دیا۔ یہود و نصاریٰ کی مکمل سرپرستی و تعاون کی وجہ سے اس قانون کا مؤثر نفاذ تو نہ ہو سکا لیکن بہت حد تک مرزائیوں کے اثر و نفوذ کا راستہ روک دیا گیا۔

کلاس ہشتم پارٹ 5ختمِ نبوت ﷺ ہماری زندگی کا سرمایہ ہےقیامِ پاکستان، مرزائیوں کے لیے سب سے بڑا سانحہ اور صدمہ تھا۔تقسیم مل...
07/09/2026

کلاس ہشتم پارٹ 5
ختمِ نبوت ﷺ ہماری زندگی کا سرمایہ ہے

قیامِ پاکستان، مرزائیوں کے لیے سب سے بڑا سانحہ اور صدمہ تھا۔تقسیم ملک کے وقت بائونڈری کمیشن میں مسلم لیگ کے قادیانی نمائندہ سر ظفر اللہ خان آنجہانی نے بھرپور وار کیا اور پٹھانکوٹ، فیروز پور، گورداس پور، قادیان اور آدھے کشمیر کو پاکستان میں شامل نہ ہونے دیا۔
قیامِ پاکستان کے بعد اس وقت کے گورنر پنجاب سر فرانسس موڈی نے چنیوٹ سے متصل دریائے چناب کے کنارے ایک پوری بستی اپنے اس چہیتے اور پالتو بچے کے نام الاٹ کر دی ۔ جو آج چناب نگر (ربوہ) کے نام سے معروف ہے۔ یہاں قادیانیوں نے اپنا ہیڈ کوارٹر اور بیس کیمپ بنایا اور پاکستان کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ مرزا بشیر الدین نے پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کا پروگرام بنایا اور بلوچستان کو ’’احمدی سٹیٹ‘‘ بنانے کی منظم منصوبہ بندی مکمل کر لی۔ سر ظفر اللہ (قادیانی) وزیرِ خارجہ تھا۔ اس نے نہ صرف داخلی محاذ پر قادیانیوں سے مکمل تعاون کیا بلکہ خارجی محاذ پر بھی مکمل سیاسی تحفظات فراہم کیے۔ یہ ۱۹۵۲ء بات ہے تب مجلس احرارِ اسلام نے گہرے غور و خوض کے بعد تحریکِ تحفظِ ختمِ نبوّت آغاز کیا۔ پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر کے علما کو دعوت دی اور انہیں عقیدۂ ختمِ نبوّت کے تحفظ کی عظیم الشان اساس پر متحد و منظم کر دیا۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی قیادت و سیادت میں زور دار تحریک چلی مگر وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی لیگی حکومت نے گولی کے زور پر تحریک کو کچلنے کی کوشش کی۔ جنرل اعظم خان نے6 مارچ 1953ء کو جنرل ایوب خان کی ہدایت پرلاہور میں پہلا مارشل لاء لگا کر ہزاروں فدائین ختمِ نبوّت کے سینے گولیوں سے چھلنی کردیے۔ بظاہر تحریک کو تشدد کے ذریعے کچل دیا گیا مگر… مسلمانوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے ایک جوش، ولولہ اور جذبہ بیدار کر گیا۔حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، حضرت مولانا ابوالحسناتؒ، حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا محمد حیاتؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، شیخ حسام الدینؒ، ماسٹر تاج الدین انصاریؒ، مولانا سید ابوذر بخاریؒ اور دیگر علماء و قائدین نے تمام صعوبتوں کو برداشت کر کے تحفظِ ختمِ نبوّت کی جدوجہد جاری رکھا۔

کلاس نہم (قائد) پارٹ 4 ختمِ نبوت ﷺ ہماری محبت ہے1929ء سے پہلے فتنۂ قادیانیت کے خلاف جتنی جدوجہد ہوئی وہ انفرادی نوعیت ک...
07/09/2026

کلاس نہم (قائد) پارٹ 4
ختمِ نبوت ﷺ ہماری محبت ہے

1929ء سے پہلے فتنۂ قادیانیت کے خلاف جتنی جدوجہد ہوئی وہ انفرادی نوعیت کی تھی۔ حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ، حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ، حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اور سب سے پہلے علماء لدھیانہ نے علمی محاذ پر اپنی زبان و قلم سے فتنۂ قادیانیت کے تار و پود بکھیر رکھ دیے۔ انہی علمائِ حق کی انفرادی محنت آگے چل کر اجتماعی جدوجہد میں تبدیل ہوئی۔ ۱۹۲۹ء میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے مجلس احرارِ اسلام کی بنیاد رکھی اور اس کے اغراض و مقاصد میں فتنۂ قادیانیت کا تعاقب و احتساب کلیدی حیثیت کا حامل تھا۔ چنانچہ مجلس احرارِ اسلام نے قادیانیت کا عوامی اور سیاسی احتساب شروع کیا۔ 1930ء کی ’’کشمیر کمیٹی‘‘ قادیانیوں کی کمین گاہ تھی۔ مجلس احرار نے اس کشمیر کمیٹی کا بائیکاٹ کیا۔ علامہ محمد اقبال، جو قادیانی لابی کے دھوکے سے اس کمیٹی کے سیکرٹری بن گئے تھے۔ اکابرِ احرار خصوصاً امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے ملاقاتیں کر کے قادیانی عقائد و نظریات اور اُمّتِ مسلمہ کے خلاف ان کی سازشتوں سے باخبر کیا۔ علامہ مرحوم نے نہ صرف اس کمیٹی سے استعفیٰ دیا بلکہ قادیانی عقائد کی تردید میں انگریزی میں چار مقالے تحریر کیے۔ اقبال مرحوم نے قادیانیوں کو ’’اسلام اور وطن کا غدار‘‘ قرار دیا۔ 1934ء میں مجلس احرار نے اس جدو جہد کو وسیع تر کرتے ہوئے شعبۂ تبلیغ تحفظ ختمِ نبوت قائم کیا۔ اسی شعبہ کے تحت ’’قادیان‘‘ میں اپنا دفتر قائم کیا۔ قادیان… مرزائیت کا مرکز اور انگریز کی سرپرستی میں بظاہر اُن کی خود مختار ریاست تھی۔ احرار رہنمائوں اور کارکنوں نے مرزائیوں کے ریاستی جبر و تشدد اور اقتدار کی نخوت کو خاک میں ملا دیا۔ مقامی مسلمانوں کو معاشی و سیاسی اور دینی تحفظ فراہم کیا۔ 1934ء میں قادیان میں ’’احرار تبلیغ کانفرنس‘‘ منعقد کی اور ہندوستان بھر کے مسلمانوں کو مرزائیت کے خلاف ہم زبان اور ہم قدم کر کے ارتداد کی تبلیغ کا راستہ پوری قوت سے روک دیا۔

کلاس نہم (اقبال) پارٹ 3  ختمِ نبوت ﷺ ہماری پہچان ہےبرصغیر میں فرنگی اقتدار کے خلاف ہندوستان کی تمام اقوام متحد ہوئیں اور...
07/09/2026

کلاس نہم (اقبال) پارٹ 3 ختمِ نبوت ﷺ ہماری پہچان ہے

برصغیر میں فرنگی اقتدار کے خلاف ہندوستان کی تمام اقوام متحد ہوئیں اور سامراج کی غاصب وظالم حکومت کے خلاف ہر محاذ پر زبردست جدوجہد کی۔ خاص طور پر مسلمانوں نے انگریز کے خلاف بغاوت کو جہاد قرار دیا اور اسے توشۂ آخرت سمجھ کر اس محاذ پر سرگرم رہے۔ قربانی و ایثار سے معمور مسلمانوں کی جدوجہد تاریخِ آزادی میں منفرد و بے مثال ہے۔انگریز… دانا اور عیار دشمن تھا۔ یہ بات ہمیشہ اس کے پیش نظر رہی کہ ہم نے اقتدار مسلمانوں سے چھینا اور مسلمان ہی ہمارے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ علمائِ حق نے نہ صرف انگریز کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا بلکہ اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے مسلمانوں کی قیادت بھی کی۔
انگریز نے اسی جذبۂ جہاد کو مسلمانوں کے دل ودماغ سے نکالنے کے لیے جعلی اور جھوٹا نبی پیدا کیا۔ ’’قادیان‘‘ کے ایک لالچی اور بدکردار شخص ’’مرزا غلام احمد‘‘ کو دعویٰ نبوت کے لیے آمادہ وتیار کیا اور آخر کار اس بدبخت نے نبوت کا دعویٰ کردیا۔ مرزا قادیانی نے پہلا کام یہ کیا کہ انگریز کے خلاف جہاد کو حرام قرار دیا اور انگریز کی اطاعت وفرمانبرداری کو ہی اصل ایمان قراردیا۔
یہ لمحہ مسلمانوں کے لیے بہت بڑی آزمائش تھا۔ تب علمائِ حق نے مسلمانوں کا حوصلہ بڑھایا اور اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے میدانِ عمل میں آئے۔ فتنۂ قادیانیت کو انگریز کی مکمل سرپرستی حاصل تھی اور آج بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فتنے کو کچلنے کے لیے مسلمانوں کے نوے سال صرف ہوئے۔

Address

Mandi Bahauddin

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GHS Mangat Learning Hub posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share