GHS Sir Syed Mandi Bahaudin

GHS Sir Syed Mandi Bahaudin

Share

قوم کی خدمت کرنا عبادت ہے۔
سرسید احمد خان

18/05/2026
Photos from GHS Sir Syed Mandi Bahaudin's post 18/05/2026

پرنسپل محمد نواز جعفری صاحب کو سکیل 20 میں ترقی ملنے کے اعزاز میں سکول سٹاف کی جانب سے مقامی میرج ہال میں ایک پروقار ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ اس تقریب کا مقصد محترم پرنسپل صاحب کی تعلیمی خدمات، بہترین انتظامی صلاحیتوں اور محکمہ تعلیم کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔
تقریب کا آغاز منور حسین صاحب کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ ظہور احمد نقشبندی نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت کے پھول پیش کرتے ہوئے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔ تقریب کی نظامت کے فرائض محمد فاروق گجر نے خوش اسلوبی سے انجام دیے، جنہوں نے اپنے خوبصورت اندازِ گفتگو سے تقریب کو چار چاند لگا دیے۔
تقریب میں بطور مہمانِ اعزاز محمد بشیر وڑائچ (مرکزی صدر Punjab Teachers Union، معروف ماہرِ تعلیم جناب خضر حیات سابق صدر ایس ای ایس ، اور ضلعی صدر Punjab Teachers Union محمد نواز گوندل نے خصوصی شرکت کی۔ معزز مہمانوں کو مرکزی صدر ایس ای ایس جناب شمیم ظفر وڑائچ نے خوش آمدید کہا اور ان کی آمد کو تقریب کے لیے باعثِ اعزاز قرار دیا۔
اپنے خطابات میں مقررین نے پرنسپل محمد نواز جعفری صاحب کی تعلیمی و انتظامی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سکیل 20 میں ترقی نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ پورے تعلیمی حلقے کے لیے باعثِ فخر ہے۔ مقررین نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں بھی اپنی قائدانہ صلاحیتوں اور محنت سے تعلیمی میدان میں نمایاں خدمات انجام دیتے رہیں گے۔
تقریب کے اختتام پر ضلعی صدر ایس ای ایس جناب فیاض حسین سویہ نے تمام مہمانانِ گرامی، اساتذہ اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب خوشگوار اور پُروقار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جہاں شرکاء نے پرنسپل محمد نواز جعفری صاحب کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار کیا۔

08/05/2026

موجودہ حالات میں اساتذہ کے پیشہ ورانہ مسائل۔۔۔۔۔
1-سروس سٹرکچر میں عدم توازن
2- سرکاری سکولوں کی بڑھتی ہوئی نجکاری
3- اساتذہ کی کمی،
4-غیر تدریسی ذمہ داریوں میں بےتحاشا اضافہ (الیکشن، مردم شماری، ڈینگی، پولیو مہمات، ہیلتھ پروفائل، زیبرا کراسنگ مارکنگ)،
5- پے اینڈ سروس پروٹیکشن کا نہ ملنا،
6- پنشن اور گریجویٹی میں بھاری کٹوتیاں،
7- لیو انکیشمنٹ میں یک طرفہ فیصلے،
8- ترقیوں میں سالوں کی تاخیر،
9- غیر تدریسی دفتری بوجھ۔۔
مزید بہت کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسے مسائل اساتذہ میں شدید بے چینی اور مایوسی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔
احتجاج ایک جائز اور فطری ردعمل ہے، مگر اس کی نوعیت بہت اہمیت رکھتی ہے۔

تعلیمی بائیکاٹ ایک انتہائی قدم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کلاس روم کی بندش سے سب سے زیادہ نقصان غریب اور پسماندہ طلبہ کو ہوتا ہے، جو پرائیویٹ ٹیوشن یا ڈیجیٹل وسائل سے محروم ہیں۔
پچھلے تعلیمی بائیکاٹ کے بعد سرکاری سکولوں میں داخلے 15 سے 20 فیصد تک کم ہوئے ہیں، جبکہ نجی سکولوں میں رجحان 25 فیصد بڑھا ہے۔
جو واضح دلیل ہے کہ والدین کا اعتماد گورنمنٹ سکولوں سے اٹھنے لگا ہے، اور اسے بحال کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ جب استاد خود تعلیم کا بائیکاٹ کرتا ہے تو معاشرے میں استاد کے وقار کو شدید دھچکا لگتا ہے، کیونکہ استاد کا اصل فرض پڑھانا ہے۔

اس کے برعکس، اگر احتجاج کا رخ خصوصی طور پر غیر تدریسی اور انتظامی امور کی طرف موڑ دیا جائے تو یہ زیادہ مؤثر اور ذمہ دارانہ حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔
1- بورڈ اور یونیورسٹی امتحانات کا مکمل بائیکاٹ۔
2- پریکٹیکل امتحانات سے انکار۔
3- ڈینگی ایپ، پولیو مہم، شجرکاری، الیکشن، مردم شماری اور دیگر کا بائیکاٹ۔
4- دفتری امور جیسے غیر ضروری ڈاک، ریکارڈ اپڈیٹ، SIS پر حاضری سے انکار۔
5- تربیتی ورکشاپس و سیمینارز سے کنارہ کشی۔۔۔۔
یہ تمام اقدامات طلبہ کی تعلیم کو متاثر کیے بغیر انتظامیہ پر دباؤ ڈالتے ہیں۔

اس حکمت عملی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ عوامی ہمدردی اساتذہ کے ساتھ رہتی ہے۔ جب والدین دیکھتے ہیں کہ اساتذہ اپنے حقوق کے لیے آواز بھی اٹھا رہے ہیں اور ساتھ ہی بچوں کی تعلیم میں کوئی خلل نہیں آنے دے رہے، تو اساتذہ کا اخلاقی مقام مزید مضبوط ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں جو اساتذہ تحریکیں کامیاب ہوئیں، ان میں تعلیمی بائیکاٹ سے گریز کیا تھا اور صرف غیر تدریسی احتجاج پر انحصار کیا تھا۔

مزید برآں،
1- میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مسائل کو حقائق اور اعداد و شمار کے ساتھ پیش کرنا۔
2- سکول کے گیٹ پر یا کھلی جگہ پر پُرامن اجتماعات۔
3ـ قانونی راستہ، عدالتوں میں عرضی، حکومت کو یادداشت اور یونین کے باقاعدہ اور شفاف مذاکرات۔۔۔۔۔
یہ تمام طریقے نہ صرف آواز کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ تعلیمی ماحول کو بھی محفوظ رکھتے ہیں۔

آخر میں یہی کہوں گا کہ اساتذہ کی اصل طاقت ان کی تدریس ہے۔ اگر یہی تدریس متاثر ہو جائے تو احتجاج کی اخلاقی بنیاد کمزور پڑ جاتی ہے اور عوام کا اعتماد اُٹھ جاتا ہے۔
لہٰذا متوازن اور حقائق پر مبنی حکمت عملی یہ ہے کہ تعلیم کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھا جائے، صرف غیر تدریسی اور انتظامی ذمہ داریوں کا بائیکاٹ کیا جائے،
علامتی قانونی اور پُرامن احتجاج کو اپنایا جائے، اور عوامی ہمدردی کو برقرار رکھتے ہوئے مسلسل آواز بلند کی جائے۔ کیونکہ جب استاد پڑھاتا بھی رہے گا اور اپنے حق کے لیے کھڑا بھی ہوگا، تبھی اس کا مقام معاشرے میں برقرار اور مستحکم رہے گا-
یہی وہ راستہ ہے جو ہمارے شایان شان ہے۔
فاروق گجر منڈی بہاءالدین

06/05/2026

جن طالب علموں کا رول نمبر سلپ میں غلطی کی وجہ سے کمپیوٹر سائنس کا پیپر رہ گیا تھا گجرانوالہ بورڈ نے ان کا یہ پیپر 11-05-2026کو دوبارہ لینے کا فیصلہ کیا ہے

06/05/2026

Mr. Hamid Ali Gujar, District Focal Person for Schools (Labs & Buildings), DEO Secondary Mandibahauddin, and Headmaster of Government High School Shaheedanwali, visited our school today. During his visit, a detailed and productive discussion was held regarding the arrangements for the practical examinations being conducted under the Board of Intermediate and Secondary Education Gujranwala.
Mr. Hamid Ali is a highly competent, dedicated, and visionary educationist. His professional approach, strong leadership qualities, and commitment to improving educational standards are truly commendable. He carries a positive attitude and a remarkable ability to motivate others, which reflects in his work and interactions. His friendly and energetic personality makes him not only an effective administrator but also a respected mentor among colleagues.
We sincerely appreciate his valuable guidance and support. We extend our heartfelt best wishes for his continued success, good health, and a bright and prosperous future ahead.

04/05/2026

محترمہ عالیہ بتول صاحبہ
کو سکیل 20 میں ترقی حاصل کرنے پر گورنمنٹ سرسید ہائی سکول منڈی بہاءالدین کے کلسٹر کی جانب سے دلی مبارکباد 🌸
آپ کی یہ شاندار کامیابی آپ کی انتھک محنت، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور تعلیمی خدمات کا بہترین اعتراف ہے۔ آپ کی قیادت میں ادارے نے ہمیشہ ترقی کی راہ پر گامزن رہتے ہوئے نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔
ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے اور آپ کی رہنمائی میں تعلیمی سفر مزید کامیابیوں سے ہمکنار ہو۔

💐 نیک تمناؤں کے ساتھ
محمد فاروق گجر
گورنمنٹ سرسید ہائی سکول منڈی

Photos from GHS Sir Syed Mandi Bahaudin's post 04/05/2026

پرنسپل محمد نواز جعفری صاحب کو سکیل نمبر 20 ملنے پر مبارکباد دیتے ہوئے

Want your school to be the top-listed School/college in Mandi Bahauddin?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Opposite Women’s Park Mohallah Gurrah, Ghosia Chowk
Mandi Bahauddin
50400

Opening Hours

Monday 08:00 - 13:30
Tuesday 08:00 - 13:30
Wednesday 08:00 - 13:30
Thursday 08:00 - 13:30
Friday 09:00 - 11:00
Saturday 09:00 - 23:00